الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آسان اور عام فہم انداز میں انٹر نیٹ سے مستفاد ہونے کےلیے جو ذریعہ ہم اختیار کرتے ہیں۔ وہ براؤزر کہلاتا ہے۔ ٹاپ براؤزر میں سے پانچ براؤوزرز کا نام آتا ہے۔۔
Internet Explorer ۔۔۔۔۔ Firefox۔۔۔۔۔۔۔Chrome۔۔۔۔۔۔۔ Safari۔۔۔۔۔ Opera۔۔۔۔۔۔
ان میں سے کروم اور فائر فاکس اچھے ہیں۔۔۔۔۔
اگر آپ انٹر نیٹ...
یعقوب بھائی آپ یہاں کلک کریں۔۔۔ لاگ ان تفصیل شامل کرنے سے پہلے ہی اگر آپ کو لاگ ان فیلڈ کا ایرر شو ہو تو آپ براؤز تبدیل کرلیں۔۔ امید ہے مسئلہ حل ہوجائے گا۔ ان شاءاللہ
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
انا للہ وانا الیہ راجعون
شاہد بھائی ہماری دعا ہے کہ رب کریم جلد از جلد آپ کو مکمل شفا یابی نصیب فرمائے۔اور اس عارضی دنیاوی تکلیف کو بلندی درجات کا سبب بنائے۔ آمین ثم آمین
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
قصوری بھائی ہم آپ کو محدث فورم پر خوش آمدید کہتے ہیں۔ اور رب کے حضور دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو صراط مستقیم کی پہنچان کے ساتھ تاحیات اسی راستے پہ چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین
نسخ کے لیے یقینی دلیل کی ضرورت
بحث کے اختتام پر ہم برادران احناف کی خدمت میں گزارش کریں گے کہ بلا دلیل کسی شرعی حکم کو منسوخ قرار دینا درست نہیں ہے، اس کے لیے کسی یقینی اور مضبوط دلیل کی ضرورت ہوتی ہے۔ امام ابن حزم ترقیم فرماتے ہیں:
ہمیں معلوم ہے کہ قائلین ِنسخ رفع یدین اپنے مدعا پر کچھ دلائل...
18۔ مولانا ظہور الباری اعظمی
مولانا ظہور الباری صاحب اعظمی، دارالعلوم دیوبند، بھارت کے فاضل ہیں۔ انھوں نے ’تفہیم البخاری‘ کے نام سے صحیح بخاری کا ترجمہ اور حواشی تحریر کیے ہیں۔ اس میں موصوف نے رفع یدین سے متعلق اختلاف کو استحباب تک محدود بتلایا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
17۔ مولانا عبدالرؤف علوی
مولانا عبدالرؤف صاحب علوی دیو بند مکتب فکر سے تعلق رکھتے ہیں۔ انھوں نے جامع ترمذی مترجم میں ’خلاصۃ الابواب‘ کے عنوان سے مختصر حواشی لکھے ہیں۔ وہ رفع یدین سے متعلقہ احادیث کے تحت رقم طراز ہیں:
یہاں ہم ایک دلچسپ بات کی جانب ناظرین کی توجہ مبذول کرانا چاہتے ہیں کہ...
16۔ مولانا حافظ محمد حبیب اللہ ڈیروی
ڈیروی صاحب دیوبندی مناظر اور کئی کتابوں کے مولف ہیں۔ اہل حدیث پر تنقید میں بڑے جری اور بے باک ہیں، جس کا شکوہ اس لیے نہیں کیا جاسکتا کہ ان کی تندی قلم سے تو اکابر ائمہ و علما بھی محفوظ نہیں رہ سکے۔ خیر! یہ تو ایک جملہ معترضہ تھا۔ باوجود شدت و تعصب کے...
15۔ جسٹس (ر) محمد تقی عثمانی
جناب جسٹس (ر) مفتی محمد تقی صاحب عثمانی معاصر دیوبندی علما میں جو مقام بلند رکھتے ہیں، اس سے ہر خاص و عام واقف ہے۔ موصوف، مفتی اعظم مولانا محمد شفیع صاحب مرحوم کے فرزندِ ارجمند ہیں۔ اردو، عربی اور انگریزی میں دسیوں تصانیف آپ کے زور قلم اور فکر عمیق کی شاہد ہیں۔...
14۔ مولانا حبیب الرحمن اعظمی (ت1412ھ1992/ئ)
مولاناحبیب الرحمن صاحب اعظمی عالمی شہرت کے حامل ہیں۔ حدیث اور فقہ ان کا خصوصی میدان ہے۔ مسند حمیدی، مصنف عبدالرزاق اور مصنف ابن ابی شیبہ سمیت متعدد کتب احادیث مرحوم کی تخلیق و تعلیق کے ساتھ شائع ہوچکی ہیں۔ مولانا موصوف نے رفع یدین پر بھی ایک مختصر...
13۔ صوفی عبدالحمید سواتی (ت1429ھ/ 2008ئ)
صوفی عبدالحمید صاحب سواتی مرحوم، مدرسہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالا کے بانی و مہتمم اور متعدد کتابوں کے مصنف ہیں۔ حضرت صوفی صاحب بھی رفیع یدین کو منسوخ کے بجاے جائز سمجھتے ہیں۔ نماز کے موضوع پر اپنی کتاب میں انھوں نے لکھا ہے:
12۔ مولانا سید فخر الدین احمد
مولانا فخر الدین احمد صاحب دارالعلوم دیوبند کے صدر المدرسین رہے ہیں۔ رفع یدین سے متعلق ان کے افادات کی روشنی میں ایک رسالہ شائع ہوا ہے، جسے مولانا ریاست علی صاحب بجنوری (استاد حدیث، دارالعلوم دیوبند) نے ترتیب دیا ہے۔ مولانا فخر الدین نے اس میں رفع یدین کو افضل و...
11۔ مولانا سرفراز خان صفدر (ت2009ئ)
مولانا سرفراز خان صاحب صفدر پاکستان کے معروف دیوبندی عالم تھے۔ ان کے قلم سے کئی کتابیں نکلیں، جو زیادہ تر اختلافی مسائل پر ہیں۔ وہ برس ہابرس تک مدرسہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالا میں حدیث پڑھاتے رہے۔ مولانا مرحوم نے اپنے مدرسہ کے ایک فاضل مولانا حبیب اللہ صاحب...
10۔ مولانا محمد بدر عالم میرٹھی
مولانا محمد بدر عالم صاحب میرٹھی علماے دیو بند میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ موصوف متعدد کتابوں کے مصنف ہیں، جن میں احادیث کے مجموعے پر مشتمل کتاب ’ترجمان السنۃ‘ بہت معروف ہے۔ مولانا میرٹھی کوعلامہ انور شاہ صاحب کشمیری سے شرف تلمذ حاصل تھا۔ علامہ کشمیری کی شرح...