الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
اب بتائیے کوئی شخص ان مستند حوالہ جات کی موجودگی میں وحید الدین خان کی رائے سے جو اس کی ساختہ پرداختہ ہے، اتفاق کرسکتا ہے؟ موصوف مذکورہ بالا حضرات سے اپنے آپ کو شاید زیادہ باخبر، اور ثقہ سمجھتے ہیں اور اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ ان کی ہر غلط بیانی کو ’حقیقت‘ سمجھ کر قبول کر لیا جائے گا۔ چونکہ...
1۔کعب بن اشرف کا واقعہ
وحید الدین خان نے علامہ ابن تیمیہ کی اس رائے کہ کعب بن اشرف یہودی کو شتم رسول کی بنا پر قتل کیا گیا، کو قبول نہیں کیا۔ وہ ابن تیمیہپر تنقید کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’ابن تیمیہ نے زمانہ رسالت کے کچھ واقعات جمع کئے ہیں جب کہ کسی کو قتل کیا گیا۔ انہوں نے لکھا ہے کہ یہ سب...
سوئے تاویل ، غلط بیانی اور حقائق کا ’قتل‘
وحید الدین خان نے مضحکہ خیز اِستدلال اور سوئے تاویل کے علاوہ اپنی کتاب کے بعض مقامات پر واضح طور پر غلط بیانی اور حقائق کو مسخ کرکے پیش کیا ہے۔ بعض صورتوں میں وہ مختلف اُمور اور اَحکامات کے متعلق فرقِ مراتب قائم نہیں رکھ سکے۔اس حصہ میں ان کی ژولیدگی ٔ...
قرآنِ مجید میں دیگر دو اَہم معاملات میں بھی ’سزائے موت‘ کا واضح ذکر موجود نہیں ہے۔ مگر ان کے متعلق جمہور علماء کا اِتفاق رائے ہے کہ ان جرائم کی سزا موت ہے۔ ایک تو معاملہمحصن زانی کے رجم کا ہے۔ چونکہ اس کا ذکر قرآن مجید میں نہیں مگر اَحادیث میں متواتر یہ احکامات ملتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دورِ جدید...
قرآن میں عدمِ تذکرہ دلیل انکار نہیں
وحید الدین خان نے قتل شاتم سے اِنکار کی ایک ایسی دلیل پیش کی ہے جوبالعموم منکرین حدیث کی طرف سے پیش کی جاتی ہے۔ یعنی اگر کسی بات کا قرآن مجید میں صریحاً ذکر موجود نہیں ہے تو اس کا انکار کر دیا جائے۔ یہ بہت بڑا فتنہ ہے جس کی نشاندہی اور مضمرات علماء کرام نے...
تبصرہ
مولانا وحید الدین خان خود لکھتے ہیں:
’’یہ صحیح ہے کہ فقہا اسلام کی اَکثریت اس رائے پر ہے کہ شاتم رسول کی سزا قتل ہے‘‘ (ص: ۵۶۔۱۲۳)ایک اور جگہ پر ایسی ہی رائے کا اظہار کرتے ہیں: ’’تاہم قتل شاتم کے بارہ میں یہ کہنا صحیح نہیں کہ اس پر علمائِ اُمت کا اِجماع ہے۔ زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ یہ کہا...
(iii) وحید الدین خان نے ابن تیمیہؒ کی کتاب پر مفصل تبصرہ کیا ہے او رہر بات کومحض ’لغو‘ کہہ کرجھٹلانے پر ہی اکتفا کیا ہے۔
اَحادیث کی کتابوں میں اِہانت رسول پر قتل کے متعلقوارد شدہ واقعات کے مطالعہ سے وحید الدین خان کے درج ذیل بیانات کو غورپڑھنے سے یہ فیصلہ کرنا کوئی مشکل بات نہیں کہ ان کا...
(ii) قتل عمد کی اسلام میں سزا موت ہے، لیکن اگر مقتول کے ورثا بعض مصلحتوں کی بنا پر قاتل سے صلح کرکے اسے معاف کردیں تو اسلامی ریاست اس قاتل پر سزائے موت کو نافذ نہیں کرسکتی۔ کیا ایک قاتل کومقتول کے ورثا سے اس طرح کی معافی کا ملنا اس کے لئے ہر بار قتل کی واردات میں معافی کا لائسنس سمجھا جاسکتا ہے؟...
5۔ وحید الدین خان نے سیرت ِنبویﷺسے ایسے واقعات ڈھونڈ نکالنے پر سارا زور ِتحقیق صرف کیاہے جن میں بوجوہ گستاخانِ رسول کو قتل نہیں کیا گیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ عبداللہ ابن اُبی جیسے بعض گستاخانِ رسول جو قتل کئے جانے کے مستحق تھے، ان کی گستاخیاں اس سزا کے جواز کو کافی تھیں، مگر ان افراد کو ملنے...
2۔ شاتم رسول کی سزائے موت سے اِنکار براہ ِراست توہین رسالت پر بھی منتج ہوگا۔ وہ اس لئے کہ اگر اسلام میں اس جرم کی سزا موت نہیں تھی تو حضورِ اکرمﷺنے نعوذ باللہ ثم نعوذ باللہ۔ ایسے واقعات کے مقتولین کو مباح الدم قرار دے کر گویا عدل کے تقاضوں کوپورا نہیں فرمایا۔ اور آپؐ کی حیثیت نعوذ باللہ ایک...
پوائنٹس
1۔ معروف فقہا اور محدثین نے سنت کی تعریف میں ’تقریر‘ کو بھی شامل فرمایاہے۔ ’تقریر‘ کا عام مفہوم یہ ہے کہ رسول اکرمﷺنے کوئی عمل دیکھا یا کوئی بات ان کے نوٹس میں لائی گئی اور آپﷺنے اس پر سکوت فرمایا۔ گویا آپﷺکاسکوت فرمانا ہی آپ کی طرف سے اس عمل کی بالواسطہ منظوری اور تائید تھی۔ شتمِ رسول...
حضور اکرمﷺکی معاف کر دینے کی مصلحت
رسول اللہﷺنے فتح مکہ کے موقع پر عام معافی کے باوجود پندرہ اَشخاص کو اس معافی سے مستثنیٰ فرمایا۔ ان میں سے بعض کو معافی عطا کی گئی اور وہ اسلام لے آئے۔ ان کی اکثریت ایسے لوگوں کی تھی جو سنگین توہین رسالت کے مرتکب ہوئے تھے۔ ان بدبخت لوگوں میں ایک عبداللہ ابن خطل...
عاص بن وائل ایک کافر شخص تھا اور اس نے جس وقت یہ بات کی تھی وہ رسول اکرمﷺکی زندگی کا مکی دور تھا۔ ابھی اسلامی نظام قائم نہیں ہوا تھا۔ لوگوں پر اسلام کی تعلیمات کی عظمت بھی واضح نہیں ہوئی تھی۔ بھلا چودہ سو سال کے بعد کے رشدانی ہفوات اور حضور اکرمﷺ کی نبوت کے پہلے چند سال کے واقعات کو برابر قرار...
6۔ رسول اکرم ﷺ کو اَبتر کہنا
العاص بن وائل قدیم مکہ کا ایک مشرک سردار تھا، وہ آپﷺ کو اَبتر یعنی لاوارث ہونے کا طعنہ دیتا تھا، کیونکہ آپﷺ کی نرینہ اَولاد کوئی نہیں تھی۔ وہ لوگوں سے کہتا کہ انہیں چھوڑو وہ تو ایک اَبترشخص ہیں ان کے بعد ان کا کوئی وارث نہیں۔ جب وہ ختم ہوں گے تو ان کا ذکر بھی ختم...
طائف کا اَذیت ناک واقعہ آپﷺ کو اس وقت پیش آیا جب اسلام میں ابھی چند لوگ ہی داخل ہوئے تھے۔ یہ طائف کے لوگوں کی طرف سے اجتماعی گستاخی تھی۔ اگر آپ پسند کرتے تو فرشتہ کو اس قوم کو تباہ کرنے کی اِجازت دے کر ان کی گستاخی پر سبق سکھا سکتے تھے مگر اس میں یہ خدشہ تھا کہ مجرموں کے ساتھ بے قصور لو گ بھی پس...
5۔ طائف کے سفر کے دوران آپﷺ کو ملنے والی اذیت
وحید الدین خان نے رسول اکرمﷺکے طائف کے سفر کا ذکر تین صفحات میں پھیلایا ہے اور طائف کے سرداروں نے جو آپﷺکے ساتھ برا سلوک اور گستاخی کی اس کا مفصل تذکرہ کیا ہے اور پھر بتایا ہے کہ طائف کے قبیلہ بنو ثقیف سے ہی بعد میں لوگ اسلام لائے۔ بالخصوص محمد بن...
اب بتائیے اس طرح کی شرمساری اور ندامت کے ساتھ پیش ہونے والے ایک نوجوان بہادر سردار عکرمہ اور ملعون رُشدی میں کیا مماثلت ہے۔ جو اپنی حرامزدگی اور دریدہ دہنی پر شرمسار تو کجا، الٹا نخوت، ڈھٹائی اور سرکشی میں مبتلا ہے۔ دس سال گزرنے کے بعد آج تک اس نے ایک بھی حرف ِندامت اَدا نہیں کیا۔ عکرمہ تو خوش...
اس کے علاوہ چند اور وجوہات بھی تھیں جن کی بنا پر عکرمہ کو معافی کا مستحق ٹھہرایا گیا اور ان کا ذکر خود وحید الدین خان کی کتاب میں موجود ہے۔ وہ یہ تھیں:
1۔ عکرمہ کی بیوی ایمان لے آئی تھیں اور بحیثیت ِمسلمان کے انہوں نے اپنے کافر شوہر کی امان طلب کی تھی، جو عام اصول کے تحت انہیں دے دی گئی۔
2۔...
وحید الدین خان کتاب کا پیٹ بھرنے کے لئے ایسے واقعات بھی لکھتے چلے گئے ہیں جن کا موضوعِ بحث سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ عکرمہ کا معاملہ درحقیقت عسکری مخالفت کا تھا۔ وہ کفار ِمکہ کے سب سے بڑے سردار یعنی ابوجہل کا بیٹا تھا۔ جنگ لڑنا ایک بہادرانہ فعل ہے چاہے وہ کسی بھی طرف سے لڑی جائے۔ جنگی بہادروں کو...
4۔ عکرمہ بن ابوجہل کو معافی ملنے کی وجہ
وحید الدین خان نے رسول اللہﷺکے ابتدائی مخالفین میں عکرمہ بن ابوجہل کاذکر بے حد تفصیل سے کیاہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ فتح مکہ سے پہلے وہ رسول اکرمﷺکا سخت مخالف تھا اور اپنے باپ ابوجہل کے ساتھ تھا۔ گستاخی اور جارحیت کی کوئی قسم نہ تھی جو اس نے آپﷺکے خلاف اختیار...