الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
اور جو اپ نے مجھ پر یہ رافضی اور چھوٹے ہونے کا الزام لگایا ہے اس کے لئے یہ پڑھ لیں
امام ابن تیمیہ نے میں یزید کو فاسق کہا ہے
أَنَّ الْقَوْلَ فِي لَعْنَةِ يَزِيدَ كَالْقَوْلِ فِي لَعْنَةِ أَمْثَالِهِ مِنَ الْمُلُوكِ الْخُلَفَاءِ وَغَيْرِهِمْ، وَيَزِيدُ خَيْرٌ مِنْ غَيْرِهِ: خَيْرٌ مِنَ...
اپ کی آخری بات میں نے جہالت کی وجہ سے امام بخاری کے قول کو غلط سمجھا ہے اور بقول اپ کے اس میں امام بخاری عامر بن مسعود اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے انقطاع بتایا ہے
اپ کی معصومیت پر ہنسی آتی ہے موصوف اگر تاریخ الکبیر کا تھوڑا بہت مطالعہ کر لیتے تو یہ نہ ہوتا امام بخاری کی پوری کتاب میں یہی...
اور رہی اس کے البانی صاحب کے اصول پر ثقہ ہونے کی تو یہ اپ کی غلط فہمی ہے البانی صاحب متعدد ثقہ سے روایت کرنے والے کو ثقہ مانتے تھے صرف دو راوی جس سے روایت کریں اس کو ثقہ نہیں مانتے تھے اور دو راوی متعدد نہیں ہوتے اور نمیر البانی صاحب کے نذدیک خود مجہول ہے جیسا میں نے نقل کیا تھا اگر یہ نمیر...
اپ نے لکھا کہ یہ ایک ہی راوی ہے جبکہ میں دونوں کے تراجم اگ الگ پیش کر چکا عامر بن مسعود الرزقی کا نام عمار بن سعد یا سعد بن عمار ہے اور یہ شامی تھے اور جمہور محدثین نے ان کو الگ ہی مانا ہے اوران کے تراجم بھی الگ نقل کیے ہیں چند پیش ہیں
عامر بن مسعود بن أمية بن خلف الجمحي.
• قال أبو داود: قلت...
دوسری بات اپ کو اس کا ثبوت چاہئے عامر بن مسعود جس وقت کوفہ میں تھے اس وقت انہوں نے یہ روایت بیان کی ہے
اس کی دلیل یہ ہے کہ عامر بن مسعود کا 65 ہجری کے بعد کوفے میں رہنا ہی ثابت ہے جیسا سنابلی صاحب نے اپنی کتاب میں اس روایت کی تحیقیق میں نقل کیا ہے اور اس کی دلیل یہ ہے
سمعت مصعباً الزبيري يقول...
ہم طفل مکتب ہیں اور آپ بحر علم ہیں مگر اس(علمی) میدان میں دلیل کی اہمیت ہے اور دلیل آپ نے کوئی پیش نہیں کی میں درج ذیل علتوں کی وجہ سے اس روایت کو ضعیف کہا تھا۔
(1) عامر بن مسعود مجہول الحال ہے ۔
(2) عبدالرحمن بن معاویہ اور عامر بن مسعود کی ملاقات ثابت نہیں ہے۔
اس کے دلائل میں نے دیئے جس پر آپ...
حدثنا خلف حدثنا عبد الوارث بن سعيد عن سعيد بن جمهان عن سفينة مولى أم سلمة أن النبي صلى الله عليه وسلم كان جالسا فمر أبو سفيان على بعير ومعه معاوية وأخ له ، أحدهما يقود البعير والآخر يسوقه، فقال رسول الله صلى عليه وسلم: لعن الله الحامل والمحمول والقائد والسائق
سفینہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ...
رہی بات جبر سے بیعت کرنے کی امام ذہبی نے یہی لکھا ہے کہ بادشاہ وقت کے سامنے ہار کر حسین اور ابن زبیر رضی اللہ عنھما نے بیعت کی تھی بہرحال میرا مدعا صرف ابن عمر رضی اللہ عنہ کا اصل موقف بیان کرنا تھا
آپ اس سے جو بھی باتیں اخذ کریں وہ آپ کے ذمہ ہے
آپ کی مراد اگر اس سے یہ ہے کہ یزید کا نام لے کر اس کو کسی حدیث میں فاسق کہا ہے تو موصوف کو چاہیے کہ پھر حدیث مغفور لھم (قسطنطنیہ) میں بھی یزید کا نام پیش کریں(ویسے بھی یہ بات ثبوت کو نہیں پہنچتی کہ یزید اول جیش میں تھا)
جو احادیث میں نے پیش کی ہیں ان سے آئمہ نے یزید کا ہی تعین کیا ہے
جھوٹ کے پلندے کو میں کئی بار پڑھ چکا ہوں دوسری بات اس کتاب میں صحیح سند سے حوالے پیش کرنے کا دعوی ہے آپ نے اجماع ِ صحابہ کرامؓ کی بات کی ہے میں آپ سے صرف 3 صحابہ کرامؓ سے صحیح سند سے بیعت یزید ثابت کر دیں
یزید کی بیعت ان میں سے کسی نے بھی معاویہ رضی اللہ عنہ کی وفات تک نہیں کی بلکہ ابن عمر رضی اللہ عنہ نے یزید کی بیعت کو دین کا سودا بتایا
" أَخْبَرَنَا عَارِمُ بْنُ الْفَضْلِ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ مُعَاوِيَةَ بَعَثَ إِلَى ابْنِ عُمَرَ...
اگر آپ تعین مانتے ہبں تو یوں ہی سہی اس پر موصوف کا دعوی کہ تعین باطل ہے جبکہ امت کے اکابرین نے ان احادیث سے یزید کا تعین کیا ہے چنانچہ البدایہ والنھایہ میں یزید کے حالات کے تحت لکھتے ہیں
اس میں یزید کو نماز کا تارک بتا کر دلیل کے طور پر فرمان نبی صلی اللہ علیہ وسلم پیش کر کے اس سے یزید کا...
آپ اس میں ارسال ثابت کردیں
اسی طرح ثور بن یزید کے بارے میں کیا فرمائیں گے جو علی رضی اللہ عنہ سے بغض رکھتا تھا اسی نے یزید کی مغفورلھم والی روایت بیان کی ہے
اس کو جمہور نے ثقہ کہا ہے ایک جرح سے کوئی فرق نہیں پڑتا