الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
یہ کتاب دیوبند عالم "ابو لبابہ شاہ منصور " نے لکھی ہے- عنوان ہے " دجال کون کب اور کہاں؟؟؟" - کتاب میں صحیح احادیث نبوی کے علاوہ ضعیف احادیث کی بھی بھرمار ہے- اور دور حاضر کی سائنسی ایجادات کو سامنے رکھ کر زبردستی یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ دجال ٢٠١٨ سے ٢٠٢٢ تک خروج کرے گا - اس کا علاوہ...
میں نے کہیں پڑھا ہے کہ اس حدیث قرطاس میں اضطراب ہے - اور اس پر خود امام بخاری رح نے بھی کلام کیا ہے (واللہ اعلم)- اس پر کوئی بھائی رہنمائی فرمائیں تو خوشی ہو گی -
وجہ اس کی یہ ہے کہ یہ حدیث صرف صحابی رسول حضرت عبدالله بن عباس رضی الله عنہ سے مروی ہے- اور اس وقت ان کی عمر ١٥ سال تھی - دوسری بات...
السلام و علیکم و رحمت الله -
اس میں تو کوئی شک نہیں کہ قرآن و احادیث نبوی دونوں دین میں حجت کی حیثیت رکھتے ہیں -
لیکن یہ بات ملحوظ خاطر رکھنی ضروری ہے کہ بعض مرتبہ صحابہ کرام رضوان الله اجمعین بھی نبی کریم صل الله علیہ و آ له وسلم کی کسی بات یا حکم کے صحیح مفہوم کو سمجھنے میں غلطی کر جاتے تھے-...
اس آیت کو غور سے پڑھیں -
وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُطْلِعَكُمْ عَلَى الْغَيْبِ وَلَكِنَّ اللَّهَ يَجْتَبِي مِن رُّسُلِهِ مَن يَشَاءُ ۖ فَآمِنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ الخ اٰٰل عمران 179
ترجمہ:اور نہیں ہے اللہ تعالیٰ کہ مطلع کرے غیب پر ،لیکن ہاں جس کو خود چاہے اور وہ اللہ تعالیٰ کے پیغمبر ہیں ،اُن...
محترم آپ کی بیان کردہ تشریح سے ایک بات تو واضح ہے کہ :
الله تبارک و تعلیٰ اپنے علم غیب کو مطالع کرنے کے لئے صرف اپنے رسولوں میں سے جن کو چاہتا ہے چنتا ہے -کسی ایرے غیرے نتھو خیرے کی بس کی بات نہیں کہ وہ علم غیب کا دعوی کرسکے کہ اسے الله نے غیب کا علم عطا کیا ہے- جیسے اکثر مذہبی طبقوں کی طرف سے...
اگر علامہ ابن کثیر رح ر کی ہر بات حجت ہے - تو ان کے مطابق حضرت حسین رضی الله عنہ کے قاتل اہل کوفہ تھے- نہ کہ یزید بن معاویہ رح - (البدایہ و النہایہ جلد ٨ ص ١٥٧) - آپ کو ان کی یہ بات کیوں قبول نہیں؟؟
ابومخنف لوط بن یحییٰ بن سعید بن مخنف بن سلیم ازدی غامدی کوفی متوفیٰ ١٥٨ھ
ظاہر ہے کہ اگر اس کی اوسط عمر وفات کے وقت ٧٠ سال گنی جائے- تب بھی یہ مورخ واقعہ کربلا کے تقریباً ٣٠ سال بعد پیدا ہوا ہو گا- اور ظاہر ہے پیدا ہوتے اس نے واقعہ کربلا قلمبند نہیں کیا - کم از کم ٢٥ - ٣٠ سال کی عمر میں ہی اس...
محترم T H K بھائی -
آپ کی یہ بات اپنی جگہ بلکل درست اورحق ہے کہ قرآن کریم انسانی تصرف سے پاک ہے اوراس بنا پر انسانی روایات کو قرآن کریم کی صریح نص پر فوقیت دینا یقیناً ایک بدعتی عمل ہے اور گمراہی کی طرف لے جانے والا عمل ہے - ہم انسان کی بیان کردہ روایات کا مقابلہ قرآن کریم کی نازل کردہ وحی سے...
آپ بھی تو کربلا سے متعلق واقعہ پر ابو مخنف کی روایات کو من وعن قبول کرتے ہیں- جب کہ ابو مخنف لوط بن یحیی واقعہ کربلا کے تقریباً پچاس سال بعد پیدا ہوا تھا - اس کی بیان کردہ روایات ایک دیو مالائی داستان سے کم نہیں-
محترم خضر حیات بھائی -
چند ایک احادیث نبوی پر متضاد اجتہادی نظریہ پیش کرنے سے انسان منکرین حدیث نہیں بن سکتا - صحابہ کرام اور آئمہ و محدثین کے دور میں بھی نبی کریم کے اقوال و افعال کو سمجھنے کے معاملے میں اکثر اجتہادی اختلاف ہوا- لیکن کسی کے لئے "منکرین حدیث" کی اصطلاح استمعال نہیں ہوئی - ہاں...
محترم -
آپ کی بات سے متفق ہوں- لیکن خیال رہے کہ اگر دلیل نہ ہو تو کسی پر "منکرین حدیث" کا الزام لگانا اچھی عادت نہیں- ہاں اگر دلیل موجود ہے تو ضرور منکر ہونے الزام عائد کیا جا سکتا ہے -
انتہائی محترم T H K بھائی -
حضرت ابراہیم علیہ سلام کی تین جھوٹ والی حدیث میں آپ کو تھوڑا سا مغالطہ ہوا ہے-کہ اس کا متن قرآن سے متعارض ہے- جب کہ حقیقت میں ایسا نہیں ہے -
یہ حدیث مسلم شریف اور بخاری شریف میں تفصیل سے بھی موجود ہے : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : " لم يكذب إبراهيم إلا في...