T.K.H
مشہور رکن
- شمولیت
- مارچ 05، 2013
- پیغامات
- 1,129
- ری ایکشن اسکور
- 335
- پوائنٹ
- 156
تصوف کی حقیقت تو خود ایک ” احتمال“ ہے ، ایک یا دو احتمالات کی بات تو بہت دور کی ہے !تصوف میں دو احتمالات ہیں
تصوف کی حقیقت تو خود ایک ” احتمال“ ہے ، ایک یا دو احتمالات کی بات تو بہت دور کی ہے !تصوف میں دو احتمالات ہیں
جب کسی مسئلے میں صحیح، صریح اور غیر معارض حدیث میسر نہ ہو تو پھر اس میں آئمہ مجتھدین کی رائے مقدم ہے۔ کیونکہ وہ خیرالقرون کے لوگ ہیں اور انہیں تلقی بالقبول حاصل ہوا اور انہوں نے ایسے غیر منصوص مسائل پر پوری جامعیت سے کام کیا ہے۔امام ابو حنیفہ ؒ، امام مالک بن انسؒ، امام شافعیؒ اور امام احمد بن حنبلؒ) کے پاس جبریل امین تشریف لایا کرتے تھے ؟ یا علم و تحقیق ان کے چلے جانے کے بعد مفقود و فنا ہو گئی ؟
جی نہیں فنا و مفقود نہیں ہوئی چل رہی ہے۔ ایک انہی سلسلوں کے علما فقھا و مفتیان کے تحت۔ جدید پیش آمدہ مسائل کے حوالے سےعلم و تحقیق ان کے چلے جانے کے بعد مفقود و فنا ہو گئی
حقیقی تصوف یہ کس کا نام ہے جسے تزکیہ ٔ نفس کے لباس میں پیش کیا جا رہا ہے ۔ مجھے بتائیں کہ قرآن و سنت میں کس تزکیہ کی کمی ہے جس کو ” حقیقی تصوف “ کی صورت میں پو را کیا جا رہے ؟جی نہیں فنا و مفقود نہیں ہوئی چل رہی ہے۔ ایک انہی سلسلوں کے علما فقھا و مفتیان کے تحت۔ جدید پیش آمدہ مسائل کے حوالے سے
اور دوسری ان حضرات کو غلط ثابت کرنے کے حوالے سے۔ فقہ کو مطعون کرنے کے حوالے سے، حدیثوں سے کاٹنے کے حوالے سے، ختم نبوت سے کاٹنے کے لئے، صحابہ سے کاٹنے کے لئے، تزکیہ نفس سے کاٹنے کے لئے، توحید کے نام پر حقیقی تصوف سے کاٹنے کے لئےاور تصوف کے نام پر توحید کو مسخ کرنے کے لئے۔
دونوں لائنوں سے تحقیق و تعلیم کا سلسلہ مستقل چل رہا ہے۔
یہ اور دیگر آئمہ اسلام ہمارے لیے سرمایہ علم ہیں لیکن اگر ان کی کوئی رائے قرآن و سنت کے معیار پر پورا نہیں اترتی تو پھر کیا کیا جائے ؟ کیا ان آئمہ نے اپنی تقلید کرنے کا حکم دیا تھا یا بعد کے کچھ علماء نے اجتہاد کا دروازہ خود بند کر کے اور اپنی عقل کو تالا لگا کر صرف انہی خصوصاً امام ابو حنیفہ ؒ کی تقلید کو قبول کر لیا تھا؟ تو جب حقیقت یہی ہے تو اہلِ حدیث حضرات کو ” غیر مقلد“ کا طعنہ کیوں دیا جاتا ہے ؟ ان کو تحقیق کا حق کیوں نہیں دیا جاتا ؟جب کسی مسئلے میں صحیح، صریح اور غیر معارض حدیث میسر نہ ہو تو پھر اس میں آئمہ مجتھدین کی رائے مقدم ہے۔ کیونکہ وہ خیرالقرون کے لوگ ہیں اور انہیں تلقی بالقبول حاصل ہوا اور انہوں نے ایسے غیر منصوص مسائل پر پوری جامعیت سے کام کیا ہے۔
ان حضرات کو نہیں بلکہ ان کے نظریات کو غلط ثابت کرنے کے لیے تحقیق کی جاتی ہے چونکہ ایک طبقہ دورِ قدیم سے شخصیات سے بڑا لگاؤ ہے تو اس لیے اس کو تحقیق بھی بے جا تنقید ہی نظر آتی ہے ۔ان حضرات کو غلط ثابت کرنے کے حوالے سے