- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,588
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
حدیث قدسی
اس منفرد حدیث کے الفاظ آپ ﷺ خود ادا فرماتے ہیں مگران کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف فرما دیتے ہیں۔ جس کی وجہ سے انہیں احادیث قدسیہ کہا جاتا ہے۔ مثلاً آپ ﷺ فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
یَاعِبَادِیْ إِنِّی حَرَّمْتُ الظُّلْمَ عَلَی نَفْسِیْ وَجَعَلْتُہُ بَیْنَکُمْ مُحَرَّماً فَلاَ تَظَالَمُوْا۔ الحدیث۔(مسلم : ۲۵۷۷) اے میرے بندو! میں نے اپنے اوپر ظلم کو حرام کر دیا ہے اور تمہارے درمیان بھی۔ لہٰذا تم ایک دوسرے پر ظلم نہ کرنا۔
حدیث نبوی اور حدیث قدسی:
احادیث قدسیہ اور احادیث نبویہ دونوں کے الفاظ نبی ﷺ کے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے :
… حدیث نبوی کی نسبت آپ ﷺ کی طرف ہے اور قدسی کی قدس کی طرف۔ مگر پھر بھی دونوں کا مقام ایک ہے خواہ حدیث قدسی کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف ہی کیوں نہ ہو۔ یہ نسبت اسے قرآن کا مرتبہ عطا نہیں کر سکتی۔
… جس طرح حدیث نبوی صحیح، حسن یاضعیف و موضوع ہوتی ہے اسی طرح حدیث قدسی بھی ہوتی ہے۔
قرآن اور حدیث قدسی:
… قرآن مجید لفظاً ومعناً اللہ عزوجل کی طرف سے ہے۔ حدیث قدسی کے لفظ رسول کے ہیں مگر معنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے۔ دونوں کے اسلوب میں بہت مماثلت ہے نیز حدیث قدسی کی معنوی روایت ہو سکتی ہے مگر قرآن کی نہیں۔ معنوی روایت اگر قرآن کریم کو چاہئے ہوتی تو یہ کام بھی اللہ تعالیٰ فرما دیتے لیکن پھر وہ کلام اللہ باقی نہیں رہتا اور اس میں تبدیلی اور تحریف کا دروازہ کھلتا ہے۔
… قرآن مجید میں چیلنج دیا گیا کہ اس جیسی کوئی کتاب، سورت یا ایک آیت گھڑ لاؤ۔ جب کہ حدیث قدسی میں ایسا نہیں ۔ یوں حدیث نبوی اور حدیث قدسی برابر ٹھہریں۔
… قرآن کی تلاوت عبادت ہے اورنمازکا اہم رکن بھی۔ جس کے بغیر نماز نہیں ہوتی۔ حدیث قدسی کا معاملہ حدیث نبوی کی طرح ہے اس کا پڑھنا باعث ثواب تو ہے مگر نماز میں وہ پڑھی جائے تو نماز باطل ہو جائے گی۔
… حدیث قدسی کو بیان کرنے میں جناب رسالت مآب ﷺ نے اپنا ایک اسلوب اپنایا جیسے دیگر انبیاء کرام کی گفتگو یا دعاؤں کے اسلوب کا ذکر اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں کیا ہے۔
اصول:
احادیث کی یہ مختلف اقسام ارشاد الٰہی کے مطابق أسوۃ حسنۃ قرار پائیں جن کی پابندی کا اہل اسلام کو حکم دیا گیا۔ اس لئے آپ ﷺ کے مقابلے میں کوئی مثالی نمونہ اللہ تعالیٰ نے پیش نہیں کیا۔ خواہ وہ انبیاء کرام ہوں یا کوئی کتاب ہو یا کوئی بزرگ شخصیت ہو
حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم - حقیقت، اعتراضات اور تجزیہ
Last edited: