ایک سے زائد شادی میں اصل اباحت نہیں استحباب ہے ۔ اس کے بہت سارے دلائل قرآن وسنت میں موجودہیں ۔اس لیے زیادہ شادیاں کرناکوئی قانون نہیں بلکہ استثنا ہے۔ بہت سے لوگ یہ غلط نظریہ رکھتے ہیں کہ یہ ضروری ہے کہ ایک مسلمان ایک سے زیادہ بیویاں رکھے۔حلّت و حرمت کے اعتبار سے اسلامی احکام کی پانچ اقسام ہیں٭ فرض: یہ لازمی ہے اور اس کا نہ کرنا باعث سزا و عذاب ہے۔٭ مستحب: اس کا حکم دیا گیا ہے اور اس پر عمل کی ترغیب دی گئی ہے۔٭ مباح: یہ جائز ہے، یعنی اس کی اجازت دی گئی ہے۔ اس کا کرنا یا نہ کرنا برابر ہے۔٭ مکروہ: یہ اچھاکام نہیں، اس پر عمل کرنے کی حوصلہ شکنی کی گئی ہے۔٭ حرام: اس سے منع کیا گیا ہے، یعنی اس پر عمل کرنا حرام ہے اور اس کا چھوڑنا باعثِ ثواب ہے۔ایک سے زیادہ شادیاں کرنا مذکورہ احکام کے درمیانے درجے میں ہے۔ اس کی اجازت ہے لیکن یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ایک مسلمان جس کی دو، تین یا چار بیویاں ہیں، اُس سے بہتر ہے جس کی صرف ایک بیوی ہے۔
ضروری نہیں ہے ۔ لیکن ان دونوں صورتوں کے سوا تیسری کوئی صورت بہت کم ہے ۔ والقلیل کالمعدوم ۔ أو ۔ للأکثر حکم الکل ۔ضروری نہیں کہ جو عورت شادی نہ کرے وہ پبلک پراپرٹی ہی بنے ۔
سرفراز فیضی بھائی ! اس طرح کے موضوعات پر لکھتے رہا کریں ۔ اس کی بہت ضرورت ہے ۔ایک سے زائد شادی میں اصل اباحت نہیں استحباب ہے ۔ اس کے بہت سارے دلائل قرآن وسنت میں موجودہیں ۔
لیکن مسلمان عورت کے بارے میں بات کررہے ہیں تو حسن ظن والی بات کرنی چاہیے ۔ پھر اس بات کو بیان کرنے کا دوسرا انداز بھی ہوسکتاہے ۔ضروری نہیں ہے ۔ لیکن ان دونوں صورتوں کے سوا تیسری کوئی صورت بہت کم ہے ۔ والقلیل کالمعدوم ۔ أو ۔ للأکثر حکم الکل ۔
دعا کریں کی عملا کامیابی مل جائے تو قولا بات میں اثر بھی پیدا ہوجائے گا ان شاء اللہ ۔سرفراز فیضی بھائی ! اس طرح کے موضوعات پر لکھتے رہا کریں ۔ اس کی بہت ضرورت ہے ۔