• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

الوہیت کا مدار کس چیز پر ہےِِ؟؟؟

T.K.H

مشہور رکن
شمولیت
مارچ 05، 2013
پیغامات
1,129
ری ایکشن اسکور
335
پوائنٹ
156
تمام مشرکین جن بتوں کی عبادت کرتے تھے وہ صالحین و انبیاء ہی تھے جو حقیقتاً مخلوق ہیں، اور مخلوق واجب الوجود نہیں ہوتی یہ بات تو مشرکین ِ عرب بھی تسلیم کرتے تھے ۔ سوچنے کی بات ہے پھر قرآن نے انہیں کیوں مشرک قرار دیا؟ یہ بات طبقۂ خاص کے سوچنے کے لیے ہے۔ دوسرا یہ کہ خالق کی صفات مخلوق کی صفات سےبالکل مختلف ہیں۔ کیونکہ اللہ تعالٰی کا فرمان ہے : لیس کمثلہ شئی
اللہ تعالٰی کی صفت انسان میں موجود ہونا محال ہے۔ اب معلوم ہو گیا ہو گا کہ الوہیت کا مدار کس چیز پر ہے ؟ کاش یہ حضرات ما فوق الاسباب اور ما تحت الاسباب کے فرق کو سمجھ سکیں۔اُمید ہے بات واضح ہو گئی ہو گی۔
 
شمولیت
جون 20، 2014
پیغامات
684
ری ایکشن اسکور
53
پوائنٹ
93
تمام مشرکین جن بتوں کی عبادت کرتے تھے وہ صالحین و انبیاء ہی تھے جو حقیقتاً مخلوق ہیں، اور مخلوق واجب الوجود نہیں ہوتی یہ بات تو مشرکین ِ عرب بھی تسلیم کرتے تھے ۔ سوچنے کی بات ہے پھر قرآن نے انہیں کیوں مشرک قرار دیا؟ یہ بات طبقۂ خاص کے سوچنے کے لیے ہے۔ دوسرا یہ کہ خالق کی صفات مخلوق کی صفات سےبالکل مختلف ہیں۔ کیونکہ اللہ تعالٰی کا فرمان ہے : لیس کمثلہ شئی
اللہ تعالٰی کی صفت انسان میں موجود ہونا محال ہے۔ اب معلوم ہو گیا ہو گا کہ الوہیت کا مدار کس چیز پر ہے ؟ کاش یہ حضرات ما فوق الاسباب اور ما تحت الاسباب کے فرق کو سمجھ سکیں۔اُمید ہے بات واضح ہو گئی ہو گی۔
وہ اس لئے حضرت کہ وہ انہیں مستحق عبادت سمجھتے تھے ۔جس طرح واجب الوجود سمجھنا شرک ہے اسی طرح کسی کو مستحق عبادت گرداننا بھی شرک ہے
 

T.K.H

مشہور رکن
شمولیت
مارچ 05، 2013
پیغامات
1,129
ری ایکشن اسکور
335
پوائنٹ
156
وہ اس لئے حضرت کہ وہ انہیں مستحق عبادت سمجھتے تھے ۔جس طرح واجب الوجود سمجھنا شرک ہے اسی طرح کسی کو مستحق عبادت گرداننا بھی شرک ہے
محترمی آپ کا جواب دیا جا چکا ہے۔ پیچھے میری تحریرکو بغور پڑھیں ۔آپ کے نزدیک عبادت اور دعا میں کوئی فرق ہو گا لیکن ہمارے نزدیک کسی کو ما فوق الاسباب مدد کے لیے پکارنا عبادت میں شمار ہوتا ہے اور یہی شرک ہے۔ ایسا شخص پکارتا ہی اس مقصد سے ہے کہ اللہ تعالٰی نے فلاں بندے کوما فوق الاسباب طریقے سے سننے کی قوت دی ہے جس کی کوئی دلیل قرآن مجید میں نہیں ہے۔
وَإِنَّ الشَّيَاطِينَ لَيُوحُونَ إِلَىٰ أَوْلِيَائِهِمْ لِيُجَادِلُوكُمْ وَإِنْ أَطَعْتُمُوهُمْ إِنَّكُمْ لَمُشْرِكُونَ
اور شیاطین اپنے ساتھیوں کے دلوں میں شکوک و اعتراضات القا کرتے ہیں تاکہ وہ تم سے جھگڑا کریں لیکن اگر تم نے اُن کی اطاعت قبول کر لی تو یقیناً تم مشرک ہو ۔(الانعام ،آیت 121)
یہاں دیکھیں شرک کا مدار عبادت کی بجائے اطاعت کو قرار دیا گیا۔ اُمید ہے بات کو سمجھیں گے۔
 
شمولیت
جون 20، 2014
پیغامات
684
ری ایکشن اسکور
53
پوائنٹ
93
محترمی آپ کا جواب دیا جا چکا ہے۔ پیچھے میری تحریرکو بغور پڑھیں ۔آپ کے نزدیک عبادت اور دعا میں کوئی فرق ہو گا لیکن ہمارے نزدیک کسی کو ما فوق الاسباب مدد کے لیے پکارنا عبادت میں شمار ہوتا ہے اور یہی شرک ہے۔ ایسا شخص پکارتا ہی اس مقصد سے ہے کہ اللہ تعالٰی نے فلاں بندے کوما فوق الاسباب طریقے سے سننے کی قوت دی ہے جس کی کوئی دلیل قرآن مجید میں نہیں ہے۔
وَإِنَّ الشَّيَاطِينَ لَيُوحُونَ إِلَىٰ أَوْلِيَائِهِمْ لِيُجَادِلُوكُمْ وَإِنْ أَطَعْتُمُوهُمْ إِنَّكُمْ لَمُشْرِكُونَ
اور شیاطین اپنے ساتھیوں کے دلوں میں شکوک و اعتراضات القا کرتے ہیں تاکہ وہ تم سے جھگڑا کریں لیکن اگر تم نے اُن کی اطاعت قبول کر لی تو یقیناً تم مشرک ہو ۔(الانعام ،آیت 121)
یہاں دیکھیں شرک کا مدار عبادت کی بجائے اطاعت کو قرار دیا گیا۔ اُمید ہے بات کو سمجھیں گے۔
حضرت اگر آپ تفاسیر کا مطالعہ ہی کر لیں تو بات واضح ہوجائے یہاں اطاعت عبادت کے معنی میں ہی مراد ہے ۔۔۔اور ہمارا معیار ہرگز باطل نہیں ہوتا
 

T.K.H

مشہور رکن
شمولیت
مارچ 05، 2013
پیغامات
1,129
ری ایکشن اسکور
335
پوائنٹ
156
حضرت اگر آپ تفاسیر کا مطالعہ ہی کر لیں تو بات واضح ہوجائے یہاں اطاعت عبادت کے معنی میں ہی مراد ہے ۔۔۔اور ہمارا معیار ہرگز باطل نہیں ہوتا
محترمی !
سورۃ الانعام کی متعلقہ آیات کے سیاق و سباق پر غور کیا جائے تو وہاں کہیں بھی عبادت کا موضوع زیرِ بحث نہیں ہے۔ پورا سیاق دراصل اس مسئلے کے گرد گھومتا ہے کہ کسی جانور یا کھانے کی چیز پر اللہ کا نام لیا گیا ہے یا نہیں، اور اس بنیاد پر اس کی حلت و حرمت کا حکم کیا ہے۔ مشرکین اس معاملے میں اعتراضات اور شکوک پیدا کرتے تھے اور مردار کو حلال قرار دینے کی کوشش کرتے تھے۔ اسی تناظر میں فرمایا گیا کہ اگر تم نے اس معاملے میں ان کی بات مان لی تو تم شرک کے مرتکب ہو جاؤ گے۔ لہٰذا یہاں اصل بحث عبادت نہیں بلکہ اللہ کے مقرر کردہ حلال و حرام کے مقابلے میں دوسروں کی بات مان لینے کی ہے۔ جب قرآن مجید کا مفہوم اس کے اپنے سیاق و سباق سے واضح ہو جائے تو پھر اس بنیادی حقیقت کو سمجھنے کے لیے کسی اضافی تفسیر کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔
 
Top