الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
معذرت! مگر اس تھریڈ میں یہ میرا آپ کے لئے آخری جواب ہے۔
ایک سوال آپ سے: کیا آپ اس فورم کے بانی یا مالک ہیں؟ یا یہاں صرف اسی موضوع پر گفتگو ممکن ہے جو آپ کی پسند یا مرضی پر موقوف ہو؟
I think you have to be in your limits
آپ کو مغالطہ اکثر یہ ہو رہا ہے کہ آپ اپنی کوئی بات پوسٹ کر رہے ہیں ۔۔۔ حالانکہ آپ پوسٹ نہیں کر رہے بلکہ "نقل" کر رہے ہوتے ہیں۔ اور میں بچارا آپ کو بار بار یاد دلا رہا ہوں کہ یہ مکالمہ سیکشن ہے۔ اگر آپ کے پاس صلاحیت ہے تو اپنی سوچ و فکر کے ساتھ حصہ لیجئے یا نہیں تو پھر صرف سوال کیجئے۔ علماء کے...
نقالی یا ذہنی مرعوبیت صرف خوشی یا تفریح کے معاملات میں ہی کیوں؟
سائنس و تکنالوجی ، دفاع و معاشیات ، رہائش و تعمیرات وغیرہ جیسے معاملات میں نقالی/مرعوبیت ہمیں کیونکر یاد نہیں آتی؟
اگر کوئی کہے کہ موخرالذکر معاملات میں امت /انسانیت کی بھلائی یا فائدہ ہے تو بھائی اول الذکر معاملے میں بھی انفرادی یا...
اس کا جواب تو کئی مرتبہ دیا جا چکا ہے۔ گوگل سرچ کر لیں۔ اہل بدعت میلاد النبی کا موازنہ جب کسی ملک کے یوم آزادی یا قومی دن سے کرتے ہیں تو اہل علم نے اس کا موثر جواب دے رکھا ہے۔
اس کا تو مجھے نہیں پتا۔ مگر یہ ضرور پتا ہے کہ اس قسم کی سختیوں کے سبب اچھے خاصے باشعور لوگ یا تو الحاد کی جانب مرغوبیت اختیار کر لیتے ہیں یا پھر دین کی چھوٹی بڑی حقیقی پابندیوں کا بھی مذاق اڑا دینے سے نہیں ہچکچاتے۔ ردعمل کی اس نفسیات میں گو کہ کچھ قصور ایسے افراد کا بھی ضرور ہے
اگر یہ حق اور ناحق کا ہی معاملہ ہے تو یہ سیکشن "مکالمہ" کس لئے قائم کیا گیا ہے؟
ہمارے عہد کے نوجوانوں کا مسئلہ یہی ہے کہ چار اردو کتابیں اور دس ادھر ادھر کے فتاویٰ پڑھ کر حق اور ناحق کے نعرے لگانا شروع کر دیتے ہیں ۔۔۔ گویا جو اہل علم برسوں علم دین کے حصول میں جوتیاں گھستے اور اپنا قیمتی وقت...
جب آپ خود مانتے ہیں کہ آپ ایک ادنیٰ سے طالب علم ہیں اور کسی موضوع پر آپ کی عقل محدود دائرے میں کام کرتی ہے تو پیارے بھائی! ازراہ کرم آپ ہر تھریڈ کو اپنے "مخصوص مطالعہ" سے آلودہ نہ کریں۔ بہتر ہے اسی عنوان کے تحت آپ کوئی علیحدہ تھریڈ بنا کر وہاں اپنا مطالعہ شئر کر لیا کریں۔
بصورت دیگر ہوتا یہ ہے...
ایک بات سمجھ میں نہیں آتی کہ جب بھی کوئی اہل علم سماجی معاشرتی موضوع پر کچھ "مکالمہ" کرنا چاہتا ہے تو کچھ احباب کیوں کر علماء کے فتاویٰ کاپی پیسٹ کرنا شروع کر دیتے ہیں؟
ہم تو جناب اسے ادبی بدتہذیبی باور کرتے ہیں۔
یہ ایسے ہی ہے جیسے بڑے بزرگ اپنے گھرانے کے کسی لڑکے کی شادی کے معاملات پر سنجیدہ...
اگر آپ سمجھتے ہیں کہ ادھر ادھر کے چند اخبار و رسائل کی خبروں/مضامین کی بنیاد پر میں اس قسم کے سیاسی معاملات میں اپنی کوئی مجموعی رائے قائم کرتا ہوں تو پھر یہ آپ کی غلطی ہے۔
میرا تعلق ہند کی صحافتی دنیا سے زائد از ڈھائی عشروں پر محیط ہے۔
یہ انٹرویو دو سال پرانا ہے اور اس وقت کا ہے جب نریندر مودی وزیر اعظم ہند کے عہدہ پر فائز نہیں تھے۔
دوسری اہم بات یہ کہ ۔۔۔ ہند و پاک بہتر تعلقات اکیلے وزیراعظم نریندر مودی پر ذمہ داری کا بوجھ ڈالنا نہ صرف انصاف کے مغائر ہے بلکہ اس متنازعہ سیاسی صورتحال میں بھی غیر مناسب ہے جبکہ فریق مخالف مسلسل...
الفاظ کے ذرا سے رد و بدل کے ساتھ تقریبا یہی بات مجھے واٹس اپ کے ذریعے اپنے سینکڑوں واقفکاروں کو بتانی پڑی تھی۔
تبلیغ دین کے اس معاملے میں راقم یقینا آپ کا ہمخیال ہے۔
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
بھائی آپ کا سوال ہی غیرمتعلق ہے۔
اول تو امت کے پیچھے میں نہیں بلکہ آپ پڑے ہوئے ہیں ۔۔۔ اور امت بچاری بالی ووڈ میں برسرکار مسلم ناموں کے پیچھے ہاتھ دھو کر ایسا پڑی ہے اسے یہ تک سمجھ میں نہیں آ رہا کہ عام ہندوستانی مسلمان کا اس طبقہ سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔...
یعنی کہ بالکل ویسے ہی جیسے پاکستانی نوجوانوں کا ایک اکثریتی گروہ نفس پرستی میں مبتلا ہو کر دین سے دور یا دین بیزار ہوتا جا رہا ہے تو دوسرا اکثریتی گروہ مذہبی تشدد پسندی کا شکار ہو کر معاشرہ میں انتشار پھیلانے کا سبب بن رہا ہے۔
برا نہ مانیں ، مگر میں آپ کو ایک بڑے اردو فورم پر بھی اس اخبار کا دفاع کرتے دیکھتا آ رہا ہوں جسے وہاں "چیتھڑا" اخبار کے عنوان سے جانا جاتا ہے۔
ویسے اس اخبار کے متعلق معلومات کی فراہمی کا شکریہ۔ مگر جتنا کچھ اس کی خبروں /تجزیوں کا مطالعہ کیا ہے اسے مدنظر رکھتے ہوئے اگر کوئی باشعور قاری اس اخبار...
معاشرہ کفر پر تو زندہ رہ سکتا ہے مگر ناانصافی (ظلم) پر نہیں
متذکرہ بالا قول کو کبھی حدیث اور کبھی قولِ علی رضی اللہ عنہ بیان کیا جاتا ہے۔ اس کی حقیقت کیا ہے؟