• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

آج کی حدیث مبارکہ

ندیم محمدی

مشہور رکن
شمولیت
جولائی 29، 2011
پیغامات
361
ری ایکشن اسکور
1,280
پوائنٹ
140
ریاکاری (شرکِ خفی) کی ہلاکت خیزیاں


عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللہِ ﷺ وَنَحْنُ نَتَذَاكَرُ الْمَسِيحَ الدَّجَّالَ فَقَالَ: «أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِمَا ہُوَ أَخْوَفُ عَلَيْكُمْ عِنْدِي مِنْ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ»
قَالَ قُلْنَا بَلَی
فَقَالَ: «الشِّرْكُ الْخَفِيُّ أَنْ يَقُومَ الرَّجُلُ يُصَلِّي فَيُزَيِّنُ صَلَاتَہُ لِمَا يَرَی مِنْ نَظَرِ رَجُلٍ»

سیدنا ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس (گھر سے) باہر تشریف لائے جبکہ ہم مسیح دجال کا ذکر کر رہے تھے۔
آپ ﷺ نے فرمایا: "کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں جو میرے نزدیک تمہارے لیے مسیح دجال سے بھی زیادہ خطرناک ہے؟"
ہم نے کہا: کیوں نہیں (فرمائیے)۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "چھپا ہوا شرک (وہ یہ ہے) کہ آدمی نماز پڑھنے کھڑا ہوتا ہے، جب اسے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی اسے دیکھ رہا ہے تو اپنی نماز خوبصورت بناتا ہے۔"
[سنن ابن ماجہ کتاب الزہد، رقم الحدیث: 4204، حسن]

فوائد
دجال سے زیادہ خطرناک فتنہ
دجال کا فتنہ ظاہری ہوگا جسے ایک سچا مومن پہچان لے گا، لیکن ریاکاری (دکھاوا) ایک ایسا باطنی فتنہ ہے جو خاموشی سے دل میں داخل ہوتا ہے اور انسان کو پتا بھی نہیں چلتا کہ اس کے اعمال برباد ہو رہے ہیں۔ اسی لیے نبی کریم ﷺ نے اسے دجال سے بھی زیادہ خطرناک قرار دیا۔
ارشادِ نبوی ہے:
«إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمْ الشِّرْكُ الْأَصْغَرُ قَالُوا وَمَا الشِّرْكُ الْأَصْغَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ الرِّيَاءُ»
"بے شک مجھے تمہارے بارے میں سب سے زیادہ ڈر چھوٹے شرک کا ہے۔" صحابہ نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! چھوٹا شرک کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: "ریا (دکھاوا)۔"
[مسند احمد: 23636، حسن]

اخلاصِ نیت کی اہمیت
اسلام میں کسی بھی عمل کی قبولیت کا دارومدار صرف اور صرف نیت کے خالص ہونے پر ہے۔ اگر کسی عبادت میں اللہ کی رضا کے ساتھ لوگوں کی واہ واہ کی نیت شامل ہو جائے، تو وہ عمل باطل ہو جاتا ہے۔
ارشادِ ربانی ہے:
((فَاعْبُدِ اللَّهَ مُخْلِصًا لَّهُ الدِّينَ))
"پس اللہ کی عبادت اس طرح کر کہ تو دین کو اسی کے لیے خالص کرنے والا ہو۔"
[سورة الزمر: 2]

دکھاوے کی عبادت کا انجام
جو لوگ نماز اور دیگر عبادات محض لوگوں کو دکھانے کے لیے کرتے ہیں تاکہ انہیں نیک اور پرہیزگار سمجھا جائے، ان کی یہ عبادات ثواب کے بجائے عذاب کا باعث بنتی ہیں۔
ارشادِ ربانی ہے:
((فَوَيْلٌ لِّلْمُصَلِّينَ ۝ الَّذِينَ هُمْ عَن صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ ۝ الَّذِينَ هُمْ يُرَاءُونَ))
"پس خرابی ہے ان نمازیوں کے لیے۔ جو اپنی نماز سے غافل ہیں۔ جو دکھاوا کرتے ہیں۔"
[سورة الماعون: 4-6]

اللہ کی بے نیازی اور شرک سے بیزاری
اللہ تعالیٰ شرک سے مکمل طور پر پاک اور بے نیاز ہے۔ جب کوئی شخص اپنے کسی عمل میں اللہ کے ساتھ کسی اور کو بھی مقصود بنا لیتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس پورے عمل کو اسی غیر کے لیے چھوڑ دیتا ہے۔
حدیث قدسی میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
«أَنَا أَغْنَى الشُّرَكَاءِ عَنِ الشِّرْكِ، مَنْ عَمِلَ عَمَلًا أَشْرَكَ فِيهِ مَعِي غَيْرِي، تَرَكْتُهُ وَشِرْكَهُ»
"میں تمام شریکوں کی نسبت شرک سے سب سے زیادہ بے نیاز ہوں۔ جس نے کوئی ایسا عمل کیا جس میں اس نے میرے ساتھ کسی اور کو شریک کیا، تو میں اسے اور اس کے شرک کو چھوڑ دیتا ہوں۔"
[صحیح مسلم: 2985]

ریاکاری سے صدقات کا ضیاع
جس طرح ریاکاری نماز کو باطل کر دیتی ہے، اسی طرح اگر مال خرچ کرتے وقت نیت میں شہرت اور ناموری شامل ہو تو وہ صدقہ بھی رائیگاں چلا جاتا ہے۔
ارشادِ ربانی ہے:
((يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُبْطِلُوا صَدَقَاتِكُم بِالْمَنِّ وَالْأَذَىٰ كَالَّذِي يُنفِقُ مَالَهُ رِئَاءَ النَّاسِ))
"اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اپنے صدقے احسان رکھنے اور تکلیف پہنچانے سے برباد مت کرو، اس شخص کی طرح جو اپنا مال لوگوں کے دکھاوے کے لیے خرچ کرتا ہے۔"
[سورة البقرة: 264]

شرکِ خفی کی باریکیاں اور اس سے بچاؤ
شرکِ خفی (ریاکاری) اس قدر باریک اور پوشیدہ ہوتا ہے کہ بظاہر نیک اور متقی نظر آنے والے لوگ بھی اس کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس سے بچنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ انسان اپنی نیتوں کا مسلسل محاسبہ کرتا رہے۔
ارشادِ ربانی ہے:
((فَمَن كَانَ يَرْجُو لِقَاءَ رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهِ أَحَدًا))
"پس جو شخص اپنے رب کی ملاقات کی امید رکھتا ہو تو لازم ہے کہ وہ عمل کرے نیک عمل اور اپنے رب کی عبادت میں کسی کو شریک نہ بنائے۔"
[سورة الكهف: 110]

تنہائی اور محفل کا فرق
مومن کی پہچان یہ ہے کہ اس کا ظاہر اور باطن ایک ہوتا ہے۔ اگر کوئی شخص لوگوں کے سامنے تو لمبی لمبی نمازیں پڑھے لیکن تنہائی میں نماز سے غافل ہو یا اس میں جلدی کرے، تو یہ نفاق اور ریاکاری کی واضح علامت ہے۔
ارشادِ ربانی ہے:
((يَسْتَخْفُونَ مِنَ النَّاسِ وَلَا يَسْتَخْفُونَ مِنَ اللَّهِ وَهُوَ مَعَهُمْ))
"وہ لوگوں سے تو چھپتے ہیں لیکن اللہ سے نہیں چھپتے، حالانکہ وہ ان کے ساتھ ہوتا ہے۔"
[سورة النساء: 108]

عملی اقدامات

عمل سے پہلے نیت کا جائزہ
ہر نیک کام، خواہ وہ نماز ہو، صدقہ ہو یا کسی کی مدد، شروع کرنے سے پہلے چند سیکنڈ رک کر اپنے دل سے پوچھیں کہ کیا میں یہ صرف اللہ کی رضا کے لیے کر رہا ہوں یا کسی اور مقصد کے لیے؟

پوشیدہ عبادات کا اہتمام
فرائض کے علاوہ نفلی عبادات (جیسے تہجد، صدقہ، اور ذکر) کو جتنا ممکن ہو سکے چھپا کر کریں۔ اس سے دل میں اخلاص پیدا ہوتا ہے۔

تنہائی کی عبادات کو سنوارنا
اپنے آپ کو عادت ڈالیں کہ تنہائی میں بھی آپ کی نماز اتنی ہی خوبصورت، طویل اور خشوع و خضوع والی ہو جتنی لوگوں کے سامنے ہوتی ہے۔

تعریف کی تمنا کو کچلنا
جب کوئی آپ کی نیکی کی تعریف کرے تو دل میں خوشی محسوس کرنے کے بجائے چوکنا ہو جائیں اور اس تعریف کو اپنے نفس کے لیے فتنہ سمجھیں۔

سوشل میڈیا پر نیکی کی تشہیر سے گریز
آج کے دور میں ریاکاری کا سب سے بڑا ذریعہ سوشل میڈیا ہے۔ اپنی عبادتوں، عمرے کے سفر، یا صدقہ و خیرات کی تصویریں پوسٹ کرنے سے سختی سے گریز کریں۔

استغفار کی کثرت
چونکہ ریاکاری دل میں انتہائی خاموشی سے داخل ہوتی ہے، اس لیے روزانہ کثرت سے استغفار کریں تاکہ نادانستہ طور پر ہونے والی ریاکاری معاف ہو جائے۔

مسنون دعاؤں کا ورد
اللہ سے اخلاص مانگنے اور شرک سے بچنے کی دعاؤں کو اپنا معمول بنا لیں۔

اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ أَنْ أُشْرِكَ بِكَ وَأَنَا أَعْلَمُ، وَأَسْتَغْفِرُكَ لِمَا لَا أَعْلَمُ۔
 
Top