• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

لفظ خدا کا استعمال

مقبول احمد سلفی

سینئر رکن
شمولیت
نومبر 30، 2013
پیغامات
1,400
ری ایکشن اسکور
502
پوائنٹ
209
لفظ خدا نہ تو اللہ کا ذاتی نام ہے اور نہ ہی صفاتی ، یہ لفظ شریعت میں کہیں بھی وارد نہیں ۔برصغیر اور فارس میں اکثر لوگ اور علماء طبقہ اللہ تعالی کے لئے اس لفظ کا استعمال کرتے ہیں جبکہ یہ فارسی لفظ ہے اور فارسی میں یہ لفظ غیراللہ کے لئے استعمال کیا جاتا ہے مثلا بیوی اپنے شوہر کو مجازی خدا کہتی ہے، کشتی کے ملاح کو ناخدا کہتے ہیں ، شعراء و ادباء کو خدائے سخن کہا جاتا ہے ۔

اور خرابی کا سب سے بڑا پہلو یہ ہے کہ مجوسیوں کے عقیدہ کے مطابق دو خدا ہیں ایک ہزداں(اچھائی کا خدا) اور دوسرا اہرمن (برائی کا خدا) ۔ اور اللہ تعالی ان تما م عبوب و نقائص اور کسی کی ادنی شرکت سے بھی پاک و بری ہے ۔

لفظ خدا موجودہ دور میں اتنا عام ہو گیا ہے کہ اگر لوگوں کو لفظ خدا کی نفی کے بارے میں کہا جائے تو اکثر لوگ یہ کہتے ہیں کہ اتنے بڑے بڑے علماء بھی تو خدا کہتے ہیں اور کتابوں میں لکھتے ہیں تو کیا یہ غلط ہیں .....؟

لفظ خدا نہ قرآن میں ہے اور نہ کسی بھی حدیث کی کتاب میں ہے تو ہم مسلمانوں کو کیا مجبوری ہے کہ ہم آتش پرستوں والا نام خدا اپنے اللہ کے لئے بولیں اور لکھیں اور یہ دین میں اضافہ بھی ہے،بھلے لفظ خدا کئی سالوں سے بولا جاتا رہا ہو، کیونکہ لفظ خدا نہ قرآن میں ہے نہ نبی پاک ﷺ نے فرمایا ہے،نہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے استعمال کیا،نہ تابعین نے اور نہ سلف صالحین نے لفظ خدا استعمال کیا،اس لئے دین میں اضافہ ہے، اور اللہ کے ذاتی نام کو چھوڑ کر غیر اللہ کے نام کا استعمال ہے، جو کہ سراسر ظلم اور زیادتی ہے۔

کئی لوگ کہتے ہیں کہ خدا پہچان کے طور پر بولا جاتا ہے جیسے: گوڈ وغیرہ .

تو عرض ہے کہ جو مسلمان ہے اس کو لفظ۔ اللہ۔ کی پہچان بہت خوب ہو تی ہے کیونکہ نماز اور تلاوت قرآن کے دوران کتنی دفعہ اللہ کو یاد کیا جاتا ہے۔ مسلمان بھلے ملک فارس کا ہو یا انگریز، ہر زبان اور نسل کا مسلمان خوب جانتا ہے،کہ ہمارے خالق حقیقی کا نام اللہ ہے۔ بس یہ کچھ لوگوں کی بناوٹی باتیں اور حیلے بہانے ہوتے ہیں کہ قرآن اور صحیح احادیث کے دلائل ہو تے ہوئے بھی صحیح بات کو نہیں مانتے اور پھر غلط بات پر غلط دلائل دے کر اڑے رہتے سوائے ان لوگوں کے جن کو اللہ تعالی نے ہدایت اور سمجھ دی ہو ان کے لئے قرآن کی صرف ایک آیت ہی دلیل کے لئے کافی ہے۔

آئیے اس کو مزید سمجھنے کے لئے قرآن کریم کی آیت دیکھتے ہیں۔اللہ تعالی کا فرمان ہے :

٭"اور اچھے اچھے نام اللہ ہی کے لئے ہیں،پس ان ناموں سے اللہ ہی کو موسوم کیا کرو،اور ایسے لوگوں سے تعلق بھی نہ رکھو جو اس کے ناموں میں کج روی کرتے ہیں ان لوگوں کو ان کے کیے کی ضرور سزا ملے گی"۔ (اعراف: 180)

ایک دوسری جگہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے :

٭"کہہ دیجئے کہ اللہ کو اللہ کہہ کر پکارو یا رحمن کہہ کر، جس نام سے پکارو تمام اچھے نام اس کے ہیں" ... (بنی اسرائیل / اسراء: 110)


ان دونوں قرآنی آیتوں میں اللہ کے ذاتی اور صفاتی ناموں سے پکارنے کا حکم دیا گیا ہے،اور اللہ کے ناموں میں کج روی کرنے والوں کے لئے سزا ہے بلکہ اللہ کے پاک ناموں میں کج روی کرنے والوں سے لا تعلقی کا حکم دیا گیا ہے۔

اس سلسلہ میں ایک اور نقطے پہ غور فرمائیں:

٭ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ ملک فارس سے مدینہ طیبہ گئے تھے۔ اس وقت بھی فارس میں خدا تھے اور اور اپنے معبود کے لئے وہ لوگ یہی لفظ خدا ہی بولا کرتے تھے، اس کے باوجود بھی حضرت سلمان رضی اللہ عنہ نے کبھی بھی اپنے خالق حقیقی کے لئے لفظ۔ خدا۔ استعمال نہ کیا۔

اگر لفظ خدا کہنا صحیح ہوتا تو حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ اس لفظ کو ضرور کہتے مگر قربان جائیں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی ذات و ایمان پر کہ امام کائنات محمد رسول اللہ ﷺ نے جو فرما دیا وہی ان کا ایمان و عمل بن گیا۔ انہوں نے اپنی طرف سے کو ئی نہ اضافہ کیا اور اضافہ کو نامناسب سمجھا،اس سے بھی واضح ہوتا ہے کہ یہ بعد کی پیداوار ہے۔

اس کے بعد اب ہمیں یہ سمجھنے میں قطعی دشواری نہیں کہ ہم غیر اللہ کے ناموں سے پرہیز کریں تاکہ اللہ کی سزا سے بھی بچ سکیں۔اوراس بات کو اچھی طرح ذہن نشیں کرلیں کہ اللہ ہمارے رب کا ذاتی ہے اور اس کے علاوہ بے شمار صفاتی نام قرآن وحدیث میں وارد ہوئے ہیں ، اس لئے خود بھی لفظ خدا اپنی زبانوں سے ختم کریں اور جو بھی کوئی آپ کے سامنے خدا بولے اس کو بھی احسن طریقے سے دلائل کے ساتھ سمجھائیں اور ہمیشہ اپنے خالق حقیقی کو ذاتی نام اللہ سے یا صفاتی ناموں سے پکاریں اور اگر کسی کتاب میں خدا لکھا ہو تو پڑھتے وقت اللہ پڑھیں اور اس طرح کی تبلیغ عام کریں۔

شریعت کا حکم ہے حق کو قائم کریں اور باطل کا قلع قمع کریں کیونکہ ہمارا دین کامل و اکمل ہے نہ اس میں اضافے کی ضرورت ہے اورنہ اضافہ کا امکان۔

اللہ تعالی ہم سب کو دین میں نئی چیز ایجاد کرنےیا اس کی حمایت کرنے یا اس پر عمل کرنے سے بچائے کیونکہ دین میں ہر نئی چیز بدعت ہے اور بدعت جہنم میں لے جانے والی ہے ۔آمين
 

خضر حیات

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 14، 2011
پیغامات
8,767
ری ایکشن اسکور
8,514
پوائنٹ
964
اللہ کے اسمائے حسنی کا کسی اور زبان میں ترجمہ کرنا جائز ہے یا نہیں ؟
اگر ہاں تو پھر لفظ ’’ خدا ‘‘ وغیرہ کا استعمال ممنوع نہیں ہونا چاہیے ۔
اور اگر جواب ’’ نہیں ‘‘ ہے تو پھر ہم غیر اللہ کے لیے لفظ ’’ داتا ‘‘ استعمال کرنے والوں کو مشرک کیوں کہتے ہیں ؟
 

محمد ارسلان

خاص رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
17,859
ری ایکشن اسکور
41,102
پوائنٹ
1,155
شیخ زبیر علی زئی رحمۃ اللہ علیہ سے جب یہی سوال کیا گیا کہ اللہ کو خدا کہنا کیسا ہے؟ تو اُنہوں نے اِس سوال کے جواب میں قرآن کی آیت دلیل کے طور پر بیان کی جس کا مفہوم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو رنگ اور زبان کے فرق کے ساتھ پیدا کیا ہے، پس اسی طرح کچھ لوگ اپنی زبان میں اللہ کو خدا کہتے ہیں اور کچھ لوگ اپنی زبان میں God کہہ کر پکارتے ہیں، میرے خیال سے یہ ایک معقول جواب ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم
 

محمد ارسلان

خاص رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
17,859
ری ایکشن اسکور
41,102
پوائنٹ
1,155
البتہ "محدث فتویٰ" سائٹ پر ایک سوال اللہ کو "یا ھو" کہہ کر پکارنے کے متعلق ہے کہ ایسا کرنا جائز ہے یا نہیں؟ ملاحظہ فرمائیں، اب یہ نہیں معلوم کہ مذکورہ سوال میں جس طرح "یا ھو" کہہ کر پکارنا درست قرار نہیں دیا گیا اسی طرح اِس فتویٰ کی رُو سے اللہ تعالیٰ کو "یا خدا" کہہ کر یا اللہ تعالیٰ کو O My God کہہ کر پکارنا صحیح ہو گا یا نہیں؟ اِس پر علماء کرام قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔
کیا اللہ کو ’’یا ھو‘‘کہہ کر پکارسکتے ہیں یعنی ’’اے وہ‘‘ اور مراد اللہ تعالیٰ ہو؟
الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال
وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتهالحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
متکلم‘ مخاطب اور غائب کی ضمیریں متکلم‘ مخاطب یا غائب کی طرف مطلقاً اشارہ کرتی ہیں۔ انہیں لغت کے لحاظ سے اللہ تعالیٰ کے نام قرار دیا جاسکتا ہے نہ شرعاً۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے یہ نام نہیں رکھے۔ لہٰذا ان الفاظ سے اللہ کو پکارنے کا مطلب یہ بنتا ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کو اس کے نام کے علاوہ دوسرے الفاظ سے پکار رہے ہیں ‘ اس لئے یہ جائز نہیں اور یہ اللہ تعالیٰ کے ناموں کے بارے میں کج روی اختیار کرنے میں شامل ہے کیونکہ یہ عمل اللہ کے ایسے نام رکھنے کے مترادف ہے جو نام اللہ تعالیٰ نے خود اپنے لئے مقرر نہیں کئے اور یہ ایسے الفاظ کے ساتھ نداء اور دعا ہے جو اللہ نے شریعت میں نازل نہیں کئے اور اللہ تعالیٰ نے ایسے کام سے منع فرمایا ہے۔ ارشاد ہے:
{وَ لِلّٰہِ الْاَسْمَآئُ الْحُسْنٰی فَادْعُوْہُ بِہَا وَ ذَرُوا الَّذِیْنَ یُلْحِدُوْنَ فِیْٓ اَسْمَآئِہ سَیُجْزَوْنَ مَا کَانُوْا یَعْمَلُوْن} (الاعراف۷,۱۸۰)
’’اور اللہ کے بہترین نام ہیں ‘ پس اسے ان ناموں سے پکارو اور ان لوگوں کو چھوڑ دو جو اس کے ناموں میں کج روی اختیار کرتے ہیں۔ انہیں ان کے عملوں کا جلد بدلہ مل جائے گا۔ ‘‘
وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْقُ وَصَلَّی اللّٰہُ عَلٰی نَبِیَّنَا مُحَمَّدٍ وَآلِہ وَصَحْبِہ وَسَلَّمَ
اللجنة الدائمة۔ رکن: عبداللہ بن قعود، عبداللہ بن غدیان، نائب صدر: عبدالرزاق عفیفی، صدر عبدالعزیز بن باز
فتویٰ (۶۵۷۱)
فتاوی بن باز رحمہ اللہ
جلددوم -صفحہ 192

محدث فتویٰ
حوالہ
 

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,634
پوائنٹ
791
البتہ "محدث فتویٰ" سائٹ پر ایک سوال اللہ کو "یا ھو" کہہ کر پکارنے کے متعلق ہے کہ ایسا کرنا جائز ہے یا نہیں؟ ملاحظہ فرمائیں، اب یہ نہیں معلوم کہ مذکورہ سوال میں جس طرح "یا ھو" کہہ کر پکارنا درست قرار نہیں دیا گیا اسی طرح اِس فتویٰ کی رُو سے اللہ تعالیٰ کو "یا خدا" کہہ کر یا اللہ تعالیٰ کو O My God کہہ کر پکارنا صحیح ہو گا یا نہیں؟ اِس پر علماء کرام قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔
اس موضوع پر دو تین مرتبہ اس فورم پر بحث ہو چکی
آپ یہ تھرڈ دیکھیں
 

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,634
پوائنٹ
791
فتاویٰ جات: ذات باری تعالیٰ
فتویٰ نمبر : 12799

لفظ ’ خدا‘ کا استعمال
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 11 August 2014 11:03 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
بعض لوگ لفظ اللہ کی بجائے لفظ خدا بکثرت استعمال کرتے ہیں شریعت میں اس کا کیا حکم ہے ؟

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤالوعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
لفظ خدا اور لفظ اللہ کی کنہہ اور حقیقت کے ادراک کے لئے ضروری ہے کہ اہل لسان کی طرف مراجعت کریں تاکہ ما بہ الامتیاز کا انکشاف ہو اورزیر بحث مسئلہ خود بخود نکھر کر اصلی شکل وصورت میں سامنے آئے۔

پہلے لفظی ترجمہ کی تعریف ذہن نشین کرلیں تاکہ آئندہ بحث کو سمجھنے میں آسانی رہے۔کلام کو ایک زبان سے بمطابقت رعایت نظم وترتیب اور مترجم شیء کے تمام اصل معانی کو محفوظ رکھنے دوسری زبان میں منتقل کردینے کانام لفظی ترجمہ ہے۔(التفسیر والمفسرون)

اب دونوں لفظوں میں سے ہر ایک کی بالا ختصار علیحدہ علیحدہ تعریفات اور معانی ملاحظہ فرمائیں۔

٭ خدا خود ہی آنے والا اور موجود ہونے والا اللہ تعالیٰ۔(فیروز الغات اردوجدید)

٭ خدا یہ لفظ خود اور آیعنی آئندہ سے مرکب ہے اور یہ ترجمہ ہے واجب الوجود کا (فیروز الغات فارسی)

٭ خدا جمع خدایاں ۔(فیروز لغات اردو)

٭ خدا خالق: عبادت کے لائق چیز مذہب کے مطابق اعلیٰ چیز انتہائی عقیدت کی چیز۔ مافوق الانسان چیز۔(چیمبرز سٹوڈنٹس لغت)

اور لفظ ''اللہ'' سےمراد:

’’ الذات الواجب الوجود المستجمع جميع صفات الكمال المنزه عن جميع النقائص ’’
'' یعنی وہ ذات جو خود بخود ہے کسی دوسرے نے اس کو بنایا نہیں۔تمام کمالات کا جامع اور جملہ عیوب سے پاک ہے۔''

اس کے مشتق اور غیر مشتق ہونے میں اختلاف ہے۔ بعض لوگ اسے علم ذاتی غیر مشتق مانتے ہیں۔ان کی دلیل یہ ہے کہ لفظ ''اللہ'' ہمیشہ موصوف واقع ہوتا ہے۔لفظ ''اللہ'' کے سوا کوئی علم ذاتی بننے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔اور اگر اس کو علم ذاتی نہ مانا جائے تو کلمہ توحید سے توحید ثابت نہیں ہوتی۔اس وقت ''لا اله الا الرحمٰن ’’ کی مثل ہوگا۔جو شرکت سے مانع نہیں۔ اور جو لوگ اسے علم وصفی مانتے ہیں۔ ان کامبدا اشتقاق میں اختلاف ہے۔

1۔ کہا جاتا ہے کہ یہ :الہ (بفتح الام)ياله الوهة والوهية(مصادر)بمعنی:عبد عبادۃ سےہے۔

2۔بعض کے نزدیک :الہ (یکسر اللام) بمعنی تحیر ہے۔چونکہ باری تعالیٰ کو پانے سے عقلیں حیران ہیں۔اس لئے ان کے نزدیک اصل سے ہے۔

3۔اور بعض دوسروں کے نزدیک یہ لاہ یلیہ سے ہے۔بیضاوی نے یلیہ اور ابن کثیر نے یلوہ پڑھا ہے۔بمعنی احتجاب ور فعت ہے۔کیونکہ ذات باری تعالیٰ ہر چیز سے بلند اور ادراک سے محجوب ہے۔(لیکن ا س روایت کی نفی لازمی نہیں آتی) اس لئے اللہ کو اللہ کہتے ہیں۔

4۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ اصل میں لاہ تھا جو سریانی زبان کا لفظ ہے۔ اس پر الف لام داخل کرکے معرب بنایا گیا ہے۔جیسا کہ تفسیر کبیر اور ابن کثیر وغیرہ میں ہے۔ علامہ خلیل ہر اس شارح العقیدۃ الواسطیہ کے نزدیک صحیح مسلک یہ ہے کہ لفظ الجلالۃ پہلے باب(عبد ) سے مشتق ہے۔ چنانچہ حضرت عبدا للہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں۔''الله ذوالالهية والعبودية علي خلقه اجمعين’’ لیکن اس پر علمت غالب ہے۔ باقی اسماء کی خبر اور صفت ہیں کہا جاتاہے۔:الله ’رحمٰن’رحيم’سميع’عليم جیسے کہا جاتا ہے۔: الرحمٰن الرحيم

علامہ بیضاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں۔''انه مختص بالمعبود بالحق’’یعنی'' لفظ اللہ معبود برحق کے ساتھ مخصوص ہے۔''(ص16 الجزء الاول)

محقق العصر مولانا محمد ابراہیم میر سیالکوٹی رحمۃ اللہ علیہ رقم طراز ہیں:

''یہ لفظ کیا بلحاظ رسم الخط 1 ۔اور کیا بلحاظ 2۔اشتقاق ومعنی 3۔عجیب عجیب خصوصیتیں رکھتا ہے۔رسم الخط کی رو سے اس طرح کہ ا س کی تحریر کاطریق یوں ہے۔(اللہ) اگر ہمزہ کو ابتداء سے گرا دیں تو باقی صورت (اللہ ) رہ جاتی ہے۔اور یہ لام جارہ داخل کرنے سے (للہ) کی صورت ہے۔''

پھر اگر اس کے پہلے لام کو بھی گرادیں تو صورت (لہ) کی رہ جاتی ہے یعنی لام جارہ اور ضمیر غائب سے مرکب اور اگر لام ثانی کو بھی گرادیں تو صرف وہ صورت ضمیر غائب کی رہ جاتی ہے اور یہ سب یعنی (للہ) اور (لہ) اور (ہ) ذات باری حق کے لئے وار دہیں۔چنانچہ یہ تینوں ایک ہی آیت میں موجود ہیں:

﴿الحَمدُ لِلَّـهِ الَّذى لَهُ ما فِى السَّمـٰوٰتِ وَما فِى الأَر‌ضِ وَلَهُ الحَمدُ فِى الـٔاخِرَ‌ةِ ۚ وَهُوَ الحَكيمُ الخَبيرُ‌ ﴿١... سورة سبا
''سب خوبیاں اللہ ہی کے لئے خاص ہیں جس کی ملک میں ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جوکچھ زمین میں ہے اور اس کی تعریف ہے۔ آخرت میں بھی اور وہ بڑا با حکمت (اور ) ہر چیز سے خبردار ہے۔''

لفظ (ھو) جو اس آیت میں اسم ضمیر ہے اصل میں صرف (ہ) ہی تھا۔واو تلفظ میں سہولت پیدا کرنے کے لئے زیادہ کی گئی ہے۔دلیل اس کی یہ ہے کہ اس کی جمع وتثنیہ ھما اور ھم ہے اگر واو اصلی ہوتی تو تثنیہ اور جمع میں قائم رہتی سبحانا للہ! یہ کیسا مبارک لفظ ہے۔ کہ اس کے حروف مجموعی اور انفرادی ہر دو طرح پر اس ذات باری پر دلالت کرسکتے ہیں۔

عباراتنا شتيٰ وحسنك واحدوكل اليٰ ذاك الجمال يشير
''ہماری عبارتیں مختلف ہیں اور تیرا حسن ایک ہی ہے۔ ہر کوئی اسی جمال (بے مثال) کی طرف اشارہ کررہا ہے۔''(واضح البیان فی تفسیر ام القرآن 75'76)

اس مختصر جامع بحث سے معلوم ہوا کہ لفظ ''اللہ'' میں بے انتہاء گہرائی وسعت اور جامعیت ہے جو کسی بدل میں ممکن نہیں جب کہ لفظ خدا وسعت سے قاصر اور محدود معنی پر دال ہے بلکہ ہمہ تین صفات باری تعالیٰ سے عاری ہے اسی طرح جمیع''اسماء الله الحسنيٰ’’ مخصوص خصوصیات وامتیازات کے حامل ہیں جن کی جملہ تفاصیل '' كتاب الاسماء والصفات’’ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ وغیرہ میں موجود ہے۔اس بنا پر رب العباد نے مخلوقات کو ان کے ساتھ ورد وظیفہ کا حکم دیا ہے عاجز بندوں کے لئے تقرب الٰہی کا سب سے اعلیٰ اور عمدہ طریقہ یہی ہے کہ ان کے وسیلہ سے اللہ کے ہاں التجا کریں۔چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿وَلِلَّـهِ الأَسماءُ الحُسنىٰ فَادعوهُ بِها ۖ وَذَرُ‌وا الَّذينَ يُلحِدونَ فى أَسمـٰئِهِ ۚ سَيُجزَونَ ما كانوا يَعمَلونَ ﴿١٨٠... سورة الاعراف
'' اور اللہ کے نام اچھے ہی اچھے ہیں تو اس کو اس کے ناموں سے پکارو اور جو لوگ اس کے ناموں میں کجی (اختیار) کرتے ہیں۔ ان کو چھوڑ دو وہ جو کچھ کررہے ہیں عنقریب اس کی سزا پائیں گے۔''

دوسری جگہ ہے:

﴿قُلِ ادعُوا اللَّـهَ أَوِ ادعُوا الرَّ‌حمـٰنَ ۖ أَيًّا ما تَدعوا فَلَهُ الأَسماءُ الحُسنىٰ...﴿١١٠﴾... سورة الإسراء
''کہہ دو! کہ تم اللہ ( کے نام سے ) پکارو یا رحمٰن (کے نام سے) جس نام سے پکارو اس کے سب نام اچھے ہیں۔''

بہر صورت ہمارے ہاں بکثرت لفظ''خدا'' کااستعمال سابقہ سرکاری فارسی زبان کے اثرات کا نتیجہ ہے۔جس سے باسلوب احسن احتراز کی سعی وتدبیر ہونی چاہیے علی الاقل اس کا اطلاق کراہت سے خالی نہیں۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب
فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ
ج1ص183

محدث فتویٰ
 

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,634
پوائنٹ
791
علامہ زبیر علی زئی رحمہ اللہ تعالی اس مسئلہ پر فرماتے ہیں

کتاب کا نام :
شرح حديث جبريل في تعليم الدين
خدا4.gif
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
کوئی عجمی اگر اپنی زبان میں "اللہ" ہی کہنا پسند کرے اور اسی کو افضل سمجھے تو اس کے بارے کیا حکم ہے؟
جزاک اللہ خیرا!
 

مقبول احمد سلفی

سینئر رکن
شمولیت
نومبر 30، 2013
پیغامات
1,400
ری ایکشن اسکور
502
پوائنٹ
209
اللہ کے اسمائے حسنی کا کسی اور زبان میں ترجمہ کرنا جائز ہے یا نہیں ؟
اگر ہاں تو پھر لفظ ’’ خدا ‘‘ وغیرہ کا استعمال ممنوع نہیں ہونا چاہیے ۔
اور اگر جواب ’’ نہیں ‘‘ ہے تو پھر ہم غیر اللہ کے لیے لفظ ’’ داتا ‘‘ استعمال کرنے والوں کو مشرک کیوں کہتے ہیں ؟
پہلی بات تو یہ کہ آپ کا موقف واضح نہیں ہے ، چلیں آپ کی دونوں طرح کی باتوں کا سرسری جائزہ لیتے ہیں ۔

(1) اگر آپ کی پہلی بات مان لی جائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ جہاں اللہ کو خدا کہنا جائز ہے وہیں جس زبان میں بھی اللہ کے لئے جو لفظ بولا جاتا ہے اسے استعمال کرنا جائز ہے ۔ اس طرح گویا اللہ کو خدا ، بھگوان، ایشور، وشنو، برہما، دیوی ، دیوتا، اہرمن، یزداں،گاڈ، گاڈنس وغیرہ وغیرہ بھی کہنا جائز ہوگا۔ مگر حقیقت یہی ہے کہ اللہ کو اس کے اسمائے حسنی کے ذریعہ پکارا جائے گاجیساکہ اس کا حکم ہے اور یہ متعدد نصوص سے ثابت بھی ہے ، اوپر چند دلائل کا ذکر کیا گیا ہے ۔

اللہ کو خدا یا بھگوان وغیرہ وغیرہ کہنے کی ممانعت جہاں نصوص شرعیہ سے ہوتی ہے وہیں یہ الفاظ اللہ کے جو اوصاف کمالیہ ہیں ان کی ترجمانی نہیں کرتے بلکہ عیب پیدا کرتے ہیں مثلا خدا کی جمع بھی مستعمل ہےجبکہ اللہ ایک اکیلا ہے،نیزفارسی میں خدا کا دوتصور ہےایک برائی کا دوسرااچھائی کا، مزید برآں غیراللہ کے لئے بھی خدا کا لفظ استعمال کیا جاتاہے وغیرہ ۔ مسلمان کو کسی طرح زیب نہیں دیتا کہ وہ اللہ کو ایسے الفاظ سے پکارے جس سے بلندوبالا رب کی تنقیض ہوتی ہو۔

(2) آپ کا دوسرا مسئلہ کہ پھر غیراللہ کو داتا کہنے والوں کو مشرک کیوں کہا جاتا ہے ؟

یہ مسئلہ تو عقیدہ کا ہے ۔ داتا فارسی لفظ ہے جس کا معنی سب کچھ دینے والا ہوتا ہے ۔ کیا کوئی مسلمان یہ عقیدہ رکھ سکتا ہے کہ اللہ کے علاوہ بھی کوئی سب کچھ دینے پہ قادر ہے ؟۔ ہرگز نہیں، قرآن کی متعدد آیات اس عقیدے کی تردید کرتی ہیں ۔ اس لئے غیراللہ کو داتا کہنا جائز نہیں اور ایسا عقیدہ رکھنے والا مشرک قرار پائے گا ۔
 

مقبول احمد سلفی

سینئر رکن
شمولیت
نومبر 30، 2013
پیغامات
1,400
ری ایکشن اسکور
502
پوائنٹ
209
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
کوئی عجمی اگر اپنی زبان میں "اللہ" ہی کہنا پسند کرے اور اسی کو افضل سمجھے تو اس کے بارے کیا حکم ہے؟
جزاک اللہ خیرا!
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اللہ کو اسکے ذاتی نام اور اس کے صفاتی نام جو کتاب و سنت میں وارد ہیں ان تمام کے ذریعہ پکاراجاسکتا ہے جیساکہ رب کا فرمان ہے ۔ ایک مومن کو رب کے فرمان کے مطابق عمل کرنا ہی افضل عمل ہے ۔اگر کوئی عجمی اللہ کو اللہ کےذریعہ پکارتا ہے تو یہ بھی سنت کے مطابق ہے ، مگر بندہ کو ہر طرح کی ضرورت ہوتی ہے کبھی گناہ معاف کرانے، کبھی اولاد مانگنے ، کبھی اس کی پکڑ سے محفوظ رہنے کی تو جب جیسے حالات ہوں اس قسم کے اسمائے حسنی کا واسطہ دیکر اپنے رب کو پکارے بہتر ہے ۔ واللہ اعلم
 
Top