الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
اردو میں اس موضوع پر ایک کتاب ہے:ظہور مہدی؛ایک اٹل حقیقت مصنف:شیخ محمد منیر صاحب قمر بہت اچھی کتاب ہے۔ محمود عباسی ناصبی تھے اس لیے ان کی کتابوں پر اعتماد مناسب نہیں۔
میں نے اپنے لیے اسکین کرائی تھی۔رشید سے پتا کریں؛ان کے پاس ہو گی ورنہ مجھ سے لے لیں۔مولنا حنیف ندوی کے طرز تحریر کا میں بہت مداح بل کہ عاشق ہوں تاہم فکری اعتبار سے بہت تحفظات ہیں۔مجھے حیرانی ہوئی کہ ان کی تفسیر کے تعارف میں ہند کے کسی عالم نے دیکھے بغیر ہی اسے منہج سلف سے ہم آہنگ ہونے کی سند دے...
سوال یہ ہے کہ نظام سے کیا مراد ہے؟؟اگر تو کسی بھی شعبے کی تمام تر جزئیات اور تفصیلات کا نام ہی نظام ہے تو بے شبہ اسلام میں تمام جزئیات الفاظ کی صورت میں موجود نہیں البتہ بالقوہ وہ بھی موجود ہیں لیکن انھیں اجتہاد و استنباط سے معلوم کیا جاتا ہے اسی لیے ان میں ارباب علم و فقہ کا اختلاف بھی ہو جاتا...
آپ یہ بتائیں کہ دین اور مذہب کی جو تفریق آپ نے کی ہے، کیا یہ تفریق شریعت میں موجود ہے؟؟میں صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ جس چیز کو آپ مذہب کہہ رہے قرآن نے اسے بھی دین ہی کہا ہے تو یہ فرق کہاں سے آگیا؟؟
میرا خیال ہے بحث موضوع سے ہٹ چکی ہے؛یاجوج ماجوج ظہور مہدی اور خروج دجال علاحدہ موضوعات ہیں جب کہ اس دھاگے کا اصل موضوع یہ نکتہ ہے کہ شیخ محمد اور شاہ ولی اللہ رحمہمااللہ میں کون بڑا مجدد ہے؟میرے خیال میں عقیدہ توحید کی شرح و وضاحت اورردشرک و بدعات میں شیخ محمد علیہ الرحمۃ کا کام بہت شان دار ہے،...
کسی بھی شخصیت کی آرا سے اختلاف ہو سکتا ہے لیکن اس ضمن میں علمی اسلوب اپنانا چاہیے۔مجھے بھی ڈاکٹر صاحب مرحوم کی کئی رایوں سے اختلاف ہے لیکن میں اس انداز گفت گو کو مناسب نہیں سمجھتا جو یہاں بعض احباب نے اپنایا ہے۔اختلاف کو علمی بحث و نظر تک محدود رکھنا چاہیے۔
بھیا درست تصور کے لیے تعبیر بھی درست ہونی چاہیے؛اس کے لیے دین حق اور دین باطل ،یا حقیقی و کامل اور ناقص مذہب یا اس سے ملتے جلتے الفاظ استعمال کرنا چاہییں ،نہ کہ سرے سے لفظ مذہب ہی کو ہدف تنقید بنا لیا جائے؛میری گزارش سے یہی مقصود تھا۔جزاکم اللہ خیرا
ایک وقت تک میں بھی یہی سمجھتا تھا؛مولانا مودودی ، داکٹر اسرار مرحوم اور پرویز صاحب کی تحریروں میں اس کا بہت چرچا ہوتا ہے؛لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس میں کوئی وزن نہیں۔سوال یہ ہے کہ اس فرق کی بنیاد کیا ہے؛لغت یا شریعت؟دونوں ہی سے اس کو ثابت نہیں کیا جا سکتا۔قرآن کو دیکھیے تو وہ یہودیت، عیسائیت،مجوسیت...
راجا صاحب یہ بہت اچھا سوال ہے؛میرے ذہن میں اس حوالے سے ایک عملی پروگرام ہے؛آپ ایک الگ دھاگہ شروع کریں،بہ عنوان عصر حاضر میں قیام خلافت کا عملی طریق کار؛وہاں اس پر بحث ہونا چاہیے۔
شریعت کے مطالعے سے یہ بات بالکل واضح طور پر سامنے آتی ہے کہ اگر شر کو بالکل ختم کرنا ممکن نہ ہو تو اس کو کم کرنے کی کاوش بہ ہر حال ضروری ہے؛بنا بریں ایسے لوگوں کو لازما ووٹ دینا چاہیے جن کے برسراقتدار آنے سے شر میں کمی کے امکانات موجود ہوں بہ صورت دیگر شر کی قوت میں اضافہ ہوگا۔واللہ اعلم
جی ہاں تکفیر معین اس وقت ہو گی جب نام لے کر کسی کو کافر یا مرتد کہا جائے گا۔مزید تفصیل کے لیے درج ذیل لنک کا مطالعہ کریں۔
تكفير المعين وإطلاق القول بالتكفير
امام ابن تیمیہ علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں:
والإنسان متى حلل الحرام المجمع عليه ، أو حرم الحلال المجمع عليه ، أو بدل الشرع المجمع عليه ، كان كافرا مرتدا باتفاق الفقهاء (مجموع الفتاوى 3/267)
اس سلسلے میں شرعی حکم تو واضح ہے کہ خدا کے حرام کردہ امور کو حلال ٹھیرا لینا کفر اکبر ہے بہ طور خاص جب اس میں کوئی فقہی نوعیت کا اختلاف بھی نہ ہو یعنی اس کی حرمت پر علماے امت کا اجماع و اتفاق ہو۔یہ مسئلہ یقینی طور پر ضروریات دین میں شامل ہے یعنی اس کی حرمت اس درجہ شہرت و بداہت کے ساتھ ثابت ہے کہ...