1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کیا لفظ امام کلمہ توثیق ہے؟ ؟

'اصول حدیث' میں موضوعات آغاز کردہ از انصاری نازل نعمان, ‏جولائی 04، 2015۔

  1. ‏جون 30، 2017 #41
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,344
    موصول شکریہ جات:
    1,076
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    یہ لنک بھی فائدے سے خالی نہیں.
     
  2. ‏جون 30، 2017 #42
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,684
    موصول شکریہ جات:
    738
    تمغے کے پوائنٹ:
    290

    جی عمر بھائی جرح موجود ہے۔ لیکن عابد ہونے کا علمی معاملات سے تعلق نہیں ہے۔ بہت بڑا عابد ہونا تعدیل ہو سکتی ہے کہ یہ شخص عادل ہے اور جان بوجھ کر جھوٹ نہیں بولتا لیکن توثیق نہیں ہو سکتی کہ یہ ثقہ بھی ہے اور بھولتا بھی نہیں ہے۔
     
  3. ‏جولائی 01، 2017 #43
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,684
    موصول شکریہ جات:
    738
    تمغے کے پوائنٹ:
    290

    لفظ فقیہ کا بھی معاملہ کچھ عابد جیسا ہی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ یہ شخص تفقہ کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اگر مطلقاً بغیر کسی جرح کے فقیہ کہا جائے تو یہ ظاہراً تعریف ہوگی کہ یہ شخص قرآن و حدیث سے استنباط میں ماہر ہے۔ لیکن چونکہ یہ ضروری نہیں کہ اسے قرآن یا حدیث یاد بھی ہیں بلکہ ممکن ہے کہ یہ تحریر سے دیکھ کر استنباط کر سکتا ہو اس لیے جب اس کے ساتھ ضعف کی جرح جمع ہوگی تو اس کا واضح مطلب یہ ہوگا کہ اس شخص میں تفقہ کی صلاحیت تو ہے لیکن حفظ نہیں۔ اور اگر کذب کی جرح ہو تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اس میں تفقہ کی صلاحیت ہے لیکن یہ عادل نہیں ہے بلکہ جھوٹا ہے۔
    اور جب کہیں اس "فقیہ" کے ساتھ مبالغے کے الفاظ ذکر ہوں تو اسی مبالغے کے بقدر اس کی تعریف بڑھ جائے گی۔
    بعد کے زمانے میں فقیہ کا مطلب علم فقہ میں مہارت بھی لیا گیا ہے۔

    لفظ "امام" کا مطلب ہے جس کی اتباع اور اقتداء کی جائے۔ علامہ راغب اصفہانیؒ فرماتے ہیں:
    وفي إطلاق الشرع اسم للمقتدي به، المقتدي بالشرع۔۔۔
    (1۔309، ط: كلية الآداب - جامعة طنطا)
    "اور شریعت کے اطلاق میں اس کا نام ہے جس کی اقتداء کی جائے اور وہ شریعت کی پیروی کرنے والا ہو۔"
    اس کے علاوہ قرآن کریم میں کم از کم دو جگہ اس لفظ کو تعریف کے لیے لایا گیا ہے:
    انی جاعلک للناس اماما
    و اجعلنا للمتقین اماما
    ان دونوں جگہوں میں عموماً اور پہلے مقام پر خصوصاً یہ اعلی درجے کی تعریف ہے۔ یعنی ایسا بلیغ لفظ ہے کہ قرآن نے آگے اس کی وضاحت کرنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی۔

    اس سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ لفظ "امام" کے دو معنی ہیں۔ ایک لغوی معنی ہے یعنی "جس کی اتباع کی جائے"۔ قطع نظر اس کے کہ وہ اتباع اچھائی میں ہو یا برائی میں۔ برائی کے لیے بھی قرآن کریم میں مذکور ہے: و جعلناہم ائمۃ یہدون الی النار۔ اور دوسرا معنی اصطلاح شرع کا ہے جس کے مطابق یہ تعریف ہے اور نہ صرف تعریف بلکہ بسا اوقات اعلی درجے کی تعریف بھی ہوتی ہے۔
    جب محدثین کرام بغیر کسی جرح کے کسی شخص کو "امام" کہتے ہیں یا توثیق کے ساتھ امام کہتے ہیں تو یہ لغوی معنی کا مقام ہی نہیں ہوتا۔
    ایک شخص مثلاً زید کو بغیر جرح یا تعدیل کے "امام" کہا جائے اور اس کے لغوی معنی لیے جائیں تو اس کے دو مطالب ہوں گے:
    1۔ زید اچھائی میں مقتدا ہے۔
    2۔ زید برائی میں مقتدا ہے۔
    اور جب تک کوئی خاص ضرورت نہ ہو ایسی کوئی بات کرنا جس کے دو اس قدر متضاد معانی ہوں علماء کے کلام میں ہر زبان میں عار سمجھا جاتا ہے۔ مختصر المعانی اور دیگر بلاغت کی کتب میں مقتضی حال کی تفصیل دیکھی جا سکتی ہے۔ (اسے تعقید کہا جاتا ہے کما فی دروس البلاغۃ)
    اس لیے یہ اصطلاحی معنی کا مقام ہے جو کہ تعریف اور مدح ہے۔
    پھر علم حدیث میں ہم دو چیزیں دیکھتے ہیں: عدالت اور ثقاہت۔ اور جب کسی کو تعریف کرتے وقت امام یعنی مقتدا کہا جاتا ہے تو عدالت تو ظاہر ہوتی ہی ہے ورنہ یہ اصطلاحی معنی کے مطابق تعریف ہی نہ رہے، ثقاہت بھی اس لفظ میں ضمناً موجود ہوتی ہے کیوں کہ جس شخص کو کسی فن میں امام کہا گیا ہو اگر وہ اس فن میں ضعیف الحفظ اور اور بھلکڑ ہو تو وہ لوگوں کو غلط سمت لے جائے گا اور اس طرح بھی یہ تعریف نہیں رہے گی۔

    البتہ جب محدثین کسی شخص کو جرح کے ساتھ امام کہتے ہیں اس وقت یہ لغوی معنی کا مقام ہوتا ہے کیوں کہ اس وقت اصطلاحی معنی لینے سے کلام میں تضاد پیدا ہو جاتا ہے کہ ایک جانب ایسی تعریف ہو اور دوسری جانب تنقیص۔ چنانچہ اس صورت میں اس کا لغوی معنی مراد ہوتا ہے۔

    یہاں یہ یاد رکھا جائے کہ یہ عین ممکن ہے کہ ایک شخص ایک فن میں امام ہو اور دوسرے فن میں ضعیف۔ انہیں گڈ مڈ نہ کیا جائے۔ (مثلاً یہ ممکن ہے کہ امام اعظم ابو حنیفہؒ فقہ میں بے نظیر ہوں لیکن روایت حدیث میں کمزور ہوں کیوں کہ انہوں نے اس پر محنت ہی نہ کی ہو۔ (یہاں میں نے روایت کی بات کی ہے حفظ کی نہیں۔ اسے نوٹ رکھا جائے!))
    ہذا ما ظہر لی۔ و اللہ اعلم
     
  4. ‏جولائی 01، 2017 #44
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,344
    موصول شکریہ جات:
    1,076
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    محترم @اشماریہ بھائی!
    یہی تو آپکو بتایا جا رہا ہے. محترم شیخ @ابن داود حفظہ اللہ نے یہی لکھا:
     
  5. ‏جولائی 01، 2017 #45
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,684
    موصول شکریہ جات:
    738
    تمغے کے پوائنٹ:
    290

    محترم عمر بھائی! ابن داود بھائی دراصل اس بات سے ہی اتفاق نہیں کر سکتے کہ لفظ امام بذات خود کلمہ توثیق ہو سکتا ہے اگر جرح موجود نہ ہو۔
    ہمارا اختلاف اس پر ہے۔
    باقی جس پر ساتھ میں ضعف کی جرح موجود ہے اس کے بارے میں تو میں ابن داود بھائی سے متفق ہوں کہ وہاں لفظ امام کلمہ توثیق نہیں ہے۔
     
    Last edited: ‏جولائی 01، 2017
  6. ‏جولائی 01، 2017 #46
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,684
    موصول شکریہ جات:
    738
    تمغے کے پوائنٹ:
    290

    رہی بات عمر ابن ہارون کی تو مجھے اس میں میں تھوڑا سا یہ اختلاف ہے کہ اس میں "علی ضعف" کی تنوین تقلیل کے لیے ہے اور ضعفہ میں اضافت عہد کی ہے جس کا معہود ماقبل تقلیل ہے۔
    اس کا مطلب یہ ہے کہ عمر بن ہارون میں تمام صفات کے ساتھ تھوڑا سا ضعف بھی تھا اور اس تھوڑے سے ضعف میں شبہ نہیں ہے۔
     
    Last edited: ‏جولائی 01، 2017
  7. ‏جولائی 01، 2017 #47
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,730
    موصول شکریہ جات:
    8,322
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    اہم بات یہ ہے کہ جب لفظ ’ امام ‘ توثیق اور تجریح دونوں کے ساتھ جمع ہوسکتا ہے ، تو ہمیں اسے ثقاہت یا جرح میں سے کسی ایک معنی میں لینے پر اصرار نہیں ہونا چاہیے ۔
    ویسے یہ بہت بعید ہے کہ ایک شخص ’ امام ‘ بھی ہو ، اور اس کے متعلق جرح یا تعدیل میں سے کچھ بھی منقول نہ ہو کہ ہم لفظ امام سے توثیق یا تجریح کا استدلال کرنے پر مجبور ہوجائیں ۔
     
    • متفق متفق x 2
    • غیرمتفق غیرمتفق x 1
    • لسٹ
  8. ‏جولائی 01، 2017 #48
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,684
    موصول شکریہ جات:
    738
    تمغے کے پوائنٹ:
    290

    شاید یہ پوسٹ آپ کی نظر سے رہ گئی.
     
  9. ‏جولائی 02، 2017 #49
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,730
    موصول شکریہ جات:
    8,322
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    جی میں نے یہ پوسٹ پڑھی ہے ، اس کے باوجود میری وہی رائے ہے ۔ بلکہ امام کے اسی معنی و مفہوم کے پیش نظر میں یہ سمجھتا ہوں ، یہ ہونا بہت بعید ہے کہ کوئی شخص امامت کے درجہ پر فائز ہو ، اور پھر اس کے حق میں جرح یا تعدیل میں سے کچھ بھی منقول نہ ہو ۔
     
    • متفق متفق x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  10. ‏جولائی 02، 2017 #50
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,684
    موصول شکریہ جات:
    738
    تمغے کے پوائنٹ:
    290

    منقول تو ہوتا ہے لیکن بسا اوقات جس محدث نے امام کہا ہو اس سے منقول نہیں ہوتا یا کم از کم اسی جگہ منقول نہیں ہوتا دوسری کتاب میں ہوتا ہے.
    بہرحال آپ کی بات درست ہے. جزاک اللہ خیرا.
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں