• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سیرتِ عائشہ (رضی اللہ عنہا)

کلیم حیدر

ناظم خاص
شمولیت
فروری 14، 2011
پیغامات
9,747
ری ایکشن اسکور
26,385
پوائنٹ
995
طب، تاریخ، ادب، خطابت و شاعری

حضرت عائشہؓ کے شاگردوں کا بیان ہے کہ تاریخ، ادب، خطابت اور شاعری میں ان کو اچھی دستگاہ حاصل تھی اور طب میں بھی ان کو کسی قدر دخل تھا۔ ہشام بن عروہ کی روایت ہے:
’’میں نے قرآن ، فرائض ،حلال و حرام (یعنی فقہ) شاعری ، عرب کی تاریخ و نسبت کا حضرت عائشہؓ سے زیادہ واقف کار کسی کو نہ پایا۔
 

کلیم حیدر

ناظم خاص
شمولیت
فروری 14، 2011
پیغامات
9,747
ری ایکشن اسکور
26,385
پوائنٹ
995
طب

ہشام بن عروہ کہتے ہیں ’’ میں نے حضرت عائشہؓ سے زیادہ کسی کو طب کا ماہر نہیں پایا۔‘‘ یہ ظاہر ہے کہ عرب میں فنِ طب کا باقاعدہ رواج نہ تھا۔ عرب کا سب سے بڑا طبیب اس زمانہ میں حارث بن کلدہ تھا اور ملک میں چھوٹے چھوٹے طبیب و معالج تھے، ان کا فن طب وہی تھا جو جاہل قوموں میں رائج ہوتا ہے، کچھ جڑی بوٹیوں کے خواص معلوم ہوں گے کچھ بیماریوں کی مجرب دوائیں معلوم ہو گئیں ۔ حضرت عائشہؓ سے ایک شخص نے پوچھا کہ آپ شعر کہتی ہیں تو میں نے مانا کہ آپ ابو بکرؓ کی بیٹی ہیں ، کہہ سکتی ہیں ، لیکن آپ کو طب سے یہ واقفیت کیونکر ہوئی۔ فرمایا:
’’ آنحضرت(صلی اللہ علیہ وسلم) آخر عمر میں بیمار رہا کرتے تھے، اطبا ئے عرب آیا کرتے تھے، جو وہ بتاتے تھے میں یاد کر لیتی تھی۔‘‘
ہم سمجھتے ہیں کہ حضرت عائشہؓ کی طبی واقفیت ویسی ہی ہو گی جیسے پہلے خاندان کی بڑی بوڑھیاں بچوں کا علاج کرتی تھیں اور کچھ اور بیماری کے مجرب نسخے یاد رکھتی تھیں ۔ مسلمان عورتیں عموماً لڑائیوں میں آنحضرت(صلی اللہ علیہ وسلم) کے ساتھ جاتی تھی اور زخمیوں کی مرہم پٹی کرتی تھیں ۔ خود حضرت عائشہؓ بھی جنگِ احد میں مصروفِ خدمت تھیں ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس عہد مبارک میں خاتونِ اسلام کو حسبِ ضرورت اس فن سے واقفیت تھیں ۔
 

کلیم حیدر

ناظم خاص
شمولیت
فروری 14، 2011
پیغامات
9,747
ری ایکشن اسکور
26,385
پوائنٹ
995
تاریخ

عرب کے حالات ، جاہلیت کے رسوم اور قبائل کے باہمی انساب کی واقفیت میں حضرت ابوبکرؓ کو مہارت تامّہ تھی۔ حضرت عائشہؓ ان کی بیٹی تھیں ، اسلئے ان فنون کی واقفیت ان کا خاندانی ورثہ تھی۔ عروہ کہتے ہیں :
ما رایت احداً من الناس اعلم......بحدیث العرب و لا النسب من عائشہؓ ۔
’’میں نے حضرت عائشہؓ سے زیادہ کسی کو عرب کی تاریخ و نسب کا ماہر نہ پایا۔‘‘
عرب جاہلیت کے رسوم اور معاشرتی حالات کے متعلق بعض نہایت قیمتی معلومات حدیث کی کتابوں میں حضرت عائشہؓ ہی کی زبانی منقول ہیں ، مثلاً عرب میں شادی کے کتنے طریقے جاری تھے۔ طلاق کی کیا صورت ہوتی تھی۔ شادیوں میں کیا گایا جاتا تھا، ان کے روزہ کا دن کون تھا، قریش حج میں کہاں اترتے تھے، میّت کو دیکھ کر کیا کہا جاتا تھا۔
محدثین کی محفل میں انصار کی جنگ بعاث کا تذکرہ ہم نے حضرت عائشہؓ ہی کی زبانی سنا، انصار کے بعض مذہبی رسوم مثلاً یہ کہ وہ جاہلیت میں مشلل کے بت پوجتے تھے ، انہی سے ہم کو معلوم ہوئے۔ اسلام کے بعض اہم تاریخی واقعات مثلاً آپ کے آغازِ وحی اور ابتدائے نبوت کے مفصل کیفیت کو انہی کی زبان سے لوگوں نے سنا۔ صحاح میں احادیث 2، 3 سطروں سے زیادہ کی نہیں ہوتیں ، لیکن حضرت عائشہؓ کے یہ واقعات احادیث کے دو دو تین تین صفحوں میں مسلسل بیان ہوئے ہیں ۔ قرآن کیوں کر اور کس ترتیب سے نازل ہوا، نماز کی کیا کیا صورت اسلام میں پیدا ہوئی، انہی نے بتایا۔ آنحضرت(صلی اللہ علیہ وسلم) کے مرض الموت کی شروع سے مفصل کیفیت صرف انہی کی زبان سے سن کر دنیا نے جانا، آپ کے کفن میں کتنے کپڑے تھے اور کس قسم کے تھے، انہی نے بتائی۔ (صحاح ابواب الجنائز)

خیر یہ تو گھر کے اندر کی باتیں تھیں ۔ میدانِ جنگ کے حالات بھی انہوں نے ہم کو سُنائے ہیں ، غزوۂ بدر کے بعض واقعات ، جنگ احد کی کیفیت ، غزوہ خندق کے کچھ حالات غزوۂ بنی قریظہ کے بعض جزئیات ، حجۃ الوداع کے واقعات کے ضروری اجزاء انہی سے ہاتھ آئے، آنحضرت(صلی اللہ علیہ وسلم) کی سیرت مبارک کے متعلق صحیح و مفصل معلومات انہی نے بہم پہنچائے، مثلاً قصّہ بدء وحی، واقعہ ہجرت ، واقعہ وصال کے علاوہ آپؐ کی عبادتِ شبانہ، آپؐ کے خانگی مشاغل، آپؐ کے ذاتی اخلاق کا صحیح نقشہ، انہی نے ہم کو کھینچ کر دکھایا، آنحضرت(صلی اللہ علیہ وسلم) پر سب سے سخت دن کون سا گزرا انہی نے ہم کو بتایا۔ آپؐ کے بعد حضرت ابو بکرؓ کی خلافت ، حضرت فاطمہؓ اور ازواج مطہرات کا دعویٰ ،حضرت علیؓ کا ملالِ خاطر اور پھر بیعت کے تمام مفصل واقعات بروایاتِ صحیحہ انہی سے ہم کو معلوم ہوئے۔
 

کلیم حیدر

ناظم خاص
شمولیت
فروری 14، 2011
پیغامات
9,747
ری ایکشن اسکور
26,385
پوائنٹ
995
ادب

ادب سے مراد عام گفتگو کی خوبی اور نثر کی انشاء پردازی ہے۔ بہت سی روایتیں اس باب میں متفق ہیں کہ حضرت عائشہؓ نہایت شیریں کلام اور فصیح اللسان تھیں ، ان کے ایک شاگرد موسیٰ بن طلحہ کی روایت ہے کہ:
ما رأیت افصح من عائشہؓ (مستدرک حاکم ترمذیِ مناقب)
حضرت عائشہؓ سے زیادہ فصیح اللسان میں نے نہیں دیکھا۔
احنف بن قیس تابعی بصری لکھتے ہیں :
ماسمعت الکلام من فم مخلوق افخم ولا احسن منہ من فی عائشۃ رضی اللہ عنھا (مستدرک حاکم)
’’کسی مخلوق کے منھ کی بات حسنِ بیان اور متانت میں حضرت عائشہؓ کے منھ کی بات سے عمدہ اور بہترین نہیں سنی ۔‘‘
حضرت عائشہؓ اسی عہد میں پیدا ہوئی تھیں ۔ ان کے پدر بزرگوار عرب میں شعر وسخن کے جوہری تھے، اس لئے یہ فن آغوش پدر ہی میں انہوں نے سیکھا،ان کے شاگرد کہا کرتے تھے کہ ہم کو آپ کی شاعری پر تعجب نہیں ، اس لئے کہ آپ ابو بکر کی بیٹی ہیں ۔
احادیث کی کتابوں میں حضرت عائشہؓ کی زبانی بہت سے اشعار مروی ہیں ،ان کے بھائی عبد الرحمن بن ابی بکر کا وطن سے باہر انتقال ہوا تھا، لاش مکہ معظمہ لا کر دفن کی گئی، جب مکہ معظمہ آنے کا اتفاق ہوا، بھائی کی قبر پر آئیں ، اس وقت ایک جاہلی شاعر کے یہ شعر ان کی زبان پر تھے۔
وکنا کندما نی جذیمۃ حقبتہ
من الدہر حتی قیل لن یتصدعا
ہم مدت تک بادشاہ جذیمہ کے دونوں مصاحبوں کی طرح ایک ساتھ رہے یہاں تک کہ لوگ کہنے لگے، اب ہر گز علیحدہ نہ ہونگے۔
غزوۂ بدر قریش کے بڑے بڑے لیڈر مارے گئے تھے۔ شعرائے قریش نے ان کا پر درد مرثیہ لکھا تھا۔ حضرت عائشہؓ کی زبانی اس کے چند اشعار محفوظ رہ گئے ہیں جو صحیح بخاری (باب الہجرۃ) میں دیکھے جا سکتے ہیں ۔ اس سے انکے شعری ذوق کا پتہ چلتا ہے۔
وما ذا بالقلیب بدر
من القینات والشرب الکرام
بدر کے کنوئیں میں کیا کیا ناچنے والیاں اور شریف مے خوار پڑے ہیں ۔
حضرت عائشہؓ کے اس ذوقِ شاعری اور سخن فہمی کو دیکھ کر شعراء اپنا کلام ان کو سناتے تھے۔ حضرت حسانؓ بن ثابت جو انصار میں شاعری کے استاد تھے، ان کی خدمت میں حاضر ہو کر اپنے اشعار سناتے تھے، حضرت عائشہ ان کی تعریف کرتی تھیں اور ان کے مناقب بیان کرتی تھیں ۔
شاعری کے سلسلے میں حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ بعض اشعار اچھے ہوتے ہیں اور بعض برے ، اچھے لے لو اور برے چھوڑ دو۔
 

کلیم حیدر

ناظم خاص
شمولیت
فروری 14، 2011
پیغامات
9,747
ری ایکشن اسکور
26,385
پوائنٹ
995
تعلیم، افتا و ارشاد

علم کی ایک خدمت یہ بھی ہے کہ اس کو دوسروں تک پہنچایا جائے اور اس سے تزکیۂ نفوس اور اصلاح امت کا کام لیا جائے۔ آنحضرت(صلی اللہ علیہ وسلم) کا حکم تھا کہ جو حاضر ہو وہ غائب تک پہنچائے ۔
علم کی اشاعت اور تعلیم جو مردوں کی مخصوص صفت سمجھی جاتی ہے اسے حضرت عائشہؓ نے بحسن و خوبی انجام دیا۔
آنحضرت(صلی اللہ علیہ وسلم) اور صحابہ کرامؓ کے بعد زبردست سیاسی شورشوں کے باوجود مدینہ میں حضرت عائشہؓ کی سب سے بڑی درسگاہ قائم تھی،لڑکے ، عورتیں اور جن مردوں کا حضرت عائشہؓ سے پردہ نہ تھا، وہ حجرہ کے اندر آ کر مجلس میں بیٹھتے تھے اور لوگ حجرہ کے سامنے مسجد نبوی میں بیٹھتے ، دروازہ پر پردہ پڑا رہتا ، پردہ کی اوٹ میں وہ خود بیٹھ جاتیں لوگ سوالات کرتے یہ جوابات دیتیں ، اپنے شاگردوں کی زبان ،طرز ادا اور صحتِ تلفظ کی بھی سخت نگرانی کرتی تھیں ۔
ان عارضی طالب علموں کے علاوہ جو کبھی کبھی حلقہ درس میں شریک ہوتے تھے، وہ خاندانوں کے لڑکوں اور لڑکیوں کو اور شہر کے یتیم بچّوں کو اپنے آغوشِ تربیت میں لیتی تھیں اور ان کی تعلیم و تربیت کرتی تھیں ، امام نخعی جو عراق کے متفق علیہ امام تھے، وہ لڑکپن میں حضرت عائشہؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے، ان کے دوسرے معاصرین کو اس پر رشک تھا۔
معمول تھا کہ ہر سال حج کو جاتیں ، کوہ حرا کے پاس حضرت عائشہؓ کا خیمہ نصب ہوتا ، تشنگانِ علم جوق در جوق دور دراز ممالک سے آ کر حلقۂ درس میں شریک ہوتے، مسائل پیش کرتے تھے، اپنے شبہات کا ازالہ چاہتے، لوگ بعض مسائل کو پوچھتے ججھکتے تو ڈھارس بندھاتیں ، ایک صاحب ایک بات پوچھنا چاہتے تھے، لیکن شرماتے تھے، آپ نے فرمایا کہ جو تم اپنی ماں سے پوچھ سکتے تھے، مجھ سے بھی پوچھ سکتے ہو اور حقیقۃً وہ اپنے شاگردوں کو ماں ہی بن کر تعلیم دیتی تھیں ، انکے شاگردوں کی تعداد بہت ہے جن میں بڑے بڑے صحابہ کرامؓ اور تابعین بھی ہیں ۔
 

کلیم حیدر

ناظم خاص
شمولیت
فروری 14، 2011
پیغامات
9,747
ری ایکشن اسکور
26,385
پوائنٹ
995
افتاء

افتا ء یعنی فتویٰ دینے میں حضرت عائشہؓ کا نام سرِ فہرست اور طبقۂ اول میں ہے،حضرت عائشہؓ نے آنحضرت(صلی اللہ علیہ وسلم) کی وفات کے بعد ہی اپنے پدر بزرگوار کی زندگی ہی میں مرجعیتِ عام اور منصب افتاء حاصل کر لیا تھا اور آخر زمانہ تک بقیہ خلفائے راشدینؓ کے زمانوں میں بھی وہ ہمیشہ اس منصب پر ممتاز رہیں ۔ حضرت قاسم جو صحابہ کے بعد مدینہ کے سات ۷ مشہور تابعیوں میں شمار ہوتے تھے۔ فرماتے ہیں :
’’حضرت عائشہ، حضرت ابو بکرؓ کے عہد خلافت ہی میں مستقل طور سے افتاء کا منصب حاصل کر چکی تھیں ، حضرت عمرؓ ،حضرت عثمانؓ اور ان کے بعد آخری زندگی تک وہ برابر فتوے دیتی رہیں ۔
حضرت عمرؓ کے عہد خلافت میں مخصوص صحابہ کبار کے علاوہ اور لوگوں کو افتاء کی اجازت نہ تھی، اس سے معلوم ہو سکتا ہے کہ حضرت عمرؓ کو حضرت عائشہؓ کے علم اور واقفیت پر کس درجہ اعتماد تھا،ابن سعد میں ہے:
یسئلھا الاکابر من اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
’’ان سے بڑے بڑے صحابہ کرام آ کر مسائل دریافت کیا کرتے تھے۔‘‘
ایک مجلس میں حضرت ابو ہریرہؓ اور حضرت ابن عباس دونوں بزرگ تشریف فرما تھے، مسئلہ یہ پیش ہوا کہ اگر کوئی حاملہ عورت بیوہ ہو گئی اور چند روز کے بعد اس کو وضع حمل ہوا تو اس کی عدت کا زمانہ کس قدر ہو گا، قرآن مجید میں دونوں کے الگ احکام مذکور ہیں بیوگی کے لئے چار مہینہ دس دن اور حاملہ کیلئے تا زمانہ وضعِ حمل حضرت ابن عباسؓ نے کہا ان دونوں میں جو سب سے زیادہ مدت ہو گی ، وہ زمانۂ عدّت ہو گا، حضرت ابو ہریرہؓ نے کہا کہ وضعِ حمل تک عدّت کا زمانہ ہے، دونوں میں فیصلہ نہ ہوا تو لوگوں نے حضرت عائشہؓ اور حضرت امّ سلمیؓ کے پاس آدمی بھیجا، انہوں نے وضعِ حمل تک بتایا اور دلیل میں سبیعہ کا واقعہ پیش کیا، جن کی
کے تیسرے ہی دن ولادت ہوئی، اور اسی وقت ان کو دوسرے نکاح کی اجازت مل گئی ، یہ فیصلہ اس قدر مدلل تھا کہ اسی پر جمہور کا عمل ہے۔
ابو سلمہؓ ، حضرت عبد الرحمن بن عوفؓ کے صاحبزادے تھے۔ ایک زمین کی نسبت چند لوگوں کو ان سے نزاع تھی، حضرت عائشہؓ کو معلوم ہوا تو انہوں نے ابو سلمہؓ کو بلا کر سمجھایا کہ اے ابو سلمہ! اس زمین سے باز آؤ ، آنحضرت(صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا ہے کہ بالشت بھر زمین کے لئے بھی اگر کوئی ظلم کرے گا، تو ساتوں طبقے اس کے گلے میں ڈالے جائیں گے۔

مدینہ میں جب بچے پیدا ہوتے تو پہلے تبرکاً وہ حضرت عائشہؓ کی خدمت میں لائے جاتے ، وہ ان کو دعائیں دیتیں ، ایک بچہ آیا، تو اس کے سر تلے ایک لوہے کا استرہ نظر آیا، پوچھا یہ کیا ہے، لوگوں نے کہا اس سے بھوت بھاگتے ہیں یہ حضرت عائشہؓ نے استرہ اٹھا کر پھینک دیا اور بولیں کہ حضور انور(صلی اللہ علیہ وسلم) نے شگون سے منع کیا ہے، ایسا نہ کیا کرو۔
عجم کے فتح ہونے کے بعد عرب شراب کے جدید اقسام اور اس کے نئے ناموں سے آشنا ہو گئے ، جن میں سے ’’بادق‘‘ تھا، یعنی بادہ، عربی میں لغۃً خمر کا اطلاق شراب کی خاص قسموں پر ہوتا ہے، اس بناء پر لوگوں کو شبہ ہوا کہ ان نئی شرابوں کا کیا حکم ہے، حضرت عائشہؓ نے اپنی مجلس میں بالاعلان کہہ دیا کہ شراب کے برتنوں میں چھوہارے تک نہ بھگوئے جائیں ، پھر مخصوص عورتوں کی طرف خطاب کر کے فرمایا،اگر تمہارے خمر کے پانی سے نشہ پیدا ہو تو وہ بھی حرام ہے، کیونکہ آنحضرت(صلی اللہ علیہ وسلم) نے ہر نشہ آور چیز کو منع فرمایا ہے۔

ایک دفعہ شام کی عورتیں زیارت کو آئیں ، وہاں حمام میں جا کر عورتیں برہنہ غسل کرتی تھیں ، فرمایا کہ تم ہی وہ عورتیں ہو جو حماموں میں جاتی ہو، آنحضرت(صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا ہے کہ ’’جو عورت اپنے گھر سے باہر اپنے کپڑے اتارتی ہے ، وہ اپنے میں اور خدا میں پردہ دری کرتی ہے۔‘‘
موسم حج میں حضرت عائشہؓ کو عورتیں چاروں طرف سے گھیر لیتیں وہ امامت کی صورت میں آگے آگے اور تمام عورتیں ان کے پیچھے چلتیں ، اسی درمیان میں ارشاد و ہدایت کے فرائض بھی انجام پاتے جاتے۔ ایک دفعہ ایک عورت کو دیکھا، جس کی چادر میں صلیب کے نقش و نگار بنے تھے، دیکھنے کے ساتھ ڈانٹا کہ یہ چادر اتار دو ، اتار دو، آنحضرت(صلی اللہ علیہ وسلم) ایسے کپڑوں کو دیکھتے تو پھاڑ ڈالتے۔
عورتوں کو ایسا زیور پہننا جس سے آواز پیدا ہو ممنوع ہے، نیز گھنٹے وغیرہ کی آواز منع ہے، ایک دفعہ ایک لڑکی گھنگھرو پہن کر حضرت عائشہؓ کے پاس آئی، فرمایا گھنگھرو پہنا کر میرے پاس نہ لایا کرو ، اس کے گھنگھرو کاٹ ڈالو، ایک عورت نے اس کا سبب دریافت کیا، بولیں کہ آپؐ نے فرمایا ہے کہ جس گھر میں اور جس قافلہ میں گھنٹا بجتا ہو ، وہاں فرشتے نہیں آتے ۔
حفصہؓ بنت عبد الرحمن آپ کی بھتیجی تھیں وہ ایک دن باریک دوپٹہ اوڑھ کر پھوپھی کے پاس آئیں ، دیکھنے کے ساتھ ان کو دوپٹہ کو غصہ سے چاک کر ڈالا پھر فرمایا ’’تم نہیں جانتی کہ سورہ نور میں خدا نے کیا احکام نازل کئے ہیں ‘‘ اس کے بعد دوسرا گاڑھے کا دوپٹہ منگوا کر اڑھایا۔
ایک دفعہ ایک عورت نے آ کر عرض کی کہ میری ایک بیٹی دلھن بنی ہے، بیماری سے اس کے بال جھڑ گئے ہیں ، کیا بال جوڑ دوں ، فرمایا کہ آنحضرت(صلی اللہ علیہ وسلم) نے بال جوڑنے والیوں اور جڑوانے والیوں پر لعنت بھیجی ہے۔
ایک شخص نے آ کر پوچھا ، اے ام المومنین! بعض لوگ ایک شب میں قرآن دو دو تین تین بار پڑھ ڈالتے ہیں ، فرمایا کہ ان کا پڑھنا اور نہ پڑھنا برابر ہے، آنحضرت تمام تمام رات نماز میں کھڑے رہتے تھے ، لیکن سورہ بقرہ، آل عمران اور نساء سے آگے نہیں بڑھتے تھے، یعنی اطمینان سے سمجھ سمجھ کر پڑھتے۔
 

کلیم حیدر

ناظم خاص
شمولیت
فروری 14، 2011
پیغامات
9,747
ری ایکشن اسکور
26,385
پوائنٹ
995
جنس نسوانی پر حضرت عائشہؓ کے احسانات

عورت پر ان کا سب بڑا احسان یہ ہے کہ انہوں نے دنیا کو یہ بتا دیا کہ ایک مسلمان عورت پردہ میں رہ کر بھی علمی ، مذہبی ، اجتماعی اور سیاسی اور پند و موعظت اور اصلاح و ارشاد اور امت کی بھلائی کے کام بجا لا سکتی ہے، غرض اسلام نے عورتوں کو جو رتبہ بخشا ہے اور ان کی گذشتہ گری ہوئی حالت کو جتنا اونچا کیا ہے ام المومنین کی زندگی کی تاریخ اس کی عملی تفسیر ہے، صحابہ میں اگر ایسے لوگ گزرے ہیں جو مسیح اسلام کے خطاب کے مستحق اور عہد محمدی کے ہارون بننے کے سزاوار تھے تو الحمد للہ کہ صحابیات میں بھی ایک ایسی ذات تھی جو مریم اسلام کی حیثیت رکھتی تھی۔
صحابیات اپنی عرضداشتیں حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) تک ام المومنین کی وساطت سے پہنچاتی تھیں اور ان سے جہاں تک بن پڑتا تھا، ان کی حمایت کرتی تھیں ۔ حضرت عثمان بن مظعون ایک پارسا صحابی تھے اور راہبانہ زندگی بسر کرتے تھے۔ ایک دن ان کی بیوی حضرتِ عائشہؓ کے پاس آئیں ، دیکھا کہ وہ ہر قسم کی زنانہ زیب و آرائش سے خالی ہیں ، سبب دریافت کیا ، کیا کہہ سکتی تھیں ، پردہ پردہ میں بولیں میرے شوہر دن بھر روزہ رکھتے ہیں اور رات بھر نمازیں پڑھا کرتے ہیں ۔ آنحضرت(صلی اللہ علیہ وسلم) تشریف لائے تو حضرت عائشہؓ نے باتوں باتوں میں اس کا تذکرہ کیا، آپؐ حضرت عثمانؓ کے پاس گئے اور فرمایا کہ عثمانؓ ہم کو رہبانیت کا حکم نہیں ہوا ہے ۔کیا میرا طرزِ زندگی پیروی کے لائق نہیں ، میں تم سے زیادہ خدا سے ڈرتا ہوں اور اس کے احکام کی سب سے زیادہ نگہداشت کرتا ہوں ، یعنی پھر بھی بیویوں کے فریضہ کو ادا کرتا ہوں ۔
عورتوں کو جو لوگ ذلیل سمجھتے تھے۔ ام المومنین ان پر سخت برہم ہوتی تھیں ، کسی مسئلہ سے اگر ان کی ذلت اور حقارت کا پہلو نکلتا تو وہ اس کو صاف کر دیتی تھیں ۔ بعض صحابیوں نے روایت کی ہے کہ عورت ، کتا اور گدھا اگر نمازی کے سامنے سے گزر جائے تو نماز ٹوٹ جاتی ہے۔حضرت عائشہؓ نے سنا تو فرمایا ’’ تم نے کیسا برا کیا کہ ہم کو گدھے اور کتے کے برابر کر دیا۔ آنحضرت(صلی اللہ علیہ وسلم) نماز پڑھا کرتے تھے اور میں آگے لیٹی رہتی تھی،‘‘ جب آپؐ سجدہ کرنا چاہتے ، میرے پاؤں دبا دیتے ، میں سمیٹ لیتی۔
حضرت ابو ہریرہؓ نے بیان کیا کہ آنحضرت(صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا کہ نحوست تین چیزوں میں ہے، گھوڑا ،گھر اور عورت یہ سن کر حضرت عائشہؓ کو بہت غصّہ آیا بولیں قسم ہے اس ذات کی جس نے محمد پر قرآن اتارا ، آپؐ نے یہ ہر گز نہیں فرمایا یہ البتہ فرمایا ہے کہ اہل جاہلیت ان سے نحوست کی فال لیتے تھے۔
حضرت ابن عمرؓ کا فتویٰ تھا کہ عورتیں شرعی طہارت کے لئے جوڑے کھول کر نہایا کریں ۔ حضرت عائشہؓ نے سنا تو فرمایا کہ
’’ یہی فتوے کیوں نہیں دیتے کہ عورتیں اپنے جوڑے منڈوا ڈالیں ، میں آنحضرت(صلی اللہ علیہ وسلم) کے ساتھ غسل کرتی تھی اور صرف 3دفعہ پانی ڈال لیتی تھی اور ا یک بال بھی نہیں کھولتی تھی‘‘۔
عرب میں اسلام سے پہلے وراثت میں عورت کا حق نہ تھا، اسلام نے آ کر ان کو بھی ان کا حق دلایا، وراثت کے اکثر مسائل تو قرآن مجید ہی میں مذکور ہیں اس میں لڑکیوں کے حصہ کی بھی تفصیل ہے، لیکن بعض ایسی نئی صورتیں بھی پیش آئیں ، جن کے حل کرنے کے لئے کتاب و سنت سے فکر و استنباط کی ضرورت پیش آتی ہے ، ان موقعوں پر حضرت عائشہؓ نے اپنی جنسی بہنوں کا حق فراموش نہیں کیا۔
اسلام میں نکاح کے جواز کیلئے لڑکیوں کے رضا مندی حاصل کرنی ضروری ہے، آپ نے فرمایا کہ کنواری عورتوں سے اجازت لی جائے اور بیوہ سے اس کا حکم طلب کیا جائے لیکن خدا نے عورتوں کو جو فطری حیا اور شرم عطا کی ہے، اس کی بنا پر زبان سے رضا مندی کا اظہار تقریباً محال ہے، ام المومنین اس مشکل سے آگاہ تھیں فرمایا کہ ’’ان کی خاموشی ان کی رضا مندی ہے۔
بعض اولیاء لڑکی کی رضا مندی کے بغیر صرف اپنے اختیار سے نکاح کر دیتے ہیں ۔ آنحضرت(صلی اللہ علیہ وسلم) کے زمانہ میں اس قسم کا ایک واقعہ پیش آیا۔ عورتوں کی عدالت عالیہ حضرت عائشہؓ ہی کا حجرہ تھا ، لڑکی اسی آستانہ پر حاضر ہوئی ، آنحضرت(صلی اللہ علیہ وسلم) تشریف فرما نہ تھے،حضرت عائشہؓ نے اس کو بٹھا لیا، جب آپؐ تشریف لائے تو صورت واقعہ عرض کی ،آپؐ نے لڑکی کے باپ کو بلایا اور لڑکی کو اپنا مختار آپ بنایا، یہ سن کر لڑکی نے عرض کی، یا رسول اللہ! میرے باپ نے جو کچھ کیا اب میں اس کو جائز ٹھہراتی ہوں ، میرا مقصد صرف یہ تھا کہ عورتوں کو اپنے حقوق معلوم ہو جائیں ۔
جاہلیت میں عورتوں کی نازک گردنیں جن رسوم کے بار سے ٹوٹ جاتیں تھیں ان میں ایک یہ بھی تھا کہ اس زمانہ میں طلاق کی تعداد تعین نہ تھی، اس لئے ظالم مرد جتنی بار چاہتا طلاق دیتا اور پھر واپس رکھ لیتا، یعنی نہ تو بیوی بنا کے رکھتا اور نہ چھوڑتا۔
مسلمان عورتوں پر ام المومنینؓ کا سب سے بڑا احسان یہ ہے کہ انہوں نے ان کو جاہلیت کی اس لعنت سے ہمیشہ کے لئے آزاد کرا دیا، زمانۂ اسلام میں اسی قسم کا ایک واقعہ پیش آیا، مظلوم بیوی چارہ گری کے لئے امّ المومنین کے پاس دوڑی آئی، انہوں نے یہ مقدمہ آنحضرت(صلی اللہ علیہ وسلم) کے سامنے پیش کیا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی:
’’وہ طلاق جس کے بعد رجعت جائز ہے دو بار ہے، اس کے بعد حسن اسلوب سے اس کو زوجیت میں رکھ لینا ہے یا بخیر و خوبی اس کو رخصت کر دینا‘‘۔(سورہ بقرۃ ۔229)
 

کلیم حیدر

ناظم خاص
شمولیت
فروری 14، 2011
پیغامات
9,747
ری ایکشن اسکور
26,385
پوائنٹ
995
عالمِ نسوانی میں حضرت عائشہ کا درجہ

آپ صدیقۂ کبریٰ ام المومنین حضرت عائشہؓ کی سیرتِ پاک کا ایک ایک حرف پڑھ چکے ، ان کی مقدس زندگی کا ایک ایک واقعہ آپ کی نظر سے گزر چکا، آپ دنیا کی سیکڑوں بڑی بڑی خواتین کے حالات سے واقف ہوں گے ، تاریخ نے آپ کے سامنے دنیا کی مشہور خواتین کی زندگیوں کے بے شمار مرقعے پیش کئے ہوں گے، لیکن کبھی آپ نے ان کا باہم مقابلہ بھی کیا۔
دنیا کی غیر مسلم مشہور عورتوں کی فہرست میں جو نام داخل ہیں اس میں زیادہ تر ایسی عورتیں ہیں جن سے اپنی سطحِ جنسی سے ذرا بلند کوئی ایک اتفاقی کارنامہ ظہور میں آگیا ، وہی ان کی شہرت کا بال و پر بن گیا۔ ایک عورت نے کسی پر جوش مجمع میں کوئی تقریر کر دی ، کسی تدبیر سے دشمنوں کی سازش کو توڑ دیا یا اپنی قوتِ بازو سے کسی میدان کو مار لیا یہ فوری اسباب اس کی تاریخ بقا اور شہرت کا ذریعہ بن گئے، غور سے دیکھئے کیا اس کا مقابلہ حضرت عائشہ کے کارنامہ سے ہو سکتا ہے۔
بے شمار عورتوں کے لئے ایک کامل زندگی اور گراں بہا عملی نمونہ چھوڑا ہو اور جس نے اس عظیم الشان تعدادِ نسوانی کو اپنے مذہبی ، اجتماعی اور علمی احسانات سے گراں بار کیا ہو۔

مسلمان عورتوں کی تاریخ میں ازواجِ مطہراتؓ اور بنات طاہراتؓ کے سواء حضرت عائشہؓ کی زندگی کا کس سے مقابلہ ہو سکتا ہے؟ تمام علمائے اسلام کا اتفاق ہے کہ اسلام میں حضرت خدیجۃ الکبریؓ ، حضرت فاطمہ زہراؓ، اور حضرت عائشہؓ صدیقہ عورتوں میں سب سے افضل ہیں ۔
اگر علمی کمالات ، دینی خدمات اور آنحضرت(صلی اللہ علیہ وسلم) کی تعلیمات و ارشادات کے نشر و اشاعت کی فضیلت کا پہلو سامنے ہو تو ان میں صدیقہؓ کبریٰ کا کوئی حریف نہیں ہو سکتا ۔ ابو موسیٰ اشعری سے روایت ہے کہ آنحضرت(صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا: مردوں میں بہت سے کامل گزرے لیکن عورتوں میں مریم بنت عمران اور آسیہ زوجہ فرعون کے سوا اور کوئی کامل پیدا نہ ہوئی اور عائشہؓ کو عورتوں پر اسی طرح فضیلت ہے جس طرح ثرید کو کھانوں کے دوسرے اقسام پر۔
 
Top