الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
وضاحت
ہم نے اجتہاد کے لیے عقلی صلاحیت کی درکاری کا انکار نہیں کیا ۔ پتہ نہیں آپ نے ہماری تحریر مکمل پڑھی نہیں یا اجتہاد کے لیے عقلی صلاحیتوں کا ذکر جو ہم نے کیا ہے آپ نے اسے نظر انداز کردیا۔ دیکھیے ہم نے لکھا ہے ۔
ہم یہ کہتے ہیں کہ اجتہاد کا عمل علم اور عقل دونوں کے اجتماع کے ساتھ وجود...
تعیین مبحث
اجتہاد نسواں کے موضو ع پر گفتگو کرتے وقت مسئلہ کے دو مختلف پہلووں کو مد نظر رکھنا ضروری ہے ورنہ خلط مبحث کا اندیشہ ہے ۔
1. اس مسئلہ کا ایک پہلو ہے واقعاتی اور امکانی ۔اس اعتبار سے بحث اس موضوع پر ہوگی کہ عورتوں میں فقیہ یا مجتہد بننے کی صلاحیت واقعاتی اور امکانی اعتبار سے موجود...
حدیث کی مرفوعا کوئی اصل نہیں ۔
موقوفا یہ روایت نماز کے متعلق ہے۔ زندگی کے تمام شعبوں میں عام کرنے کے لیے دلیل کی ضرورت ہے ۔
کیا آپ انہیں کچن ، سلائی اور بچوں کی طہارت و نظافت کے معاملہ میں بھی پیچھے ہی رکھیں گے اور ساری ذمہ داریاں خود ہی سنبھال لیں گے؟
اجتہاد کے معاملہ میں آپ نے نے بے چاریوں...
عورت چیف آف آرمی یا چیف جسٹس وغیرہ اس لیے نہیں بن سکتی کیونکہ اسلام عورت کے زندگی گذارنے کے لیے جو دائرہ متعین کرتا ہے ان عہدوں کی ذمہ داریاں ان کو اس دائرہ سے باہر لے جاتی ہیں ۔ اگر کسی عورت کے فقیہ یا مجتہد ہونے اسے اسلامی احکامات کی خلاف ورزی ہورہی ہوتو اس کے لیے مجتہد یا فقیہ بننا بھی ناجائز...
حضرت عائشہ کا مجتہدہ ہونا یقینا ایک تاریخی واقعہ ہے اور ان کے مجتہد ہونے پر اجماع ہوجانا ایک شرعی دلیل
حضرت عائشہ کے مجتہد ہونے پر رضیہ سلطانہ وغیرہ کے ملکہ ہونے کو قیاس کرنا قیاس مع الفارق ہے کیونکہ
عورت کی بادشاہت کی ممانعت شرعی نص سے ثابت ہے لیکن اجتہاد کی ممانعت کی کوئی دلیل موجود نہیں...
اگر مذکورہ الزامی جواب سے اطمینان نہ ہوتویہ حدیث پیش کی جاسکتی ہے ۔
مَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ صحيح البخاري (1/ 25)
ہم کہتے ہیں کہ حدیث میں من کے الفاظ عام ہے جو مرد اور عورت دونوں کو شامل ہے ۔ اگر آپ اس سے عورتوں کو مستثنی سمجھتے ہیں تو دلیل آپ کے ذمہ ہے۔
2. جب یہ بات ثابت ہوگئی کہ اجتہاد کا عمل علمی صلاحیتوں متقاضی ہے نہ کہ جنسی خصوصیت اور جسمانی قوتوں کا ۔ لہذا کسی جنس کے لیے اجتہاد کے جواز پر دلیل طلب کرنا ہی فضول ہے ۔
اس سوال کے فالتو ہونے کےلیے یہی بات کافی ہے کہ ہم اس جیسے کچھ اور سوال پیش کردیں ۔
لنگڑے کے مجتہد یا فقیہ ہونے کی کوئی شرعی...
موضوع کے متعلق غور وفکر کرنے کے بعد چند باتیں جو سمجھ میں آئیں عرض کر رہا ہوں ۔ اہل علم سے گذارش ہے کہ آراء سے نوازیں
1. اجتہاد جس عمل کا نام ہے اس کا تعلق جسمانی بناوٹ سے نہیں علم و عقل سے ہے،کسی شخصیت کے مجتہد ہونے اور نہ ہونے کا انحصار اس کی صلاحیتوں اور علم پر ہے نہ کہ اس کے جسمانی بناوٹ...
مزید ملاحظہ فرمائیں :
افتاء
افتا ء یعنی فتویٰ دینے میں حضرت عائشہؓ کا نام سرِ فہرست اور طبقۂ اول میں ہے،حضرت عائشہؓ نے آنحضرت(صلی اللہ علیہ وسلم) کی وفات کے بعد ہی اپنے پدر بزرگوار کی زندگی ہی میں مرجعیتِ عام اور منصب افتاء حاصل کر لیا تھا اور آخر زمانہ تک بقیہ خلفائے راشدینؓ کے زمانوں...
لَا تَحْسَبُوهُ شَرًّا لَكُمْ
موضوع کے متعلق بہت ساری باتیں ذہن میں ہیں جن کے بیان کےلیے مناسب ترتیب کی تلاش ہے ۔ فی الحال ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی کی فقاہت پر سید سلیمان ندوی رحمہ اللہ کی یہ تحریر ملاحظہ فرمائیں
روایت کے ساتھ درایت
لیکن محض روایت کی کثرت ، ان کی فضیلت اور...