الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
جواب معذرت
لیکن آپ نے جتنی جرات کے ساتھ موضوع کے شروع میں پوسٹ کیا ہے اس سے تو نہیں لگتا وہ تو آپ کی احتراز پالیسی کے خلاف لگتا ہے۔ ذرا نظر ثانی فرمائیں!
امام ابوالحسن اشعری کا بھی آخری عقیدہ منہج سلف کے مطابق تھا۔ جیسا کہ ان کی آخری کتاب الابانۃ سے ظاہر ہے ۔ یہ زبردست عبارت ملاحظہ فرمائیے :
وقد قال قائلون من المعتزلة والجهمية والحرورية: إن معنى قول الله تعالى: (الرحمن على العرش استوى) (5 /20) أنه استولى وملك وقهر، وأن الله تعالى في كل مكان،...
امام عاصم کی روایت اختیار کرنے کو تقلید کیسے کہیں گے جبکہ تقلید بغیر دلیل کسی غیر نبی کی بات مان لینے کا نام ہے اور روایت بذاتہ دلیل ہوتی ہے ۔ تقلید روایت میں نہیں اجتہاد میں ہوتی ہے ۔
ائمہ اربعہ میں سب سے اخیر میں امام احمد حنبل کی وفات ٢٤١ ہجری میں ہوئی ۔ جبکہ امام ابوالحسن اشعری کی پیدائش ٢٦٠ ہجری اور وفات ٣٢٤ ہجری اور ابومنصور ماتریدی کی وفات ٣٣٣ ہجری میں ہوئی ۔ لہذا چاروں ائمہ کا اشعری ماتریدی عقائد اختیار کرنے مطلب نہیں سمجھ میں آیا۔
یا ہیں تو بقول آپ کے دیندار نہیں ہیں
کرتے ہیں شب و روز مسلمانوں پر تکفیر
پر کو پے اور دین دار کو دیں دار کردیں تو شاید دونوں مصرعے بحر میں آجائیں ۔ ویسے نقل کہاں سے کیا ہے آپ نے ؟
تو آپ کا یہ جواب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے تائید یافتہ جواب کے مطابق نہیں۔ ملاحظہ فرمائیں:
وکانت لي جارية ترعی غنما لي قبل أحد والجوانية فاطلعت ذات يوم فإذا الذيب قد ذهب بشاة من غنمها وأنا رجل من بني آدم آسف کما يأسفون لکني صککتها صکة فأتيت رسول الله صلی الله عليه وسلم فعظم ذلک علي قلت يا رسول...
الطاف اعظمی صاحب کی یہ کتاب میں نے بھی پڑھی ہے ۔ اس موضوع پر اتنی تفصیل اور کہیں نہیں ملی اب تک۔ کتاب میں ابو زید ضمیر حفظہ اللہ کو پڑھنے دی تھی ۔ اب تک واپس نہیں مل سکی
الطاف اعظمی صاحب کی یہ کتاب میں نے بھی پڑھی ہے ۔ اس موضوع پر اتنی تفصیل اور کہیں نہیں ملی اب تک۔ کتاب میں ابو زید ضمیر حفظہ اللہ کو پڑھنے دی تھی ۔ اب تک واپس نہیں مل سکی
ڈاکٹر اسرار کی ایک تقریر میں نے سنی ہے ۔ اس میں انہوں نے بیان فرمایا کہ بندے کا اپنا ایک مستقل وجود ہے لیکن وہ اللہ کے وجود کے سامنے عدم کی حیثیت رکھتا ہے جیسا کہ اللہ کے صفات کے سامنے بندے کی صفات عدم کے درجہ میں ہے ان کا استدلال استخارہ کی دعا سے تھا۔
فانک تقدر ولا اقدر و تعلم ولا اعلم
لیکن...
ڈاکٹر اسرار کی ایک تقریر میں نے سنی ہے ۔ اس میں انہوں نے بیان فرمایا کہ بندے کا اپنا ایک مستقل وجود ہے لیکن وہ اللہ کے وجود کے سامنے عدم کی حیثیت رکھتا ہے جیسا کہ اللہ کے صفات کے سامنے بندے کی صفات عدم کے درجہ میں ہے ان کا استدلال استخارہ کی دعا سے تھا۔
فانک تقدر ولا اقدر و تعلم ولا اعلم
لیکن...
اہل سنت حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالی عنہ کے خلیفہ اول ہونے کے مدعی ہیں۔
اور
اہل تشیع حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے خلیفہ اول ہونے کے مدعی ہیں ۔
بات صاف ہے اعتصام صاحب؟