افتاء
افتا ء یعنی فتویٰ دینے میں حضرت عائشہؓ کا نام سرِ فہرست اور طبقۂ اول میں ہے،حضرت عائشہؓ نے آنحضرت(صلی اللہ علیہ وسلم) کی وفات کے بعد ہی اپنے پدر بزرگوار کی زندگی ہی میں مرجعیتِ عام اور منصب افتاء حاصل کر لیا تھا اور آخر زمانہ تک بقیہ خلفائے راشدینؓ کے زمانوں میں بھی وہ ہمیشہ اس منصب پر ممتاز رہیں ۔ حضرت قاسم جو صحابہ کے بعد مدینہ کے سات ۷ مشہور تابعیوں میں شمار ہوتے تھے۔ فرماتے ہیں :
’’حضرت عائشہ، حضرت ابو بکرؓ کے عہد خلافت ہی میں مستقل طور سے افتاء کا منصب حاصل کر چکی تھیں ، حضرت عمرؓ ،حضرت عثمانؓ اور ان کے بعد آخری زندگی تک وہ برابر فتوے دیتی رہیں ۔
حضرت عمرؓ کے عہد خلافت میں مخصوص صحابہ کبار کے علاوہ اور لوگوں کو افتاء کی اجازت نہ تھی، اس سے معلوم ہو سکتا ہے کہ حضرت عمرؓ کو حضرت عائشہؓ کے علم اور واقفیت پر کس درجہ اعتماد تھا،ابن سعد میں ہے:
یسئلھا الاکابر من اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
’’ان سے بڑے بڑے صحابہ کرام آ کر مسائل دریافت کیا کرتے تھے۔‘‘
ایک مجلس میں حضرت ابو ہریرہؓ اور حضرت ابن عباس دونوں بزرگ تشریف فرما تھے، مسئلہ یہ پیش ہوا کہ اگر کوئی حاملہ عورت بیوہ ہو گئی اور چند روز کے بعد اس کو وضع حمل ہوا تو اس کی عدت کا زمانہ کس قدر ہو گا، قرآن مجید میں دونوں کے الگ احکام مذکور ہیں بیوگی کے لئے چار مہینہ دس دن اور حاملہ کیلئے تا زمانہ وضعِ حمل حضرت ابن عباسؓ نے کہا ان دونوں میں جو سب سے زیادہ مدت ہو گی ، وہ زمانۂ عدّت ہو گا، حضرت ابو ہریرہؓ نے کہا کہ وضعِ حمل تک عدّت کا زمانہ ہے، دونوں میں فیصلہ نہ ہوا تو لوگوں نے حضرت عائشہؓ اور حضرت امّ سلمیؓ کے پاس آدمی بھیجا، انہوں نے وضعِ حمل تک بتایا اور دلیل میں سبیعہ کا واقعہ پیش کیا، جن کی
کے تیسرے ہی دن ولادت ہوئی، اور اسی وقت ان کو دوسرے نکاح کی اجازت مل گئی ، یہ فیصلہ اس قدر مدلل تھا کہ اسی پر جمہور کا عمل ہے۔
ابو سلمہؓ ، حضرت عبد الرحمن بن عوفؓ کے صاحبزادے تھے۔ ایک زمین کی نسبت چند لوگوں کو ان سے نزاع تھی، حضرت عائشہؓ کو معلوم ہوا تو انہوں نے ابو سلمہؓ کو بلا کر سمجھایا کہ اے ابو سلمہ! اس زمین سے باز آؤ ، آنحضرت(صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا ہے کہ بالشت بھر زمین کے لئے بھی اگر کوئی ظلم کرے گا، تو ساتوں طبقے اس کے گلے میں ڈالے جائیں گے۔
مدینہ میں جب بچے پیدا ہوتے تو پہلے تبرکاً وہ حضرت عائشہؓ کی خدمت میں لائے جاتے ، وہ ان کو دعائیں دیتیں ، ایک بچہ آیا، تو اس کے سر تلے ایک لوہے کا استرہ نظر آیا، پوچھا یہ کیا ہے، لوگوں نے کہا اس سے بھوت بھاگتے ہیں یہ حضرت عائشہؓ نے استرہ اٹھا کر پھینک دیا اور بولیں کہ حضور انور(صلی اللہ علیہ وسلم) نے شگون سے منع کیا ہے، ایسا نہ کیا کرو۔
عجم کے فتح ہونے کے بعد عرب شراب کے جدید اقسام اور اس کے نئے ناموں سے آشنا ہو گئے ، جن میں سے ’’بادق‘‘ تھا، یعنی بادہ، عربی میں لغۃً خمر کا اطلاق شراب کی خاص قسموں پر ہوتا ہے، اس بناء پر لوگوں کو شبہ ہوا کہ ان نئی شرابوں کا کیا حکم ہے، حضرت عائشہؓ نے اپنی مجلس میں بالاعلان کہہ دیا کہ شراب کے برتنوں میں چھوہارے تک نہ بھگوئے جائیں ، پھر مخصوص عورتوں کی طرف خطاب کر کے فرمایا،اگر تمہارے خمر کے پانی سے نشہ پیدا ہو تو وہ بھی حرام ہے، کیونکہ آنحضرت(صلی اللہ علیہ وسلم) نے ہر نشہ آور چیز کو منع فرمایا ہے۔
ایک دفعہ شام کی عورتیں زیارت کو آئیں ، وہاں حمام میں جا کر عورتیں برہنہ غسل کرتی تھیں ، فرمایا کہ تم ہی وہ عورتیں ہو جو حماموں میں جاتی ہو، آنحضرت(صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا ہے کہ ’’جو عورت اپنے گھر سے باہر اپنے کپڑے اتارتی ہے ، وہ اپنے میں اور خدا میں پردہ دری کرتی ہے۔‘‘
موسم حج میں حضرت عائشہؓ کو عورتیں چاروں طرف سے گھیر لیتیں وہ امامت کی صورت میں آگے آگے اور تمام عورتیں ان کے پیچھے چلتیں ، اسی درمیان میں ارشاد و ہدایت کے فرائض بھی انجام پاتے جاتے۔ ایک دفعہ ایک عورت کو دیکھا، جس کی چادر میں صلیب کے نقش و نگار بنے تھے، دیکھنے کے ساتھ ڈانٹا کہ یہ چادر اتار دو ، اتار دو، آنحضرت(صلی اللہ علیہ وسلم) ایسے کپڑوں کو دیکھتے تو پھاڑ ڈالتے۔
عورتوں کو ایسا زیور پہننا جس سے آواز پیدا ہو ممنوع ہے، نیز گھنٹے وغیرہ کی آواز منع ہے، ایک دفعہ ایک لڑکی گھنگھرو پہن کر حضرت عائشہؓ کے پاس آئی، فرمایا گھنگھرو پہنا کر میرے پاس نہ لایا کرو ، اس کے گھنگھرو کاٹ ڈالو، ایک عورت نے اس کا سبب دریافت کیا، بولیں کہ آپؐ نے فرمایا ہے کہ جس گھر میں اور جس قافلہ میں گھنٹا بجتا ہو ، وہاں فرشتے نہیں آتے ۔
حفصہؓ بنت عبد الرحمن آپ کی بھتیجی تھیں وہ ایک دن باریک دوپٹہ اوڑھ کر پھوپھی کے پاس آئیں ، دیکھنے کے ساتھ ان کو دوپٹہ کو غصہ سے چاک کر ڈالا پھر فرمایا ’’تم نہیں جانتی کہ سورہ نور میں خدا نے کیا احکام نازل کئے ہیں ‘‘ اس کے بعد دوسرا گاڑھے کا دوپٹہ منگوا کر اڑھایا۔
ایک دفعہ ایک عورت نے آ کر عرض کی کہ میری ایک بیٹی دلھن بنی ہے، بیماری سے اس کے بال جھڑ گئے ہیں ، کیا بال جوڑ دوں ، فرمایا کہ آنحضرت(صلی اللہ علیہ وسلم) نے بال جوڑنے والیوں اور جڑوانے والیوں پر لعنت بھیجی ہے۔
ایک شخص نے آ کر پوچھا ، اے ام المومنین! بعض لوگ ایک شب میں قرآن دو دو تین تین بار پڑھ ڈالتے ہیں ، فرمایا کہ ان کا پڑھنا اور نہ پڑھنا برابر ہے، آنحضرت تمام تمام رات نماز میں کھڑے رہتے تھے ، لیکن سورہ بقرہ، آل عمران اور نساء سے آگے نہیں بڑھتے تھے، یعنی اطمینان سے سمجھ سمجھ کر پڑھتے۔