دُعا رزق کمانے کا ایک ذریعہ بھی ہے۔ اس لیے کہ دُعا اس رزق دینے والے اللہ ربّ العالمین سے رزق مانگنے کا وسیلہ ہے کہ جس کے ہاتھ میں رزق ہے اور بغیر حساب کے رزق دے دیتا ہے۔
اُمّ المؤمنین سیّدہ اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب صبح کی نماز پڑھا کر سلام پھیرتے تو کہتے:
اَللّٰہُمَّ إِنِّيْ أَسْأَلُکَ عِلْمًا نَّافِعًا، وَرِزْقًا طَیِّبًا، وَعَمَلًا مُتَقَبَّـلًا۔ کَذَلِکَ کَانَ صلی اللہ علیہ وسلم یَقُوْلُ: أَللّٰہُمَّ إِنِّيْ أَعُوْذُبِکَ مِنَ الْفَقْرِ وَالْقِلَّۃَ وَالذِّلَۃِ وَأَعُوْذُبِکَ مِنْ أَنْ أَظْلَمَ أَوْ أُظْلَمَ۔ (صحیح سنن ابن ماجہ، رقم: ۷۵۳۔ صحیح الجامع الصغیر، رقم: ۱۲۸۷۔)
''اے اللہ! میں تجھ سے نفع بخش علم، پاکیزہ رزق اور مقبول عمل کا سوال کرتا ہوں۔ '' اسی طرح آپ اس طرح بھی کہتے: ''اے اللہ! میں تجھ سے فقر و فاقہ، رزق کی قلت اور ذلت و رسوائی سے پناہ مانگتا ہوں۔ اسی طرح میں تجھ سے اس بات کی بھی پناہ مانگتا ہوں کہ میں ظلم کروں یا مجھ پر ظلم کیا جائے۔''
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بنفسِ اطہر اللہ ربّ کریم سے دُعا کرتے کہ اللہ تعالیٰ انھیں پاکیزہ رزق عطا فرمائے اور آپ فقر و فاقہ سے اللہ کی پناہ مانگتے۔ سیّدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کے بارے میں مروی ہے کہ؛ ایک ایسا غلام آپ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا کہ جس نے اپنے مالک سے کچھ رقم دے کر آزادی کے لیے لکھ لکھا کر رکھا تھا۔ اور کہنے لگا: میں اپنی مکاتبت سے عاجز آ گیا ہوں آپ میری مدد فرمائیں۔ (یعنی جس مبلغ کے بدلے میں نے آزاد ہونا تھا وہ مبلغ پورا نہیں ہو رہا اور مدت ختم ہونے والی ہے۔) سیّدنا علی رضی اللہ عنہ نے اُس سے کہا: کیا میں تمہیں وہ الفاظ نہ سکھادوں جو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سکھائے تھے؟ اگر تمہارے اوپر کسی پہاڑ برابر بھی قرض وغیرہ ہو گا تو اللہ کریم تیری دُعا سن کر اسے ادا کر دے گا۔ (اس شخص نے کہا جی ہاں سکھلائیے! تو آپ نے فرمایا: کہو:
أَللّٰہُمَّ اکْفِنِيْ بِحَلَالِکَ عَنْ حَرَامِکَ، وَأَغْنِيْ بِفَضْلِکَ عَمَّنْ سِوَاکَ۔ (صحیح سنن الترمذي، رقم: ۲۸۲۲۔)
''اے اللہ! مجھے رزق حلال کے ساتھ حرام سے محفوظ فرما لے اور مجھے اپنے فضل کے ساتھ اپنے غیر سے مستغنی فرما دے۔ ''
دیکھئے! امیر المؤمنین سیّدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس مکاتب غلام کو سکھایا کہ اگر وہ ان الفاظ سے اللہ تعالیٰ کو پکارے گا اور اس کی مدد طلب کرے گا تو اللہ تعالیٰ اُس کے قرض اور مالِ مکاتبت کا ضرور انتظام فرما دے گا چاہے پہاڑ کے برابر کیوں نہ ہو۔ اور یہ کہ وہ اللہ کے علاوہ کسی اور پر بھروسہ نہ کرے۔
دعا کرنے والے پر یہ بھی لازم ہے کہ وہ ایک اہم ترین بات کا بھی ضرور خیال کرے۔ اور وہ یہ ہے کہ دُعا کے آغاز میں اللہ تبارک وتعالیٰ کی حمد و ثناء ضرور کرے اور نبی مکرم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر دُرود ضرور پڑھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو سنا کہ وہ اپنی نماز میں دعا مانگ رہا ہے۔ مگر اُس نے نہ ہی تو اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی اور نہ ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر دُرور پڑھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
عَجَّلَ ہٰذَا۔ ثُمَّ دَعَاہُ فَقَالَ لَہُ ــ أَوْ لِغَیْرِہِ ــ : إِذَا صَلَّی أَحَدُکُمْ فَلْیَبْدأَ بِتَحْمِیْدِ رَبِّہِ جَلَّ وَعَزَّ وَالثَّنَائِ عَلَیْہِ، ثُمَّ یُصَلِّيْ عَلَی النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم، ثُمَّ یَدْعُوْ بَعْدُ بِمَا شَائَ۔ (صحیح سنن أبي داؤد، رقم: ۱۳۱۴۔)
''اس شخص نے جلدی کی ہے۔ '' پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلوا کر اس سے فرمایا: (یا اس کے علاوہ کسی اور شخص سے) تم میں سے جب کوئی شخص نماز پڑھے تو اُسے چاہیے کہ اپنے رب کریم و علا کی پہلے حمد و ثناء کرے، پھر میرے اوپر درود (أَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَّعَلیٰ آلِ مُحَمَّدٍ ... إِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ) پڑھے۔ اس کے بعد جو چاہے اللہ کریم سے مانگے۔''
اللہ تعالی کی پسند اور ناپسند