1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

صفات متشابہات پر دیوبند کانطریہ

'توحید اسماء وصفات' میں موضوعات آغاز کردہ از ابن قدامہ, ‏دسمبر 05، 2014۔

  1. ‏دسمبر 05، 2014 #1
    ابن قدامہ

    ابن قدامہ مشہور رکن
    جگہ:
    درب التبانة
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2014
    پیغامات:
    1,772
    موصول شکریہ جات:
    421
    تمغے کے پوائنٹ:
    198

    اس تحریر کا کوئی بھائی جواب دے۔ں اس مسلہ سے میں پریشان ہوں -میں نے یہ تحریر ایک دیوبند ویب ساہیٹ پر پڑھی ہے
    اسْتَوَی عَلَی الْعَرْش اور غیر مقلدین کا ناقابل فہم مسلک
    غیر مقلدین کا موقف یہ ہے کہ ﴿اسْتَوَی عَلَی الْعَرْش﴾ اپنے حقیقی معنوں پر محمول ہے ، یعنی الله تعالیٰ”پھر بیٹھا تخت پر“ اور عرش الله تعالیٰ کامکان ہے اور الله تعالیٰ جہت بلندی سے متصف ہے ۔(وھو في جہة الفوق، ومکان العرش۔(نزل الأبرار، کتاب الایمان، ص:3،لاہور)

    اسی طرح یَدْ ، وجہ، ساق، سے الله تعالیٰ کے اعضا وجوارح مراد ہیں، تاہم ان کی کیفیت مجہول ہے۔ (”ولہ وجہ، وعین، وید، وکف، وقبضة، واصابع، وساعد، وذراع، وجنب، وحقو، وقدم، ورجل، وساق، وکیف کما تلیق بذاتہ“․(نزل الابرار من فقہ النبی المختار، کتاب الإیمان، ص:3، لاہور)

    اگر غیر مقلدین کے مذکورہ موقف ومسلک کو درست قرار دیا جائے تو ذات بار ی تعالیٰ کے لیے ”جسم“ تسلیم کیے بغیر کوئی چارہ کار نہیں رہتا، کیوں کہ باری تعالیٰ کے لیے مکان وجہت اور اعضائے جارحہ (منھ، ہاتھ، پنڈلی) ثابت کرتے ہی جسمانیت کے تمام پہلو غیر شعوری طور پر پیدا ہو جاتے ہیں یا پھر یہ مسئلہ مبہم اور ناقابل فہم بن جاتا ہے۔

    اس لیے کہ جب آپ الله تعالیٰ کے لیے ، چہرہ، ہاتھ، پنڈلی وغیرہ کے اثبات پر زور دیتے ہیں تو اس کے جو معنی انسانی ذہن میں متبادر ہوتے ہیں وہ یہ ہیں کہ اس کی ذات نہ صرف جسم رکھتی ہے، بلکہ اعضا وجوارح سے بھی متصف ہے، لیکن پھر جب آپ کہتے ہیں ان اعضاءِ جوارحہ کی کیفیت مجہول ہے، اس کا ہاتھ ہمارے ہاتھ کی مانند نہیں، اس کا چہرہ ہمارے چہرے کی طرح نہیں تو پھر فیصلہ کن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس نفی کا اطلاق کس سے متعلق ہے؟

    کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ:
    وہ چہرے، ہاتھ، پنڈلی وغیرہ کے مدلولات ہی سے متصف نہیں؟یا یہ کہ وہ ایک نوع کے اعضائے جارحہ تو رکھتا ہے، مگر یہ اعضائے جارحہ تمام ذی اعضا حیوانات سے مختلف ہیں؟

    اگر پہلی صورت صحیح ہے تو اس کا مطلب یہ ہے آپ الفاظ کے ہیر پھیر میں سرگرداں او رکسی نتیجے تک پہنچنے سے قاصر ہیں، کیوں کہ ایک چیز ثابت کرکے پھر اس کی نفی کر دینے سے کوئی واضح مفہوم سامنے نہیں آتا۔

    اگر وہ دوسری صورت صحیح ہے تو پھر ”جسمانیت“ سے دامن بچانا محال ہے ،اس لیے کہ آپ کی نفی کا اطلاق صرف ہیئت، شکل اور نوعیت پر ہوا ہے، جس کا سیدھا سادھا مطلب یہ ہے کہ الله تعالیٰ کے لیے ید، وجہ، استوی علی العرش کے جسمانی مدلول تو ثابت ہیں، لیکن ہمارے ہاتھ ، چہرے کے مقابلے میں بے نظیر ہیں ۔

    غیر مقلدین کے مسلک کی مذکورہ کیفیت دیکھ کر ہم یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ ان کا مسلک اہل سنت سے جدا او رناقابل فہم ہے۔ (استوی علی العرش، وھذا الأصل معقود لبیان أنہ تعالیٰ غیر مستقر علی مکان کما قدمہ صریحاً فی ترجمة اصول الرکن الأول، ونبہ علیہ مصانا بالجواب عن تمسک القائلین بالجھة والمکان، فإن الکرامیة یثبتون جہة العلو من غیر استقرار علی العرش، والحشویة، وھم المجسمة، یصر حون بالاستقرار علی العرش وتمسکو بظواہرھا منھا قولہ تعالیٰ: ﴿الرحمن علی العرش استوی﴾․ (المسامرة شرح المسایرہ ، الأصل الثامن:ص،44، بیروت)

    علامہ قرطبی رحمہ الله تعالیٰ نے کیا خوب فرمایا ( صفات متشابہات) میں تاؤیل سے پہلوتہی اختیار کرکے الفاظ کے ظاہری معنی کے درپے ہو جانے کا مطلب تو یہ ہوا کہ قرآن کریم کی آیات تضادبیانی کا شکار ہیں۔ (وقد جمع فی ھذہ الأیة بین ”استوی العرش“ وبین ”ھو معکم“ ، والأخذ بالظاھر من تناقض، فدل علی انہ لا بدمن التاویل، والإعراض عن التاویل اعتراف بالتناقض)․ (احکام القرآن اللقرطبی) کیوں کہ صفات متشابہات کے ظاہری معنی مراد لینے سے قرآن کی کئی آیات تضادوتناقض کا شکار ہوتی نظر آتی ہیں مثلاً:﴿ ثُمَّ اسْتَوَی عَلَی الْعَرْش﴾․ (اعراف:54) اور ﴿وَہُوَ الْقَاہِرُ فَوْقَ
    عِبَادِہِ﴾․ (الأنعام:18) کا ظاہری معنی یہ ہوا کہ الله تعالیٰ حسی طور پر عرش پر بیٹھے ہیں او رجہت فوق میں ہیں ۔لیکن مندرجہ ذیل آیتوں کے ظاہری معنی سے معلوم ہوتا ہے کہ الله تعالیٰ کی ذات گرامی عرش پر نہیں، بلکہ اپنے بندوں کے ساتھ ہے۔ ﴿وَقَالَ اللّہُ إِنِّیْ مَعَکُمْ﴾․ (المائدہ:11)﴿وَہُوَ مَعَکُمْ أَیْْنَ مَا کُنتُمْ﴾․(الحدید:4) ﴿إِنَّنِیْ مَعَکُمَا أَسْمَعُ وَأَرَی﴾․(طہ:46) ﴿أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّہَ یَعْلَمُ مَا فِیْ السَّمَاوَاتِ وَمَا فِیْ الْأَرْضِ مَا یَکُونُ مِن نَّجْوَی ثَلَاثَةٍ إِلَّا ہُوَ رَابِعُہُمْ وَلَا خَمْسَةٍ إِلَّا ہُوَ
    سَادِسُہُمْ وَلَا أَدْنَی مِن ذَلِکَ وَلَا أَکْثَرَ إِلَّا ہُوَ مَعَہُمْ أَیْْنَ مَا کَانُوا﴾․(المجادلہ:7)

    اگر تاویل بدعت ہے تو پھر اس تعارض اورتناقض کا کیا حل؟

    غیر مقلدین کا امام مالک رحمہ الله کے قول سے غلط استدلال
    غیر مقلدین کا کہنا ہے کہ امام مالک رحمہ الله صفات متشابہات کو حقیقی معنوں پر محمول کرکے اس کی کیفیت مجہول قرار دیتے تھے ، چناں چہ ایک بار ان سے جب ”استویٰ“ کے متعلق دریافت کیا گیا تو انہوں نے واضح الفاظ میں فرمایا”الاستواء غیر مجہول“ یعنی لفظ ”استویٰ“ کی دلالت اپنے معنی ومراد (استقرار) پر واضح ہے۔ یعنی الله تعالیٰ عرش پر مستقِر ہیں البتہ اس استقرار کی کیفیت مجہول ہے۔ (الاستواء غیر مجہول، والکیف غیر معقول، والایمان بہ واجب، والسئوال عنہ بدعة“․ روح المعانی، الاعراف، تحت آیة رقم:54)

    علامہ آلوسی رحمہ الله تعالیٰ نے اس فریب استدلال سے پردہ چاک کرتے ہوئے فرمایا کہ:

    ” الاستواء غیر مجہول“ کا مطلب یہ ہے الله تعالیٰ کی صفت استوا (قرآن وحدیث) میں مذکور ہے ۔ یہ مطلب نہیں کہ اس کا معنی ومراد ”استقرار“ معلوم ہے۔ ( لیس نصاً فی ھذ المذھب لاحتمال أن یکون المراد من قولہ : غیر مجہول، انہ ثابت معلوم الثبوت لا أن معناہ وھو الاستقرار غیر مجہول۔“ (روح المعانی، الاعراف، تحت آیة رقم:54)

    نیز امام مالک رحمہ الله تعالیٰ کا استوا کے متعلق صحیح قول وہ ہے جو سند صحیح کے ساتھ علامہ ابن حجر رحمہ الله نے فتح الباری․ (واخرج البیہقی بسند جید عن عبدالله بن وھب، قال: کنا عند مالک، فدخل رجل فقال: یا أبا عبدالله ﴿الرحمن علی العرش استوی﴾ کیف استوی؟ فاطرق مالک فأخذتہ الرحضاء ثم رفع راسہ، فقال: الرحمن علی العرش استوی، کما وصف بہ نفسہ، ولایقال کیف وکیف عنہ مرفوع․فتح الباری لابن حجر، باب وکان عرشہ علی الماء:494/20) اور علامہ بیہقی رحمہ الله تعالیٰ نے کتاب الاسماء والصفات․(کتاب الاسماء والصفات للبیہقی، ص:408) میں نقل کیا ہے کہ ” الله تعالیٰ عرش پر ایسا
    ہی مستوی ہے جیسے خود آیت کریمہ میں بیان فرمایا ہے ﴿الرحمن علی العرش استوی﴾ یعنی صرف صفت استوی کی نسبت باری تعالیٰ کے لیے ثابت کرکے اسے متشابہہ المعنی قرار دیا۔

    لہٰذا امام مالک رحمہ الله کے ایک معروف او رمستند قول کو نظر انداز کرکے ایک غیر معروف اور مبہم قول سے اپنے مطلب کا مفہوم اخذ کرنا خود فریبی کے سوا کچھ نہیں۔

    اہل سنت والجماعت کا عقیدہ ہے کہ ا لله تعالیٰ کی ذات مبارکہ جسم سے اور جسم کی تمام خصوصیات زمان ومکان اور حدود وجہت سے پاک اور منزہ ہے، لہٰذا ذات باری تعالیٰ کے حق میں کوئی لفظ بھی استعمال نہ کیا جائے جو جسم اور خاصہ جسم پر دلالت کرتا ہو، مثلاً لفظ ”أین“ عربی میں مکان کے لیے استعمال ہوتا ہے اور مکان جسم کا خاصہ ہے، لہٰذا ذات باری کے متعلق لفظ ”أین“ سے استفسار جائز نہیں ( مثلا این الله ؟ الله کہاں ہے؟)۔ چناں چہ علامہ ابن حجر رحمہ الله ایک مقام پر لکھتے ہیں۔

    ” الله تعالیٰ کی حکمتوں پر کیوں اور کیسے کا سوال اٹھانا ایسے ہی عبث ہے جیسے الله کے وجود پر کہاں اور کیسے کا سوال ۔“ (فلا یتوجہ علی حکمہ لم ولا کیف کما لا یتوجہ علیہ فی وجودہ أین وحیث) ․( فتح الباری لابن حجر:441/1)

    لیکن غیر مقلدین اور نام نہاد سلفیوں کے نزدیک ”عرش“ باری تعالیٰ کا مکان اور فوق باری تعالیٰ کی جہت ہے ، دلیل مانگنے پر فوراً مسلم شریف کی حدیث پیش کر دیتے ہیں ، جس میں آپ صلی الله علیہ وسلم نے ایک باندی سے پوچھا ”أین الله؟“ (الله کہاں ہے؟) جواب میں باندی نے کہا فی السماء (آسمان میں ہے)۔ ( قلت یا رسول الله أفلا أعتقہا قال: ائتنی بھا، فأتیتہ بھا، فقال لہا: این الله؟ قالت: فی السماء․( صحیح مسلم باب تحریم السلام فی الصلاة، رقم الحدیث:1227)

    غیر مقلدین اس حدیث سے یوں استدلال کرتے ہیں کہ آپ صلی الله علیہ وسلم کا ”أین“ سے الله کی ذات کے متعلق سوال فرمانا مکان الہی کے ثبوت پر واضح دلیل ہے ، پھر باندی کے جواب فی السماء پر خاموش رہنا بلکہ اسے مومنہ قرار دے کر آزاد کر ادینا اس بات کی دلیل ہے کہ باندی کا جواب درست تھا کہ الله تعالیٰ فی السماء یعنی جہت فوق میں ہے ۔ مذکورہ حدیث کی چھان بین کرنے پر معلوم ہوا کہ غیر مقلدین نے جس حدیث کو بنیاد بنا کر اپنے عقیدے کی عمارت کھڑی کی ہے اس کو محدثین نے معلول اور شاذ قرار دیا ہے۔

    1... چناں چہ امام بیہقی رحمہ الله تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ حدیث مضطرب ہے۔ ( کتاب الاسماء والصفات للبہیقی، ص:422)
    2... حافظ ابن حجر رحمہ الله تعالیٰ اس کے اضطراب کی نشان دہی کرتے ہوئے فرماتے ہیں ”وفی اللفظ مخالفة کثیرة“ کہ متن حدیث کے لفظ میں بکثرت اختلاف پایا جاتا ہے۔ ( التلخیص الحبیر:443/3)
    3... امام بزار رحمہ الله نے بھی اس حدیث کے اضطراب پر نشان دہی کرتے ہوئے یہی فرمایا کہ اس حدیث کو مختلف الفاظ کے ساتھ روایت کیا گیا ہے ۔ ( کشف الأستار:14/1)
    4... علامہ زاہد الکوثری رحمہ الله تعالیٰ نے بھی اس حدیث پر اضطراب کا حکم لگایا ہے ۔ ( ھامش الأسما والصفات:344)
    5... نیز حضور صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر کتنے لوگ مشرف بہ اسلام ہوئے، لیکن کسی سے بھی ”أین“ کا سوال منقول نہیں ہے، یہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ اس سوال کا ایمان کی حقیقت سے کوئی تعلق نہیں، بلکہ فقط باندی کا امتحان لینا مقصود تھا کہ مشرک ہے یا موحدہ؟( شرح السیوطی علی مسلم:217/2، رقم الحدیث:537)

    خلاصہ یہ کہ ایک معلول اور شاذ روایت سے عقیدے کا استنباط نہیں کیا جاسکتا اور ایسی شاذ روایت کو بنیاد بنا کرا شاعرہ کو گم راہ او ربدعتی کہنا تو سراسر جہالت ہے یا تعصب۔ بالفرض اگر اس روایت کو صحیح تسلیم کر لیا تو پھر ”أین“ کا سوال ذات باری تعالی کے مکان کے لیے نہیں، بلکہ منزلت اور مرتبہ کے لیے ہو گا، یعنی ہمارے الله کامرتبہ کیا ہے ؟ یا یہ کہ الله تعالیٰ کے احکام وأوامر کا مکان کون سا ہے؟ (کذا فی شر ح النووی علی مسلم،298/2، رقم الحدیث:836)

    خلاصہ یہ کہ غیر مقلدین اور سلفی حضرات کا موقف افراط و تفریط کا شکار ہے، چناں چہ حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ الله ایک مقام پر لکھتے ہیں :

    ” آج کل بعض لوگ جن پر ظاہریت غالب ہے، جب متشابہات کی تفسیر کرتے ہیں تو درجہ اجمال میں تو مسلک سلف پر رہتے ہیں، مگر چار غلطیاں کرتے ہیں ۔
    1... ایک یہ کہ تفسیر ظنی کی قطعیت کے مدعی ہو جاتے ہیں۔ ( چناں چہ مسلک تفویض کو باطل قرار دیتے ہیں۔)
    2... دوسری غلطی یہ ہے کہ جب تفصیل کرتے ہیں تو عنوانات موہمہ تکییف وتجسیم اختیا رکرتے ہیں ۔ ( جسے کہ عرش کو الله تعالیٰ کا مکان اور ”فوق“ کو جہت قرار دینا اور ید وجہ سے اعضائے جوارح مراد لینا۔)
    3... تیسری غلطی یہ کہ مسلک تأویل کو علی الاطلاق باطل کہہ کر ہزاروں اہل حق کی تضلیل کرتے ہیں، حالاں کہ اہل حق کے پاس ان کے مسلک کی صحت کے لیے احادیث بھی بنا ہیں اور قواعد شرعیہ بھی۔(گذشتہ صفحات میں ان کا ذکر کیا گیا ہے ۔)
    4... چوتھی غلطی یہ کہ تفسیر بالاستقرار کو تو سلف کے مسلک پر سمجھتے ہیں اور دوسری تفاسیر لغویہ کو تاویل خلف سمجھتے ہیں ، حالاں کہ سب کا مساوی ہونا اوپر ظاہر ہو چکا ہے۔(امداد الفتاوی:111/6)

    صفات متشابہات اور فرقہ مجسمہ کا موقف
    فرقہ مجسمہ کے نزدیک الله تعالیٰ کی ذات مبارکہ جسمانیت سے متصف ہے۔

    مجسمہ کی عقلی دلیل
    فرقہ مجسمہ کی عقلی دلیل تو یہ ہے کہ جب بھی دو موجود فرض کیے جائیں تو وہ د وحال سے خالی نہیں ہوسکتے یا تو دونوں باہم متصل او رملے ہوئے ہوں گے، اس اتصال اور ملاپ کی بھی دو صورتیں ہیں، ایک یہ کہ دونوں کے حدود واطراف آ پس میں ملتے ہوں یا یہ کہ دونوں آپس میں تداخل اور حلول کیے ہوئے ہوں۔

    یا دونوں ایک دوسرے سے منفصل اور جدا ہوں گے اور جہت میں ایک دوسرے کے مخالف سمت میں ہوں گے، اب ہمارے سامنے دو موجود ہیں، ایک عالم ،دوسرا ذات باری تعالیٰ ،ان دونوں میں مذکورہ بالا دو احتمال ہیں، پہلا احتمال اس لیے باطل ہے کہ الله تعالیٰ نہ عالم میں حلول کیے ہوئے ہیں، نہ عالم الله تعالیٰ میں حلول کیے ہوئے ہے، کیوں کہ حال او رمحل ہمیشہ ایک دوسرے کے محتاج ہوتے ہیں اور الله تعالیٰ کی ذات کسی چیز کا احتیاج نہیں رکھتی لہٰذا دوسری صورت ہی متعین ہے کہ الله تعالیٰ عالم سے منفصلاور جدا ہے او راس کی جہتِ مخالف میں ہے اور جو چیز جہت میں ہوتی ہے وہ متحیز ہوتی ہے او
    رمتحیز جسم ہوتا ہے، لہٰذا الله تعالیٰ جسم ہے۔

    مجسمہ کی عقلی دلیل کا جواب
    ذات بار ی تعالیٰ جسم کے عیب سے پاک ہے، کیوں کہ جسم ایسی چیزوں کے مجموعے کا نام ہے جو حدوث اور فنا کا تقاضا کرتی ہیں مثلاً ہیئت، مقدار، اجتماع وافتراق۔

    باقی آپ نے جو دلیل اور حکم بیان کیا ہے وہ ان دو موجودات کے متعلق ہے جو حسی ہوں ، الله تبارک وتعالی کا وجود غیر محسوس ہے ، اس پر محسوس والا حکم لگانا وہمی ہونے کی دلیل ہے، عقل ودانش کی دنیا میں اس کی کوئی اہمیت نہیں، اہل علم اسے قیاس الغائب علی الشاھد سے تعبیر کرتے ہیں۔(شرح العقائد النسفیة للتفتازانی، ص:46,45)

    مجسمہ کی نقلی دلیل او راس کا جواب
    مجسمہ نقلی دلائل میں قرآن وحدیث کی وہ نصوص پیش کرتے ہیں جن کے ظاہری الفاظ باری تعالیٰ کے لیے جسمیت او رجہت وغیرہ پر دلالت کرتے ہیں ۔ مثلاً: ﴿وَجَاء رَبُّکَ﴾․ (الفجر:22) ( اور آیا تیرا رب)۔ ﴿الرَّحْمَنُ عَلَی الْعَرْشِ اسْتَوَی﴾․(طہ:5)(وہ بڑا مہربان عرش پر قائم ہوا)۔ ﴿یَدُ اللَّہِ فَوْقَ أَیْْدِیْہِمْ﴾․(الفتح:10)( الله کا ہاتھ ہے اوپر ان کے ہاتھ کے)۔

    جواب… واضح رہے کہ جب باری تعالیٰ کے جسم او رجہت وغیرہ سے پاک ہونے پر دلائل عقلیہ قائم ہوں تو پھر قاعدہ یہ ہے اگر کسی نص کے ظاہری الفاظ کسی ایسی چیز پر دلالت کریں جو خلاف عقل ہے تو اس نص کے ظاہری معنی مراد نہیں ہوں گے ، بلکہ ایسی نصوص متشابہات کہلاتی ہیں اورمتشابہات کے متعلق اہل سنت والجماعت کا موقف گزشتہ صفحات میں گزر چکا ہے۔
     
  2. ‏دسمبر 05، 2014 #2
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,967
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    مسلمان کواللہ تعالی کے متعلق کیسا خیال کرنا چاہۓ ؟

    مجھے اس بات کا علم ہے کہ اللہ تعالی کودیکھنا ممکن نہیں تو کیا میں اللہ تبارک و تعالی کوآدمی کی شکل وہیئت کا خیال کروں یا کہ اللہ تبارک وتعالی نور ہے ؟

    اس مسئلہ کے متعلق آپ میرا تعاون فرمائيں اللہ تعالی آپ کوجزاۓ خیر عطا فرماۓ .


    الحمد للہ:

    اللہ تبارک وتعالی کا کے فرمان کا ترجمہ کچھ اس طرح ہے :

    { اللہ تعالی کی مثل کوئ نہیں اوروہ سننے والا دیکھنے والا ہے } تو اس اللہ تعالی کی نہ تو کوئ مثل ہے اورنہ ہی کوئ شبیہ ہے اورنہ ہی اس کا کوئ ہمسر اورنہ شریک ہے ۔ اور وہ اللہ عزوجل مخلوق کی مماثلت سے منزہ اورپاک ہے ، تو اللہ تعالی کے متعلق ابن آدم کے ذہن میں جو بھی آتا ہے وہ اس سے بھی اعظم اور بڑھ کر ہے ، اورمخلوق کے لۓ یہ ممکن ہی نہیں کہ وہ اللہ جل وعلا کا احاطہ کرسکے اوراس کی صورت کا خیال بھی ذہن میں لا سکے ۔

    اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے :

    { اورمخلوق کا علم اس پر حاوی نہیں ہوسکتا }

    اورپھراصل میں مسلمان تواس کا مکلف ہی نہیں کہ وہ اللہ تبارک وتعالی کا تخیل لاۓ اوریا اس کا تصورکرے ، بلکہ اس پر واجب تویہ ہے کہ وہ یہ عقیدہ رکھے کہ اللہ تعالی کی صفات علی اس طرح ہیں جس طرح کہ اس کی عظمت و جلال کےشایان شان اوراس کے لائق ہیں ان صفات میں اس کی کوئ مماثلت نہیں کرسکتا ۔

    اور مسلمانوں کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ دنیا میں اللہ تعالی کو نہیں دیکھا جا سکتا جیسا کہ اللہ سبحانہ وتعالی کا ارشاد ہے :

    { آنکھیں اس کا ادراک نہیں کرسکتیں } بلکہ اللہ تعالی کومومن لوگ آخرت میں میدان محشرکے اندر اوراسی طرح جنت میں بھی دیکھیں گے ۔

    حدیث میں وارد ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیاگیا کہ کیا آپ نے اپنے رب کودیکھا ہے ؟ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ میں نے نور دیکھا ، اوردوسری روایت میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نور کوکیسے دیکھ سکتاہوں ۔ صحیح مسلم ۔

    اوریہ اللہ تعالی کے اس قول کے موافق ہے جوکہ موسی علیہ السلام کو کہا تھا اور اس کا ذکر سورۃ اعراف میں موجود ہے { لن ترانی } تومجھے نہیں دیکھ سکتا " یعنی دنیا میں نہیں دیکھ سکتا ۔

    تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے علاوہ کسی نے بھی اللہ تعالی کواپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا ، توجب روزقیامت میدان محشر میں مومن لوگ اللہ تعالی کودیکھیں گے تو اللہ تعالی کی عظمت وجلال کی وجہ سے سجدہ میں گر پڑیں گے ، اور اسی طرح جنت میں سب سے بڑی اور عظیم نعمت اللہ تعالی کا دیدار ہوگا جو کہ اہل جنت کو مطلقا عطا کی جاۓ گی ۔

    تواس لۓ میرے بھائ آپ اللہ تعالی کو ان اسماء اور صفات سے پہچانیں جن کی خبر اللہ تعالی نے اپنی کتاب قرآن کریم میں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دی ہے ، اوراپنے آپ کو اس چیز کی طرف نہ لے جائيں جس کے آّّپ مکلف ہی نہیں اور جس کی آپ میں طاقت نہیں ، اور وہ کام کریں جن کا اللہ تعالی نے آپ کو حکم دیا ہے ، اور آپ شیطانی وسوسوں کوچھوڑ دیں اللہ تعالی آپ کو وہ کام کرنے کی توفیق عطا فرماۓ جس میں اس کی رضاہو ۔ آمین

    واللہ تعالی اعلم .
    الشیخ محمد صالح المنجد


    http://islamqa.info/ur/5468
     
  3. ‏دسمبر 05، 2014 #3
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,967
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    اللہ تعالى كي صفت نزول كا اثبات

    ميں نےايك حديث پڑھي جس ميں تھا كہ: " جب رات كي ايك تہائي حصہ باقي رہ جاتا ہے تو ہررات ہمارا رب تبارك وتعالى آسمان دنيا پر نزول فرماتا اور يہ كہتا ہے: كون ہے جو مجھے پكارے توميں اس كي دعا قبول كروں، اور كون ہے جو مجھ سےسوال كرے اورميں اسے عطا كروں، اور كون ہے جو مجھ سے بخشش طلب كرے توميں اسےبخش دوں؟ "
    1 - اس حديث كا صحت كےاعتبار سےكيا درجہ ہے؟
    2 - اس حديث كا معني كيا ہے ؟


    الحمد للہ :

    ميرےعزيز بھائي آپ كا سوال دو معاملات پر مشتمل ہے:

    اول:

    حديث كا درجہ صحت:

    يہ حديث صحيح ہے اوركتاب اللہ كےبعد صحيح ترين دوكتابوں ميں يہ بيان كي گئي ہے:

    ابوہريرہ رضي اللہ تعالي عنہ بيان كرتےہيں كہ رسول كريم صلي اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

    " ہررات ہمارا رب تبارك وتعالى رات كےآخري ايك تہائي حصہ ميں آسمان دنيا پر نزول فرماتا اور كہتا ہے: كون ہے جو مجھ سےدعا كرےاور ميں اس كي دعا قبول كروں، كون ہے جو مجھ سے مانگےاور ميں اسےعطا كروں، كون ہے جو مجھ سےبخشش طلب كرے اور ميں اسےبخش دوں " صحيح بخاري حديث نمبر ( 1145 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 1261 ).


    اس حديث كو تقريبا اٹھارہ صحابيوں نےنبي كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے روايت كيا ہے، اوراہل سنت كےہاں اس حديث كو قبوليت حاصل ہے،

    دوم:

    اللہ جل جلالہ كا آسمان دنيا پر نزول كا معني :

    ميرے بھائي اللہ تعالى آپ كو توفيق سےنوازے آپ كويہ علم ہونا چاہئے كہ رب جل جلالہ كا آسمان دنيا پر نازل ہونااللہ تعالي كي صفات فعليہ ميں سے ايك صفت ہے، جواس كي مشيئت اور حكمت سےمتعلق ہے، اور يہ نزول حقيقي نزول ہے جس طرح اللہ تعالى كي جلالت اور عظمت كےشايان شان ہے، اللہ تعالي جيسے چاہے اور جب چاہے نزول فرماتا ہے، اس كي مثل كوئي چيز نہيں اور وہ سننےوالا اورديكھنےوالا ہے.

    اس حديث كي معنوي تحريف كرنا صحيح نہيں كہ اس حديث كي يہ تفسير اور شرح كي جائے كہ نزول سےاللہ تعالى كا حكم اور امر يا اس كي رحمت يا كوئي فرشتہ مراد ہے يہ سب معاني كئي وجوہات كي بنا پر باطل ہيں:

    اول:

    يہ تاول حديث كےظاہر كےخلاف ہے، اس لئے كہ نبي كريم صلي اللہ عليہ وسلم نے نزول كي اضافت اللہ تعالي كي طرف كي ہے، اور اصل يہ ہےكہ كسي چيز كي اضافت اس كي طرف كي جاتي ہےجس سےاس كا وقوع ہو، يا اس كےساتھ قائم ہو، لھذا جب اسے كسي دوسرے كي جانب پھيرديا جائےتويہ تحريف ہوگي جواصل كےمخالف ہے.

    اور ہميں يہ علم ہے كہ رسول كريم صلي اللہ عليہ وسلم سب لوگوں سے زيادہ علم والےتھے، اور رسول كريم صلي اللہ عليہ وسلم سب سےزيادہ فصيح وبليغ تھے، اورجوخبريں ديتےاس ميں سب سےزيادہ سچےتھے، لھذا ان كي كلام ميں كوئي كسي قسم كا جھوٹ نہيں، اور نہ ہي يہ ممكن ہے كہ نبي كريم صلي اللہ عليہ وسلم اللہ تعالى پر كوئي بات كہيں نہ تواللہ تعالي كےاسماء ميں اور نہ ہي اس كي صفات اور اس كےافعال ميں اور نہ ہي اللہ تعالي كےاحكام ميں كوئي بات اپني طرف سے كہيں.

    اللہ سبحانہ وتعالي كا فرمان ہے:

    {اوراگريہ ہم پر كوئي بات بنا ليتا، توالبتہ ہم اس كا داہنا ہاتھ پكڑ ليتے پھر اس كي شہ رگ كاٹ ديتے} الحاقۃ ( 44 - 46 )


    اور پھر نبي صلى اللہ عليہ وسلم تو مخلوق كي ہدايت اور راہنمائي كے علاوہ كچھ نہيں چاہتے، لھذا جب نبي صلى اللہ عليہ وسلم نے يہ فرمايا: " ہمارا رب نزول فرماتا ہے"

    اگر كوئي شخص اس حديث كےظاہري الفاظ كےخلاف بات كرتا ہوا يہ كہے: اس سے اللہ تعالي كا حكم نزول ہے، توہم اسےكہيں گے كہ كيا تم رسول كريم صلي اللہ عليہ وسلم سےاللہ تعالي كےمتعلق زيادہ علم ركھتےہو؟ ! حالانكہ رسول كريم صلي اللہ عليہ وسلم توفرماتےہيں: " ہمارا رب نزول فرماتا ہے" اورتم يہ كہتےہو كہ اس كا حكم نازل ہوتا ہے، يا پھر امت كےلئے تم نبي كريم صلى اللہ عليہ وسلم سےزيادہ ناصح ہو كہ نبي صلي اللہ عليہ وسلم نےانہيں اس كےخلاف مخاطب كيا جووہ چاہتا تھا؟ !

    اوراس ميں كوئي شك نہيں كہ جوكوئي بھي لوگوں سےايسےمخاطب ہو جومراد كےخلاف ہو تو وہ ان كےلئےناصح نہيں، يا تم نبي صلي اللہ عليہ وسلم سے زيادہ فصيح ہو؟ ! اس ميں كوئي شك نہيں كہ يہ تحريف اس سےخالي نہيں كہ اس ميں نبي صلي اللہ عليہ وسلم كي تنقيص ہوتي ہے، جس پر كوئي بھي مسلمان نبي صلي اللہ عليہ وسلم كےمتعلق كبھي بھي راضي نہيں ہوسكتا.

    دوم:

    يہ كہ اللہ تعالي كےحكم يا رحمت كا نزول رات كےاس حصہ كےساتھ كوئي خاص نہيں بلكہ اس كاحكم اور رحمت دونوں ہروقت نازل ہوتےہيں، اگر بالفرض اس تقدير اورتاويل كو صحيح بھي تسليم كرليا جائےتو يہ حديث اس پر دلالت كرتي ہے كہ اس چيز كےنزول كي حد آسمان دنياہے، اور آسمان دنيا پر رحمت كےنزول كا ہميں كيا فائدہ جبكہ وہ ہم تك پہنچي ہي نہيں؟! حتي كہ نبي صلي اللہ عليہ وسلم اس كي ہميں خبر ديتے؟ !

    سوم:

    حديث اس پر دلالت كررہي ہے كہ نازل ہونےوالا يہ كہتاہے: كون ہے مجھ سےپكارنےوالا ميں اس كي دعا قبول كروں، كون ہے جومجھ سےسوال كرے ميں اسے عطا كروں، كون ہے جو مجھ سےبخشش مانگےاورميں اسے بخش دوں" اور يہ ممكن ہي نہيں كہ اللہ تعالي كےعلاوہ كوئي يہ كہے.

    ديكھيں: مجموع فتاوي ورسائل الشيخ محمد بن صالح الثيمين ( 1 / 203-215 ).

    واللہ اعلم .
    الاسلام سوال وجواب

    http://islamqa.info/ur/20081
     
    • پسند پسند x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  4. ‏دسمبر 05، 2014 #4
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,967
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    الحمدللہ

    کتاب وسنت اور امت کے سلف سے یہ ثابت ہے کہ اللہ تعالی اپنے آسمانوں کے اوپر اپنے عرش پر مستوی ہے اور وہ بلند و بالا اور ہر چیز کے اوپر ہے اس کے اوپر کوئی چیز نہیں ۔

    فرمان باری تعالی ہے :

    < اللہ تعالی وہ ہے جس نے آسمان وزمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان سب کو چھ دنوں میں پیدا کر دیا پھر عرش پر مستوی ہوا تمہارے لۓ اس کے سوا کوئی مدد گار اور سفارشی نہیں کیا پھر بھی تم نصیحت حاصل نہیں کرتے >

    ارشاد باری تعالی ہے :

    < بلاشبہ تمہارا رب اللہ ہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا پھر عرش پر مستوی ہوا وہ ہر کام کی تدبیر کرتا ہے >

    < تمام تر ستھرے کلمات اسی کی طرف چڑھتے ہیں اور نیک عمل کو بلند کرتا ہے >

    فرمان باری تعالی ہے :

    وہی پہلے ہے اور وہی پیچھے ، وہی ظاہر ہے اور وہی مخفی ہے >

    نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :

    ( اور ظاہر ہے تیرے اوپر کوئی چیز نہیں )

    اس معنی میں آیات اور احادیث ہیں اس کے باوجود اللہ تعالی نے خبر دی ہے کہ وہ اپنے بندوں کے ساتھ ہے وہ جہاں بھی ہوں ۔

    فرمان باری تعالی ہے :

    < کیا آپ نے دیکھا نہیں کہ اللہ تعالی آسمانوں اور زمین کی ہر چیز سے واقف ہے تین آدمیوں کی سرگوشی نہیں ہوتی مگر اللہ ان کا چوتھا ہوتا ہے اور نہ ہی پانچ کی مگر وہ ان کا چھٹا ہوتا ہے اور نہ اس سے کم اور نہ زیادہ کی مگر وہ جہاں بھی ہوں وہ ساتھ ہوتا ہے >

    بلکہ اللہ تعالی نے اپنے عرش پر بلند ہونے اور بندوں کے ساتھ اپنی معیت کو ایک ہی آیت میں اکٹھا ذکر کیا ہے ۔ فرمان بار تعالی ہے:

    < وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا پھر عرش پر مستوی ہو گیا وہ اس چیز کو جانتا ہے جو زمین میں جائے اور جو اس سے نکلے اور جو آسمان سے نیچے آۓ اور جو کچھ چڑھ کر اس میں جائے اور جہاں کہیں بھی تم ہو وہ تمہارے ساتھ ہے >

    تو اس کا یہ معنی نہیں ہے کہ وہ مخلوق کے ساتھ خلط ملط ہے بلکہ وہ اپنے بندوں کے ساتھ علم کے اعتبار سے ہے اور اس کے عرش پر ہونے کے باوجود ان کے اعمال میں سے اس پر کوئی چیز مخفی نہیں ۔

    اللہ تعالی کا یہ فرمان کہ :

    < اور ہم اس کی رگ جان سے بھی زیادہ قریب ہیں >

    تو اکثر مفسرین نے اس کی تفسیر میں یہ کہا ہے کہ : اللہ تعالی کا یہ قریب ان فرشتوں کے ساتھ ہے جن کے ذمہ ان کے اعمال کی حفاظت لگائی گئ ہے اور جس نے اس کی تفسیر اللہ تعالی کہ قرب کی ہے وہ اس اللہ تعالی کے علم کے ساتھ قریب ہے جس طرح کی معیت میں ہے ۔

    اہل سنت والجماعت کا مذہب یہ ہے کہ وہ اللہ تعالی کو اس کی مخلوق پر بلندی اور معیت کو ثابت کرتے ہیں اور مخلوق میں حلول سے اللہ تعالی کو پاک قرار دیتے ہیں ۔ لیکن معطلۃ یعنی جہمیہ اور ان کے پیروکار اللہ تعالی کی مخلوق پر اس کے علو اور اس کے عرش پر مستوی ہونے کا انکار کرتے اور وہ یہ کہتے کہ اللہ تعالی ہر جگہ پر ہے ۔

    ہم اللہ تعالی سے مسلمانوں کی ہدایت کے طلبگار ہیں ۔ .

    الشیخ عبدالرحمن البراک

    http://islamqa.info/ur/11035
     
    • پسند پسند x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  5. ‏دسمبر 05، 2014 #5
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,967
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

  6. ‏دسمبر 05، 2014 #6
    ابن قدامہ

    ابن قدامہ مشہور رکن
    جگہ:
    درب التبانة
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2014
    پیغامات:
    1,772
    موصول شکریہ جات:
    421
    تمغے کے پوائنٹ:
    198

    دیوبندی نے وعلماء سلف کے اقوال بھی درج کیے ہیں
    علامہ قرطبی رحمہ الله تعالیٰ نے کیا خوب فرمایا ( صفات متشابہات) میں تاؤیل سے پہلوتہی اختیار کرکے الفاظ کے ظاہری معنی کے درپے ہو جانے کا مطلب تو یہ ہوا کہ قرآن کریم کی آیات تضادبیانی کا شکار ہیں۔ (وقد جمع فی ھذہ الأیة بین ”استوی العرش“ وبین ”ھو معکم“ ، والأخذ بالظاھر من تناقض، فدل علی انہ لا بدمن التاویل، والإعراض عن التاویل اعتراف بالتناقض)․ (احکام القرآن اللقرطبی) کیوں کہ صفات متشابہات کے ظاہری معنی مراد لینے سے قرآن کی کئی آیات تضادوتناقض کا شکار ہوتی نظر آتی ہیں مثلاً:﴿ ثُمَّ اسْتَوَی عَلَی الْعَرْش﴾․ (اعراف:54) اور ﴿وَہُوَ الْقَاہِرُ فَوْقَ
    عِبَادِہِ﴾․ (الأنعام:18) کا ظاہری معنی یہ ہوا کہ الله تعالیٰ حسی طور پر عرش پر بیٹھے ہیں او رجہت فوق میں ہیں ۔لیکن مندرجہ ذیل آیتوں کے ظاہری معنی سے معلوم ہوتا ہے کہ الله تعالیٰ کی ذات گرامی عرش پر نہیں، بلکہ اپنے بندوں کے ساتھ ہے۔ ﴿وَقَالَ اللّہُ إِنِّیْ مَعَکُمْ﴾․ (المائدہ:11)﴿وَہُوَ مَعَکُمْ أَیْْنَ مَا کُنتُمْ﴾․(الحدید:4) ﴿إِنَّنِیْ مَعَکُمَا أَسْمَعُ وَأَرَی﴾․(طہ:46) ﴿أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّہَ یَعْلَمُ مَا فِیْ السَّمَاوَاتِ وَمَا فِیْ الْأَرْضِ مَا یَکُونُ مِن نَّجْوَی ثَلَاثَةٍ إِلَّا ہُوَ رَابِعُہُمْ وَلَا خَمْسَةٍ إِلَّا ہُوَ
    سَادِسُہُمْ وَلَا أَدْنَی مِن ذَلِکَ وَلَا أَکْثَرَ إِلَّا ہُوَ مَعَہُمْ أَیْْنَ مَا کَانُوا﴾․(المجادلہ:7)

    نیز امام مالک رحمہ الله تعالیٰ کا استوا کے متعلق صحیح قول وہ ہے جو سند صحیح کے ساتھ علامہ ابن حجر رحمہ الله نے فتح الباری․ (واخرج البیہقی بسند جید عن عبدالله بن وھب، قال: کنا عند مالک، فدخل رجل فقال: یا أبا عبدالله ﴿الرحمن علی العرش استوی﴾ کیف استوی؟ فاطرق مالک فأخذتہ الرحضاء ثم رفع راسہ، فقال: الرحمن علی العرش استوی، کما وصف بہ نفسہ، ولایقال کیف وکیف عنہ مرفوع․فتح الباری لابن حجر، باب وکان عرشہ علی الماء:494/20) اور علامہ بیہقی رحمہ الله تعالیٰ نے کتاب الاسماء والصفات․(کتاب الاسماء والصفات للبیہقی، ص:408) میں نقل کیا ہے کہ ” الله تعالیٰ عرش پر ایسا
    ہی مستوی ہے جیسے خود آیت کریمہ میں بیان فرمایا ہے ﴿الرحمن علی العرش استوی﴾ یعنی صرف صفت استوی کی نسبت باری تعالیٰ کے لیے ثابت کرکے اسے متشابہہ المعنی قرار دیا۔

    لہٰذا امام مالک رحمہ الله کے ایک معروف او رمستند قول کو نظر انداز کرکے ایک غیر معروف اور مبہم قول سے اپنے مطلب کا مفہوم اخذ کرنا خود فریبی کے سوا کچھ نہیں۔
     
  7. ‏دسمبر 05، 2014 #7
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,967
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

  8. ‏دسمبر 05، 2014 #8
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,763
    موصول شکریہ جات:
    8,333
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    اس میں پریشانی والی کوئی بات نہیں ۔
    حضرات دیوبند اور مسائل صفات میں ان جیسا موقف رکھنے والوں کی مصیبت یہ ہے کہ ’’ فلسفے اور منطق ‘‘ کے قواعد کو حتمی و قطعی مان لیتے ہیں ، ان کا انکار کرنے کی بجائے قرآن آیات اور احادیث کو تختہ مشق بناکر ’’ توڑ پھوڑ ‘‘ یعنی تاویلات شروع کردیتے ہیں ۔ ہم کہتے ہیں ’’ قرآنی آیات اور احادیث ‘‘ کا تقدس ذہن میں پختہ کریں اور پھر اس فلسفہ و منطق کو اس پر پیش کرنے کی مشق کریں ، ان شاءاللہ تمام چیزیں ’’ عقل سلیم ‘‘ میں آجائیں گی ۔
    اور محترم بھائی آپ درج ذیل دھاگے کا مطالعہ کریں جن میں ان مسائل کو عام فہم انداز میں بیان کرنے کی کوشش کی گئی ہے ، پھر اس مضمون کو پڑھیں امید ہے درست بات میں فرق کرسکیں گے اور یہ بھی معلوم ہو گا کہ قرآن و سنت اور سلف صالحین کے مطابق و موافق کون سا موقف ہے :
    http://forum.mohaddis.com/threads/عقائد-میں-تأویل-،-تفویض-،-اہل-سنت-کا-موقف.17913/
    اسی طرح صفات کے بارے میں ائمہ اربعہ کا موقف کیا تھا ،جاننے کے لیے یہ مضمون مطالعہ فرمائیں :
    http://forum.mohaddis.com/threads/کیا-صفاتِ-الٰہیہ-میں-ائمہ-اربعہ-’مفوضہ‘-ہیں؟.596/
     
    • پسند پسند x 2
    • زبردست زبردست x 2
    • لسٹ
  9. ‏دسمبر 05، 2014 #9
    ابن قدامہ

    ابن قدامہ مشہور رکن
    جگہ:
    درب التبانة
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2014
    پیغامات:
    1,772
    موصول شکریہ جات:
    421
    تمغے کے پوائنٹ:
    198

    ان لوگوں سے پوچھو تو یہ کہتے ہیں کہ ہم اللہ کو عرش پر ماتنے ہیں۔پر جہت اور مکان سے پاک کہتے ہیں
    اور مسلم کی حدیث پر اس نے جو اعتراض کیے ہیں اس کا جواب کوئی احل علم دے مثلا کفایت اللہ
     
  10. ‏دسمبر 05، 2014 #10
    ابن قدامہ

    ابن قدامہ مشہور رکن
    جگہ:
    درب التبانة
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2014
    پیغامات:
    1,772
    موصول شکریہ جات:
    421
    تمغے کے پوائنٹ:
    198

     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں