1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

درس قرآن

'تفسیر قرآن' میں موضوعات آغاز کردہ از ام اویس, ‏ستمبر 07، 2016۔

  1. ‏اکتوبر 29، 2018 #81
    ام اویس

    ام اویس رکن
    شمولیت:
    ‏جون 29، 2016
    پیغامات:
    138
    موصول شکریہ جات:
    8
    تمغے کے پوائنٹ:
    48

    سورة بقرہ ۔ آیة 233 (ا)

    دودھ پلانے کی مدّت

    وَالْوَالِدَاتُ ۔۔۔ يُرْضِعْنَ ۔۔۔۔۔۔۔۔ أَوْلَادَهُنَّ ۔۔۔ حَوْلَيْنِ ۔۔۔ كَامِلَيْنِ

    اور بچے والی عورتیں ۔۔۔ دودھ پلائیں ۔۔۔ ان کی اولاد ۔۔ دو برس ۔۔ پورے

    لِمَنْ ۔۔۔ أَرَادَ ۔۔۔۔۔۔۔۔ أَن ۔۔۔۔۔۔۔۔ يُتِمَّ ۔۔۔۔۔۔۔۔ الرَّضَاعَةَ ۔۔۔ وَعَلَى ۔۔۔ الْمَوْلُودِ

    جو کوئی ۔۔۔ ارادہ کرے ۔۔۔ یہ کہ ۔ وہ پوری کرے ۔۔ دودھ کی مدّت ۔۔ اور پر ۔۔ لڑکا

    لَهُ ۔۔۔۔۔۔۔ رِزْقُهُنَّ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وَكِسْوَتُهُنَّ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بِالْمَعْرُوفِ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لَا تُكَلَّفُ

    اس کے لئے ۔۔۔ کھانا ان کا ۔۔۔ اور کپڑا ان کا ۔۔۔۔ دستور کے موافق ۔۔۔ نہیں تکلیف دی جاتی

    نُفْسٌ ۔۔۔۔۔۔ إِلَّا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وُسْعَهَا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لَا تُضَارَّ ۔۔۔۔۔۔۔ وَالِدَةٌ

    کسی جان کو ۔۔۔ مگر ۔۔ اس کی وسعت کے مطابق ۔۔۔ نہ نقصان دیا جائے ۔۔۔ ماں

    بِوَلَدِهَا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وَلَا مَوْلُودٌ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لَّهُ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بِوَلَدِهِ

    اس کی اولاد کی وجہ سے ۔۔۔ اور نہ جس کا بچہ ہو (باپ ) ۔۔۔ اس کا ۔۔۔ اس کے بچہ کی وجہ سے

    وَالْوَالِدَاتُ يُرْضِعْنَ أَوْلَادَهُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ لِمَنْ أَرَادَ أَن يُتِمَّ الرَّضَاعَةَ وَعَلَى الْمَوْلُودِ لَهُ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ لَا تُكَلَّفُ نُفْسٌ إِلَّا وُسْعَهَا لَا تُضَارَّ وَالِدَةٌ بِوَلَدِهَا وَلَا مَوْلُودٌ لَّهُ بِوَلَدِهِ

    اور بچوں والی عورتیں اپنے بچوں کو دودھ پلائیں پورے دو برس جو کوئی چاہے کہ وہ دودھ پلانے کی مدّت کو پورا کرے اور لڑکے والے ( باپ ) پر ان عورتوں کا کھانا اور کپڑا دستور کے موافق واجب ہے۔ کسی کو تکلیف نہیں دی جاتی مگر اس کی گنجائش کے موافق نہ ماں کو اس کے بچے کی وجہ سے نقصان دیا جائے اور نہ اس کو جس کا وہ بچہ ہے یعنی باپ کو اس کے بچے کی وجہ سے
    رَضَاعَه ( دودھ کی مدّت ) ۔ اسلامی شریعت میں دودھ پلانے کی فطری مدّت کامل دو سال مقرر کی گئی ہے ۔ اس میں کمی بیشی باہمی رضا مندی پر چھوڑ دی گئی ہے ۔ ان احکام کی تفصیلات موجودہ اور آئندہ سبق میں موجود ہیں ۔
    اَلْوَالِداتُ ( بچے والی عورتیں ) ۔ مراد بچوں کی مائیں ہیں ۔ خواہ نکاح میں ہوں یا طلاق پا چکی ہوں ۔
    اس آیت میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ ماں اپنے بچے کو دو برس تک دودھ پلائے ۔ اور یہ مدّت اس کے لئے ہے جو ماں باپ اپنے بچے کے لئے دودھ پلانے کی مدّت کو پورا کرنا چاہیں ۔ ورنہ اس میں کمی بھی جائز ہے ۔ جیسا کہ آیت کے آخر میں آتا ہے ۔ اس حکم میں وہ مائیں بھی داخل ہیں ۔ جن کا نکاح قائم ہے اور وہ بھی جن کو طلاق مل چکی ہو یا ان کی عدّت گزر چکی ہو ۔ فرق صرف یہ ہوگا کہ بیوی کا کھانا کپڑا خاوند پر ہر حال میں لازم ہے ۔
    اس آیت سے معلوم ہوا کہ دودھ کی مدّت جس ماں سے پورا کرانا چاہیں یا باپ سے دودھ پلانے کی اُجرت ماں کو دلوانا چاہیں تو اس کی مدّت مکمل دو سال ہے ۔ اس کے بعد یہ بھی واضح ہوگیا کہ باپ کو بچہ کی ماں کو کھانا کپڑا ہر حال میں دینا پڑے گا ۔
    پہلی صورت میں تو اس کے نکاح میں ہے ۔
    دوسری صورت میں دودھ پلانے کی اجرت دینی ہو گی ۔
    اور بچہ کے ماں باپ کسی طرح سے ایک دوسرے کو تکلیف نہ دیں ۔ مثلا ماں بلاوجہ دودھ پلانے سے انکار کرے یا باپ بلا وجہ ماں سے بچے کو جُدا کرکے کسی اور سے دودھ نہ پلائے یا کھانے کپڑے میں تنگی نہ کرے ۔
     
  2. ‏اکتوبر 29، 2018 #82
    ام اویس

    ام اویس رکن
    شمولیت:
    ‏جون 29، 2016
    پیغامات:
    138
    موصول شکریہ جات:
    8
    تمغے کے پوائنٹ:
    48

    سورة بقرہ ۔ آیہ ۔ 233(ب)

    دودھ پلانے کے دیگر قوانین

    وَعَلَى ۔۔۔ الْوَارِثِ ۔۔۔۔۔ مِثْلُ ۔۔۔ ذَلِكَ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فَإِنْ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ أَرَادَا

    اور پر ۔۔۔ وارث ۔۔۔ مانند ۔۔ اس کے ۔۔ پس اگر ۔۔۔ وہ ارادہ کریں

    فِصَالًا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عَن ۔۔۔ تَرَاضٍ ۔۔۔ مِّنْهُمَا ۔۔۔۔۔۔۔۔ وَتَشَاوُرٍ

    دودھ چھڑانا ۔۔۔ سے ۔۔ رضا ۔۔ دونوں ۔۔ اور آپس کا مشورہ

    فَلَا جُنَاحَ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عَلَيْهِمَا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وَإِنْ ۔۔۔ أَرَدتُّمْ ۔۔۔۔۔۔ أَن

    پس نہیں گناہ ۔۔ ان دونوں پر ۔۔۔ اور اگر ۔۔۔ تم چاہو ۔۔ یہ کہ

    تَسْتَرْضِعُواُ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ أَوْلَادَكُمْ ۔۔۔۔ فَلَا جُنَاحَ ۔۔۔۔۔۔۔ عَلَيْكُمْ

    دودھ پلواؤ دایہ سے ۔۔۔ اولاد تمہاری ۔۔۔ پس نہیں گناہ ۔۔۔ تم پر

    إِذَا ۔۔۔۔۔۔ سَلَّمْتُم ۔۔۔۔۔۔۔۔ مَّا ۔۔۔۔ آتَيْتُم ۔۔۔۔۔۔ بِالْمَعْرُوفِ

    جب ۔۔۔ حوالے کر دو ۔۔ جو ۔۔ دیا تم نے ۔۔۔ دستور کے موافق

    وَاتَّقُوا ۔۔۔۔۔۔۔ اللَّهَ ۔۔۔۔ ۔۔۔۔ وَاعْلَمُوا۔۔۔۔۔ أَنَّ ۔۔۔۔۔۔۔ اللَّهَ

    اور ڈرو ۔۔ الله تعالی ۔۔ اور جان لو ۔۔ بے شک ۔۔ الله

    بِمَا ۔۔۔۔۔۔۔ تَعْمَلُونَ ۔۔۔۔۔۔۔ بَصِيرٌ. 2️⃣3️⃣3️⃣

    وہ جو ۔۔۔ تم کرتے ہو ۔۔۔ دیکھتا ہے

    وَعَلَى الْوَارِثِ مِثْلُ ذَلِكَ فَإِنْ أَرَادَا فِصَالًا عَن تَرَاضٍ مِّنْهُمَا وَتَشَاوُرٍ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا وَإِنْ أَرَدتُّمْ أَن تَسْتَرْضِعُوا أَوْلَادَكُمْ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ إِذَا سَلَّمْتُم مَّا آتَيْتُم بِالْمَعْرُوفِ وَاتَّقُوا اللَّهَ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ. 2️⃣3️⃣3️⃣

    اور وارثوں پر بھی یہی لازم ہے پھر اگرماں باپ چاہیں کہ دودھ چُھڑا لیں اپنی رضا اور مشورے سے تو ان پر کچھ گناہ نہیں اور اگر تم چاہو تو اپنی اولاد کو کسی دایہ سے دودھ پلواؤ تو بھی تم پر کچھ گناہ نہیں جب کہ حوالے کردو جو تم نے دینا ٹہرایا تھا دستور کے موافق اور الله سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ الله تعالی تمہارے سب کاموں کو دیکھتا ہے ۔
    اَلْوَارِثِ ( وارث ) ۔ وارث سے مراد وہ محرم رشتہ دار ہے جو باپ کے بعد شرعی وارث ہے ۔
    مِثلُ ذالک ( یہی ) ۔ یعنی جس طرح باپ پر بچہ کی ماں کے حقوق کی حفاظت لازمی ہے ۔ اسی طرح باپ کے بعد اس کے قریب ترین وارث عزیزوں پر بھی واجب ہے ۔
    بچہ کی پرورش کا خرچ باپ کے ذمہ ہے ۔ اور جب باپ مرجائے تو پھر حکم اس طرح ہے کہ اگر بچہ مال کا مالک ہو تو اسی مال میں سے اس کا خرچ چلے گا ۔ اور اگر مال کا مالک نہیں تو اس کے مال دار عزیزوں میں سے جو لوگ اس کے محرم ہوں اور محرم ہونے کے علاوہ شرعا اس کے مستحق میراث بھی ہوں تو ان وارث رشتہ داروں کے ذمہ اس کا خرچ واجب ہو گا ۔
    دودھ پیتے بچہ کے اخراجات جو دوسروں پر واجب کئے گئے ہیں اس کی وجہ یہی ہے کہ بچہ خود اپنی پرورش کی صلاحیت نہیں رکھتا ۔ اس سے ایک یہ بات بھی نکالی جا سکتی ہے کہ محتاج عورتوں ، اپاہج مردوں اور نابالغوں کے اخراجات ِ زندگی ان کے رشتہ داروں کے ذمہ ہیں ۔
    اس کے بعد یہ حکم بھی دے دیا کہ اگر والدین دو برس سے پہلے ہی دودھ چُھڑا دینا چاہیں تو ان پر کوئی گناہ نہیں ۔ لیکن یہ فیصلہ وہ باہمی صلاح و مشورہ سے کریں ۔ ماں کا جذبہ شفقت اور پرورش کا حق زیادہ ہوتا ہے ۔ اس لئے بچے کے معاملات کو صرف باپ کی رائے پر نہیں چھوڑ دیا گیا ۔ پھر یہ بھی واضح کر دیا کہ بعض حالات میں جب ماں کی بجائے دودھ کسی دوسری عورت سے پلوانا درکار ہو تو اس میں بھی کوئی گناہ نہیں ۔ بشرطیکہ اجرت ادا کردی جائے ۔
     
  3. ‏اکتوبر 29، 2018 #83
    ام اویس

    ام اویس رکن
    شمولیت:
    ‏جون 29، 2016
    پیغامات:
    138
    موصول شکریہ جات:
    8
    تمغے کے پوائنٹ:
    48

    سورة بقرہ آیة ۔ 234

    عدّت

    وَالَّذِينَ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ يُتَوَفَّوْنَ ۔۔۔۔۔۔۔ مِنكُمْ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وَيَذَرُونَ ۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔ أَزْوَاجًا

    اور جو لوگ ۔۔۔ قبضہ میں کئے جائیں ۔۔ تم میں سے ۔۔ اور وہ چھوڑ جائیں ۔۔ بیویاں

    يَتَرَبَّصْنَ ۔۔۔۔۔۔ بِأَنفُسِهِنَّ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ أَرْبَعَةَ ۔۔۔ أَشْهُرٍ۔۔۔ وَعَشْرًا

    وہ عورتیں انتظار کریں ۔۔ اپنی جانوں میں ۔۔۔ چار ۔۔ مہینے ۔۔ اور دس دن

    فَإِذَا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بَلَغْنَ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ أَجَلَهُنَّ ۔۔۔۔۔۔ فَلَا جُنَاحَ ۔۔۔۔۔۔ عَلَيْكُمْ ۔۔۔۔۔۔ فِيمَا

    پس جب ۔۔ وہ پہنچ جائیں ۔ اپنی مدت کو ۔۔ پس نہیں گناہ ۔۔۔ تم پر ۔۔ اس میں جو

    فَعَلْنَ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔ فِي ۔۔۔۔۔۔۔ أَنفُسِهِنَّ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بِالْمَعْرُوفِ

    وہ کریں ۔۔۔ میں ۔۔ اپنی جانوں ۔۔۔ اچھے طریقے سے

    وَاللَّهُ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بِمَا ۔۔۔ تَعْمَلُونَ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خَبِيرٌ 2️⃣3️⃣4️⃣

    اور الله ۔۔ اس سے جو ۔۔۔ تم کرتے ہو ۔۔۔ خبر دار ہے

    وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا يَتَرَبَّصْنَ بِأَنفُسِهِنَّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا فَإِذَا بَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا فَعَلْنَ فِي أَنفُسِهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ. 2️⃣3️⃣4️⃣

    اور جو لوگ تم میں سے مر جائیں اور اپنی عورتیں چھوڑ جائیں تو چاہئیے کہ وہ عورتیں اپنے آپ کو چار مہینے اور دس دن انتظار میں رکھیں پھر جب اپنی عدّت پوری کر چکیں تو تم پر کچھ گناہ نہیں اس بات میں کہ وہ اپنے حق میں قاعدے کے موافق کریں اور الله تعالی کو تمہارے کاموں کی خبر ہے ۔

    یَتَرَبَّصْنَ ( انتظار میں رکھیں ) ۔ مراد یہ ہے کہ خاوندوں کی وفات کے بعد ان کی بیویاں نکاح سے رُکی رہیں ۔ انتظار کی اس مدّت کا اصطلاحی نام "عدّت" ہے ۔ جس عورت کا شوہر وفات پاجائے اس کی عدّت چار ماہ اور دس دن ہے ۔ اگر بیوہ حاملہ ہو تو اس کی عدّت وضعِ حمل ( بچہ پیدا ہونے ) تک ہے ۔ عدّت کے ایّام میں بناؤ سنگھار جائز نہیں ۔
    بیوہ کے ساتھ دنیا کے دوسرے مذاہب نے کوئی خاص رعایت نہیں کی ۔ بلکہ ہندو مذہب نے تو ستی ہونے یعنی بیوہ کو زندہ ہی آگ میں جل جانے کا حکم دیا ۔ اسلام نے بیوہ کو زندہ رہنے اور پوری طرح زندہ رہنے کا حق بخشا ہے ۔ اور یہ حکم نافذ کیا ہے کہ عورت شوہر کی وفات کی تاریخ سے ٹھیک چار ماہ اور دس دن تک اپنے آپ کو روکے رکھے ۔ نکاح اور اس کے متعلق دوسری باتوں کی طرف توجہ نہ دے ۔ بناؤ سنگھار نہ کرے ۔ اگر اس دوران معلوم ہو جائے کہ وہ حاملہ ہے تو اس کی عدّت بدل جائے گی ۔ اور اسے بچے کی پیدائش تک اپنے آپ کو دوسرے نکاح سے روکنا پڑے گا ۔
    جب بیوگی کی عدّت ختم ہو جائے تو نکاح کا پیغام دینے میں کوئی مضائقہ نہیں ۔ یہاں خطاب تمام امّت کوہے یعنی تم پر ایسی بات کے جائز رکھنے میں کوئی گناہ یا حرج نہیں ۔
    اس سے یہ بات بھی نکلتی ہے کہ کوئی شخص اگر کوئی خلافِ شرع کام کرے تو دوسروں پر واجب ہوتا ہے کہ اپنی ہمت اور طاقت کے مطابق اسے روکیں ۔ ورنہ سب گنہگار ہوں گے ۔ اس لئے انہیں دیکھنا چاہئیے کہ بیوگی کی عدّت کے بعد عورت جو بھی کام کرے وہ شریعت کے قانون اور دستور سے باہر نہ ہو ۔ یاد رکھو الله سبحانہ وتعالی تمہارے کاموں سے پوری طرح باخبر ہے ۔ وہ ضرور باز پُرس کرے گا ۔
     
  4. ‏اکتوبر 29، 2018 #84
    ام اویس

    ام اویس رکن
    شمولیت:
    ‏جون 29، 2016
    پیغامات:
    138
    موصول شکریہ جات:
    8
    تمغے کے پوائنٹ:
    48

    سورة بقرہ آیة ۔ 235

    نکاح ثانی کا نامہ و پیام

    وَلَا جُنَاحَ ۔۔ عَلَيْكُمْ ۔۔۔۔۔۔۔۔ فِيمَا ۔۔۔۔۔۔۔ عَرَّضْتُم ۔۔۔۔۔۔۔۔ بِهِ

    اور نہیں گناہ ۔۔ تم پر ۔۔ اس میں جو ۔۔ اشارہ میں کہو ۔۔۔ اس کو

    مِنْ ۔۔۔ خِطْبَةِ ۔۔۔ النِّسَاءِ ۔۔ أَوْ ۔۔۔۔۔۔ أَكْنَنتُمْ ۔۔۔ فِي ۔۔۔۔۔۔۔۔ أَنفُسِكُمْ

    سے ۔۔۔ پیغام ِ نکاح ۔۔۔ عورتیں ۔۔ یا ۔۔ پوشیدہ رکھو ۔۔ میں ۔۔ اپنی جانوں میں

    عَلِمَ ۔۔۔۔۔ اللَّهُ ۔۔۔ أَنَّكُمْ ۔۔۔۔۔۔۔۔ سَتَذْكُرُونَهُنَّ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وَلَكِن

    جان لیا ۔۔ الله ۔۔ بے شک تم ۔۔ البتہ ان کا ذکر کرو گے ۔۔ اور لیکن

    لَّا تُوَاعِدُوهُنَّ ۔۔۔۔۔۔۔۔ سِرًّا ۔۔۔ إِلَّا ۔۔ أَن ۔۔۔ تَقُولُوا

    نہ تم وعدہ کرو ان سے ۔۔۔ چھپ کر ۔۔ مگر ۔۔۔ یہ ۔۔ تم کہو

    قَوْلًا ۔۔۔۔۔۔ مَّعْرُوفًا ۔۔۔۔۔۔۔۔ وَلَا تَعْزِمُوا ۔۔۔ عُقْدَةَ ۔۔۔ النِّكَاحِ

    بات ۔۔۔ شریعت کے موافق ۔۔ اور نہ تم ارادہ کرو ۔۔ گرہ ۔۔ نکاح

    حَتَّى ۔۔۔ يَبْلُغَ ۔۔۔ الْكِتَابُ ۔۔۔۔۔۔۔ أَجَلَهُ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وَاعْلَمُوا۔۔۔۔۔۔۔۔ أَنَّ

    یہانتک ۔۔ پہنچ جائے ۔۔۔ مقررہ مدت ۔۔ اپنی انتہاء تک ۔۔ اور جان لو ۔۔۔ بے شک

    اللَّهَ ۔۔۔ يَعْلَمُ ۔۔۔۔ مَا ۔۔۔ فِي ۔۔۔۔۔۔۔۔ أَنفُسِكُمْ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فَاحْذَرُوهُ

    الله ۔۔ وہ جانتا ہے ۔۔ جو ۔۔ میں ۔۔ تمہاری جانوں ۔۔ پس تم ڈرو اس سے

    وَاعْلَمُوا ۔۔۔ أَنَّ ۔۔۔ اللَّهَ ۔۔۔ غَفُورٌ۔۔۔۔۔ حَلِيمٌ۔ 2️⃣3️⃣5️⃣

    اور جان لو ۔۔ بے شک ۔۔ الله ۔۔ معاف کرنے والا ۔۔۔ تحمل والا ہے ۔

    وَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا عَرَّضْتُم بِهِ مِنْ خِطْبَةِ النِّسَاءِ أَوْ أَكْنَنتُمْ فِي أَنفُسِكُمْ عَلِمَ اللَّهُ أَنَّكُمْ سَتَذْكُرُونَهُنَّ وَلَكِن لَّا تُوَاعِدُوهُنَّ سِرًّا إِلَّا أَن تَقُولُوا قَوْلًا مَّعْرُوفًا وَلَا تَعْزِمُوا عُقْدَةَ النِّكَاحِ حَتَّى يَبْلُغَ الْكِتَابُ أَجَلَهُ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ مَا فِي أَنفُسِكُمْ فَاحْذَرُوهُ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ غَفُورٌ حَلِيمٌ. 2️⃣3️⃣5️⃣

    اور اس میں تم پر کچھ گناہ نہیں کہ ان عورتوں کو پیغام نکاح اشارہ میں کہو یا اپنے دل میں پوشیدہ رکھو الله تعالی کو معلوم ہے کہ تم ان عورتوں کا ذکر کرو گے لیکن ان سے نکاح کا وعدہ چھپ کر نہ کرو مگر یہی کہ کوئی بات شریعت کے رواج کے موافق کہہ دو اور نکاح کا ارادہ نہ کرو یہاں تک کہ مقررہ عدت اپنی انتہا کو پہنچ جائے اور جان رکھو کہ الله تعالی جانتا ہے جو تمہارے دل میں ہے سو اس سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ الله تعالی بخشنے والا اور تحمل کرنے والا ہے ۔

    اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ جب مطلقہ عورت عدّت کا دور گزار رہی ہو تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں کہ کوئی مرد بیوہ سے نکاح کا ارادہ اپنے دل میں قائم کرلے ۔ لیکن زبان پر نہ لائے یا اگر لائے بھی تو صرف اشارہ کے طور پر صاف اور واضح طور پر اپنا ارادہ ظاہر کرنا جائز نہیں ہے ۔ یہاں انسان کی ایک کمزوری بیان فرما دی ۔ یعنی عورت کسی کو پسند آئی ۔ اور اس کے دل میں بس گئی ہو تو وہ شخص اس کا ذکر ضرور زبان پر لاتا ہے ۔ اس لئے یہ تنبیہ کر دی کہ غم کے اس زمانہ میں عورت سے نکاح کا وعدہ ظاہری طور پر یا خفیہ طور پر کرنا جائز نہیں ۔ عدّت کا زمانہ ختم ہونے سے پہلے نکاح کا پیغام نہ دو ۔
     
  5. ‏اکتوبر 29، 2018 #85
    ام اویس

    ام اویس رکن
    شمولیت:
    ‏جون 29، 2016
    پیغامات:
    138
    موصول شکریہ جات:
    8
    تمغے کے پوائنٹ:
    48

    سورة بقرہ آیة - 236

    چھونے سے پہلے طلاق

    لَّا جُنَاحَ ۔۔۔ عَلَيْكُمْ ۔۔۔ إِن ۔۔۔۔۔۔۔ طَلَّقْتُمُ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ النِّسَاءَ

    نہیں گناہ ۔۔ تم پر ۔۔ اگر ۔۔ طلاق دی تم نے ۔۔۔ عورتیں

    مَا ۔۔۔۔۔۔۔۔ لَمْ تَمَسُّوهُنَّ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ أَوْ تَفْرِضُوا ۔۔۔۔۔۔۔۔ لَهُنَّ ۔۔۔۔۔۔ فَرِيضَةً

    جب ۔۔ نہیں چھوا ہو تم نے ان کو ۔۔ یا نہ مقرر کیا تم نے ۔۔ ان کے لئے ۔۔ مہر

    وَمَتِّعُوهُنَّ ۔۔۔عَلَى ۔۔۔ الْمُوسِعِ ۔۔۔۔۔۔۔۔ قَدَرُهُ ۔۔۔۔۔۔۔۔ وَعَلَى

    اور انہیں خرچ دو ۔۔ پر ۔۔ وسعت والا ۔۔ اس کے موافق ۔۔ اور پر

    الْمُقْتِرِ ۔۔۔۔۔۔ قَدَرُهُ ۔۔۔۔۔۔۔۔ مَتَاعًا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بِالْمَعْرُوفِ

    تنگی والا ۔۔ اس کے مطابق ۔۔ سامان ۔۔ قاعدے کے موافق

    حَقًّا ۔۔۔ عَلَى ۔۔۔۔۔۔۔ الْمُحْسِنِينَ 2️⃣3️⃣6️⃣

    حق ہے ۔۔ پر ۔۔ نیکی کرنے والے

    لَّا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ إِن طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ مَا لَمْ تَمَسُّوهُنَّ أَوْ تَفْرِضُوا لَهُنَّ فَرِيضَةً وَمَتِّعُوهُنَّ عَلَى الْمُوسِعِ قَدَرُهُ وَعَلَى الْمُقْتِرِ قَدَرُهُ مَتَاعًا بِالْمَعْرُوفِ حَقًّا عَلَى الْمُحْسِنِينَ 2️⃣3️⃣6️⃣

    تم پر کچھ گناہ نہیں اگر تم عورتوں کو طلاق دو اس وقت کہ تم نے انہیں ہاتھ بھی نہ لگایا ہو اور ان کے لئے کچھ مہر مقرر نہ کیا ہو اور انہیں کچھ خرچ دو وسعت والے پر اس کے مطابق ہے اور تنگی والے پر اس کے موافق ہے خرچ دستور کے موافق نیکی کرنے والوں پر لازم ہے ۔

    ما لم تَمَسُّوھُنَّ ( جنہیں ہاتھ نہ لگایا ہو ) ۔ یہ لفظ "مسّ" سے ہے ۔ جس کے معنٰی چھونا اور ہاتھ لگانا ہیں ۔ مراد عورت کے قریب جانا اور ہم بستر ہونا ہے ۔
    مَتِّعُوْھُنّ ( انہیں خرچ دو ) ۔ یہ لفظ متاع" سے ہے ۔ یعنی انہیں خرچ اور ضروریاتِ زندگی بہم پہنچاؤ ۔ علماء نے خاص طور پر اس سے لباس مراد لیا ہے ۔
    اس آیت میں یہ حکم دیا گیا ہے کہ اگر نکاح کے وقت مہر کا ذکر نہ آیا ہو اور بلا صراحت نکاح کرلیا ہو ۔ تو مہر بعد میں مقرر ہو جائے گا ۔ البتہ بیوی کو ہاتھ لگانے سے پہلے یعنی خلوتِ صحیحہ سے قبل ہی اگر طلاق دے دی جائے تو مہر کچھ لازم نہ ہو گا ۔ لیکن خاوند کے لئے ضروری ہو گا کہ عورت کو کچھ دے دے ۔
    طلاق کے بعد عورت کو جو کچھ دینا ہے وہ خاوند کی حیثیت کے مطابق مقرر ہوگا ۔ اگر وہ امیر اور دولتمند ہے تو وہ معقول رقم دے اور اگر غریب اور تنگدست ہے تو پھر جو اس کو توفیق ہو وہی دے دے ۔ ۔"بالمعروف " کا لفظ بڑھا کر یہ تاکید بھی کر دی کہ رقم کی ادائیگی میں کسی طرح کی زحمت اور تنگی نہ پہنچائی جائے ۔ بلکہ معروف طریقے سے یعنی دستور کے مطابق ہو ۔ خاوند کی سہولت اور بیوی کی ضروریات پیشِ نظر رکھتے ہوئے دیا جائے ۔
    آخر میں یہ بتایا گیا کہ " محسنین ( نیکی کرنے والوں ) پر یہ بات واجب ہے کہ مسلمان کو ہر شخص سے اچھا سلوک کرنا چاہئیے لیکن عورت کے معاملے میں انہیں زیادہ خوش معاملگی سے یہ باتیں طے کرنی چاہئیں ۔
     
  6. ‏اکتوبر 29، 2018 #86
    ام اویس

    ام اویس رکن
    شمولیت:
    ‏جون 29، 2016
    پیغامات:
    138
    موصول شکریہ جات:
    8
    تمغے کے پوائنٹ:
    48

    سورة بقرہ ۔ آیة ۔ 237

    طلاق اور مہر

    وَإِن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ طَلَّقْتُمُوهُنَّ ۔۔۔ مِن ۔۔۔۔۔۔ قَبْلِ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ أَن تَمَسُّوهُنَّ

    اور اگر ۔۔۔ تم نے طلاق دے دی ان کو ۔۔۔ سے ۔۔ پہلے ۔۔۔ یہ کہ تم چھوؤان کو

    وَقَدْ ۔۔۔۔۔۔۔ فَرَضْتُمْ ۔۔۔۔۔۔۔۔ لَهُنَّ ۔۔۔ فَرِيضَةً ۔۔۔ فَنِصْفُ

    اور تحقیق ۔۔۔ ٹہرا چکے تم ۔۔۔ان کے لئے ۔۔۔ مہر ۔۔ پس آدھا

    مَا فَرَضْتُمْ ۔۔۔ إِلَّا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ أَن يَعْفُونَ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ أَوْ يَعْفُوَ ۔۔۔۔۔۔۔۔ الَّذِي

    جو مقرر کیا تم نے ۔۔۔ مگر ۔۔ درگذر کریں عورتیں ۔۔ یا درگزر کرے ۔۔ وہ شخس

    بِيَدِهِ ۔۔۔ عُقْدَةُ ۔۔۔۔۔۔ النِّكَاحِ ۔۔۔ وَأَن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تَعْفُوا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ أَقْرَبُ

    اس کے ہاتھ میں ۔۔ گرہ ۔۔ نکاح ۔۔ اور اگر ۔۔ تم معاف کرو ۔۔۔ زیادہ قریب ہے

    لِلتَّقْوَى ۔۔۔ وَلَا تَنسَوُا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ الْفَضْلَ ۔۔۔ بَيْنَكُمْ

    تقوٰی کے ۔۔ اور نہ بھلا دو ۔۔۔ احسان کرنا ۔۔ آپس میں

    إِنَّ ۔۔۔ اللَّهَ ۔۔۔ بِمَا ۔۔۔ تَعْمَلُونَ ۔۔۔ بَصِيرٌ 2️⃣3️⃣7️⃣

    بے شک ۔۔ الله ۔۔۔ وہ جو ۔۔ تم کرتے ہو ۔۔ دیکھنے والا ہے

    وَإِن طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِن قَبْلِ أَن تَمَسُّوهُنَّ وَقَدْ فَرَضْتُمْ لَهُنَّ فَرِيضَةً فَنِصْفُ مَا فَرَضْتُمْ إِلَّا أَن يَعْفُونَ أَوْ يَعْفُوَ الَّذِي بِيَدِهِ عُقْدَةُ النِّكَاحِ وَأَن تَعْفُوا أَقْرَبُ لِلتَّقْوَى وَلَا تَنسَوُا الْفَضْلَ بَيْنَكُمْ إِنَّ اللَّهَ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ. 2️⃣3️⃣7️⃣

    اور اگر تم نے اس سے قبل انہیں طلاق دے دی کہ تم نے انہیں ہاتھ لگایا ہو اور ان کے لئے تم مقرر کر چکے تھے مہر تو جو تم نے مقرر کیا تھا اس کا نصف ( ادا کردو ) مگر یہ کہ وہ عورتیں درگزر کریں یا وہ شخص درگزر کرے جس کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے اور اگر تم درگزر کرو تو پرھیزگاری کے قریب ہے اورباہم احسان کرنا نہ بھلا دینا بے شک الله تعالی دیکھتا ہے جو تم کرتے ہو ۔

    اس آیت میں مطلقہ اور اس کے مہر کی ادائیگی کے متعلق کچھ اور احکام بیان کئے گئے ہیں۔اگر نکاح کے وقت مہر مقرر ہو چکا تھا اور ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق کی نوبت آجائے تو آدھا مہر لازم ہے ۔ لیکن خود عورت یا جس کے ہاتھ میں نکاح کی باگ دوڑ ہے ۔ کُل مہر یا مہر کے کسی حصے سے درگزر کریں تو اور بات ہے۔
    اس کے بعد یہ بھی بتایا کہ اگر مرد درگزر کرے تو تقوٰی کے زیادہ مناسب ہے ۔ کیونکہ الله تعالی نے اسے بڑائی دی اور اسےنکاح باقی رکھنے اور طلاق دینے کا مختار بنایا ۔ اب اگر ہاتھ لگانے کے بغیر طلاق دے کر خاوند آدھا مہر بھی اپنے ذمہ نہ لے تو یہ تقوٰی کے مناسب نہیں ۔ بیوی کی طرف سے کسی قسم کی کوتاہی نہیں ہوئی ۔
    گویا مہر اور طلاق کی چار صورتیں ہوئیں ۔
    1. نہ مہر مقرر کیا نہ صحبت ہوئی ۔
    اس صورت میں کچھ مناسب دے دے ۔
    2. مہر مقرر ہوا اور صحبت نہ ہوئی ۔
    نصف مہر ادا کرے ۔
    3. مہر مقرر ہوا اور صحبت ہوئی ۔
    پورا مہر ادا کرے ۔
    4. مہر مقرر نہ ہوا اور صحبت ہوئی ۔
    اس صورت میں مہر مثل ادا کرنا ہو گا ۔
     
  7. ‏اکتوبر 29، 2018 #87
    ام اویس

    ام اویس رکن
    شمولیت:
    ‏جون 29، 2016
    پیغامات:
    138
    موصول شکریہ جات:
    8
    تمغے کے پوائنٹ:
    48

    سورة بقرہ آیہ -238-239

    نمازوں کی پابندی

    حَافِظُوا ۔۔ عَلَى ۔۔۔ الصَّلَوَاتِ ۔۔۔ وَالصَّلَاةِ ۔۔۔ الْوُسْطَى

    حفاظت کرو ۔۔ پر ۔۔ نمازوں ۔۔۔۔۔ اور نماز ۔۔ درمیانی

    وَقُومُوا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لِلَّهِ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قَانِتِينَ 2️⃣3️⃣8️⃣

    اور کھڑے رہو ۔۔۔ الله تعالی کے لئے ۔۔۔ ادب سے

    فَإِنْ ۔۔۔ خِفْتُمْ ۔۔۔ فَرِجَالًا ۔۔۔ أَوْ ۔۔۔ رُكْبَانًا ۔۔۔۔۔۔۔۔ فَإِذَا

    پھر اگر ۔۔۔ تم ڈر جاؤ ۔۔۔ تو پیادہ ۔۔۔ یا ۔۔ سوار ۔۔۔ پس جب

    أَمِنتُمْ ۔۔۔۔۔۔ فَاذْكُرُوا ۔۔۔ اللَّهَ ۔۔۔۔۔۔۔۔ كَمَا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عَلَّمَكُم

    تم امن میں ہو ۔۔۔ تو یاد کرو ۔۔۔ الله ۔۔ جیسا کہ ۔۔ اس نے سکھایا تم کو

    مَّا ۔۔۔ لَمْ ۔۔۔ تَكُونُوا ۔۔۔۔ تَعْلَمُونَ. 2️⃣3️⃣9️⃣

    جسے ۔۔۔ نہیں ۔۔ تھے تم ۔۔۔ جانتے

    حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ۔. 2️⃣3️⃣8️⃣

    سب نمازوں سے خبردار رہو اور درمیانی نماز سے اور الله تعالی کے سامنے ادب سے کھڑے رہو

    فَإِنْ خِفْتُمْ فَرِجَالًا أَوْ رُكْبَانًا فَإِذَا أَمِنتُمْ فَاذْكُرُوا اللَّهَ كَمَا عَلَّمَكُم مَّا لَمْ تَكُونُوا تَعْلَمُونَ 2️⃣3️⃣9️⃣

    پھر اگر تمہیں کسی کا ڈر ہو تو پیادہ پڑھ لو یا سوار پھر جس وقت تم امن پاؤ تو الله کو یاد کرو جس طرح تمہیں سکھایا ہے جسے تم نہ جانتے تھے

    حَافِظُوا علی الصلٰوتِ ( سب نمازوں سے خبردار رہو ) ۔ یعنی نمازوں کی پابندی کرو ۔ علماء نے نماز کی پابندی کے تین درجے بتائے ہیں ۔
    1. سب سے پہلا درجہ تو یہ ہے کہ نماز وقت پر پڑھی جائے ۔ اور فرائض اور واجبات نہ چھوڑے جائیں ۔
    2. درمیانی درجہ یہ ہے کہ نمازی کا جسم ہر طرح سے پاک وصاف ہو ۔ دل میں عاجزی اور انکساری ہو ۔ سنتیں اور مستحبات کا پورا پورا خیال رکھتا ہو ۔
    3. سب سے اعلٰی درجہ یہ ہے کہ یہ سمجھ کر نماز پڑھی جائے گویا نمازی الله تعالی کو دیکھ رہا ہو ۔ اور اسے یہ بھی احساس ہو کہ الله تعالی نمازی کو دیکھ رہا ہے ۔
    اَلصّلٰوۃ الوسطی ( بیچ والی نماز ) ۔ اس بیچ والی درمیانی نماز سے مراد عصر کی نماز ہے ۔ کچھ علماء نے اس سے نماز ظہر اور مغرب اور بعض نے فجر بھی مراد لی ہے ۔
    قَانِتین ( ادب سے ) ۔ یہ لفظ قنوت سے نکلا ہے ۔ جسکے معنی دعا ، خشوع و خضوع اور عاجزی و انکساری ، اطاعت و فرمانبرداری کے ہیں ۔
    پچھلی آیات میں بیویوں کے حقوق اور مطالبات کا ذکر چلا آرہا تھا ۔ اور آگے پھر یہی ذکر چلے گا ۔درمیان میں نماز کے متعلق کچھ احکام آگئے ہیں ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں معاشرت و معاملت ، قانون و اخلاق کے مسائل عبادت سے الگ نہیں اور شریعت میں الله تعالی کے حقوق اور بندوں کے حقوق ساتھ ساتھ چل رہے ہیں ۔
    طلاق کے احکام میں نماز کا حکم بیان فرمانے کی یہ وجہ بھی ہو سکتی ہے کہ انسان دنیا کے معاملات اور باہمی جھگڑوں میں پڑ کر کہیں الله تعالی کی عبادت کو نہ بھلا دے ۔
    درمیانی نماز ( عصر کی نماز ) کی تاکید اس لئے زیادہ فرمائی کہ اس وقت انسان دنیاوی کاموں میں زیادہ مشغول ہوتا ہے ۔اس لئے اس طرف توجہ دلا دی کہ دنیاوی کاموں میں مشغول ہوکر الله تعالی کو نہ بھول جاؤ ۔ بلکہ ذکر و عبادت بھی جاری رکھو ۔ یہاں خوف اور امن کے اوقات میں نماز کے احکام بھی بتا دئیے گئے ۔ اگر لڑائی اوردشمن سے خوف ہو کا وقت ہو تو پیادہ اور سواری پر اشارے سے نماز پڑھ لینا چاہئیے ۔
     
  8. ‏اکتوبر 29، 2018 #88
    ام اویس

    ام اویس رکن
    شمولیت:
    ‏جون 29، 2016
    پیغامات:
    138
    موصول شکریہ جات:
    8
    تمغے کے پوائنٹ:
    48

    سورة بقرہ آیة 240، 241 ، 242

    بیوہ کے لئے وصیت

    وَالَّذِينَ ۔۔۔ يُتَوَفَّوْنَ ۔۔۔۔۔۔۔ مِنكُمْ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وَيَذَرُونَ ۔۔۔۔۔۔۔ أَزْوَاجًا

    اور جو لوگ ۔۔۔ مرجائیں ۔۔ تم میں سے ۔۔ اوروہ چھوڑ جائیں ۔۔ بیویاں

    وَصِيَّةً ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لِّأَزْوَاجِهِم ۔۔۔۔۔۔۔۔ مَّتَاعًا ۔۔۔ إِلَى ۔۔۔ الْحَوْلِ

    وصیت کرنا ۔۔۔ ان کی عورتوں کے لئے ۔۔۔ سامان ۔۔ تک ۔۔ ایک سال

    غَيْرَ ۔۔۔ إِخْرَاجٍ ۔۔۔۔۔۔۔ فَإِنْ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خَرَجْنَ ۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فَلَا جُنَاحَ

    بغیر ۔۔ نکالے ۔۔ پس اگر ۔۔ وہ عورتیں نکل جائیں ۔۔۔ پس نہیں گناہ

    عَلَيْكُمْ ۔۔۔ فِي ۔۔۔ مَا ۔۔۔ فَعَلْنَ ۔۔۔ فِي ۔۔۔۔۔۔۔۔ أَنفُسِهِنَّ

    تم پر ۔۔ میں ۔۔ جو ۔۔ وہ کریں ۔۔ میں ۔۔۔ ان کی جانیں

    مِن ۔۔۔ مَّعْرُوفٍ ۔۔۔ وَاللَّهُ ۔۔۔ عَزِيزٌ ۔۔۔ حَكِيمٌ۔ 2️⃣4️⃣0️⃣

    سے ۔۔ بھلا کام ۔۔ اور الله ۔۔ زبردست ۔۔۔ حکمت والا

    وَلِلْمُطَلَّقَاتِ ۔۔۔۔ مَتَاعٌ ۔۔۔ بِالْمَعْرُوفِ ۔۔۔ حَقًّا ۔۔۔ عَلَى ۔۔۔ الْمُتَّقِينَ. 2️⃣4️⃣1️⃣

    اور طلاق دی ہوئی عورتوں کے لئے ۔۔۔ خرچ ۔۔ قاعدے کے موافق ۔۔ حق ۔۔ پر ۔۔۔۔۔۔۔ پرھیزگار

    كَذَلِكَ ۔۔۔ يُبَيِّنُ ۔۔۔۔۔۔۔۔ اللَّهُ ۔۔۔۔۔۔۔۔ لَكُمْ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آيَاتِهِ

    اسی طرح ۔۔۔ بیان کرتا ہے ۔۔۔ الله ۔۔ تمہارے لئے ۔۔۔ اپنی آیات

    لَعَلَّكُمْ ۔۔۔۔ تَعْقِلُونَ 2️⃣4️⃣2️⃣

    تاکہ تم ۔۔۔ سمجھ لو

    وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا وَصِيَّةً لِّأَزْوَاجِهِم مَّتَاعًا إِلَى الْحَوْلِ غَيْرَ إِخْرَاجٍ فَإِنْ خَرَجْنَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِي مَا فَعَلْنَ فِي
    أَنفُسِهِنَّ مِن مَّعْرُوفٍ وَاللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ 2️⃣4️⃣0️⃣

    اور جو لوگ تم میں سے مرجائیں اور اپنی عورتیں چھوڑ جائیں تو وہ اپنی عورتوں کے لئے وصیت کر دیں ایک برس تک خرچ دینا گھر سے نکالے بغیر پھر اگر وہ عورتیں خود نکل جائیں تو تم پر کچھ گناہ نہیں اس میں کہ وہ اپنے حق میں بھلی بات کریں اور الله تعالی زبردست حکمت والا ہے ۔

    وَلِلْمُطَلَّقَاتِ مَتَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ حَقًّا عَلَى الْمُتَّقِينَ 2️⃣4️⃣1️⃣

    اور طلاق دی ہوئی عورتوں کے لئے قاعدہ کے موافق خرچ دینا پرھیزگاروں پر لازم ہے

    كَذَلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمْ آيَاتِهِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ. 2️⃣4️⃣2️⃣

    اسی طرح الله تعالی تمہارے لئے اپنی آیات بیان کرتا ہے تاکہ تم سمجھ لو

    وَصِیّةً لّاَزْوَاجِھِمْ ( اپنی بیویوں کے لئے وصیت کر دیں ) یہ ازدواجی مسائل کے سلسلہ میں اس صورت کی آخری آیت ہے ۔ جس میں الله تعالی نے فرمایا کہ شوہر اپنے آخری وقت میں ہونے والی بیوہ کے لئے ایک اور آسانی کی صورت پیدا کرسکتا ہے کہ وہ اپنے ورثا کو وصیت کرجائے کہ بیوہ ایک سال اس کے گھر میں رہ سکتی ہے اور مراعات کی حقدار ہو سکتی ہے ۔
    عورت کو طلاق دی جائے یا وہ قضائے الٰہی سے بیوہ ہوجائے ۔ مہر مقرر ہو چکا ہو یا نکاح کے وقت مہر کی صراحت نہ ہوئی ہو ۔ ہر حال میں اسلام حسنِ سلوک عفو و درگزر اور نیکی کی تعلیم دیتا ہے ۔
    بعد میں عورت کا حصہ اور عدّت مقرر کر دی گئی ۔ اب اس آیت پر عمل ضروری نہیں ۔
     
  9. ‏اکتوبر 29، 2018 #89
    ام اویس

    ام اویس رکن
    شمولیت:
    ‏جون 29، 2016
    پیغامات:
    138
    موصول شکریہ جات:
    8
    تمغے کے پوائنٹ:
    48

    سورة بقرہ آیة ۔ 243

    موت سے نہ بھاگو

    أَلَمْ تَرَ ۔۔۔ إِلَى ۔۔۔۔۔۔ الَّذِينَ ۔۔۔ خَرَجُوا ۔۔۔ مِن ۔۔۔۔۔۔۔۔ دِيَارِهِمْ

    کیا نہیں دیکھا تو نے ۔۔۔ طرف ۔۔ وہ لوگ ۔۔ وہ نکلے ۔۔ سے ۔۔ ان کے گھر

    وَهُمْ ۔۔۔ أُلُوفٌ ۔۔۔ حَذَرَ ۔۔۔ الْمَوْتِ ۔۔۔۔ فَقَالَ ۔۔۔۔۔۔۔ لَهُمُ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اللَّهُ

    اور وہ ۔۔۔ ہزاروں ۔۔ ڈر ۔۔۔ موت ۔۔ پس کہا ۔۔ ان سے ۔۔ الله تعالی

    مُوتُوا ۔۔۔ ثُمَّ ۔۔۔۔۔۔۔۔ أَحْيَاهُمْ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ إِنَّ ۔۔۔ اللَّهَ ۔۔۔ لَذُو فَضْلٍ

    تم مر جاؤ ۔۔ پھر ۔۔ زندہ کیا ان کو ۔۔ بے شک ۔۔ الله ۔۔۔۔ البتہ فضل والا

    عَلَى ۔۔۔ النَّاسِ ۔۔۔ وَلَكِنَّ ۔۔۔ أَكْثَرَ ۔۔۔ النَّاسِ ۔۔۔۔ لَا يَشْكُرُونَ۔ 2️⃣4️⃣3️⃣

    پر ۔۔ لوگ ۔۔۔ اور لیکن ۔۔ اکثر ۔۔ لوگ ۔۔۔ نہیں شکر کرتے

    أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ خَرَجُوا مِن دِيَارِهِمْ وَهُمْ أُلُوفٌ حَذَرَ الْمَوْتِ فَقَالَ لَهُمُ اللَّهُ مُوتُوا ثُمَّ أَحْيَاهُمْ إِنَّ اللَّهَ لَذُو فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَشْكُرُونَ. 2️⃣4️⃣3️⃣

    کیا تو نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو اپنے گھروں سے نکلے موت کے ڈر سےحالانکہ وہ ہزاروں تھے پھر الله تعالی نے انہیں فرمایا تم مر جاؤ پھر انہیں زندہ کر دیا بے شک الله تعالی لوگوں پر فضل کرنے والا ہے اور لیکن اکثر لوگ شکر نہیں کرتے ۔

    اَلَمْ تَرَ ( کیا تو نے نہیں دیکھا ) ۔ عربی زبان میں خطاب کرنے کا یہ طریقہ ایسے موقعوں پر اختیار کیا جاتا ہے جب کسی بہت بڑے اور جانے بوجھے واقعے کی طرف توجہ دلانی ہو ۔ یہاں دیکھنے سے محض آنکھ سے دیکھنا مراد نہیں ہے بلکہ خیال ، غور و فکر اور عقل سے غور کرنا مقصود ہے ۔ اور جب اس کے ساتھ " اِلٰی " آجائے تو اس سے یہ مراد بھی ہوتا ہے کہ اس واقعہ سے کوئی سبق دینا مقصود ہے ۔
    اَلّذِیْنَ خَرَجُوا ( جو نکلے ) ۔ اشارہ یہود کی طرف ہے جو اپنے گھروں سے موت کے ڈر سے نکل کھڑے ہوئے ۔ اور عرب باشندے اس واقعہ سے خوب واقف تھے ۔
    اس آیت میں ایک بہت قدیم واقعہ کی طرف اشارہ ہے ۔ کہ ہزاروں افراد پر مشتمل یہودی موت کے ڈر سے ( جس کا سبب یا تو وبا خیال کی جاتی ہے یا دشمن کا حملہ ) اپنے وطن سے نکل کھڑے ہوئے ۔ نہ انہوں نے تقدیر پر یقین کیا اور نہ دشمن کے خلاف ہتھیار اٹھائے ۔ بلکہ بزدل بن کر جان بچانے کی کوشش میں چل نکلے ۔ لیکن ان کا یوں بھاگنا ان کے کچھ کام نہ آیا ۔ الله نے انہیں موت دے دی اور وہ موت کے چنگل سے نہ بچ سکے ۔
    سات دن کے بعد الله تعالی کے ایک پیغمبر نے دعا کی تو وہ دوبارہ زندہ ہو گئے ۔ تاکہ آئندہ کے لئے وہ توبہ کریں ۔ اور معلوم کر لیں کہ موت وحیات کا رشتہ الله جل جلالہ کے ہاتھ میں ہے ۔ الله تعالی انسان کی زندگی اور موت پر پورا قبضہ اور اختیار رکھتا ہے ۔ وہ انسان پر فضل کرتا ہے ۔ انسان اس کے احسانات کا شمار بھی نہیں کر سکتا ۔ اس لئے انسان کو ہر دم الله سبحانہ و تعالی کا شکر گزار ہونا چاہئیے ۔
     
  10. ‏اکتوبر 30، 2018 #90
    ام اویس

    ام اویس رکن
    شمولیت:
    ‏جون 29، 2016
    پیغامات:
    138
    موصول شکریہ جات:
    8
    تمغے کے پوائنٹ:
    48

    سورة بقرہ آیة ۔ 244-245

    قرضِ حسن

    وَقَاتِلُوا ۔۔۔ فِي ۔۔۔ سَبِيلِ ۔۔۔ اللَّهِ ۔۔۔۔۔۔۔ وَاعْلَمُوا

    اور تم لڑو ۔۔۔ میں ۔۔ راستہ ۔۔۔ الله ۔۔۔ اور جان لو

    أَنَّ ۔۔۔ اللَّهَ ۔۔۔ سَمِيعٌ ۔۔۔ عَلِيمٌ. 2️⃣4️⃣4️⃣

    بے شک ۔۔۔ الله ۔۔ سنتا ہے ۔۔۔ جانتا ہے

    مَّن ۔۔۔ ذَا الَّذِي ۔۔۔ يُقْرِضُ ۔۔۔ اللَّهَ ۔۔۔ قَرْضًا ۔۔۔ حَسَنًا

    کون ۔۔ ایسا جو ۔۔ قرض دے ۔۔۔ الله ۔۔ قرض ۔۔۔ حسنہ

    فَيُضَاعِفَهُ ۔۔۔۔ لَهُ ۔۔۔۔۔۔۔ أَضْعَافًا ۔۔۔۔۔ كَثِيرَةً

    پھر دوگنا کردے اس کو ۔۔۔ اس کے لئے ۔۔۔ بڑھانا ۔۔ زیادہ

    وَاللَّهُ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ يَقْبِضُ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وَيَبْسُطُ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وَإِلَيْهِ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تُرْجَعُونَ 2️⃣4️⃣5️⃣

    اور الله ۔۔۔ تنگی کر دیتا ہے ۔۔۔ اور کشائش کرتا ہے ۔۔۔ اور اسی کی طرف ۔۔۔ تم لوٹائے جاؤ گے

    وَقَاتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ. 2️⃣4️⃣4️⃣

    اور الله کی راہ میں لڑو اور جان لو کہ الله تعالی بے شک سنتا جانتا ہے

    مَّن ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيُضَاعِفَهُ لَهُ أَضْعَافًا كَثِيرَةً وَاللَّهُ يَقْبِضُ وَيَبْسُطُ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ. 2️⃣4️⃣5️⃣

    کون شخص ہے جو الله کو اچھا قرض دے پھر الله تعالی اسے کئی گنا کردے اور الله ہی تنگی کرتا ہے اور وہی کشائش کرتا ہے اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے

    عَلِیمٌ ( جانتا ہے ) ۔ مراد یہ ہے کہ الله تعالی جہاد کرنے والوں اور جہاد نہ کرنے والوں کے دل کے ارادوں اور زبان سے کئے ہوئے اعلانات کو جانتا ہے ۔
    قَرْضاً حَسَناً ( اچھا قرض ) ۔ ایسا قرض جس کے بعد مقروض کو تنگ نہ کیا جائے ۔ نہ احسان جتایا جائے نہ بدلہ لیا جائے اور نہ مقروض کو حقیر سمجھا جائے ۔ وسیع معنوں میں اس سے مراد ہر وہ رقم بھی ہوتی ہے جو دین کی کسی مد میں خرچ ہو ۔ یہاں جہاد میں خرچ کرنا مراد ہے ۔
    اہل عرب ہر اچھے معاوضہ والے عمل کو " قرض ِحسن " کہتے تھے ۔ اور ہر بُرے معاوضے والے عمل کو بُرا قرض کہا کرتے تھے ۔ چونکہ جہاد کی راہ میں مال خرچ کرنے سے آخرت میں کئی گنا زیادہ واپس ملتا ہے ۔ اس لئے اس خرچ کے عمل کو قرآن مجید نے " قرض ِحسن " قرار دیا ہے
    فَیُضٰعِفَهُ ( پھر دگنا کردے ) ۔ مراد ہے اس کے اجرو ثواب کو دوگنا کردے ۔ اس کا مصدر اضعاف ( چند در چند اور کئی گنا زیادہ کرنا ) ہے ۔
    پچھلی آیت میں الله تعالی نے ایک قوم کا ذکر کر کے یہ واضح کر دیا تھا کہ زندگی اور موت کا اختیار صرف الله تعالی کے ہاتھ میں ہے ۔ اس لئے دشمن کے خوف سے بھاگنا نہیں چاہئیے ۔ اب صریح طور پر جہاد کا حکم ہے کہ دینِ حق کی راہ میں اس کے دشمنوں سے جنگ کرو ۔
    جہاد کے لئے جنگ کے سامان آلات و ہتھیار اور دیگر اشیاء کی ضرورت ہوتی ہے ۔ اس لئے الله تعالی نے ان لوگوں کو جو صاحبِ استطاعت ہیں ۔ یہ حکم دیا کہ تم دل کھول کر مال خرچ کرو ۔ تمہاری اس قربانی کو الله تعالی کو کئی گنا کرکے واپس کرے گا ۔ تم ہرگز یہ نہ سمجھو کہ روپیہ خرچ کرنے سے تم غریب ہوجاؤ گے ۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں