الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
واہ جناب جی واہ....کہاں کی بات کہاں لیجارھے ھیں آپ...ھاشم ٹھٹھوی نے نہ نسخہ دیکھا..اور خبر دینے کی بات اپنی طرف سے کیسے فٹ کررھے ھیں.
بڑی عجیب منطق چلارھے ھیں آپ....دلیل بھی بنارھے ھیں...اور یہ بھی کہ رھے ھیں کہ جزما نہیں...مجھے ذرا وضاحت سے یہ سمجھالیں یہ.
اور اس بات کا تو جواب دیں نا کہ پہلے...
ابن قطلوبغا کا حدیث ذکر کرنا یعنی خبر دینا ھے.تو یہ جناب محض ٹھٹھوی صاحب کو نہیں خبر دینا بلکہ سب کے لیے عام ھے.
ابن قطلوبغا کے نسخے کی بات کررھا ھوں کہ پہلے اس میں آپکو کیا کمزوری نظر آئی تھی اور کیا قوت نظر آگئی ھے.
باقی کتاب کے حوالے کی بات یہ ھے کہ وہ صفحہ اس میں نہیں ھے.اصل میں شیخ بدیع...
جب آپنے اس بات کا انکار کیا کہ ٹھٹھوی صاحب نے خبر کا ذکر نہیں کیا.تب آپ کے سامنے یہ ابن قطلوبغا کا حدیث کو ذکر کرنا کیا مطلب تھا...باتوں کو نہ بنایا کریں. شق ثانی تو آل ریڈی ھر وقت موجود ھے.اور وہ بھی ٹھٹھوی صاحب کے ساتھ خاص نھیں سب کے لئے ھے.باتیں بنانے کی کوشش تو بڑی کررھے ھیں لیکن بنتی نہیں...
اور خبر ابن قطلوبغا نے دی ھے حدیث کو ذکر کرنے سے.آپ غلط سمجھ رھے ھیں.کہاں کی بات کہاں لیجا رھے ھیں جناب.
ھاشم سندھی نے نہ کوئی نسخہ دیکھا ھے جیسا کہ آپ نے اب تسلیم کرلی ھےاور نہ انکو کسی نے خبر دی ھے جسکا انکار بھی پیچھے آپ کرچکے ھیں.باقی مصححہ وغیرہ کی جو بات ھے وہ ٹھٹھوی صاحب نے اس حدیثپر...
شکر ھے جان من آپنے یہ تسلیم تو کرلیا کہ ٹھٹوی صاحب نے وہ نسخہ نہیں دیکھا...باقی آپکا مطلب قطعا ثابت نہیں ھوتا.ویسے مجھے ٹھٹھوی صاحب کی باتوں میں مجھے نظر ھے.جن کو میں موقع کی مناسبت سے ذکر کروںگا.
فی الحال یہ بتائیں کہ ابن قطلوبغا نے اس حدیث سے کہاں حجت پکڑی ھے.
نمبر دو آپ اب ابن قطلوبغا کی ذکر...
آمین.
جناب میں نے آپکو کل تحت السرہ کے حوالے سے کچھ کہا تھا آپ نے جواب نہیں دیا.ٹھیک ھے پھر لیجئے جواب.
ھاشم ٹھٹھوی صاحب فرماتے ھیں :
۱
وقد وجدت ھی(ای زیادة تحت السرة) فی ثلث نسخ من مصنف ابی بکر بن ابی شیبة. منها النسخة التي نقلہا عنها الشيخ قاسم محدث الديار المصرية رحمه الله...
م
محترم قارئین.
میں معذرت کرتا ھوں جو کچھ میں نے کہا ھے.دراصل مجھے غلط فھمی ھوگئی تھی.
اصل میں ٹھٹوی صاحب کی جو مطبوع کتب ھیں.ان میں صفحہ ۸۴ ۸۵ نہیں ھے.ناشر نے شروع میں ٹھٹھوی صاحب کے حوالے سے یہ لکھا کہ وقد وجدت ھی ای زیادة تحت السرة ....الخ..اور نیچے حاشیہ میں مذکورہ حوالہ دیا تھا.لیکن جب...
قارئین کرام علماء کرام آج میں ایک نئی دردناک بد ترین افسوس زدہ حیران کن بات کا انکشاف کررھاھوں.اور اس خیانت کا سہرا اسی ادارة العلوم کے جاتا ھے.یہ اللہ تعالی کا مجھ جیسے ناچیز خاکی پر عظیم احسان ھے کے مجھ کو اس فورم پر لایا جس کی بدولت ایک راز اور ایک ایسا بھید کھلنے والا ھے جس سے روںگٹے...
جناب اسی پر ھی بحث ھے....آپکو نسخے کے دیکہنے ھی کا جواب دینا چاھتا ھوں.اور ابن قطلوبغا کے نسخے ھی کا جواب ھے اس میں.آپ پریشان نہ ھوں.
باقی بم جب گریگا تو پتہ چل جائیگا.ان شاء اللہ تعالی.
نہیں ملا کچھ.؟ اچھی بات ھے جناب.خود کو ایسے ھی بہلاتے رھئے.
اور آپکو یہ بھی بتادوں کہ آپکے اوپر ایک اور بم گرنے والا ھے اس کے لئے بھی تیار رھیں.
بڑا حیف ھے آپ پر.آپنے اصل کتاب بھی پڑھی لیکن آپ حقیقت حال سے آگاہ نہ ھوسکے.
لیکن ان شاء اللہ تعالی جلدی ھوجائیںگے.
میرے آپ سے سوال ھے کہ تحت السرة...
میں مسئلے کو آگے لیجانا چاھتا ھوں اور آپ پیچھے.اور آپ تو خود کو پہنسا چکے ھیں بہت جناب.
آپ اب متزلزل ھوچکے ھیں.آپکی باتوں تناقض آچکا ھے.
دکھانے کی دلیل آپکے ذمے تھے مجھے توڑ کرنا تھا.اور آپنے دیکھنے کی دلیل ...مصححہ وغیرہ دی ھے...تو میں نے یہ کہا کہ یہ انہوں نے ..التعریف....میں ذکر کردہ حدیث...
محترم مجھے نہیں پتہ کہ یہ کس طرح کرتے ھیں.
جناب ٹھٹھوی صاحب نے کوئی نسخہ نہیں دیکھا.بلکہ اگر انکی کتب کو غور سے پڑھیں تو انہوں نے محض ابن قطلوبغا کی کتاب "التعریف.... الخ..میں ذکر کردہ حدیث کو مد نظر رکھتے ھوئے یہ باتیں کہی ھیں.انھوں نے وہ نسخہ دیکھا نہیں ھے.اور نہ ھی یہ دعوی کیا ھے.اگر دعوی کیا...