الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
صحیح احادیث پر ایمان واجب ہے۔
مردہ بولتا ہے لیکن ہم اس کا مشاہدہ نہیں کر سکتے اسی طرح سوال و جواب کے وقت روح لوٹائی جاتی ہے جس کا مشاہدہ ہمارے لیے ممکن نہیں۔
مردہ جوتوں کی چاپ سنتا ہے لیکن لوگوں کی التجا کو نہیں کیوں کہ جتنا حدیث میں ہے ہم اتنا ہی ماننے کے پابند ہیں۔
نبی اکرم ﷺ کے سلام کا جواب...
یہ تو ابن رجب حنبلیؒ نے بھی لکھا ہے جن کا حوالہ بڑے زوروشور سے آپ نے دیا تھا کہ آپ کو اس میں اپنے مطلب کی بات نظر آئی تھی حالاں کہ انھوں نے اس کا رد کیا تھا اور آپ نے وہ موقف ابن رجب کے ذمہ لگا دیا؛اب بتلائیں وہ جہالت تھی یا خیانت یا دونوں ہی؟؟
یہی تو آپ کی جہالت ہے؛اللہ نے اپنا یہ قانون کہاں بیان فرمایا ہے کہ
اگر آپ یہ کہیں کہ اس کی کیا دلیل ہے کہ بنا روح کے صرف جسم کو عذاب ہوتا ہے تو ہم یہ عرض کریں گے کہ جسم کو عذاب کی دلیل تو حدیث شریف میں موجود ہے لیکن اس میں روح کی موجودگی کی صریح دلیل موجود نہیں او ر جس کا یہ دعویٰ ہو دلیل اس...
بالکل درست، قبروں میں مدفون مردے ہیں، وہ زندہ نہیں ،انھیں پکارنے والوں کی کوئی خبر نہیں؛اس پر ہمارا ایمان ہے لیکن
یہ بھی تو سمجھیں کہ جس پیغمبر اعظم ﷺ پر یہ قرآنی آیات نازل ہوئیں اسی کا یہ بھی ارشاد ہے کہ سوال و جواب کے وقت روح مردہ کے جسم میں لوٹائی جاتی ہے اور اسی زمینی قبر میں اس پر عذاب...
بھائی پہلے آپ مسئلہ سمجھ تو لیں:
فوت شدگان اب دنیوی زندگی کے ساتھ قبروں میں موجود نہیں بل کہ وہ برزخی زندگی ہے۔
حدیث صحیح میں جہاں روح لوٹانے کا ذکر ہے وہ بھی دنیا کی طرح نہیں۔
موجودہ دنیوی جسم بھی عذاب و ثواب کا محل ہے؛اب روح اور جسم میں ایک تعلق کی نوعیت سے ہو یا روح سے بالکل علاحدہ طور پر،یہ...
روح لوٹانے کا ذکر سوال و جواب کے وقت ہے عذاب کے وقت نہیں۔
اگر یہ کہا جائے کہ عذاب کے وقت روح جسم میں موجود ہوتی ہے یا روح اور جسم میں ایک تعلق ہوتا ہے تو اس سے یہ دنیوی تعلق ہر گز مراد نہیں ہوتا ،اس لیے شرک کا اندیشہ بھی نہیں۔
میں نے پہلے بھی کہا ہے کہ آپ خود سمجھ نہیں سکتے علمی باتوں کو؛جو آپ نے ابن رجب حنبلی کا حوالہ پیش کیا تھا اس میں بھی یہ قول موجود ہے کہ روح اور جسم کو الگ الگ عذاب ہوتا ہے؛اس میں کیا مسئلہ ہے؟؟ اللہ ہر شے پر قادر ہے۔
صفحہ 103 پر دیکھیں آخری پیرا قال القاضی۔۔۔الخ
یہ ہے وہ غلط فہمی جس کی بنا پرجسد عنصری کو زمینی قبر میں عذاب و ثواب کا انکار کیا جا رہا ہے حالاں کہ علماے اہل حدیث اس کو بھی مانتے ہیں اور شرک سے بھی محفوظ و مجتنب ہیں لیکن منکرین اس پر غور کی زحمت گوارا نہیں کرتے۔
موجودہ جسم میں روح کا لوٹایا جانا اس طرح نہیں ہے جیسا موجودہ زندگی میں ہے؛اسی طرح موجودہ جسم کو عذاب و ثواب جو ہوتا ہے اس میں ایک تو یہ ضروری نہیں کہ اس میں روح موجود ہو کیوں احادیث میں صراحتاً اس کا ذکر نہیں اور نہ ہی تعلق بالجسد کے الفاظ حدیث میں آئے ہیں؛بالفرض تعلق روح بالجسد مانا بھی جائے...
اگر یہ صاحب بھی عذاب و ثواب قبر کو موجودہ انسانی جسم اور روح دونوں سے متعلق نہیں مانتے اورقبر سے زمینی قبر مراد نہیں لیتے تو یقیناً گم رہی میں مبتلا ہیں۔
آپ بتلائیں کہ کیا آپ اس حدیث کو مانتے ہیں یا نہیں؟؟آپ تو اسے خلاف قرآن قرار دیتے ہیں!
احناف کا یہ فتویٰ صریح ضلالت ہے لیکن تمام حنفی اسے نہیں مانتے بل کہ بہت سے صراحتاً اس کی تردید کرتے ہیں۔
قاہرالارجاءوالخوارج!بے حد شکریہ
فضائل القرآن کے محولہ بالا صفحے پر نیچے حاشیے میں لکھا ہے کہ عطاؒ کا بھی یہی قول ہے یعنی مس مصحف کے لیے وضو واجب نہیں اور حضرت سعید بن جبیرؒ کے متعلق مرقوم ہے کہ وہ بغیر وضو مصحف سے تلاوت کرتے تھے جس سے بہ ظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ وہ بھی مصحف چھونے کے لیے وضو...