• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا مِن بَعْدِ ذَٰلِكَ وَأَصْلَحُوا فَإِنَّ اللَّـهَ غَفُورٌ‌ رَّ‌حِيمٌ ﴿٥﴾
ہاں جو لوگ اس کے بعد توبہ اور اصلاح کر لیں (١) تو اللہ تعالیٰ بخشنے والا اور مہربانی کرنے والا ہے۔
٥۔١ توبہ سے کوڑوں کی سزا تو معاف نہیں ہو گی، وه تائب ہو جائے یا اصرار کرے، یہ سزا تو بہرحال ملے گی۔ البتہ دوسری دو باتیں جو ہیں، مردود الشهادة اور فاسق ہونا، اس کے بارے میں اختلاف ہے، بعض علماء اس استثناء کو فسق تک محدود رکھتے ہیں۔ یعنی توبہ کے بعد فاسق نہیں رہے گا۔ اور بعض مفسرین دونوں جملوں کو اس میں شامل سمجھتے ہیں، یعنی توبہ کے بعد مقبول الشہادۃ بھی ہو جائے گا۔ امام شوکانی نے اسی دوسری رائے کو ترجیح دی ہے اور اَبَدََا کا مطلب بیان کیا ہے مَادَامَ قَاذِفاً یعنی جب تک وہ بہتان تراشی پر قائم رہے جس طرح کہا جائے کہ کافر کی شہادت کبھی قبول نہیں، تو یہاں "کبھی" کا مطلب یہی ہو گا کہ جب تک وہ کافر ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَالَّذِينَ يَرْ‌مُونَ أَزْوَاجَهُمْ وَلَمْ يَكُن لَّهُمْ شُهَدَاءُ إِلَّا أَنفُسُهُمْ فَشَهَادَةُ أَحَدِهِمْ أَرْ‌بَعُ شَهَادَاتٍ بِاللَّـهِ ۙ إِنَّهُ لَمِنَ الصَّادِقِينَ ﴿٦﴾
جو لوگ اپنی بیویوں پر بدکاری کی تہمت لگائیں اور ان کا کوئی گواہ بجز خود ان کی ذات کے نہ ہو تو ایسے لوگوں میں سے ہر ایک کا ثبوت یہ ہے کہ چار مرتبہ اللہ کی قسم کھا کر کہیں کہ وہ سچوں میں سے ہیں۔

وَالْخَامِسَةُ أَنَّ لَعْنَتَ اللَّـهِ عَلَيْهِ إِن كَانَ مِنَ الْكَاذِبِينَ ﴿٧﴾
اور پانچویں مرتبہ کہے کہ اس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو اگر وہ جھوٹوں میں سے ہو۔ (١)
٧۔١ اس میں لعان کا مسئلہ بیان کیا گیا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ کسی مرد نے اپنی بیوی کو اپنی آنکھوں سے کسی غیر کے ساتھ بدکاری کرتے ہوئے دیکھا، جس کا وہ خود تو عینی گواہ ہے لیکن چونکہ زنا کی حد کے اثبات کے لئے چار مردوں کی عینی گواہی ضروری ہے، اس لئے جب تک وہ اپنے ساتھ مزید تین عینی گواہ پیش نہ کرے، اس کی بیوی پر زنا کی حد نہیں لگ سکتی۔ لیکن اپنی آنکھوں سے دیکھ لینے کے بعد ایسی بد چلن بیوی کو برداشت کرنا بھی اس کے لئے ناممکن ہے۔ شریعت نے اس کا حل یہ پیش کیا ہے کہ یہ شخص عدالت میں یا حاکم مجاز کے سامنے چار مرتبہ اللہ کی قسم کھا کر یہ کہے گا کہ وہ اپنی بیوی پر زنا کی تہمت لگانے میں سچا ہے یا یہ بچہ یا حمل اس کا نہیں ہے۔ اور پانچویں مرتبہ کہے گا کہ اگر وہ جھوٹا ہے تو اس پر اللہ کی لعنت۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَيَدْرَ‌أُ عَنْهَا الْعَذَابَ أَن تَشْهَدَ أَرْ‌بَعَ شَهَادَاتٍ بِاللَّـهِ ۙ إِنَّهُ لَمِنَ الْكَاذِبِينَ ﴿٨﴾
اور اس عورت سے سزا اس طرح دور ہوسکتی ہے کہ وہ چار مرتبہ اللہ کی قسم کھا کر کہے کہ یقیناً اس کا مرد جھوٹ بولنے والوں میں سے ہے۔

وَالْخَامِسَةَ أَنَّ غَضَبَ اللَّـهِ عَلَيْهَا إِن كَانَ مِنَ الصَّادِقِينَ ﴿٩﴾
اور پانچویں دفعہ کہے کہ اس پر اللہ کا غضب ہو اگر اس کا خاوند سچوں میں سے ہو۔
٩۔١ یعنی اگر خاوند کے جواب میں بیوی چار مرتبہ قسم کھا کر یہ کہہ دے کہ وہ جھوٹا ہے اور پانچویں مرتبہ کہے کہ اگر اس کا خاوند سچا ہے (اور میں جھوٹی ہوں) تو مجھ پر اللہ کا غضب نازل ہو۔ تو اس صورت میں وہ زنا کی سزا سے بچ جائی گی۔ اس کے بعد ان دونوں کے درمیان ہمیشہ کے لئے جدائی ہو جائے گی۔ اسے لعان اس لئے کہتے ہیں کہ اس میں دونوں ہی اپنے آپ کو جھوٹا ہونے کی صورت میں مستحق لعنت قرار دیتے ہیں، نبی ﷺ کے زمانے میں ایسے بعض واقعات پیش آئے، جن کی تفصیل احادیث میں موجود ہے، وہی واقعات ان آیات کے نزول کا سبب بنے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَلَوْلَا فَضْلُ اللَّـهِ عَلَيْكُمْ وَرَ‌حْمَتُهُ وَأَنَّ اللَّـهَ تَوَّابٌ حَكِيمٌ ﴿١٠﴾
اگر اللہ تعالیٰ کا فضل تم پر نہ ہوتا (١) (تو تم پر مشقت اترتی) اور اللہ تعالیٰ توبہ قبول کرنے والا ہے۔
١٠۔١ اس کا جواب محذوف ہے، تو تم میں سے جھوٹے پر فوراً اللہ کا عذاب نازل ہو جاتا۔ لیکن چونکہ وہ تواب ہے اور حکیم بھی، اس لئے ایک تو اس نے ستر پوشی کر دی، تاکہ اس کے بعد اگر کوئی سچے دل سے توبہ کر لے تو وہ اسے اپنے دامان رحمت میں ڈھانپ لے گا اور حکیم بھی ہے کہ اس نے لعان جیسا مسئلہ بیان کر کے غیور مردوں کے لئے ایک نہایت معقول اور آسان تجویز مہیا کر دی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
إِنَّ الَّذِينَ جَاءُوا بِالْإِفْكِ عُصْبَةٌ مِّنكُمْ ۚ لَا تَحْسَبُوهُ شَرًّ‌ا لَّكُم ۖ بَلْ هُوَ خَيْرٌ‌ لَّكُمْ ۚ لِكُلِّ امْرِ‌ئٍ مِّنْهُم مَّا اكْتَسَبَ مِنَ الْإِثْمِ ۚ وَالَّذِي تَوَلَّىٰ كِبْرَ‌هُ مِنْهُمْ لَهُ عَذَابٌ عَظِيمٌ ﴿١١﴾
جو لوگ یہ بہت بڑا بہتان باندھ لائے ہیں (١) یہ بھی تم میں سے ہی ایک گروہ (٢) ہے۔ تم اسے اپنے لئے برا نہ سمجھو، بلکہ یہ تو تمہارے حق میں بہتر ہے۔ (٣) ہاں ان میں سے ہر ایک شخص پر اتنا گناہ ہے جتنا اس نے کمایا ہے اور ان میں سے جس نے اس کے بہت بڑے حصے کو سر انجام دیا ہے اس کے لئے عذاب بھی بہت بڑا ہے۔ (٤)
١١۔١ إِفْكٌ سے مراد وہ واقعہ إِفْكٌ ہے جس میں منافقین نے حضرت عائشہ رضی الله عنہا کے دامن عفت وعزت کو داغ دار کرنا چاہا تھا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں حضرت عائشہ رضی الله عنہا کی براءت نازل فرما کر ان کی پاک دامنی اور عفت کو واضح تر کر دیا۔ مختصراً یہ واقعہ یوں ہے کہ حکم حجاب کے بعد غزوۂ بنی المصطلق (مریسیع) سے واپسی پر نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام رضی الله عنہم نے مدینہ کے قریب ایک جگہ قیام فرمایا، صبح کو جب وہاں سے روانہ ہوئے تو حضرت عائشہ رضی الله عنہا کا ہودج بھی، جو خالی تھا، اہل قافلہ نے یہ سمجھ کر اونٹ پر رکھ دیا کہ ام المومنین رضی الله عنہا اس کے اندر ہی ہوں گی۔ اور وہاں سے روانہ ہو گئے، درآں حالیکہ حضرت عائشہ رضی الله عنہا اپنے ہار کی تلاش میں باہر گئی ہوئی تھیں، جب واپس آئیں تو دیکھا کہ قافلہ چلا گیا۔ تو یہ سوچ کر وہیں لیٹ رہیں کہ جب ان کو میری غیر موجودگی کا علم ہو گا تو تلاش کے لئے واپس آئیں گے۔ تھوڑی دیر کے بعد صفوان بن معطل سلمی رضی الله عنہ آگئے، جن کی ذمہ داری یہی تھی کہ قافلے کی رہ جانے والی چیزیں سنبھال لیں۔ انہوں نے حضرت عائشہ رضی الله عنہا کو حکم حجاب سے پہلے دیکھا ہوا تھا۔ انہیں دیکھتے ہی انا للہ الخ پڑھا اور سمجھ گئے کہ قافلہ غلطی سے یا بے علمی میں حضرت ام المومنین رضی الله عنہا کو یہیں چھوڑ کر آگے چلا گیا ہے۔ چنانچہ انہوں نے انہیں اپنے اونٹ پر بٹھایا اور خود نکیل تھامے پیدل چلتے قافلے کو جا ملے۔ منافقین نے جب حضرت عائشہ رضی الله عنہا کو اس طرح بعد میں اکیلے حضرت صفوان رضی الله عنہ کےساتھ آتے دیکھا تو اس موقع کو بہت غنیمت جانا اور رئیس المنافقین عبد اللہ بن ابی نے کہا کہ یہ تنہائی اور علیحدگی بے سبب نہیں اور یوں انہوں نے حضرت عائشہ رضی الله عنہا کو حضرت صفوان رضی الله عنہ کے ساتھ مطعون کر دیا، دراں حالیکہ دونوں ان باتوں سے یکسر بے خبر تھے۔ بعض مخلص مسلمان بھی اس پروپیگنڈے کا شکار ہو گئے، مثلاً حضرت حسان رضی الله عنہ، مسطح بن اثاثہ اور حمنہ بنت جحش رضی الله عنہم (اس واقعہ کی پوری تفصیل صحیح احادیث میں موجود ہے) نبی کریم ﷺ نے پورے ایک مہینے تک، جب تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے براءت نازل نہیں ہوئی، سخت پریشان رہے اور حضرت عائشہ رضی الله عنہ لاعلمی میں اپنی جگہ بے قرار و مضطرب۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اسی واقعے کو اختصار و جامعیت کے ساتھ بیان فرمایا ہے۔ إِفْكٌ کے معنی ہیں کسی چیز کو الٹا دینا۔ اس واقعے میں بھی چونکہ منافقین نے معاملے کو الٹا دیا تھا یعنی حضرت عائشہ رضی الله عنہا تو ثنا و تعریف کی مستحق تھیں، عالی نسب اور رفعت کردار کی مالک تھیں نہ کہ قذف کی۔ لیکن ظالموں نے اس پیکر عفت کو اس کے برعکس طعن اور بہتان تراشی کا ہدف بنا لیا۔
١١۔٢ ایک گروہ اور جماعت کو عُصبَۃ کہا جاتا ہے کیونکہ وہ ایک دوسرے کی تقویت اور عصبیت کا باعث ہوتے ہیں۔
١١۔٣ کیونکہ اس سے ایک تو تمہیں کرب اور صدمے کے سبب ثواب عظیم ملے گا، دوسرے آسمانوں سے حضرت عائشہ رضی الله عنہا کی براءت سے ان کی عظمت شان اور ان کے خاندان کا شرف و فضل نمایاں تر ہو گیا، علاوہ ازیں اہل ایمان کے لئے اس میں عبرت و موعظت کے اور کئی پہلو ہیں۔
١١۔ ٤ اس سے مراد عبد اللہ بن ابی منافق ہے جو اس سازش کا سرغنہ تھا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
لَّوْلَا إِذْ سَمِعْتُمُوهُ ظَنَّ الْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بِأَنفُسِهِمْ خَيْرً‌ا وَقَالُوا هَـٰذَا إِفْكٌ مُّبِينٌ ﴿١٢﴾
اسے سنتے ہی مومن مردوں عورتوں نے اپنے حق میں نیک گمائی کیوں نہ کی اور کیوں نہ کہہ دیا کہ یہ تو کھلم کھلا صریح بہتان ہے۔ (١)
١٢۔١ یہاں سے تربیت کے ان پہلوؤں کو نمایاں کیا جا رہا ہے جو اس واقعے میں مضمر ہیں۔ ان میں سب سے پہلی بات یہ ہے کہ اہل ایمان ایک جان کی طرح ہیں، جب حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ پر اتہام طرازی کی گئی تو تم نے اپنے اوپر قیاس کرتے ہوئے فوراََ اس کی تردید کیوں نہ کی اور اسے بہتان صریح کیوں قرار نہیں دیا؟
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
لَّوْلَا جَاءُوا عَلَيْهِ بِأَرْ‌بَعَةِ شُهَدَاءَ ۚ فَإِذْ لَمْ يَأْتُوا بِالشُّهَدَاءِ فَأُولَـٰئِكَ عِندَ اللَّـهِ هُمُ الْكَاذِبُونَ ﴿١٣﴾
وہ اس پر چار گواہ کیوں نہ لائے؟ اور جب گواہ نہیں لائے تو بہتان باز لوگ یقیناً اللہ کے نزدیک محض جھوٹے ہیں۔

وَلَوْلَا فَضْلُ اللَّـهِ عَلَيْكُمْ وَرَ‌حْمَتُهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَ‌ةِ لَمَسَّكُمْ فِي مَا أَفَضْتُمْ فِيهِ عَذَابٌ عَظِيمٌ ﴿١٤﴾
اگر اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم تم پر دنیا اور آخرت میں نہ ہوتا تو یقیناً تم نے جس بات کے چرچے شروع کر رکھے تھے اس بارے میں تمہیں بہت بڑا عذاب پہنچتا۔

إِذْ تَلَقَّوْنَهُ بِأَلْسِنَتِكُمْ وَتَقُولُونَ بِأَفْوَاهِكُم مَّا لَيْسَ لَكُم بِهِ عِلْمٌ وَتَحْسَبُونَهُ هَيِّنًا وَهُوَ عِندَ اللَّـهِ عَظِيمٌ ﴿١٥﴾
جبکہ تم اسے اپنی زبانوں سے نقل در نقل کرنے لگے اور اپنے منہ سے وہ بات نکالنے لگے جس کی تمہیں مطلق خبر نہ تھی، گو تم اسے ہلکی بات سمجھتے رہے لیکن اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ ایک بہت بڑی بات تھی۔

وَلَوْلَا إِذْ سَمِعْتُمُوهُ قُلْتُم مَّا يَكُونُ لَنَا أَن نَّتَكَلَّمَ بِهَـٰذَا سُبْحَانَكَ هَـٰذَا بُهْتَانٌ عَظِيمٌ ﴿١٦﴾
تم نے ایسی بات کو سنتے ہی کیوں نہ کہہ دیا کہ ہمیں ایسی بات منہ سے نکالنی بھی لائق نہیں۔ یا اللہ! تو پاک ہے، یہ تو بہت بڑا بہتان ہے اور تہمت ہے۔ (١)
١٦۔١ دوسری بات اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو یہ بتلائی کہ اس بہتان پر انہوں نے ایک گواہ پیش نہیں کیا۔ جبکہ اس کے لیے چار گواہ ضروری تھے، اس کے باوجود تم نے ان بہتان تراشیوں کو جھوٹا نہیں کہا۔ یہی وجہ ہے کہ ان آیات کے نزول کے بعد حضرت حسان، مسطح اور حمنہ بنت حجش رضی اللہ عنہم کو حد قذف لگائی گئی۔ (مسند أحمد ج۶ ص۳۰، ترمذی:۳۱۸۱، ابوداود:۴۷۴۴، ابن ماجہ:۲۵۶۷) عبد اللہ بن ابی کو سزا اس لیے نہیں دی گئی کہ اس کے لئے آخرت کے عذاب عظیم کو ہی کافی سمجھ لیا گیا اور مومنوں کو سزا دے کر دنیا میں ہی پاک کر دیا گیا۔ دوسرے، اس کے پیچھے ایک پورا جتھہ تھا، اس کو سزا دینے کی صورت میں کچھ ایسے خطرات تھے کہ جن سے نمٹنا اس وقت مسلمانوں کے لیے مشکل تھا، اس لئے مصلحتاََ اسے سزا دینے سے گریز کیا گیا۔ (فتح القدیر)
تیسری بات یہ فرمائی گئی ہے کہ اللہ کا فضل و احسان تم پر نہ ہوتا تو تمہارا یہ رویہ کہ تم نے بلا تحقیق اس افواہ کو آگے پھیلانا شروع کر دیا۔ عذاب عظیم کا باعث تھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ افواہ سازی اور اس کی نشر و اشاعت بھی جرم عظیم ہے۔ جس پر انسان عذاب عظیم کا مستحق قرار پا سکتا ہے۔
چوتھی بات، کہ یہ معاملہ براہ راست حرم رسول ﷺ اور ان کی عزت و آبرو کا تھا لیکن تم نے اسے قرار واقعی اہمیت نہیں دی، اور اسے ہلکا سمجھا۔ اس سے بھی یہ سمجھانا مقصود ہے کہ محض آبرو ریزی ہی بڑا جرم نہیں ہے کہ جس کی حد سو کوڑے یا رجم ہے بلکہ کسی کی عزت و آبرو پر اس طرح حملہ کرنا اور کسی عفت مآب خاندان کی تذلیل و اہانت کا سر و سامان کرنا بھی اللہ کے نزدیک بہت بڑا گناہ ہے، اسے ہلکا مت سمجھو۔ اسی لیے آگے پھر مزید تاکید کرتے ہوئے کہا کہ تم نے سنتے ہی یہ کیوں نہیں کہا کہ ہمیں ایسی بات منہ سے نکالنی بھی لائق نہیں۔ یہ یقیناً بہتان عظیم ہے۔ اسی لیے امام مالک فرماتے ہیں کہ جو نام نہاد مسلمان حضرت عائشہ رضی الله عنہا پر بے حیائی کا الزام عائد کرے وہ کافر ہے کیوں کہ وہ اللہ کی اور قرآن کی تکذیب کرتا ہے۔ (ایسرالتفاسیر)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
يَعِظُكُمُ اللَّـهُ أَن تَعُودُوا لِمِثْلِهِ أَبَدًا إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ ﴿١٧﴾
اللہ تعالیٰ تمہیں نصیحت کرتا ہے کہ پھر کبھی بھی ایسا کام نہ کرنا اگر تم سچے مومن ہو۔

وَيُبَيِّنُ اللَّـهُ لَكُمُ الْآيَاتِ ۚ وَاللَّـهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ ﴿١٨﴾
اللہ تعالیٰ تمہارے سامنے اپنی آیتیں بیان فرما رہا ہے، اور اللہ تعالیٰ علم و حکمت والا ہے۔

إِنَّ الَّذِينَ يُحِبُّونَ أَن تَشِيعَ الْفَاحِشَةُ فِي الَّذِينَ آمَنُوا لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَ‌ةِ ۚ وَاللَّـهُ يَعْلَمُ وَأَنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ ﴿١٩﴾
جو لوگ مسلمانوں میں بے حیائی پھیلانے کے آرزو مند رہتے ہیں ان کے لئے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہیں، (١) اللہ سب کچھ جانتا ہے اور تم کچھ بھی نہیں جانتے۔
١٩۔ ا فَاحِشَةٌ کے معنی بے حیائی کے ہیں اور قرآن نے بدکاری کو بھی فاحشہ قرار دیا ہے، (بنی اسرائیل) اور یہاں بدکاری کی ایک جھوٹی خبر کی اشاعت کو بھی اللہ تعالیٰ نے بے حیائی سے تعبیر فرمایا ہے اور اسے دنیا و آخرت میں عذاب الیم کا باعث قرار دیا ہے، جس سے بے حیائی کے بارے میں اسلام کے مزاج کا اور اللہ تعالیٰ کی منشا کا اندازہ ہوتا ہے کہ محض بے حیائی کی ایک جھوٹی خبر کی اشاعت عند اللہ اتنا بڑا جرم ہے تو جو لوگ رات دن ایک مسلمان معاشرے میں اخبارات، ریڈیو، ٹی وی اور فلموں ڈراموں کے ذریعے سے بے حیائی پھیلا رہے ہیں اور گھر گھر اسے پہنچا رہے ہیں، اللہ کے ہاں یہ لوگ کتنے بڑے مجرم ہوں گے؟ اور ان اداروں میں کام کرنے والے ملازمین کیوں کر اشاعت فاحشہ کے جرم سے بری الذمہ قرار پائیں گے؟ اسی طرح اپنے گھروں میں ٹی وی لا کر رکھنے والے، جس سے ان کی آئندہ نسلوں میں بے حیائی پھیل رہی ہے، وہ بھی اشاعت فاحشہ کے مجرم کیوں نہیں ہوں گے؟ اور یہی معاملہ فواحش اور منکرات سے بھرپور روزنامہ اخبارات کا ہے کہ ان کا بھی گھروں کے اندر آنا، اشاعت فاحشہ کا ہی سبب ہے، یہ بھی عند اللہ جرم ہو سکتا ہے۔ کاش مسلمان اپنی ذمہ داریوں کا احساس کریں اور اس بے حیائی کے طوفان کو روکنے کے لئے اپنی مقدور بھر سعی کریں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَلَوْلَا فَضْلُ اللَّـهِ عَلَيْكُمْ وَرَ‌حْمَتُهُ وَأَنَّ اللَّـهَ رَ‌ءُوفٌ رَّ‌حِيمٌ ﴿٢٠﴾
اگر تم پر اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی اور یہ بھی کہ اللہ تعالیٰ بڑی شفقت رکھنے والا مہربان ہے۔ (١) (تم پر عذاب اتر جاتا)
٢٠۔١ جواب محذوف ہے، تو پھر اللہ کا عذاب تمہیں اپنی گرفت میں لے لیتا۔ یہ محض اس کا فضل اور شفقت و رحمت ہے کہ اس نے تمہارے اس جرم عظیم کو معاف فرما دیا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ ۚ وَمَن يَتَّبِعْ خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ فَإِنَّهُ يَأْمُرُ‌ بِالْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ‌ ۚ وَلَوْلَا فَضْلُ اللَّـهِ عَلَيْكُمْ وَرَ‌حْمَتُهُ مَا زَكَىٰ مِنكُم مِّنْ أَحَدٍ أَبَدًا وَلَـٰكِنَّ اللَّـهَ يُزَكِّي مَن يَشَاءُ ۗ وَاللَّـهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ ﴿٢١﴾
ایمان والو! شیطان کے قدم بقدم نہ چلو۔ جو شخص شیطانی قدموں کی پیروی کرے تو وہ تو بے حیائی اور برے کاموں کا ہی حکم کرے گا۔ اور اگر اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم تم پر نہ ہوتا تو تم میں سے کوئی بھی کبھی بھی پاک صاف نہ ہوتا۔ لیکن اللہ تعالیٰ جسے پاک کرنا چاہے، کر دیتا ہے۔ (١) اور اللہ سب سننے والا جاننے والا ہے۔
٢١۔١ اس مقام پر شیطان کی پیروی سے ممانعت کے بعد یہ فرمانا کہ اگر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو تم میں سے کوئی بھی پاک صاف نہ ہوتا، اس سے یہ مقصد معلوم ہوتا ہے کہ جو لوگ مذکورہ واقعہ افک میں ملوث ہونے سے بچ گئے، یہ محض اللہ کا فضل و کرم ہے جو ان پر ہوا، ورنہ وہ بھی اسی رو میں بہہ جاتے، جس میں بعض مسلمان بہہ گئے تھے۔ اس لئے شیطان کے داؤ اور فریب سے بچنے کے لئے ایک تو ہر وقت اللہ سے مدد طلب کرتے اور اس کی طرف رجوع کرتے رہو اور دوسرے جو لوگ اپنے نفس کی کمزوری سے شیطان کے فریب کا شکار ہو گئے ہیں، ان کو زیادہ ہدف ملامت مت بناؤ، بلکہ خیر خواہانہ طریقے سے ان کی اصلاح کی کوشش کرو۔
 
Top