1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

درس قرآن

'تفسیر قرآن' میں موضوعات آغاز کردہ از ام اویس, ‏ستمبر 07، 2016۔

  1. ‏اکتوبر 30، 2018 #91
    ام اویس

    ام اویس رکن
    شمولیت:
    ‏جون 29، 2016
    پیغامات:
    138
    موصول شکریہ جات:
    8
    تمغے کے پوائنٹ:
    48

    سورة بقرہ آیة 246

    حضرت طالوت کا قصہ

    أَلَمْ تَرَ ۔۔۔۔ إِلَى ۔۔۔۔۔۔۔ الْمَلَأِ ۔۔۔ مِن ۔۔۔ بَنِي إِسْرَائِيلَ

    کیا نہیں دیکھا ۔۔۔ طرف ۔۔۔ ایک جماعت ۔۔۔ سے ۔۔ بنی اسرائیل

    مِن ۔۔۔ بَعْدِ ۔۔۔ مُوسَى ۔۔۔ إِذْ ۔۔۔ قَالُوا ۔۔۔ لِنَبِيٍّ

    سے ۔۔۔ بعد ۔۔ موسیٰ ۔۔ جب ۔۔۔ کہا ۔۔ نبی سے

    لَّهُمُ ۔۔۔ ابْعَثْ ۔۔۔۔۔۔۔۔ لَنَا ۔۔۔ مَلِكًا ۔۔۔ نُّقَاتِلْ۔۔۔۔ فِي ۔۔۔ سَبِيلِ ۔۔۔ اللَّهِ

    ان کے لئے ۔۔۔ مقرر کرو ۔۔۔ ہمارے لئے ۔۔۔ بادشاہ ۔۔ ہم لڑیں ۔۔ میں ۔۔ راستہ ۔۔ الله

    قَالَ ۔۔۔ هَلْ ۔۔۔۔۔۔ عَسَيْتُمْ۔۔۔۔ إِن ۔۔۔ كُتِبَ ۔۔۔ عَلَيْكُمُ ۔۔۔ الْقِتَالُ

    کہا ۔۔ کیا ۔۔ تم سے توقع ہے ۔۔ اگر ۔۔ لکھا گیا ۔۔ تم پر ۔۔ لڑنا

    أَلَّا تُقَاتِلُوا ۔۔۔۔۔ قَالُوا ۔۔۔ وَمَا ۔۔۔ لَنَا ۔۔۔۔۔۔۔ أَلَّا ۔۔۔۔۔ نُقَاتِلَ

    یہ کہ نہ تم لڑو ۔۔ کہا ۔۔ اور کیا ۔۔ ہمیں ۔۔ یہ کہ نہ ۔۔۔ ہم لڑیں

    فِي ۔۔۔ سَبِيلِ ۔۔۔ اللَّهِ ۔۔۔۔۔۔ وَقَدْ ۔۔۔۔۔۔۔ أُخْرِجْنَا۔۔۔۔۔۔۔ مِن ۔۔۔۔۔۔ دِيَارِنَا

    میں ۔۔۔ راستہ ۔۔۔ الله ۔۔ اور تحقیق ۔۔ ہم نکالے گئے ۔۔۔ سے ۔۔ ہمارے گھر

    وَأَبْنَائِنَا ۔۔۔ فَلَمَّا ۔۔۔۔ كُتِبَ ۔۔۔۔ عَلَيْهِمُ ۔۔۔ الْقِتَالُ ۔۔۔۔۔۔ تَوَلَّوْا

    اور ہمارے بیٹے ۔۔ پس جب ۔۔ لکھا گیا ۔۔ ان پر ۔۔۔ لڑنا ۔۔ وہ پھر گئے

    إِلَّا ۔۔۔ قَلِيلًا ۔۔۔۔۔۔۔ مِّنْهُمْ ۔۔۔۔۔۔ وَاللَّهُ ۔۔۔ عَلِيمٌ ۔۔۔۔۔۔۔۔ بِالظَّالِمِينَ 2️⃣4️⃣6️⃣

    مگر ۔۔۔ تھوڑے ۔۔۔ ان میں سے ۔۔ اور الله ۔۔۔ جانتا ہے ۔۔۔ ظالموں کو

    أَلَمْ تَرَ إِلَى الْمَلَأِ مِن بَنِي إِسْرَائِيلَ مِن بَعْدِ مُوسَى إِذْ قَالُوا لِنَبِيٍّ لَّهُمُ ابْعَثْ لَنَا مَلِكًا نُّقَاتِلْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ قَالَ هَلْ عَسَيْتُمْ إِن كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِتَالُ أَلَّا تُقَاتِلُوا قَالُوا وَمَا لَنَا أَلَّا نُقَاتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَقَدْ أُخْرِجْنَا مِن دِيَارِنَا وَأَبْنَائِنَا فَلَمَّا كُتِبَ عَلَيْهِمُ الْقِتَالُ تَوَلَّوْا إِلَّا قَلِيلًا مِّنْهُمْ وَاللَّهُ عَلِيمٌ بِالظَّالِمِينَ. 2️⃣4️⃣6️⃣

    کیا تو نے بنی اسرائیل کی ایک جماعت کو نہ دیکھا موسی ٰ علیہ السلام کے بعد جب انہوں نے اپنے نبی سے کہا ہمارے لئے ایک بادشاہ مقرر کر دو تاکہ ہم الله کی راہ میں لڑیں پیغمبر نے کہا کیا تم سے یہ بھی توقع ہے کہ اگر تمہیں لڑائی کا حکم ہو تو تم اس وقت نہ لڑو وہ بولے ہمیں کیا ہوا کہ ہم نہ لڑیں الله کی راہ میں اور ہم تو نکال دئیے گئے اپنے گھروں اور بیٹوں سے پھر جب انہیں حکم ہوا لڑائی کا تو ان میں سے چند ایک کے سوا سب پھر گئے اور الله تعالی گنہگاروں کو خوب جانتا ہے ۔

    اس آیت میں بھی بنی اسرئیل کی تاریخ کے ایک اہم واقعہ کی طرف اشارہ ہے ۔
    حضرت موسٰی علیہ السلام کے کچھ عرصے بعد بادشاہ طالوت اور اور دوسرے دشمنوں کے حملوں سے گھبرا کر اور ہر طرف سے عاجز ہو کر یہ لوگ بیت المقدس میں جمع ہو گئے ۔
    غالباً یہ زمانہ حضرت شموئل نبی کا تھا ۔ الله کے نبی سے کہنے لگے کہ ہم پر کوئی سپہ سالار مقرر کردو جس کی سرکردگی میں ہم جہاد کر سکیں ۔
    انہوں نے فرمایا ڈر ہے کہ جہاد کا حکم آیا تو تم جی چُراؤ گے ۔ ان لوگوں نے یقین دلایا ۔
    مگر جب لڑائی کا وقت آیا تو چند لوگوں کے سوا سب پیٹھ دکھا گئے ۔
     
  2. ‏اکتوبر 30، 2018 #92
    ام اویس

    ام اویس رکن
    شمولیت:
    ‏جون 29، 2016
    پیغامات:
    138
    موصول شکریہ جات:
    8
    تمغے کے پوائنٹ:
    48

    سورة بقرہ ۔ آیة 247 (ا)

    سپہ سالار کا انتخاب

    وَقَالَ ۔۔۔ لَهُمْ ۔۔ نَبِيُّهُمْ ۔۔۔۔۔۔۔ إِنَّ ۔۔۔ اللَّهَ ۔۔۔۔۔۔۔۔ قَدْ بَعَثَ

    اور کہا ۔۔ ان سے ۔۔۔ ان کا نبی ۔۔ بے شک ۔۔ الله ۔۔ تحقیق بھیجا

    لَكُمْ ۔۔ طَالُوتَ ۔۔۔ مَلِكًا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قَالُوا ۔۔۔ أَنَّى ۔۔۔ يَكُونُ

    تمہارے لئے ۔۔۔ طالوت ۔۔۔ بادشاہ ۔۔ کہا انہوں نے ۔۔۔ کیسے ۔۔ ہو

    لَهُ ۔۔۔ الْمُلْكُ ۔۔۔ عَلَيْنَا ۔۔۔ وَنَحْنُ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ أَحَقُّ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بِالْمُلْكِ

    اس کے لئے ۔۔۔ بادشاہی ۔۔۔ ہم پر ۔۔ اور ہم ۔۔ زیادہ حق دار ۔۔ بادشاہی کے ۔

    مِنْهُ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وَلَمْ يُؤْتَ ۔۔۔ سَعَةً ۔۔۔ مِّنَ ۔۔۔۔ الْمَالِ۔

    اس سے ۔۔۔ اور نہیں وہ دیا گیا ۔۔ وسعت ۔۔۔ سے ۔۔ مال

    وَقَالَ لَهُمْ نَبِيُّهُمْ إِنَّ اللَّهَ قَدْ بَعَثَ لَكُمْ طَالُوتَ مَلِكًا قَالُوا أَنَّى يَكُونُ لَهُ الْمُلْكُ عَلَيْنَا وَنَحْنُ أَحَقُّ بِالْمُلْكِ مِنْهُ وَلَمْ يُؤْتَ سَعَةً مِّنَ الْمَالِ

    اور ان کے نبی نے ان سے کہا کہ الله تعالی نے تم پر طالوت کو بادشاہ مقرر کیا ہے۔ وہ کہنے لگے اسے ہم پر بادشاہت کیونکر مل سکتی ہے اور ہم اس کے مقابلے میں حکو مت کا زیادہ حق رکھتے ہیں اور اسے تو مال میں وسعت نہیں ملی

    طَالُوْتَ ( طالوت بن کش ) ۔ حضرت موسٰی علیہ السلام کے بعد بنی اسرائیل کے سب سے بڑے ، سب سے پہلے بادشاہ تسلیم کئے گئے ۔ ان کا زمانہ (۱۰۱۲) قبل مسیح سے (۱۰۲۸) قبل مسیح بیان کیا جاتا ہے ۔ آپ قبیلہ بن یامین سے تھے ۔ آپ کا خاندان معمولی درجہ کا تھا ۔ اس خاندان میں کبھی کوئی بادشاہ نہیں ہوا تھا اور وہ کوئی خاص مالدار اور دولت مند بھی نہ تھے ۔
    غلط اندیش یہودیوں نے آپ کے سپہ سالار مقرر ہونے پر یہی اعتراض کیا کہ وہ مالدار نہیں ہیں ۔ ایک غریب آدمی ہیں ۔ بھلا ہم دولت مندوں پر ایک غریب کو کیسے سرداری مل سکتی ہے ۔ حکومت اور سرداری تو امیروں کا پیدائشی حق ہے ۔
    ایک یہودیوں پر کیا منحصر ہے ہمیشہ مادہ پرست قوموں نے اسی قسم کے غلط اصول بنائے اور حکومت کو امیروں اور دولت مندوں کے گھر کی لونڈی سمجھ لیا ۔ حالانکہ یہ تصور حد درجہ احمقانہ اور غیر منصفانہ ہے ۔ اسی لئے آنے والی نسلوں کی عبرت کے لئے الله تعالی نے اپنی آخری کتاب میں یہودیوں کے اس غلط تصور کو وضاحت کے ساتھ بیان فرما دیا ۔ تاکہ آئندہ کسی کو یہ غلط فہمی نہ ہو اور کوئی قوم دولت و ثروت کو سرداری اور سر بلندی کا معیار نہ سمجھ بیٹھے ۔
    اس کے بعد بھی اگر کوئی قوم یا کوئی جماعت دولت مندی کو برتری کا سبب تصور کرتی ہے تو اسے وہی سزا بھگتنا پڑے گی جو اس سے قبل یہودیوں کو برداشت کرنی پڑی ۔ چونکہ فطرت کا قانون نہیں بدلتا ہے ۔
     
  3. ‏اکتوبر 30، 2018 #93
    ام اویس

    ام اویس رکن
    شمولیت:
    ‏جون 29، 2016
    پیغامات:
    138
    موصول شکریہ جات:
    8
    تمغے کے پوائنٹ:
    48

    سورة بقرہ آیة ۔ 247 (ب)

    سپہ سالار کی خصوصیات

    قَالَ ۔۔ إِنَّ ۔۔۔ اللَّهَ ۔۔۔ اصْطَفَاهُ ۔۔۔۔۔۔۔ عَلَيْكُمْ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وَزَادَهُ ۔۔۔۔۔۔۔۔ بَسْطَةً

    اس نے کہا ۔۔ بے شک ۔۔۔ الله ۔۔ چُن لیا اس کو ۔۔ تم پر ۔۔ اور زیادہ کی اس کو ۔۔ فراخی

    فِي ۔۔۔ الْعِلْمِ ۔۔۔ وَالْجِسْمِ ۔۔۔ وَاللَّهُ ۔۔۔ يُؤْتِي ۔۔۔۔۔۔۔ مُلْكَهُ

    میں ۔۔ علم ۔۔ اور جسم ۔۔ اور الله ۔۔۔ دیتا ہے ۔۔۔ اپنا ملک

    مَن ۔۔۔۔۔۔۔۔ يَشَاءُ ۔۔۔ وَاللَّهُ ۔۔۔۔۔۔۔۔ وَاسِعٌ ۔۔۔۔۔۔۔۔ عَلِيمٌ۔ 2️⃣4️⃣7️⃣

    جسے ۔۔ وہ چاہتا ہے ۔۔۔ اور الله ۔۔۔ وسعت والا ۔۔ جاننے والا

    قَالَ إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَاهُ عَلَيْكُمْ وَزَادَهُ بَسْطَةً فِي الْعِلْمِ وَالْجِسْمِ وَاللَّهُ يُؤْتِي مُلْكَهُ مَن يَشَاءُ وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ 2️⃣4️⃣7️⃣
    نبی نے کہا یقیناً الله تعالی نے اسے تم پر چُن لیا ہے اور اسے علم اور جسم میں زیادہ فراخی دی ہے اور الله تعالی جسے چاہتا ہے اپنا ملک دیتا ہے اور الله تعالی فضل کرنے والا جاننے والا ہے

    آیت کے پہلے حصے میں ذکر تھا کہ شموئل نبی نے الله تعالی کی طرف سے طالوت کی سپہ سالاری کا اعلان فرمایا ۔ یہودیوں نے اپنی امارت کے زعم میں ان کے اس انتخاب پر اعتراض کیا ۔ کہ وہ ہم سے زیادہ دولتمند نہیں ہمارے بادشاہ کیسے ہو سکتے ہیں ۔
    الله کے نبی نے حکومت اور سرداری کے لئے الله کریم کی مقرر کردہ خصوصیات بیان فرمائیں ۔
    اوّل یہ کہ الله تعالی نے اسے علم میں وسعت اور فراوانی بخشی ہے ۔
    دوسرے یہ کہ جسمانی اعتبار سے وہ تمہارے مقابلے میں زیادہ طاقتور ہے ۔
    بَسْطَۃً فِی العلمِ ( الله نے اسے علم میں وسعت دی ) ۔ علم سے مراد حقائق کو جاننا اور اسرار کو پہچاننا ہے ۔ اس ایک لفظ میں بے شمار معنٰی پوشیدہ ہیں ۔ اور تمام علوم و فنون اس میں شامل ہیں ۔ خصوصاً ملک گیری اور ملک رانی کے علوم ۔
    اَلْجِسم ( جسم ) ۔ مقصد یہ ہے کہ طالوت تمہارے مقابلہ میں قد وقامت کے اعتبار سے اور قوت وطاقت کے لحاظ سے زیادہ اہلیت کے مالک ہیں ۔ جس شخص میں علم و جسم کی دونوں طاقتیں زیادہ ہوں گی ۔ وہ دوسروں پر فوقیت اور سرداری کے لائق ہو گا ۔
    مُلْکَهُ ( اپنا ملک ) ۔ مدعا یہ ہے کہ حکمرانی اصل میں الله تعالی کی ہے ۔ اور حکومت حقیقت میں اس ذات واحد کے لئے ہے ۔
    سروری زیبا فقط اس ذاتِ بے ہمتا کو ہے
    حکمراں ہے اک وہی باقی بتانِ آذری !
    اب یہ اس کا خاص فضل و کرم ہے کہ اپنے بندوں میں سے وہ سب سے اہل اور مستحق کو اپنی حکومت چلانے کی خدمت سپرد کر دے ۔
     
  4. ‏اکتوبر 30، 2018 #94
    ام اویس

    ام اویس رکن
    شمولیت:
    ‏جون 29، 2016
    پیغامات:
    138
    موصول شکریہ جات:
    8
    تمغے کے پوائنٹ:
    48

    سورة بقرہ ۔ آیة ۔ 248

    تابوت سکینہ

    وَقَالَ ۔۔۔ لَهُمْ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نَبِيُّهُمْ ۔۔۔۔۔۔۔۔ إِنَّ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آيَةَ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مُلْكِهِ

    اور کہا ۔۔ ان کے لئے ۔۔۔ ان کے نبی نے ۔۔ بے شک ۔۔۔ نشانی ۔۔۔ اس کی سلطنت

    أَن يَأْتِيَكُمُ ۔۔۔ التَّابُوتُ ۔۔۔۔۔۔۔ فِيهِ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سَكِينَةٌ ۔۔۔ مِّن ۔۔۔۔۔ رَّبِّكُمْ

    یہ کہ تمہارے پاس آئے ۔۔۔ تابوت ۔۔۔ اس میں ۔۔۔ تسلی خاطر ۔۔ سے ۔۔ تمہارا رب

    وَبَقِيَّةٌ ۔۔۔ مِّمَّا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تَرَكَ ۔۔۔ آلُ مُوسَى ۔۔۔۔۔۔۔ وَآلُ هَارُونَ

    اور بچی ہوئی چیزیں ۔۔ اس سے جو ۔۔ چھوڑا ۔۔ اولادِ موسٰی ۔۔۔ اور اولاد ہارون

    تَحْمِلُهُ ۔۔۔ الْمَلَائِكَةُ ۔۔۔۔۔۔۔۔ إِنَّ ۔۔۔ فِي ۔۔۔ ذَلِكَ

    اٹھا کر لائیں گے اس کو ۔۔۔ فرشتے ۔۔۔ بے شک ۔۔ میں ۔۔۔ یہ

    لَآيَةً ۔۔۔ لَّكُمْ ۔۔۔ إِن ۔۔۔ كُنتُم ۔۔۔۔۔۔۔ مُّؤْمِنِينَ 2️⃣4️⃣8️⃣

    البتہ نشانی ۔۔۔ تمہارے لئے ۔۔ اگر ۔۔۔ ہو تم ۔۔ یقین رکھتے

    وَقَالَ لَهُمْ نَبِيُّهُمْ إِنَّ آيَةَ مُلْكِهِ أَن يَأْتِيَكُمُ التَّابُوتُ فِيهِ سَكِينَةٌ مِّن رَّبِّكُمْ وَبَقِيَّةٌ مِّمَّا تَرَكَ آلُ مُوسَى وَآلُ هَارُونَ تَحْمِلُهُ الْمَلَائِكَةُ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةً لَّكُمْ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ. 2️⃣4️⃣8️⃣

    اور ان کے نبی نے بنی اسرائیل سے کہا کہ طالوت کی سلطنت کی یہ نشانی ہے کہ تمہارے پاس ایک صندوق لایا جائے گا جس میں تسلی خاطر ہے تمہارے رب کی طرف سے اور کچھ بچی ہوئی چیزیں ہیں جو چھوڑ گئی موسٰی اور ہارون کی اولاد اس صندوق کو فرشتے اٹھا کر لائیں گے بے شک اسی میں تمہارے لئے پوری نشانی ہے اگر تم یقین رکھتے ہو ۔

    اَلتّابُوت ( صندوق ) ۔ اس صندوق کا نام تابوتِ سکینہ بھی ہے ۔ اس میں تورات کا اصلی نسخہ اور بنی اسرائیل کے پیغمبروں کے تبرکات موجود تھے ۔ بنی اسرائیل کے لئے یہ سب سے بڑا قومی ورثہ تھا ۔ وہ اسے ہر وقت حتی کہ سفر اور جنگ میں بھی اپنے ساتھ رکھتے تھے ۔ وہ اسے بڑا بابرکت سمجھتے تھے ۔ اور خاص طور پر لڑائی کے وقت اسے آگے آگے رکھتے تاکہ الله تعالی اس کی برکت سے انہیں فتح نصیب فرمائے ۔
    حضرت شموئل علیہ السلام نے حضرت طالوت کو بنی اسرائیل پر بادشاہ مقرر کر دیا تو ان کے اطمینان کے لئے یہ بھی بتایا کہ اُن کی بادشاھت کی ظاہری نشانی یہ ہے کہ تمہارا وہ مبارک صندوق جسے جالوت تم سے چھین کر لے گیا تھا وہ طالوت کے عہدِ حکومت میں تمہیں واپس مل جائے گا ۔
    تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ فلسطینی جب سے یہ تابوت بنی اسرائیلیوں سے چھین کر لے گئے انہیں ایک دن بھی چین نہ آیا ۔ جس جگہ اور جس بستی میں اسے رکھتے وہیں کوئی وبا پھوٹ پڑتی یا کوئی اور مصیبت آجاتی ۔ آخر عاجز آکر انہوں نے فیصلہ کیا کہ اس سے چھٹکارا حاصل کیا جائے ۔ چنانچہ یہ تابوت انہوں نے ایک بیل گاڑی میں لادا اور بغیر کسی گاڑی بان کے اس کو یونہی ہانک دیا ۔الله تعالی کے فرشتے اسے طالوت کے دروازے پر لے گئے ۔ بنی اسرائیل اس نشانی کو دیکھ کر طالوت کی بادشاہت پر یقین لے آئے ۔
    تاریخ سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ یہ تابوت بنی اسرائیل کے قبضے میں حضرت سلیمان علیہ السلام ( ۲۳۰ق۔م ) کے عہد تک رہا ۔ آپ نے اسے ہیکل سلیمانی کی تعمیر کے بعد اس
    میں رکھ دیا ۔ اس کے بعد اس کا پتہ نہیں چلتا ۔ یہودیوں کا خیال ہے کہ یہ تابوت اب بھی ہیکل سلیمانی کی بنیادوں کے اندر دفن ہے ۔
     
  5. ‏اکتوبر 30، 2018 #95
    ام اویس

    ام اویس رکن
    شمولیت:
    ‏جون 29، 2016
    پیغامات:
    138
    موصول شکریہ جات:
    8
    تمغے کے پوائنٹ:
    48

    سورة بقرہ آیة ۔ 249

    مجاھدوں کی آزمائش

    فَلَمَّا ۔۔۔ فَصَلَ ۔۔۔ طَالُوتُ ۔۔۔۔۔۔ بِالْجُنُودِ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قَالَ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ إِنَّ ۔۔ اللَّهَ

    پس جب ۔۔۔ نکلا ۔۔ طالوت ۔۔۔ لشکر کے ساتھ ۔۔۔ اس نے کہا ۔۔۔ بے شک ۔۔۔ الله

    مُبْتَلِيكُم ۔۔۔ بِنَهَرٍ۔۔۔۔۔ فَمَن ۔۔۔ شَرِبَ ۔۔۔ مِنْهُ ۔۔۔۔۔۔۔ فَلَيْسَ ۔۔۔ مِنِّي

    آزمائے کا تم کو ۔۔۔ ایک نہر ۔۔۔ پس جو ۔۔ پیا ۔۔ اس سے ۔۔ پس نہیں ۔۔ میرا

    وَمَن ۔۔۔۔۔۔۔۔ لَّمْ يَطْعَمْهُ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فَإِنَّهُ ۔۔۔ مِنِّي ۔۔۔ إِلَّا ۔۔ مَنِ ۔۔۔ اغْتَرَفَ

    اور جو ۔۔ نہیں پیا اس سے ۔۔۔ پس بے شک وہ ۔۔ میرا ۔۔ مگر ۔۔ جو ۔۔ بھرے

    غُرْفَةً ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بِيَدِهِ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فَشَرِبُوا ۔۔۔ مِنْهُ ۔۔۔۔۔۔۔ إِلَّا ۔۔۔ قَلِيلًا ۔۔۔۔۔۔۔۔ مِّنْهُمْ

    ایک چلو ۔۔ اپنے ہاتھ سے ۔۔ پس پیا انہوں نے ۔۔۔ اس سے ۔۔۔ مگر ۔۔ تھوڑے ۔۔ ان میں سے

    فَلَمَّا فَصَلَ طَالُوتُ بِالْجُنُودِ قَالَ إِنَّ اللَّهَ مُبْتَلِيكُم بِنَهَرٍ فَمَن شَرِبَ مِنْهُ فَلَيْسَ مِنِّي وَمَن لَّمْ يَطْعَمْهُ فَإِنَّهُ مِنِّي إِلَّا مَنِ اغْتَرَفَ غُرْفَةً بِيَدِهِ فَشَرِبُوا مِنْهُ إِلَّا قَلِيلًا مِّنْهُمْ

    پھر جب طالوت فوجیں لے کر باہر نکلے کہا بے شک الله تعالی ایک نہر سے تمہاری آزمائش کرتا ہے سو جس نے اس نہر کا پانی پیا تو وہ میرا نہیں اور جس نے اسے نہ چکھا تو وہ بے شک میرا ہے مگر جو کوئی اپنے ہاتھ سے ایک چلّو بھرے پھر سب نے پی لیا مگر ان میں سے تھوڑوں نے
    نَھَر( نہر ) ۔ ایک دریا جس سے اس لشکر کو گزرنا تھا ۔ اس کا نام دریائے اردن بیان کیا جاتا ہے ۔ شرق اردن کی ہاشمی حکومت کا نام بھی اسی دریا کی نسبت سے ہے ۔ یہ دریا شمال سے جنوب کو بہتا ہے اور بحیرہ مردار میں جا گرتا ہے ۔
    مَنْ شَرِبَ مِنْہُ ( جس نے اس سے پی لیا ) ۔ مراد یہ ہے ۔ جس نے اس کا پانی جی بھر کے اور سیر ہو کر نوش کیا ۔ وہ میرا نافرمان شمار ہو گا اور میری جماعت سے خارج ہو جائے گا ۔
    غُرْفَةً بِیَدِہ ( اپنے ہاتھ سے ایک چلّو ) ۔ یعنی پیاس بجھانے اور ہونٹوں کی خشکی دور کرنے کے لئے تھوڑا سا صرف چلو بھر پانی پی لینے کی اجازت ہوگی ۔
    طالوت یہود کے لشکر کو جالوت کے مقابلے کے لئے لے کر چلے تو الله تعالی نے ان لوگوں کے لئے ایک آزمائش مقرر کی اور وہ یہ تھی کہ راستہ میں دریائے اردن کا پانی پیٹ بھر کر نہ پیئں ۔
    الله تعالی کا کوئی حکم حکمت اور مصلحت سے خالی نہیں ہوتا ۔ ہر حکم اور ہر پابندی میں انسان کے لئے کوئی نہ کوئی فائدہ ضرور پوشیدہ ہوتا ہے ۔ چنانچہ یہ محض ایک امتحان نہ تھا ۔ بلکہ اس پابندی میں صحت و کردار کے اعتبار سے انہیں کا فائدہ تھا ۔ جو اس وقت تو ان کی سمجھ میں نہ آیا ۔ لیکن بہت جلد انہیں معلوم ہو گیا ۔
     
  6. ‏اکتوبر 30، 2018 #96
    ام اویس

    ام اویس رکن
    شمولیت:
    ‏جون 29، 2016
    پیغامات:
    138
    موصول شکریہ جات:
    8
    تمغے کے پوائنٹ:
    48

    سورة بقرہ ۔ آیة 249 (ب)

    ہارجیت قلت و کثرت پر موقوف نہیں

    فَلَمَّا ۔۔ جَاوَزَهُ ۔۔۔ هُوَ ۔۔۔۔۔۔۔۔ وَالَّذِينَ ۔۔۔۔۔۔۔۔ آمَنُوا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مَعَهُ
    پس جب ۔۔۔ پار ہوا وہ ۔۔ وہ ۔۔۔ اور وہ لوگ ۔۔۔ ایمان لائے ۔۔ اس کے ساتھ
    قَالُوا ۔۔۔ لَا طَاقَةَ ۔۔۔ لَنَا ۔۔۔ الْيَوْمَ ۔۔۔ بِجَالُوتَ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وَجُنُودِهِ
    کہا ۔۔۔ نہیں طاقت ۔۔ ہمیں ۔۔ آج ۔۔۔ جالوت کی ۔۔۔ اور اس کا لشکر
    قَالَ ۔۔۔ الَّذِينَ ۔۔۔۔۔۔۔۔ يَظُنُّونَ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ أَنَّهُم ۔۔۔ مُّلَاقُوا ۔۔۔۔۔۔۔۔ اللَّهِ ۔۔۔ كَم ۔۔ مِّن
    کہا ۔۔ وہ لوگ ۔۔۔ وہ خیال کرتے تھے ۔۔۔ بے شک وہ ۔۔ ملنے والے ہیں ۔۔ الله ۔۔ کتنی ۔۔ سے
    فِئَةٍ ۔۔۔ قَلِيلَةٍ ۔۔۔۔۔۔۔ غَلَبَتْ ۔۔۔۔۔۔۔ فِئَةً ۔۔۔ كَثِيرَةً ۔۔۔ بِإِذْنِ ۔۔۔ اللَّهِ
    جماعت ۔۔ تھوڑی ۔۔ غالب ہوئے ۔۔ جماعت ۔۔۔ بڑی ۔۔ حکم سے ۔۔ الله
    وَاللَّهُ ۔۔۔ مَعَ ۔۔۔ الصَّابِرِينَ۔ 2️⃣4️⃣9️⃣
    اور الله ۔۔ ساتھ ۔۔ صبر کرنے والے

    فَلَمَّا جَاوَزَهُ هُوَ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ قَالُوا لَا طَاقَةَ لَنَا الْيَوْمَ بِجَالُوتَ وَجُنُودِهِ قَالَ الَّذِينَ يَظُنُّونَ أَنَّهُم مُّلَاقُوا اللَّهِ كَم مِّن فِئَةٍ قَلِيلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِيرَةً بِإِذْنِ اللَّهِ وَاللَّهُ مَعَ الصَّابِرِينَ

    پھر جب طالوت اور اس کے ایمان والے ساتھی پار ہوئے تو وہ کہنے لگے آج ہم میں جالوت اور اس کے لشکر سے مقابلے کی طاقت نہیں جنہیں خیال تھا کہ ان کو الله سے ملنا ہے کہنے لگے بارہا تھوڑی جماعت الله کے حکم سے بڑی جماعت پر غالب ہوئی ہے اور الله صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے ۔ 2️⃣4️⃣9️⃣

    جَالُوت ۔۔ یہود کے مخالف فلسطینیوں کے لشکر کا سردار تھا ۔ یہ شخص دیو قامت اور کڑیل جوان تھا ۔ توریت میں اس کی قوت و توانائی اور شہ زوری کا ذکر تفصیل سے موجود ہے ۔ قد دس فُٹ بیان کیا جاتا ہے ۔ وہ سر سے پاؤں تک زرہ پہنے رہتا تھا ۔ ایک بھاری ڈھال اس کے ہاتھ میں رہتی تھی ۔
    حضرت طالوت نے جب جہاد کا اعلان کیا تو جوش میں سب چلنے کوتیار ہوگئے ۔ آپ نے کہا جو کوئی جوان اور بے فکر ہو وہ ساتھ چلے ۔ تقریبا ستر ہزار لوگ ساتھ چلے ۔ پھر طالوت نے انہیں آزمانا چاہا اور پہلے ہی خبردار کردیا کہ راستے کی نہر سے چلّو بھر سے زیادہ پانی نہ پئیں ۔ ورنہ ساتھ چھوٹ جائے گا ۔ یہی ہوا ۔ چند ایک کے سوا سب نے جی بھر کر پانی پیا ۔ جنہوں نے ایک چلو پانی پیا ان کی پیاس بجھ گئی اور جنہوں نے جی بھر کر پانی پیا ان کی پیاس اور بڑھی اور چلنے کے قابل ہی نہ رہے ۔ اور صرف تین سو تیرہ افراد ساتھ رہ گئے ۔
    یہ قلیل جماعت دشمن کے مقابل پہنچی تو قلتِ تعداد کو دیکھتے ہوئے الله کے یہ بندے کہنے لگے آج اتنے بھاری لشکر سے ہم کیسے مقابلہ کریں گے ۔ مگر کامل یقین اور پختہ ایمان والے ساتھی پکار اٹھے ۔
    نہیں فتح ہماری ہوگی ۔ تاریخ میں اکثر ایسا ہوا ہے کہ قلیل جماعتیں بھاری لشکروں پر الله کے حکم سے کامیاب ہوگئی ہیں ۔
    ہار جیت کا فیصلہ لشکروں کی تعداد سے نہیں بلکہ الله تعالی کی مدد اور دلوں کی طاقت سے ہوتا ہے ۔ جو صبر و ثبات کا دامن نہ چھوڑے الله سبحانہ وتعالی اس کا ساتھ دیا کرتا ہے ۔
    ثابت قدمی بہت بڑی طاقت ہے ۔ میدانِ عمل میں ڈٹ جانے والوں کی الله تعالی غیب سے مدد فرماتا ہے اور انہیں کامیابی سے ہمکنار کرتا ہے ۔
    درس قرآن ۔۔ مرتبہ درس قرآن بورڈ
    تفسیر عثمانی
     
  7. ‏اکتوبر 30، 2018 #97
    ام اویس

    ام اویس رکن
    شمولیت:
    ‏جون 29، 2016
    پیغامات:
    138
    موصول شکریہ جات:
    8
    تمغے کے پوائنٹ:
    48

    سورة بقرہ ۔ 250-251

    صبر و استقامت

    وَلَمَّا ۔۔۔ بَرَزُوا ۔۔۔۔۔۔۔ لِجَالُوتَ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وَجُنُودِهِ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قَالُوا

    اور جب ۔۔۔ سامنے ہوئے ۔۔۔ جالوت کے ۔۔ اور اس کے لشکر کے ۔۔ انہوں نے کہا

    رَبَّنَا ۔۔۔ أَفْرِغْ ۔۔۔ عَلَيْنَا ۔۔۔ صَبْرًا ۔۔۔۔۔۔۔۔ وَثَبِّتْ ۔۔۔۔۔۔۔۔ أَقْدَامَنَا

    اے رب ہمارے ۔۔ ڈال ۔۔ ہم پر ۔۔ صبر ۔۔ اور ثابت رکھ ۔۔ قدم ہمارے

    وَانصُرْنَا ۔۔۔ عَلَى ۔۔۔ الْقَوْمِ ۔۔۔ الْكَافِرِينَ۔ 2️⃣5️⃣0️⃣

    اور ہماری مدد کر ۔۔۔ پر ۔۔ قوم ۔۔ کافر

    فَهَزَمُوهُم ۔۔۔۔۔۔۔ بِإِذْنِ ۔۔۔ اللَّهِ ۔۔۔۔۔۔۔ وَقَتَلَ ۔۔۔۔۔۔۔ دَاوُدُ ۔۔۔ جَالُوتَ

    پھر شکست دی انہوں نے انکو ۔۔۔ حکم سے ۔۔ الله ۔۔ اور قتل کیا ۔۔ داود نے ۔۔ جالوت

    وَآتَاهُ ۔۔۔ اللَّهُ ۔۔۔ الْمُلْكَ ۔۔۔۔۔۔۔ وَالْحِكْمَةَ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وَعَلَّمَهُ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مِمَّا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ يَشَاءُ

    اور دی اس کو ۔۔ الله ۔۔ سلطنت ۔۔ اور حکمت ۔۔ اور سکھایا اس کو ۔۔ اس سے جو ۔۔ وہ چاہتا ہے

    وَلَو ۔۔۔لَا دَفْعُ ۔۔۔ اللَّهِ ۔۔۔ النَّاسَ ۔۔۔۔۔۔۔۔ بَعْضَهُم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بِبَعْضٍ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لَّفَسَدَتِ ۔۔۔ الْأَرْضُ

    اور اگر ۔۔ نہ دور کرے ۔۔ الله ۔۔ لوگ ۔۔ بعض ان کے ۔۔ بعض کی وجہ سے ۔۔۔البتہ ۔۔ بگڑ جائے ۔۔ زمین

    وَلَكِنَّ ۔۔۔ اللَّهَ ۔۔۔ ذُو فَضْلٍ ۔۔۔ عَلَى ۔۔۔ الْعَالَمِينَ۔ 2️⃣5️⃣1️⃣

    اور لیکن ۔۔ الله تعالی ۔۔ فضل والا ۔۔ پر ۔۔ سارے جہان

    وَلَمَّا بَرَزُوا لِجَالُوتَ وَجُنُودِهِ قَالُوا رَبَّنَا أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَثَبِّتْ أَقْدَامَنَا وَانصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ. 2️⃣5️⃣0️⃣

    اور جب طالوت اور اس کی فوجیں سامنے ہوئیں تو بولے اے ہمارے رب ہمارے دلوں میں صبر ڈال دے اور ہمارے پاؤں جمائے رکھ اور کافر قوم پر ہماری مدد کر

    فَهَزَمُوهُم بِإِذْنِ اللَّهِ وَقَتَلَ دَاوُدُ جَالُوتَ وَآتَاهُ اللَّهُ الْمُلْكَ وَالْحِكْمَةَ وَعَلَّمَهُ مِمَّا يَشَاءُ وَلَوْلَا دَفْعُ اللَّهِ النَّاسَ بَعْضَهُم بِبَعْضٍ لَّفَسَدَتِ الْأَرْضُ وَلَكِنَّ اللَّهَ ذُو فَضْلٍ عَلَى الْعَالَمِينَ. 2️⃣5️⃣1️⃣

    پھر مؤمنوں نے جالوت کے لشکر کو الله کے حکم سے شکست دے دی اور داود علیہ السلام نے جالوت کو مار ڈالا اور الله تعالی نے اسے سلطنت و حکمت دی اور جو چاہا سکھایا اور اگر الله دفع نہ کراتا ایک کو دوسرے سے تو ملک خراب ہو جاتا لیکن الله تعالی جہان والوں پر بہت مہربان ہے ۔

    داوود ( داؤد علیہ السلام ) ۔ داؤد بن یسی ۹۶۳ تا ۱۰۲۴ ق م ایک پیغمبر گزرے ہیں ۔ قرآن مجید میں آپ کا ذکر سولہ جگہوں پر آیا ہے ۔
    جب طالوت کے لشکر سے سامنا ہوا تو وہی تین سو تیرہ آدمی تھے ۔ اور انہی میں داود علیہ السلام ایک نوجوان سپاہی کی حیثیت سے شامل تھے ۔ اس وقت تک نہ ان کی نبوت کا اعلان ہوا تھا اور نہ وہ بادشاہ بنے تھے ۔
    جب طالوت علیہ السلام کا لشکر جالوت کے مقابل آیا تو اس نے اپنی قوت اور توانائی کے زور میں الله کے بندوں کو للکارا ۔ مؤمن کبھی بھی اپنی کثرتِ تعداد یا دست و بازو کی طاقت پر بھروسہ نہیں کرتے چنانچہ انہوں نے الله جل جلالہ سے صبر کی توفیق مانگی اور ثابت قدم رہنے کے لئے دُعا کی ۔
    حضرت داود علیہ السلام کا یہ ابتدائی زمانہ تھا ۔ وہ طالوت کے لشکر میں شامل تھے ۔ ان کے ہاتھوں جالوت قتل ہوا ۔ اس کا لشکر بھاگا اور مسلمانوں کو فتح نصیب ہوئی ۔ الله تعالی کی سنت یہی ہے ایک کے ہاتھوں دوسرے کو شکست دے کر دنیا سے خرابی اور فساد کو مٹا دیتا ہے ۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جہاد کا حکم ہمیشہ سے چلا آرہا ہے ۔ اور اس میں الله تعالی کی بڑی رحمت اور احسان ہے ۔ نادان کہتے ہیں کہ لڑائی نبیوں کا کام نہیں ۔
    درس قرآن ۔۔۔ مرتبہ درس قرآن بورڈ
    تفسیر عثمانی
     
  8. ‏اکتوبر 30، 2018 #98
    ام اویس

    ام اویس رکن
    شمولیت:
    ‏جون 29، 2016
    پیغامات:
    138
    موصول شکریہ جات:
    8
    تمغے کے پوائنٹ:
    48

    سورة بقرہ آیة 252

    گذشتہ نشانیاں

    تِلْكَ ۔۔۔ آيَاتُ ۔۔۔۔۔۔۔ اللَّهِ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نَتْلُوهَا ۔۔۔۔۔۔۔ عَلَيْكَ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بِالْحَقِّ

    یہ ۔۔ آیات ۔۔ الله تعالی ۔۔۔ ہم پڑھتے ہیں ان کو ۔۔ آپ پر ۔۔ سچ کے ساتھ

    وَإِنَّكَ ۔۔۔ لَمِنَ ۔۔۔ الْمُرْسَلِينَ 2️⃣5️⃣2️⃣

    اور بے شک آپ ۔۔ البتہ میں ۔۔ بھیجے گئے

    تِلْكَ آيَاتُ اللَّهِ نَتْلُوهَا عَلَيْكَ بِالْحَقِّ وَإِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِينَ 2️⃣5️⃣2️⃣

    یہ الله تعالی کی آیات ہیں ہم آپ صلی الله علیہ وسلم کو ٹھیک ٹھیک سناتے ہیں اور بے شک آپ تو ہمارے رسولوں میں سے ہیں ۔

    بِالْحقّ ( ٹھیک ٹھیک ) ۔ اس سے مراد یہ ہے کہ گذشتہ قصے اور نشانیاں کمی بیشی کے بغیر پیغمبر کو سنائی جاتی ہیں ۔ اس لفظ کو لاکر یہ بھی واضح کردیا کہ قرآن مجید دوسری کتابوں کی طرح قصوں کو مسخ نہیں کرتا ۔
    مِنَ الْمُرسَلِیْنَ ( رسولوں میں سے ) اس لفظ سے واضح ہے کہ حضرت محمد صلی الله علیہ وسلم کی حیثیت بھی دوسرے پیغمبروں کی طرح ایک پیغمبر کی ہی ہے ۔ پیغمبر نہ تو خدا ہے اور نہ کوئی دیوتا ۔ غرض قرآن مجید شرک سے بچنے کے لئے ٹھیک ٹھیک الفاظ استعمال کرتا ہے ۔
    اس جملے سے یہ بھی واضح ہے کہ جس طرح الله تعالی نے حضرت داود علیہ السلام کو علم و حکمت اور نبوت دی تھی اسی طرح الله تعالی نے پیغمبرِ اسلام حضرت محمد صلی الله علیہ وسلم کو بھی اپنی ان نعمتوں سے سرفراز فرمایا ہے ۔
    اس آیت میں الله تعالی نے یہ بتایا کہ یہ گذشتہ قصے جو ہم پیغمبر علیہ الصلٰوة والسلام کو سناتے ہیں یہ بالکل حق ہیں ۔ ان میں کسی قسم کا کوئی شک و شبہ نہیں ۔ ان قصوں میں بے شمار نصیحت کی باتیں ہوتی ہیں ۔ جو آنے والی قوموں اور نسلوں کے لئے مشعلِ راہ کا کام دیتی ہیں ۔
    بنی اسرائیل کے ہزاروں لوگوں کا اپنے گھروں سے نکلنا ، اچانک مرجانا پھر الله تعالی کے حکم سے دوبارہ زندہ ہوجانا ، جالوت کا ان پر حملہ کا ان پر حملہ کرنا ، ان کا سپہ سالار کے لئے درخواست کرنا ، حضرت طالوت علیہ السلام کا بادشاہ بننا ، انہیں علم اور جسم میں بڑائی دینا ، تابوتِ سکینہ کا واپس آجانا ، طالوت کا جالوت کے مقابلے کے لئے نکلنا ، حضرت داود علیہ السلام کا جالوت کو قتل کرنا اور انہیں سلطنت وحکمت کا عطا ہونا ان سب باتوں کی اطلاع الله تعالی اپنے پیغمبر کو دیتا ہے ۔ اور ان میں ہمارے لئے نصیحت ہے ۔
    الله سبحانہ و تعالی نے اپنے رسول کو یہ بھی بتایا کہ آپ ہمارے رسولوں میں سے ایک رسول ہیں ۔ اور اس کی واضح دلیل یہ ہے کہ ہم گذشتہ زمانوں کے قصے اور نشانیاں آپ پر کھولتے ہیں ۔ اور یہ باتیں صرف پیغمبروں کو ہی بتائی جاتی ہیں ۔ حالانکہ یہ تمام باتیں نہ تو آپ صلی الله علیہ وسلم نے کسی کتاب میں پڑھی ہیں اور نہ کسی آدمی سے سنی ہیں ۔ بلکہ صرف الله تعالی کی وحی کے ذریعے آپ تک پہنچی ہیں ۔
    قرآن مجید میں سابقہ اقوام اور انبیاء علیھم السلام کے بے شمار واقعات کا ذکر موجود ہے ۔ ہر سورہ میں جگہ جگہ ان کے حالات اور اشارات موجود ہیں ۔
    ان بیانات سےکہیں بھی تاریخ نویسی اور سیرت نگاری مطلوب نہیںبلکہ اصل مدعا و مقصد نصیحت اور عبرت ہے ۔ ہمارا فرض ہے کہ گذشتہ امتوں کے حالات کے آئینہ میں ماضی کے ذریعے اپنے حال کو درست کریں اور مستقبل کی فکر کریں ۔ اگر ہم نے ایسا نہ کیا تو یہ ہماری حد درجہ غفلت اور نادانی ہوگی ۔
     
  9. ‏اکتوبر 30، 2018 #99
    ام اویس

    ام اویس رکن
    شمولیت:
    ‏جون 29، 2016
    پیغامات:
    138
    موصول شکریہ جات:
    8
    تمغے کے پوائنٹ:
    48

    دوسرے پارے کے اسباق کا خلاصہ

    پہلے پارے کی ابتداء سورۃ فاتحہ سے ہوئی ۔ اس میں پورے کلام الله کا خلاصہ ہے ۔ اس کے بعد سورۃ بقرہ کی ابتداء میں کلام مجید کی حیثیت ۔۔ مؤمن ، کافر اور منافق جماعتوں کا ذکر تھا ۔ اس کے بعد خلافتِ آدم ۔۔ بنی اسرائیل کی تاریخ ۔۔۔ حضرت ابراھیم علیہ السلام اور ان کے خاندان کا بیان ہوا اور ساتھ ساتھ بہت سے مسائل کا ذکر ہوا ۔
    دوسرے پارے کی ابتداء میں ملتِ اسلامیہ کے مقصدِ حیات اور فرائضِ ملی کا ذکر ہوا کہ یہ ملّت دنیا کی نگران بنائی گئی ہے ۔ اس کے فورا بعد تحویلِ قبلہ کا بیان ہوا نیز یہ کہ قبلہ کا مقصد پوری ملّت کو ایک مرکز پر جمع کرنا ہے ۔
    تیسرے رکوع میں شھادت اور شھیدوں کا درجہ بتلایا اور اس کے فوراً بعد توبہ کا طریقہ اور شرائط بتائیں ۔ چوتھے اور پانچویں رکوع میں حلال و حرام غذاؤں اور باپ دادوں کی رسموں کی طرف توجہ دلائی ۔
    چھٹے رکوع کی پہلی آیت میں " نیکی " کا ایک جامع تصور دیا گیا ۔ اس کے بعد قصاص ، وصیت ، روزہ رمضان ، دعا اور اعتکاف کے مسائل کا ذکر نہایت خوبصورتی سے موجود ہے
    آٹھویں ، نویں اور دسویں رکوع میں قتال فی سبیل الله اور حج کے مسائل بیان ہوئے اور درمیان میں کئی دوسرے مسائل بھی آگئے ۔
    اس کے بعد انفاق فی سبیل الله کا ذکر ہوا ۔ شراب کی حرمت ۔۔۔ اہلِ شرک سے نکاح کی ممانعت کا حکم ہوا ۔ اہلِ کتاب کا بھی ذکر آیا ۔
    بعد ازاں مسلسل چار رکوع یعنی بارہ سے پندرہ تک ازدواجی زندگی کے مسائل سے متعلق ہیں ۔ مثلاً حیض و نفاس ، طلاق ، عدت ، مہر ، رضاعت اور دوسرے متعلقہ مسائل
    دوسرے پارے کے آخری دو رکوع یعنی نمبر سولہ اور سترہ میں بنی اسرائیل کی تاریخ کا ایک اہم واقعہ مذکور ہے ۔ یعنی جالوت کے مقابلے میں حضرت طالوت کی لشکر کشی ۔ حضرت داود علیہ السلام کی سر فروشی ۔۔ حق پرستوں کی شاندار کامیابی اور باطل کی رُسوا کن شکست
     
  10. ‏مارچ 15، 2019 #100
    ام اویس

    ام اویس رکن
    شمولیت:
    ‏جون 29، 2016
    پیغامات:
    138
    موصول شکریہ جات:
    8
    تمغے کے پوائنٹ:
    48

    رسولوں کے درجات ۔ آیت 253- 1

    رسولوں کے درجات

    تِلْكَ ۔۔۔ الرُّسُلُ ۔۔۔۔۔۔۔۔ فَضَّلْنَا ۔۔۔۔۔۔۔ بَعْضَهُمْ ۔۔ عَلَى ۔۔ بَعْضٍ
    یہ ۔۔۔ رسول ۔۔ ہم نے فضیلت دی ۔۔۔ ان کے بعض کو ۔۔ پر ۔۔ بعض
    مِّنْهُم ۔۔ مَّن ۔۔۔۔۔۔ كَلَّمَ ۔۔۔۔۔۔۔۔ اللَّهُ ۔۔۔۔۔۔۔۔ وَرَفَعَ ۔۔۔۔۔۔۔ بَعْضَهُمْ ۔۔۔ دَرَجَاتٍ
    ان میں ۔۔ وہ ۔۔ کلام فرمایا ۔۔ الله تعالی ۔۔ اور بلند کیا ۔۔ ان کے بعض ۔۔ درجات
    تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ مِّنْهُم مَّن كَلَّمَ اللَّهُ وَرَفَعَ بَعْضَهُمْ دَرَجَاتٍ

    یہ رسول ہیں ہم نے ان میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ان میں سے کوئی وہ ہے جس سے الله تعالی نے کلام فرمایا اور بعض کے درجے بلند کئے ۔

    اَلرُّسُلُ ۔۔
    واحد رُسل ہے ۔ جس کے لئے پیغمبر اور نبی کے لفظ بھی استعمال ہوتے ہیں ۔ مصدر " رسالت " ہے ۔ یعنی پیغام پہنچانا ۔ رسول اس مقدس گروہ کو کہا جاتا ہے جس نے الله کے پیغام اس کے بندوں تک کمی بیشی کے بغیر پہنچائے ۔
    فَضَّلْنَا ( ہم نے فضیلت دی ) ۔
    " فضل " اس کا مادہ ہے ۔ جس کے معنی بزرگی کے ہیں ۔ تمام بزرگیاں اور بڑائیاں الله کے ہاتھ میں ہیں ۔ وہ جسے چاہے اپنے فضل و کرم سے نوازے ۔ کوئی شخص اپنے طور پر حاصل نہیں کر سکتا ۔ دولت ، وجاہت ، علم ، زورِ بازو یا خاندان غرض کوئی ایسی شے نہیں جس کے ذریعے لازمی طور پر کسی کو بزرگی اور فضیلت حاصل ہو جائے ۔ سوائے اس کے کہ الله تعالی کا فضل شاملِ حال ہو ۔
    مَنْ کَلَّمَ اللهُ ( جس سے الله تعالی نے کلام فرمایا ) ۔
    یعنی وہ رسول جس سے الله تعالی نے کلام فرمایا ۔ اور براہ راست اس تک اپنا پیغام پہنچایا ۔ جیسا کہ حضرت موسٰی علیہ السلام کے ساتھ ہوا ۔
    الله تعالی نے اس آیت میں فرمایا ہے کہ رسولوں میں بعض کے درجے بعض سے بلند ہیں ۔ مثلا بعض سے اس نے براہ راست کلام فرمایا ۔ بعض سے فرشتے کے ذریعےاور کچھ ایسے پیغمبر بھی ہوئےجو صرف پہلی شریعتکو زندہ کرنے کے لئے آئے ۔ کوئی نئی کتاب لے کر نہیں آئے ۔
    قرآن مجید میں ایک دوسرےمقام پر آیا ہے ۔
    لَا نُفَرّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنّھُمْ ( ہم ان میں سے کسی کے درمیان فرق نہیں کرتے ) ۔
    اس سے مقصد یہ ہے کہ جہاں تک رسالت کا تعلق ہے ہم کسی کو چھوٹا بڑا نہیں کہتے ۔ لہذا ان دونوں آیتوں میں کوئی تضاد یا اختلاف نہیں ۔بلکہ دونوں اپنے اپنے محل پر درست ہیں ۔
    بحیثیت مسلمان ہمارا عقیدہ ہے کہ جب سے دنیا کا وجود ہوا ہےاس وقت سے آج تک ہر زمانے میں اور ہر امت میں نبی مبعوث ہوئے ۔ وہ سب ایک الله کا پیغام لائے۔ ہر ایک اپنے اپنے زمانے میں واجب الاطاعت تھا ۔ ہم ان سب کی سچائی پر ایمان لاتے ہیں ۔

    درس قرآن ۔۔ مرتبہ درس قرآن بورڈ
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں