• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَوَضَعْنَا عَنكَ وِزْرَ‌كَ ﴿٢﴾
اور تجھ پر سے تیرا بوجھ ہم نے اتار دیا۔ (١)
٢۔١ یہ بوجھ نبوت سے قبل چالیس سالہ دور زندگی سے متعلق ہے۔ اس دور میں اگرچہ اللہ نے آپ ﷺ کو گناہوں سے محفوظ رکھا، کسی بت کے سامنے آپ ﷺ سجدہ ریز نہیں ہوئے، کبھی شراب نوشی نہیں کی اور بھی دیگر برائیوں سے دامن کش رہے، تاکہ معروف معنوں میں اللہ کی عبادت و اطاعت کا نہ آپ ﷺ کو علم تھا نہ آپ ﷺ نے کی۔ اس لیے آپ ﷺ کے دل و دماغ پر اس چالیس سالہ عدم عبادت و عدم اطاعت کا بوجھ تھا، جو حقیقت میں تو نہیں تھا، لیکن آپ ﷺ کے احساس و شعور نے اسے بوجھ بنا رکھا تھا۔ اللہ نے اسے اتار دینے کا اعلان فرما کر آپ ﷺ پر احسان فرمایا۔ یہ گویا وہی مفہوم ہے جو ﴿لِيَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ﴾ (سورة الفتح) کا ہے۔ بعض کہتے ہیں، یہ نبوت کا بوجھ تھا، جسے اللہ نے ہلکا کر دیا، یعنی اس راہ کی مشکلات برداشت کرنے کا حوصلہ اور تبلیغ و دعوت میں آسانیاں پیدا فرما دیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
الَّذِي أَنقَضَ ظَهْرَ‌كَ ﴿٣﴾
جس نے تیری پیٹھ توڑ دی تھی۔

وَرَ‌فَعْنَا لَكَ ذِكْرَ‌كَ ﴿٤﴾
اور ہم نے تیرا ذکر بلند کر دیا۔ (۱)
٤۔۱ یعنی جہاں اللہ کا نام آتا ہے وہیں آپ ﷺ کا نام بھی آتا ہے۔ مثلاً اذان، نماز اور دیگر بہت سے مقامات پر، گزشتہ کتابوں میں آپ ﷺ کا تذکرہ اور صفات کی تفصیل ہے، فرشتوں میں آپ ﷺ کا ذکر خیر ہے، آپ ﷺ کی اطاعت کو اللہ نے اپنی اطاعت قرار دیا اور اپنی اطاعت کے ساتھ ساتھ آپ ﷺ کی اطاعت کا بھی حکم دیا، وغیرہ۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ‌ يُسْرً‌ا ﴿٥﴾
پس یقیناً مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔

إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ‌ يُسْرً‌ا ﴿٦﴾
بیشک مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔ (۱)
٦۔۱ یہ آپ ﷺ کے لیے اور صحابہ رضی الله عنہم کے لیے خوشخبری ہے کہ تم اسلام کی راہ میں جو تکلیفیں برداشت کر رہے ہو تو گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس کے بعد ہی اللہ تمہیں فراغت و آسانی سے نوازے گا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا، جسے ساری دنیا جانتی ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَإِذَا فَرَ‌غْتَ فَانصَبْ ﴿٧﴾
پس جب تو فارغ ہو تو عبادت میں محنت کر۔ (١)
٧۔١ یعنی نماز سے، یا تبلیغ سے یا جہاد سے، تو دعا میں محنت کر، یا اتنی عبادت کر کہ تو تھک جائے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَإِلَىٰ رَ‌بِّكَ فَارْ‌غَب ﴿٨﴾
اور اپنے پروردگار ہی کی طرف دل لگا۔ (١)
٨۔١ یعنی اسی سے جنت کی امید رکھ، اسی سے اپنی حاجتیں طلب کر اور تمام معاملات میں اسی پر اعتماد اور بھروسہ رکھ۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
سورة التین

(سورہ تین مکی ہے اور اس میں آٹھ آیتیں ہیں۔)

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے.

وَالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ ﴿١﴾
قسم ہے انجیر کی اور زیتون کی۔

وَطُورِ‌ سِينِينَ ﴿٢﴾
اور طور سینین کی۔ (١)
٢۔١ یہ وہی کوہ طور ہے جہاں اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰ علیہ السلام سے ہم کلام ہوا تھا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَهَـٰذَا الْبَلَدِ الْأَمِينِ ﴿٣﴾
اور اس امن والے شہر کی۔ (١)
٣۔١ اس سے مراد مکہ مکرمہ ہے، جس میں قتال کی اجازت نہیں ہے۔ علاوہ ازیں جو اس میں داخل ہو جائے، اسے بھی امن حاصل ہو جاتا ہے۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ یہ دراصل تین مقامات کی قسم ہے، جن میں سے ہر ایک جگہ میں جلیل القدر، صاحب شریعت پیغمبر مبعوث ہوا۔ انجیر اور زیتون سے مراد وہ علاقہ ہے جہاں اس کی پیداوار ہے اور وہ ہے بیت المقدس، جہاں حضرت عیسیٰ عليہ السلام پیغمبر بن کرآئے۔ طور سینا یا سینین پر حضرت موسیٰ عليہ السلام کو نبوت عطا کی گئی اور شہر مکہ میں سید الرسل حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی بعثت ہوئی۔ (ابن کثیر)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ ﴿٤﴾
یقیناً ہم نے انسان کو بہترین صورت میں پیدا کیا۔ (١)
٤۔١ یہ جواب قسم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر مخلوق کو اس طرح پیدا کیا ہے کہ اس کا منہ نیچے کو جھکا ہوا ہے صرف انسان کو دراز قامت، سیدھا بنایا ہے جو اپنے ہاتھوں سے کھاتا پیتا ہے۔ پھر اس کے اعضا کو نہایت تناسب کے ساتھ بنایا، ان میں جانوروں کی طرح بے ڈھنگا پن نہیں ہے۔ ہر اہم عضو دو دو بنائے اور ان میں نہایت مناسب فاصلہ رکھا، پھر اس میں عقل و تدبر، فہم و حکمت اور سمع و بصر کی قوتیں ودیعت کیں، جو دراصل یہ انسان اللہ کی قدرت کا مظہر اور اس کا پرتو ہے۔ بعض علماء نے اس حدیث کو بھی اسی معنی و مفہوم پر محمول کیا ہے، جس میں ہے کہ [إِنَّ اللهَ خَلَقَ آدَمَ عَلَى صُورَتِهِ] (مسلم، كتاب البر والصلة والآداب) "اللہ تعالیٰ نے آدم کو اپنی صورت میں پیدا فرمایا" انسان کی پیدائش میں ان تمام چیزوں کا اہتمام ہی احسن تقویم ہے، جس کا ذکر اللہ نے تین قسموں کے بعد فرمایا۔ (فتح القدیر)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
ثُمَّ رَ‌دَدْنَاهُ أَسْفَلَ سَافِلِينَ ﴿٥﴾
پھر اسے نیچوں سے نیچا کر دیا۔ (۱)
۵۔۱ یہ اشارہ ہے انسان کے ارذل عمر (بہت زیادہ عمر) کی طرف۔ جس میں جوانی اور قوت کے بعد بڑھاپا اور ضعف آجاتا ہے اور انسان کی عقل اور ذہن بچے کی طرح ہو جاتا ہے۔ بعض نے اس سے کردار کا وہ سفلہ پن لیا ہے جس میں مبتلا ہو کر انسان انتہائی پست اور سانپ بچھو سے بھی زیادہ گیا گزرا ہو جاتا ہے اور بعض نے اس سے ذلت و رسوائی کا وہ عذاب مراد لیا ہے جو جہنم میں کافروں کے لیے ہے۔ گویا انسان اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت سے انحراف کرکے اپنے کو احسن تقویم کے بلند رتبہ و اعزاز سے گرا کر جہنم کی اسفل سافلین میں ڈال لیتا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ فَلَهُمْ أَجْرٌ‌ غَيْرُ‌ مَمْنُونٍ ﴿٦﴾
لیکن جو لوگ ایمان لائے اور (پھر) نیک عمل کیے تو ان کے لیے ایسا اجر ہے جو کبھی ختم نہ ہو گا۔
٦-۱ آیت ما قبل کے پہلے مفہوم کے اعتبار سے یہ جملہ مبینہ ہے، مومنوں کی کیفیت بیان کر رہا ہے اور دوسرے تیسرے مفہوم کے اعتبار سے، ما قبل کی تاکید ہے کہ اس انجام سے اس نے مومنوں کا استثنا کر دیا۔ (فتح القدیر)

فَمَا يُكَذِّبُكَ بَعْدُ بِالدِّينِ ﴿٧﴾
پس تجھے اب روز جزا کے جھٹلانے پر کون سی چیز آمادہ کرتی ہے۔ (١)
٧۔١ یہ انسان سے خطاب ہے، زجر و توبیخ کے لیے۔ کہ اللہ نے تجھے بہترین صورت میں پیدا کیا اور وہ تجھے اس کے برعکس قعر مذلت میں بھی گرانے کی قدرت رکھتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اس کے لیے دوبارہ پیدا کرنا کوئی مشکل نہیں۔ اس کے بعد بھی تو قیامت اور جزا کا انکار کرتا ہے؟
 
Top