کلیم حیدر
ناظم خاص
- شمولیت
- فروری 14، 2011
- پیغامات
- 9,747
- ری ایکشن اسکور
- 26,385
- پوائنٹ
- 995
متبنّی(گود لئے ہوئے بچے ) کے ساتھ برتاؤ
حضرت عائشہؓ کے کوئی اولاد نہیں ہوئی۔ لیکن ان کی پوری زندگی میں کوئی واقعہ ایسا مذکور نہیں جس سے ثابت ہو کہ ان کو قسمت سے اس کا گلہ تھا۔ شرفائے عرب میں دستور تھا کہ نام کے علاوہ اپنی اولاد کے نام سے اپنی کنیت رکھتے تھے۔ معززین کا نام نہیں لیتے تھے۔ کنیت سے مخاطب کرتے تھے۔حضرت عائشہؓ نے ایک دفعہ عرض کی ’’یا رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم) آپ کی تمام بیویوں نے اپنے (پہلے شوہروں کے ) بیٹوں کے نام سے اپنی کنیتیں رکھ لی ہیں ۔ میں کس کے نام سے رکھوں ۔‘‘آپؓ نے فرمایا تم بھی اپنے بیٹے عبد اللہ کے نام سے رکھو۔
اس عبد اللہ سے مقصود حضرت عبد اللہ بن زبیرؓ ہیں جو حضرت عائشہؓ کے بھانجے اور حضرت اسماء بنت ابی بکرؓ کے صاحبزادہ ہیں ۔ ہجرت کے بعد مسلمانوں میں سب سے پہلے وہی پیدا ہوئے تھے۔کافر کہنے لگے تھے کہ مسلمان بیویاں یہاں آ کر بانجھ ہو گئی ہیں ۔جب یہ پیدا ہوئے تو مسلمانوں کو بڑی خوشی ہوئی۔آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم) نے خود اپنے دستِ مبارک سے ان کے تالو میں چھوہارا اور اپنا لعاب دہن ملا۔ حضرت عائشہؓ نے گویا ان کو اپنا بیٹا بنا لیا تھا اور انکو دل سے چاہتی تھیں ۔ وہ بھی ماں سے زیادہ ان سے محبت کرتے تھے۔ان کے علاوہ حضرت عائشہؓ نے اپنے آغوش تربیت میں اور بھی بچوں کو لیکر پرورش کی ۔خود آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم) کی زندگی میں ایک انصاریہ لڑکی کی پرورش اور بیاہ کا ذکر حدیثوں میں ہے۔ مشروق بن اجدع ، عمرہ بنت عائشہ بن طلحہ ، عمرہ بنت عبد الرحمن انصاریہ ، اسماء بنت عبد الرحمن ابی بکرؓ صدیق ، عروہ بن زبیر بن زبیر ، قاسم بن محمد اور ان کے بھائی اور عبد اللہ بن یزید وغیرہ حضرت عائشہؓ کے پروردہ تھے۔محمد بن ابی بکرؓ کی لڑکیوں کو بھی انہوں نے پالا تھا اور انکی شادی بیاہ بھی وہی کر دیتی تھیں ۔
حضرت عائشہؓ کے کوئی اولاد نہیں ہوئی۔ لیکن ان کی پوری زندگی میں کوئی واقعہ ایسا مذکور نہیں جس سے ثابت ہو کہ ان کو قسمت سے اس کا گلہ تھا۔ شرفائے عرب میں دستور تھا کہ نام کے علاوہ اپنی اولاد کے نام سے اپنی کنیت رکھتے تھے۔ معززین کا نام نہیں لیتے تھے۔ کنیت سے مخاطب کرتے تھے۔حضرت عائشہؓ نے ایک دفعہ عرض کی ’’یا رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم) آپ کی تمام بیویوں نے اپنے (پہلے شوہروں کے ) بیٹوں کے نام سے اپنی کنیتیں رکھ لی ہیں ۔ میں کس کے نام سے رکھوں ۔‘‘آپؓ نے فرمایا تم بھی اپنے بیٹے عبد اللہ کے نام سے رکھو۔
اس عبد اللہ سے مقصود حضرت عبد اللہ بن زبیرؓ ہیں جو حضرت عائشہؓ کے بھانجے اور حضرت اسماء بنت ابی بکرؓ کے صاحبزادہ ہیں ۔ ہجرت کے بعد مسلمانوں میں سب سے پہلے وہی پیدا ہوئے تھے۔کافر کہنے لگے تھے کہ مسلمان بیویاں یہاں آ کر بانجھ ہو گئی ہیں ۔جب یہ پیدا ہوئے تو مسلمانوں کو بڑی خوشی ہوئی۔آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم) نے خود اپنے دستِ مبارک سے ان کے تالو میں چھوہارا اور اپنا لعاب دہن ملا۔ حضرت عائشہؓ نے گویا ان کو اپنا بیٹا بنا لیا تھا اور انکو دل سے چاہتی تھیں ۔ وہ بھی ماں سے زیادہ ان سے محبت کرتے تھے۔ان کے علاوہ حضرت عائشہؓ نے اپنے آغوش تربیت میں اور بھی بچوں کو لیکر پرورش کی ۔خود آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم) کی زندگی میں ایک انصاریہ لڑکی کی پرورش اور بیاہ کا ذکر حدیثوں میں ہے۔ مشروق بن اجدع ، عمرہ بنت عائشہ بن طلحہ ، عمرہ بنت عبد الرحمن انصاریہ ، اسماء بنت عبد الرحمن ابی بکرؓ صدیق ، عروہ بن زبیر بن زبیر ، قاسم بن محمد اور ان کے بھائی اور عبد اللہ بن یزید وغیرہ حضرت عائشہؓ کے پروردہ تھے۔محمد بن ابی بکرؓ کی لڑکیوں کو بھی انہوں نے پالا تھا اور انکی شادی بیاہ بھی وہی کر دیتی تھیں ۔