مغربی جمہوریت ہو تو وہ واضح طور پر کفر ہے اگر اسلامی جمہوریت ہو تو وہ مکروہ ہے
حافظ محمد عبد اللہ بہاولپوری فرماتے ہیں:
"حقیقت یہ ہے کہ جمہوریت نہ کل اسلام ہے نہ اسلام کا جزو بلکہ اسلام کا غیر اور اس کی ضد ہے کیوں کہ اسلام ایک دین ہے اور جمہوریت لادینیت ہے۔ جمہوریت چاہتی ہے کہ اللہ کا کوئی تصور نہ ہو حاکمیت عوام کی ہو۔ اسلام چاہتا ہے کہ حاکمیت اللہ کی ہو اللہ کے سوا کسی کی نہ چلے۔ اگر کوئی کہے کہ جمہوریت کا یہ تصور تو مغرب کا تصور ہے۔ اسلامی جمہوریت کا یہ تصور نہیں تو اس سے کہا جا سکتا ہے کہ جب جمہوریت کوئی اسلامی چیز ہی نہیں تو اس کا کوئی اسلامی تصور کیسے ہو سکتا ہے۔ جمہوریت مغرب کا نظام ہے اور مغرب کا تصور ہی اس کا اصل قصور ہے۔ رہ گیا آج کل کے مسلمانوں کا جمہوریت کو اسلامی کہنا تو ان کے کہنے سے جمہوریت اسلامی نہیں ہو سکتی۔ کفر کو کوئی کتنا بھی اسلامی کہے کفر اسلامی نہیں ہو سکتا کفر تو کفر ہی رہتا ہے۔ کافر مسلمان ہو جائے تو ہو جائے کفر کبھی اسلام نہیں ہوتا۔"
[رسائل بہاولپوری، صفحہ: ٤٣٦]