• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

امام ابوحنیفہ کا تذکرہ تورات میں ؟؟!!!

ابن بشیر الحسینوی

رکن مجلس شوریٰ
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 14، 2011
پیغامات
1,135
ری ایکشن اسکور
4,484
پوائنٹ
376
فتاوی برہنہ (ج٢ص١٨٤)میں لکھا ہوا ھے کہ نعمان بن ثابت کا تذکرہ تورات میں بھی ہے ،معراج میں بھی امام ابو حنیفہ موضوع بحث رہے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے امام صاحب کے بارے میں پیش گوئی بھی کی تھی ۔(حقیقۃ التقلید ص:٦١)
عبدالمصطفی لکھتا ھے :
؏ حنیفہ حنیف کا تانیث ہے جس کے معنی ہیں عبادت کرنے والا اور دین کی طرف راغب ہونے والا ۔

؏ آپ کا حلقہ درس وسیع تھا اور آپ کے شاگرد اپنے ساتھ قلم دوات رکھتے تھے چونکہ اہل عراق دوات کو حنیفہ کہتے ہیں اس لیے آپ کو ابوحنیفہ کہا گیا یعنی دوات والے -

؏ آپ کی کنیت وضعی معنی کے اعتبار سے ہے یونی ابوالملۃ الحنیفۃ ۔ قرآن مجید میں رب تعالی نے مسلمانوں سے فرمایا : فاتبعو ملۃ ابراہیم حنیفۃ (آل عمران 95 ) امام اعظم رضی اللہ عنہ نے اسی نسبت سے اپنی کنیت ابوحنیفہ اختیار کی ، اسکا مفہوم ہے باطل ادیان کو چھوڑ کر دین حق اختیار کرنے والا (الخیرات الحسان 71)

امام اعظم رضی اللہ عنہ کا ذکر اسی کنیت کے ساتھ توریت میں آیا ہے ۔ شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :

بعض علماء نے بیان کیا ہے کہ امام ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ کا ذکر توراۃ میں ہے ، حضرت کعب بن احبار رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ تعالی نے جو توراۃ حضرت موسٰی علیہ السلام پر نازل فرمائی اس میں*ہمیں* یہ بات ملتی ہے کہ اللہ تعالی نے فرمایا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں*ایک نور ہوگا جس کی کنیت ابوحنیفہ ہوگی ۔ امام اعظم رضی اللہ عنہ کے لقب سراج الامۃ سے اس کی تائید ہوتی ہے ۔ ( تعارف فقہ و تصوف 225 )


سید شاہ تراب لحق قادری صاحب کی کتاب امام اعظم سے اقتباس]
فتاوی برہنہ علمائ احناف کے ہاں معتبر کتاب ہے
ایک حنفی عالم دین محمد برہان الحق جلالی لکھتے ہیں :’’
اور اسطرح کتب معتبرہ مثل ارشادالطالبین اور فتاویٰ برہنہ میں یہ منقول ہے کہ
ترجمہ:۔یعنی امام اعظم کوفہ کی مسجد میں تعلیم وتدریس اور فیض رسانی کی مسند پر جلوہ افروز ہوتے توآپ کے ارد گردایک ہزار شاگرد بیٹھتے آپ کے چالیس جلیل القدر فقہا شاگرد آپ کے نزدیک بیٹھتے اور مسائل شرعیہ استخراج فرماتے تھے جب کسی مسئلے کی درستگی پر سب کا اتفاق ہو جاتاتو امام المسلمین بہت خوشی میں ”الحمدللہ واللہ اکبر“کانعرہ بلند کرتے اور آپ کی موافقت میں حاضرین مجلس اللہ اکبر کانعرہ لگاتے اور مسئلہ کو کتاب میں نقل کر لیتے(حوالہ )


مشھور شاعر اور صوفی وارث علی شاہ اسی فتاوی برہنہ کی تعریف یوں کرتے ہیں :[B
فتاوی برہنہ منظوم شاہاں نال زبدیاں حفظ قراریا نیں
معارج النبوت خلاصیاں توں روضہ نال اخلاص پساریا نیں
زرداریاں دے نال شرح مُلا زنجانیاں نحو نتاریا نیں
کرن حفظ قرآن تفسیر دوراں، غیر شرح نوں دریاں ماریا نیں
(وارث شاہ)
(حوالہ )

اے علمائ تقلید کیا یہ سچ ھے یا جھوٹ ؟
یہ کیوں کہا گیا ؟ اس کی بے شمار وجوہات ہیں جن کی تفصیل درج ذیل ھے [/B]

١:عام پڑھے لکھے لوگ امام صاحب کی عقیدت میں گن گائے کہ ہمارے کا تذکرہ تو توراۃ میں ہے اس لئے انھیں کی تقلید واجب ھے !
٢:یہ من گھڑت بات اس لئے احناف پیش کرتے ہیں تا کہ کسی نہ کسی طرح ہمارے امام کا مقام بن جائے !!
٣:فقہ حنفی کی تائید تورات سے بھی حاصل کرنے کی غرض سے یہ بات بنائی گئی !!!
٤:ایک جھوٹ کو چھپانے کے لئے سو جھوٹ بولنا پڑتا ہے تو فقہ حنفی غیر ثابت تھی بس اس کو ثابت کرنے کے لئے سب پاپڑ بیلنے پڑ رہے ہیں !!!
اے امت مسلمہ !
خدا راہ سمجھیں ہوشیار ہو جائیں اپنے ایمان و عقیدہ کی اصلاح کریں اپنی گردن سے تقلید کو دور کریں ،ورنہ یہ آل تقلید تمہیں صراط مستقیم پر نہیں آنے دیں گےبس من گھڑت باتیں بنا کر آپ کو تسلی دیں گے ۔

بحوالہ البشارہ ڈاٹ کام
 

muslim

رکن
شمولیت
ستمبر 29، 2011
پیغامات
467
ری ایکشن اسکور
567
پوائنٹ
86
بعض علماء نے بیان کیا ہے کہ امام ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ کا ذکر توراۃ میں ہے ، حضرت کعب بن احبار رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ تعالی نے جو توراۃ حضرت موسٰی علیہ السلام پر نازل فرمائی اس میں*ہمیں* یہ بات ملتی ہے کہ اللہ تعالی نے فرمایا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں*ایک نور ہوگا جس کی کنیت ابوحنیفہ ہوگی ۔ امام اعظم رضی اللہ عنہ کے لقب سراج الامۃ سے اس کی تائید ہوتی ہے ۔ ( تعارف فقہ و تصوف 225 )
یہ بالکل جھوٹ ہے کہ توراۃ میں ابو حنیفہ کا زکر ہے۔ بلکہ توراۃ میں ہدایت اور نور ہے اور اس میں اللہ کا حکم ہے۔


وَكَيْفَ يُحَكِّمُونَكَ وَعِندَهُمُ التَّوْرَاةُ فِيهَا حُكْمُ اللَّـهِ ثُمَّ يَتَوَلَّوْنَ مِن بَعْدِ ذَٰلِكَ ۚ وَمَا أُولَـٰئِكَ بِالْمُؤْمِنِينَ ﴿٤٣﴾ إِنَّا أَنزَلْنَا التَّوْرَاةَ فِيهَا هُدًى وَنُورٌ ۚ يَحْكُمُ بِهَا النَّبِيُّونَ الَّذِينَ أَسْلَمُوا لِلَّذِينَ هَادُوا وَالرَّبَّانِيُّونَ وَالْأَحْبَارُ بِمَا اسْتُحْفِظُوا مِن كِتَابِ اللَّـهِ وَكَانُوا عَلَيْهِ شُهَدَاءَ ۚ فَلَا تَخْشَوُا النَّاسَ وَاخْشَوْنِ وَلَا تَشْتَرُوا بِآيَاتِي ثَمَنًا قَلِيلًا ۚ وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَا أَنزَلَ اللَّـهُ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ ﴿٤٤﴾
بیشک ہم نے توریت اتاری اس میں ہدایت اور نور ہے، اس کے مطابق یہود کو حکم دیتے تھے ہمارے فرمانبردار نبی اور عالم اور فقیہہ کہ ان سے کتاب اللہ کی حفاظت چاہی گئی تھی اور وہ اس پر گواہ تھے تو لوگوں سے خوف نہ کرو اور مجھ سے ڈرو اور میری آیتوں کے بدلے ذلیل قیمت نہ لو اور جو اللہ کے اتارے پر حکم نہ کرے وہی لوگ کافر ہیں، (44)



ابو حنیفہ صاحب کوئی امام وغیرہ نہیں ہیں۔ امام، اللہ کے انبیاء اور محمد رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔
 

muslim

رکن
شمولیت
ستمبر 29، 2011
پیغامات
467
ری ایکشن اسکور
567
پوائنٹ
86

وَنَجَّيْنَاهُ وَلُوطًا إِلَى الْأَرْضِ الَّتِي بَارَكْنَا فِيهَا لِلْعَالَمِينَ ﴿٧١﴾

وَوَهَبْنَا لَهُ إِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ نَافِلَةً ۖ وَكُلًّا جَعَلْنَا صَالِحِينَ ﴿٧٢﴾
وَجَعَلْنَاهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنَا وَأَوْحَيْنَا إِلَيْهِمْ فِعْلَ الْخَيْرَاتِ وَإِقَامَ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءَ الزَّكَاةِ ۖ وَكَانُوا لَنَا عَابِدِينَ ﴿٧٣﴾

اور ہم اسے اور لوط کو نجات بخشی اس زمین کی طرف جس میں ہم نے جہاں والوں کے لیے برکت رکھی (71) اور ہم نے اسے اسحاق عطا فرمایا اور یعقوب پوتا، اور ہم نے ان سب کو اپنے قرب خاص کا سزاوار کیا، (72)
اور ہم نے انہیں امام کیا کہ ہمارے حکم سے بلاتے ہیں اور ہم نے انہیں وحی بھیجی اچھے کام کرنے اور نماز برپا رکھنے اور زکوٰة دینے کی اور وہ ہماری بندگی کرتے تھے، (73)
 

انس

منتظم اعلیٰ
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 03، 2011
پیغامات
4,178
ری ایکشن اسکور
15,357
پوائنٹ
800
ابو حنیفہ صاحب کوئی امام وغیرہ نہیں ہیں۔ امام، اللہ کے انبیاء اور محمد رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ [/COLOR]
اگر انبیاء کرام﷩ کے علاوہ کوئی امام نہیں ہو سکتا تو ہمیں عباد الرحمٰن کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے متقین کا امام بننے کی دُعا کی تلقین کیوں کی گئی ہے؟؟
﴿ وَالَّذِينَ يَقُولُونَ رَ‌بَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّ‌يَّاتِنَا قُرَّ‌ةَ أَعْيُنٍ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا ﴾ ... سورة الفرقان: 74
کہ ’’اور یہ دعا کرتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار! تو ہمیں ہماری بیویوں اور اولاد سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما اور ہمیں پرہیزگاروں کا امام بنا۔‘‘

علاوہ ازیں اگر نبی کے علاوہ کوئی امام نہیں ہو سکتا تو سیدنا ابراہیم﷤ نے اپنی اولاد کیلئے امام بننے کی دُعا کیوں کی تھی؟ جس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ظالموں کو نہیں بناؤں گا۔
﴿ وَإِذِ ابْتَلَىٰ إِبْرَ‌اهِيمَ رَ‌بُّهُ بِكَلِمَاتٍ فَأَتَمَّهُنَّ ۖ قَالَ إِنِّي جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ إِمَامًا ۖ قَالَ وَمِن ذُرِّ‌يَّتِي ۖ قَالَ لَا يَنَالُ عَهْدِي الظَّالِمِين ﴾ ... سورة البقرة: 124
کہ ’’جب ابراہیم﷤ کو ان کے رب نے کئی کئی باتوں سے آزمایا اور انہوں نے سب کو پورا کردیا تو اللہ نے فرمایا کہ میں تمہیں لوگوں کا امام بنا دوں گا، عرض کرنے لگے: اور میری اولاد کو، فرمایا میرا وعدہ ظالموں سے نہیں۔‘‘
 

muslim

رکن
شمولیت
ستمبر 29، 2011
پیغامات
467
ری ایکشن اسکور
567
پوائنٹ
86
اگر انبیاء کرام﷩ کے علاوہ کوئی امام نہیں ہو سکتا تو ہمیں عباد الرحمٰن کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے متقین کا امام بننے کی دُعا کی تلقین کیوں کی گئی ہے؟؟
﴿ وَالَّذِينَ يَقُولُونَ رَ‌بَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّ‌يَّاتِنَا قُرَّ‌ةَ أَعْيُنٍ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا ﴾ ... سورة الفرقان: 74
کہ ’’اور یہ دعا کرتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار! تو ہمیں ہماری بیویوں اور اولاد سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما اور ہمیں پرہیزگاروں کا امام بنا۔‘‘

علاوہ ازیں اگر نبی کے علاوہ کوئی امام نہیں ہو سکتا تو سیدنا ابراہیم﷤ نے اپنی اولاد کیلئے امام بننے کی دُعا کیوں کی تھی؟ جس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ظالموں کو نہیں بناؤں گا۔
﴿ وَإِذِ ابْتَلَىٰ إِبْرَ‌اهِيمَ رَ‌بُّهُ بِكَلِمَاتٍ فَأَتَمَّهُنَّ ۖ قَالَ إِنِّي جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ إِمَامًا ۖ قَالَ وَمِن ذُرِّ‌يَّتِي ۖ قَالَ لَا يَنَالُ عَهْدِي الظَّالِمِين ﴾ ... سورة البقرة: 124
کہ ’’جب ابراہیم﷤ کو ان کے رب نے کئی کئی باتوں سے آزمایا اور انہوں نے سب کو پورا کردیا تو اللہ نے فرمایا کہ میں تمہیں لوگوں کا امام بنا دوں گا، عرض کرنے لگے: اور میری اولاد کو، فرمایا میرا وعدہ ظالموں سے نہیں۔‘‘

انس نضر صاحب۔

اما م، اللہ بناتا ہے جسے وہ چاہے اور آپ نے آیات سے بالکل درست ثابت کیا ہے کہ انبیاء کے علاوہ بھی لوگ امام ہو سکتے ہیں۔
لوگوں کو کوئی حق نہیں کہ اپنے مسلک فرقہ پسند ناپسند کی بنیاد پر خود ہی کسی کو امام قرار دے دیں۔


البقرۃ ١٢٤ سے ثابت ہو رہا ہے کہ امام، اللہ ہی بناتا ہے لوگ نہیں۔
 

انس

منتظم اعلیٰ
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 03، 2011
پیغامات
4,178
ری ایکشن اسکور
15,357
پوائنٹ
800
انس نضر صاحب۔
اما م، اللہ بناتا ہے جسے وہ چاہے اور آپ نے آیات سے بالکل درست ثابت کیا ہے کہ انبیاء کے علاوہ بھی لوگ امام ہو سکتے ہیں۔
لوگوں کو کوئی حق نہیں کہ اپنے مسلک فرقہ پسند ناپسند کی بنیاد پر خود ہی کسی کو امام قرار دے دیں۔

البقرۃ ١٢٤ سے ثابت ہو رہا ہے کہ امام، اللہ ہی بناتا ہے لوگ نہیں۔
محترم مسلم صاحب! مجھے خوشی ہے کہ کم از کم آپ نے پہلی مرتبہ کسی کی کوئی دلیل تسلیم تو کی کہ انبیاء کرام﷤ کے علاوہ بھی کوئی امام ہو سکتا ہے،
لیکن افسوس!
پھر اپنی عادت کے مطابق یہ کہہ کر اگلے ہی جملے میں اس کی تردید بھی کر دی کہ امام بنانا تو اللہ کا کام ہے، لوگوں کا نہیں؟؟؟ جس سے بات تو وہیں کی وہیں رہی کہ چونکہ اللہ نے ہمیں نہیں بتایا تو پھر انسان کیسے کسی کو امام قرار دے سکتے ہیں؟؟؟

محترم! صرف امام بنانا نہیں، بلکہ سب کچھ بنانا: انسان بنانا، ابو جان بنانا، عالم دین بنانا، مجتہد بنانا، مجاہد بنانا، عابد بنانا، ڈاکٹر بنانا، انجینئر بنانا سب کچھ اللہ کا ہی کام ہے، اس دنیا میں کوئی پتہ بھی اللہ کے حکم کے بغیر نہیں ہلتا،
لیکن یہ سب تسلیم کرنا تو انسان نے ہی ہے۔ اب اللہ تعالیٰ عام انسانوں کو وحی تو کریں گے نہیں کہ اے مسلم صاحب! میں نے محمد بن اسمعٰیل بخاری﷫ (امام بخاری) کو امام بنایا ہے، تم تسلیم کرو ... کیا خیال ہے؟؟؟

آسان الفاظ میں:
آپ کو تسلیم ہے کہ انبیائے کرام﷩ کے علاوہ بھی کوئی امام ہو سکتا ہے؟؟؟ آپ مجھے انبیاء﷩ کے علاوہ کوئی ایک شخصیت بتا دیں جسے آپ امام سمجھتے ہیں؟؟؟
اگر کوئی امام ہے تو آپ کے موقف کے مطابق اس کی امامت پر اللہ کی مہر ہونی چاہئے کیونکہ آپ کا کہنا ہے
البقرۃ ١٢٤ سے ثابت ہو رہا ہے کہ امام، اللہ ہی بناتا ہے لوگ نہیں۔
اگر کوئی نہیں ہے تو آپ کا یہ دعویٰ باطل ہے کہ میں تسلیم کرتا ہوں کہ انبیاء کے علاوہ بھی امام ہو سکتے ہیں۔
آپ نے آیات سے بالکل درست ثابت کیا ہے کہ انبیاء کے علاوہ بھی لوگ امام ہو سکتے ہیں۔
 

muslim

رکن
شمولیت
ستمبر 29، 2011
پیغامات
467
ری ایکشن اسکور
567
پوائنٹ
86
امام

انس نضر صاحب۔

السلام علیکم۔
آپ نے لکھا ہے کہ


آپ کو تسلیم ہے کہ انبیائے کرام﷩ کے علاوہ بھی کوئی امام ہو سکتا ہے؟؟؟ آپ مجھے انبیاء﷩ کے علاوہ کوئی ایک شخصیت بتا دیں جسے آپ امام سمجھتے ہیں؟؟؟
امام اللہ ہی بناتا ہے لوگ نہیں۔
بخاری صاحب کو آپ امام مانتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شیعہ بخاری صاحب کو امام نہیں مانتے۔

شیعہ حضرات کسی غائب امام کو مانتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اہل سنت غائب امام کو نہیں مانتے۔

اسماعیلی حضرات آغا خان کو امام مانتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اہل سنت آغاخان کو امام نہیں مانتے۔

بوہری حضرات برہان الدین صاحب کو امام مانتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اہل سنت انہیں امام نہیں مانتے۔

بھائی صاحب لوگوں کی ججمنٹ پر امامت نہیں ملتی۔ اللہ ہی امام بناتا ہے اس کو جو ابراہیم علیہ سلام کی زریت میں ہو اور ظالم نہ ہو۔


وَنُرِيدُ أَن نَّمُنَّ عَلَى الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا فِي الْأَرْضِ وَنَجْعَلَهُمْ أَئِمَّةً وَنَجْعَلَهُمُ الْوَارِثِينَ ﴿٢٨-٥﴾


اور ہم چاہتے تھے کہ جو لوگ ملک میں کمزور کر دیئے گئے ہیں اُن پر احسان کریں اور اُن کو پیشوا بنائیں اور انہیں (ملک کا) وارث کریں ۔
 

انس

منتظم اعلیٰ
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 03، 2011
پیغامات
4,178
ری ایکشن اسکور
15,357
پوائنٹ
800
انس نضر صاحب۔

السلام علیکم۔
آپ نے لکھا ہے کہ




امام اللہ ہی بناتا ہے لوگ نہیں۔
بخاری صاحب کو آپ امام مانتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شیعہ بخاری صاحب کو امام نہیں مانتے۔

شیعہ حضرات کسی غائب امام کو مانتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اہل سنت غائب امام کو نہیں مانتے۔

اسماعیلی حضرات آغا خان کو امام مانتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اہل سنت آغاخان کو امام نہیں مانتے۔

بوہری حضرات برہان الدین صاحب کو امام مانتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اہل سنت انہیں امام نہیں مانتے۔

بھائی صاحب لوگوں کی ججمنٹ پر امامت نہیں ملتی۔ اللہ ہی امام بناتا ہے اس کو جو ابراہیم علیہ سلام کی زریت میں ہو اور ظالم نہ ہو۔


وَنُرِيدُ أَن نَّمُنَّ عَلَى الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا فِي الْأَرْضِ وَنَجْعَلَهُمْ أَئِمَّةً وَنَجْعَلَهُمُ الْوَارِثِينَ ﴿٢٨-٥﴾


اور ہم چاہتے تھے کہ جو لوگ ملک میں کمزور کر دیئے گئے ہیں اُن پر احسان کریں اور اُن کو پیشوا بنائیں اور انہیں (ملک کا) وارث کریں ۔
كيا اُمت محمدیہ میں آپ کے نزدیک کوئی ایک فرد بھی امام گزرا ہے؟؟؟
خواہ اسے لوگوں نے امام بنایا ہو یا اللہ تعالیٰ نے؟؟
 

muslim

رکن
شمولیت
ستمبر 29، 2011
پیغامات
467
ری ایکشن اسکور
567
پوائنٹ
86
كيا اُمت محمدیہ میں آپ کے نزدیک کوئی ایک فرد بھی امام گزرا ہے؟؟؟
خواہ اسے لوگوں نے امام بنایا ہو یا اللہ تعالیٰ نے؟؟

محترم میرے اور آپ کے نذدیک کسی کا امام ہونا (علاوہ انبیاء) کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ یہ اللہ ہی جانتا ہے کہ کون اسکی نظر میں لوگوں کا امام ہوگا۔
 

انس

منتظم اعلیٰ
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 03، 2011
پیغامات
4,178
ری ایکشن اسکور
15,357
پوائنٹ
800

محترم میرے اور آپ کے نذدیک کسی کا امام ہونا (علاوہ انبیاء) کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ یہ اللہ ہی جانتا ہے کہ کون اسکی نظر میں لوگوں کا امام ہوگا۔
مسلم صاحب کے نزدیک نبی کریمﷺ کے بعد کوئی امام موجود نہیں، کیونکہ امام صرف اللہ بنا سکتے ہیں اور ظاہر ہے کہ اللہ کی بات تو صرف وحی کے ذریعے ہم تک پہنچ سکتی ہے اور نبی کریمﷺ کے بعد وحی بند ہے، لہٰذا ان کے نزدیک نبی کریمﷺ کے بعد کوئی امام نہیں ہو سکتا۔ حالانکہ فرمانِ باری ہے:

اگر انبیاء کرام﷩ کے علاوہ کوئی امام نہیں ہو سکتا تو ہمیں عباد الرحمٰن کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے متقین کا امام بننے کی دُعا کی تلقین کیوں کی گئی ہے؟؟
﴿ وَالَّذِينَ يَقُولُونَ رَ‌بَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّ‌يَّاتِنَا قُرَّ‌ةَ أَعْيُنٍ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا ﴾ ... سورة الفرقان: 74
کہ ’’اور یہ دعا کرتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار! تو ہمیں ہماری بیویوں اور اولاد سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما اور ہمیں پرہیزگاروں کا امام بنا۔‘‘
علاوہ ازیں اگر نبی کے علاوہ کوئی امام نہیں ہو سکتا تو سیدنا ابراہیم﷤ نے اپنی اولاد کیلئے امام بننے کی دُعا کیوں کی تھی؟ جس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ظالموں کو نہیں بناؤں گا۔
﴿ وَإِذِ ابْتَلَىٰ إِبْرَ‌اهِيمَ رَ‌بُّهُ بِكَلِمَاتٍ فَأَتَمَّهُنَّ ۖ قَالَ إِنِّي جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ إِمَامًا ۖ قَالَ وَمِن ذُرِّ‌يَّتِي ۖ قَالَ لَا يَنَالُ عَهْدِي الظَّالِمِين ﴾ ... سورة البقرة: 124
کہ ’’جب ابراہیم﷤ کو ان کے رب نے کئی کئی باتوں سے آزمایا اور انہوں نے سب کو پورا کردیا تو اللہ نے فرمایا کہ میں تمہیں لوگوں کا امام بنا دوں گا، عرض کرنے لگے: اور میری اولاد کو، فرمایا میرا وعدہ ظالموں سے نہیں۔‘‘
اور مسلم صاحب خود بھی کہہ چکے ہیں کہ
آپ نے آیات سے بالکل درست ثابت کیا ہے کہ انبیاء کے علاوہ بھی لوگ امام ہو سکتے ہیں۔
 
Top