الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
لغة واصطلاحا
یہ دونوں اعراب میں کیا واقع ہیں اس سلسلے میں کئی آراء ملتے ہیں، دونوں کے منصوب ہونے پر تو اتفاق ہے پر نصب کیوں دیا جاتا ہے اس معاملے میں درج ذیل مختلف آراء پائے جاتے ہیں؛
اکثر ان پر نصب کی وجہ "منصوب بنزع الخافض" بتایا جاتا ہے لیکن یہ صحیح نہیں ہے، اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ منصوب بنزع...
*ارتداد اور اس کے اسباب*
تلخیص خطبۂ جمعہ
(خطیب وملخص؛ ہدایت اللہ فارس)
آسان الفاظ میں ارتداد کہتے ہیں کسی شخص کا دین اسلام کو ترک کردینا، پھر چاہے وہ کسی اور مذہب کو اختیار کرے یا لادینی بن جائے۔
آج دنیا میں مغربی تہذیب (Western civilizati یا Western culture) سے متاثر افراد کے...
عبدالقادر یا عبد القادر اسی طرح سے ابواسماعیل یا ابو اسماعیل؟!
مرکب اسماء کو کیسے لکھنا چاہیے آئیے جانتے ہیں
================================
مضاف ومضاف الیہ سے مل کر بنے اسماء کو لکھنے کا کیا طریقہ ہے، آیا دونوں کے درمیان فاصلہ رکھا جائے یا دونوں کو متصل لکھا جائے
مثلا: عبد الرحمن یا عبدالرحمن...
بہت سارے لوگوں کو دیکھا گیا ہے کہ وہ حرف عطف واو اور معطوف کے درمیان فاصلہ رکھ دیتے ہیں
اسی تعلق سے یہ چند سطور آپ کی نظر کررہا ہوں کہ آیا دونوں کے بیچ فاصلہ درست ہے یا نہیں
پہلی چیز یہ یاد رہے کہ "حرف عطف واو" حروف معانی میں سے ہے
حروفِ معانی ان حروف کو کہتے ہیں جو جملے میں داخل ہوکر معنی میں...
مشكلة الشر کا مسئلہ
___________________________________
مشکلۃ الشر عربی کے دو لفظوں سے مرکب ایک اصطلاح ہے جسے انگلش میں Problem of evil کہا جاتا ہے، یہ مبحث "ثيوديسيا" (Theodicy) کے تحت داخل ہے جو دو یونانی لفظوں پر مشتمل ایک کلمہ ہے جس کی اصل ثیوس بمعنی الہ اور دکی بمعنی عدل ہے، یعنی معبود کا...
مشكلة الشر کا مسئلہ
مشکلۃ الشر عربی کے دو لفظوں سے مرکب ایک اصطلاح ہے جسے انگلش میں Problem of evil کہا جاتا ہے، یہ مبحث "ثيوديسيا" (Theodicy) کے تحت داخل ہے جو دو یونانی لفظوں پر مشتمل ایک کلمہ ہے جس کی اصل ثیوس بمعنی الہ اور دکی بمعنی عدل ہے، یعنی معبود کا عدل۔
اس کلمہ کا ظہور پہلی مرتبہ...
الحمدلله رب العالمين والصلاة والسلام على نبينا محمدﷺ
وبعد
محترم قارئیں!
اصلاح معاشرہ ایک خوبصورت عنوان اور دو لفظوں کی حسین و دلکش تعبیر ہے
معاشرہ کا لفظ سنتے ہی معاشرے کی وہ تمام برائیاں خواہ شرک و بدعات کی شکل میں ہوں یا سود کرپشن، جوا، شراب نوشی، زناکاری، جھوٹ، جگل خوری، غیبت، جھگڑا فساد...
استاد عقیدہ شیخ صالح بن عبدالعزيز بن عثمان سندي حفظہ اللہ فرماتے ہیں:
کہ فتنوں کے اس دور میں خود کو شکوک وشبہات سے دور رکھنے کے جہاں بہت سارے مؤثر طریقے ہیں ان میں ایک یہ بھی کہ بعض کتابوں کو آپ اپنا دوست بنا لیں، ہمیشہ ان کتابوں کو اپنے قریب رکھیں اور پابندی کے ساتھ مطالعہ کرتے رہیں، جب ختم...
قرآن مجید بابرکت کتاب ہے
------------------------------------------------------
اللہ تعالی کا ارشاد ہے:
وَهَـٰذَا كِتَـٰبٌ أَنزَلۡنَـٰهُ مُبَارَكࣱ فَٱتَّبِعُوهُ وَٱتَّقُوا۟ لَعَلَّكُمۡ تُرۡحَمُونَ
( الانعام : ١٥٥)
اور یہ ایسی کتاب ہے جس کو ہم نے نازل کیا ہے یہ خیر وبرکت والی ہے. سو اس کی...
قارئین کرام!
جب کبھی کوئی تکلیف دہ یا ضرر رساں بات پردۂ سماع سے ٹکرائے خواہ وہ زوجین میں سے کسی کی طرف سے ہو یا بھائی بہن یا پھر والدین کی طرف سے ہو یا کسی قریبی رشتے دار یا غیر رشتے دار ہی کی طرف سے ہو اور اس سے دل میں کوفت وتکلیف محسوس ہو اور نفس کو مجروح کرنے کا باعث بنے لیکن اس کے باوجود آپ...
قارئین کرام!
واقعہ یہ بیان کیا جاتا ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا کی سوئی گم ہو گئی تو آپ رضی اللہ عنہا اس کو ڈھونڈنے لگیں، رات کا وقت تھا سوئی ان کو نہ مل سکی، اسی اثنا میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو ان کے نور کی وجہ سے وہ سوئی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو مل...
اگر جملہ جزائیہ کو حصر کے انداز میں، جملہ اسمیہ کی صورت میں لایا جائے تو ثبوت اور استمرار کا فائدہ دیتا ہے۔
جیسا کہ اللہ کا فرمان ہے:
فَمَن ثَقُلَتۡ مَوَ ٰزِینُهُۥفَأُو۟لَـٰۤىِٕكَ هُمُ ٱلۡمُفۡلِحُونَ
(من) شرطیہ ہے اور (فَأُو۟لَـٰۤىِٕكَ هُمُ ٱلۡمُفۡلِحُونَ) جواب شرط ہے۔
(ھم) ضمیر فصل ہے جو...
قارئین کرام!
اس بات سے ہم مسلمان اچھی طرح واقف ہیں اور ہمارا اس پر قوی اعتقاد ہے کہ اللہ تعالی کے لیے کوئی چیز مشکل نہیں (إن الله على كل شيء قدير)، لیکن اس کا غلط فائدہ نکال کر اللہ تعالی یا اس کے رسولﷺ کی طرف کسی ایسی چیز کو منسوب کردینا جس کا تعلق کتاب وسنت سے نہیں ہے تو یہ اللہ اور اس کے رسول...
کیا آپ نے کبھی غور کیا
لفظ "ھنيئا" قرآن مجید میں کل چار مرتبہ آیا ہے، ایک مرتبہ دنیا کے سلسلے میں اور باقی تین مرتبہ آخرت کے سلسلے میں۔
وہ آیت جو دنیا سے متعلق ہے اس میں (هنيئا) کے ساتھ صفت "مريئا" کا بھی ذکر ہے اور یہ سورہ نساء میں ہے:
فَكُلُوهُ هَنِیۤـࣰٔا مَّرِیۤـࣰٔا
جبکہ وہ آیات جو آخرت سے...
♦️مصدر کبھی کبھی فعل متعدی جیسا عمل کرتا ہے پھر اس کے لیے فاعل اور مفعول بہ بھی ہوتے ہیں جیسے آیت کریمہ : یَـٰقَوۡمِ إِنَّكُمۡ ظَلَمۡتُمۡ أَنفُسَكُم بِٱتِّخَاذِكُمُ ٱلۡعِجۡلَ....
" إتخاذ " مصدر یہ مضاف ہے اپنے فاعل کی طرف اور وہ ہے " کُم" ، اور " العجل " مفعول بہ ہے۔
♦️اسی طرح سے کبھی کبھی...
حادث کی جمع حوادث آتی ہے أحداث نہیں
حادث اور حدث دونوں ایک دوسرے کے مترادف ہے لیکن ہر ایک کے لئے الگ الگ جمع ہے۔ لہذا ہم "حدث جسیم" کی جمع أحداث جسام کہیں گے اور " حادث جسیم " کی جمع حوادث جِسام ۔
رشوة كى جمع "رشاََ" ہے رشاوی یا رشاوِِ نہیں۔ رشوة یہ فِعلة کے وزن پر ہے( را پہ ضمہ وفتح بھی...
عدد و معدود سے متعلق ایک قاعدہ
___________________________________
سو سے اوپر کے اعداد کی ترتیب میں پہلے سب سے بڑا عدد پھر کم کرتے ہوئے سب سے چھوٹا عدد استعمال کرتے ہیں جب عدد کے ساتھ تمیزکا بھی ذکر ہو تو۔۔ مثال کے طور پر "ایک ہزار سات سو سات لڑکے " کہنا ہو تو کہیں گے "الف وسبع مائة وسبعة...
مضاف اور مضاف الیہ میں گہرا تعلق ہو تو مضاف کو مفرد و جمع دونوں طرح سے لانا درست ہے
پہلے کی مثال جیسے: وإن تعدوا نعمت الله لا تحصوها
یہاں لفظ نعمہ مفرد اور مضاف ہے جوکہ بہت ساری نعمتوں پر مشتمل ہے،جن کا شمار ناممکن ہے۔
( ہماری بحث اس سے نہیں کیوں کہ یہ قاعدہ تو بالکل معروف و مشہور ہے کہ مفرد...
جمع اور اسم جمع میں فرق یہ کہ جمع کے لیے مفرد کا ہونا ضروری ہے خواہ مِنْ لَفْظِہ ہو یا مِنْ غَیْرِ لَفْظِہ ہو، جبکہ اسم جمع وہ ہے جو جمع کا معنی تو دے مگر اس کا لفظا کوئی واحد نہ ہو۔ جیسے: قَوْمٌ، رَھْطٌ، ابل، نساء وغیرہ۔
قرآن مجید میں اس کی مثالیں موجود ہیں۔
أَفَلَا یَنظُرُونَ إِلَى ٱلۡإِبِلِ...
لم اور لمّا میں فرق
1۔ لم کی نفی میں زمانہ ماضی کا استغراق نہیں ہوتا ہے اور "لماّ" کی نفی میں استغراق ہوتا ہے یعنی لم زمانہ گذشتہ میں فعل کی نفی کرتا ہے۔پر یہ نہیں بتاتا کہ وہ نفی اب تک ہے یا ختم ہوگئی۔ اور لماّ اس بات کو بتاتا ہے کہ جس وقت سے فعل کی نفی ہوئی تھی وہ نفی اب تک باقی ہے ختم نہیں...