الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
پہلے ایک معاملے کو سمیٹ لیں پھر اس پر بھی بات ہوگی
کیا آپ کو اس بات پر اختلاف ہے کہ اللہ کے نیک بندوں کے پاس حاضر ہوکر اللہ سے اپنے لئے اولاد کی دعا کرنی چاہئے جیسا کہ ان قرآنی آیت سے ظاہر ہورہا ہے
اس واقع کی قلعی تو قرآنی آیت پر غور کرنے سے ہی کھل جائے گی جس آیت قرآنی کو بنیاد بناکر یہ قصہ خلیفہ دوم کے مناقب میں بیان کیا جاتا ہے
اللہ تعالیٰ سورہ انفال میں ارشاد فرماتا ہے کہ
کسی نبی کو لائق نہیں کہ کافروں کو زندہ قید کرے جب تک زمین میں ان کا خون خوب نہ بہائے تم لوگ دنیا کا مال چاہتے ہو...
مجھے اس پر کوئی اختلاف نہیں کہ اللہ کے نیک بندوں سے دعا کی درخواست کی جائے گی دنیاوی اور آخروی معاملات کے لئے
لیکن ان آیات سے جو عقیدہ ظاہر ہورہا ہے کہ اللہ کے نیک بندوں یا بندیوں کے پاس کھڑے ہوکر اللہ سے از خود بھی دعا کرنی چاہئے اس پر شاید آپ کو اختلاف ہے ایسی لئے آپ نے میری پوسٹ کا رد کرنے...
''پھر جب اِن منکرین حق سے تمھاری مڈ بھیڑ ہو تو پہلا کام گردنیں مارنا ہے، یہاں تک کہ جب اِن کا خون اچھی طرح بہادو تو اِنھیں مضبوط باندھ لو۔ اِس کے بعد یا تو احسان کر کے چھوڑنا ہے یا فدیہ لے کر رہا کر دینا ہے، اُس وقت تک کہ جنگ اپنے ہتھیار ڈال دے۔''
(محمد ٤٧:٤)
ان آیات سے ایسی کو ئی بات نہیں معلوم ہوتی جس کو میں نے ہائی لائٹ کیا ہے بلکہ یہ پتہ چلتا ہے کہ حضرت زکریا علیہ السلام نے جب حضرت مریم کے پاس جب اللہ کی نشانیاں دیکھی تو انھوں نے از خود ہی اللہ سے دعا کی اولاد کے لئے جب کہ آپ یہ فرمارہے ہیں کہ اللہ کے نیک بندوں کے پاس جا کر ان سے اپنے لئے دعا کی...
یہ ابولکلام آزاد کی پیشنگوئیاں تھی یا اکھنڈ بھارت کے قائد کی دھمکیاں تھی جن کو عملی جامہ پہنانے کے لئے ان کے بعد کی قیادت نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا یہ بات بھی کسی سے پوشیدہ نہیں
یعنی آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اکھنڈ بھارت کے قائد جو وندے ما ترم کا ترانہ گاتے ہیں وہ اپنی دھرتی ماتا سے غداری...
جزاک الله خیرا
ان آیت سے معلوم ہوا کہ اللہ کے نیک بندوں یا بندیوں کے پاس اللہ سے اولاد کے لئے دعا مانگنا یہ حضرت زکریا علیہ السلام کی سنت ہے ماشاء اللہ
امام مہدی علیہ السلام در کتب حدیث اہل سنت
كيف أنتم إذا نزل ابنُ مريمَ فيكم ، وإمامُكم منكم .
الراوي: أبو هريرة المحدث:البخاري - المصدر: صحيح البخاري - الصفحة أو الرقم: 3449
خلاصة حكم المحدث: [صحيح]
كيف أنتم إذا نزل ابنُ مريمَ فيكم وأمَّكم؟.
الراوي: أبو هريرة المحدث:مسلم - المصدر: صحيح مسلم...
جہاں تک بات ہے ابن خلدون کی تو اس کے بارے میں مفتی شامزئی اپنی کتاب عقیدہ ظہور مہدی علیہ السلام میں لکھتے ہیں کہ
ابن خلدون ناصبی تھا
ناصبی وہ ہوتا ہے جس کے دل میں آل محمد کے لئے کینہ اور بغض بھرا ہوتا ہے
اگر آپ اہل بیت علیہ السلام کی محبت میں ڈوب کر امام مہدی علیہ السلام سے معتلق احادیث تلاش کریں گے تو آپ کو کئی صحیح احادیث مل جائیں گی اور لیکن اس کے آپ کو کتب حدیث میں تلاش کرنا پڑے گا نہ کہ ان مولویوں کے مضامین میں
دین کے احکامات رسول اللہ کی حیات میں کچھ تھے اور اس کے بعد بدل گئے !!!!!!
کیا اب ان بدلے ہوئے احکامات کی پیروی کی جائے گی ؟؟؟؟؟
جبکہ اللہ تعالیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات کو بہترین نمونہ قرار دیتا
حدیث کا مفہوم ہے کہ جو گروہ ہندوستان پر چڑھائی کرے گا اس کو اللہ نے آگ سے محفوظ کردیا ہے اور جب حضرت قائد اعظم نے ہندوستان سے الگ ہوکر ایک مسلمان ریاست بنانے کا اعلان کیا تو آپ کے دعویٰ کے مطابق اگر آپ کے علماء کے علم میں یہ حدیث ہوتی تو وہ ہندوستان سے علیحدہ ایک مسلم ریاست کی مخالفت نہ کرتے...