الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
صحیح عبارت ملاحظہ فرمائیں :
جزاك اللہ خيراً یااخی وبارك اللہ فی علمك ونوراللہ قلبك بالایمان
نور الله قلبك بنور الإيمان ولسانك بذكر الرحمن وسمعك بتلاوة القرآن
جی کبھی چچا کو بھی کہا جاتا ہے ، لیکن سیاق و سباق اور قرینہ وغیرہ دیکھ کر واضح ہوتا ہے کہ فلاں جگہ والد مراد ہے یا کوئی اور ،
ویسے دادا ، اور مالک وغیرہ کو بھی کہہ دیتے ہیں ،
(الْأَب) الْوَالِد وَالْجد وَيُطلق على الْعم وعَلى صَاحب الشَّيْء وعَلى من كَانَ سَببا فِي إِيجَاد شَيْء أَو ظُهُوره أَو...
السلام علیکم ورحمۃ اللہ
سعودی عرب کے جید علماء کی مستند فتوی کمیٹی کا فتوی اس مسئلہ پر درج ذیل ہے :
فتوى رقم (6612) :
س: من هو أبو سيدنا إبراهيم عليه السلام؟ لأني سمعت بعض العلماء يقولون: إن آزر ليس أبا إبراهيم الذي ولده، بل هو أخو أبيه، وقد جاء بحجة في القرآن والحديث الذي قال الرسول صلى الله...
رد المحتار جلد ۶ ص 413) میں یہ نہ بتایا گیا کہ یہ حدیث ہے یا کسی کا قول ۔ وہاں عبارت یہ ہے :
( وإن دخل بيتا ليس فيه أحد يقول السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين، فإن الملائكة ترد عليه السلام ‘‘
ترجمہ :
گر ایسے مکان (خواہ اپنے خالی گھر) میں جانا ہو کہ اس میں کوئی نہ ہو تو یہ کہئے:
اَلسَّلَامُ...
امام ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں سورہ نور کی آیت (۶۱ )
کے ذیل میں درج ذیل ائمہ سے بلا اسناد نقل کیا ہے کہ :
وَقَالَ مُجَاهِدٌ: إِذَا دَخَلْتَ الْمَسْجِدَ فَقُلِ: السَّلَامُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ. وَإِذَا دَخَلْتَ عَلَى أَهْلِكَ فسلِّمْ عَلَيْهِمْ، وَإِذَا دَخَلْتَ بَيْتًا لَيْسَ فِيهِ أَحَدٌ...
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
درج ذیل فتوی میں اسی سوال کا جواب دیا گیا ہے :
إذا لم يكن في البيت أحد فهل يسلم ؟
سمعت من ناس كثيرين بأننا يجب أن نقول السلام عليكم عندما ندخل للبيت حتى وإن لم يكن هناك أحد بالبيت ( قلها لنفسك ) ، فهل هذا صحيح ؟ ما هو الدليل على هذا ؟...
علامہ حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ (انوار الصحیفہ ) میں لکھتے ہیں :
2254 : لا ينبغي للمؤمن أن يذل نفسه
اسناده ضعيف جه/4016
علي بن زيد بن جدعان :ضعيف (تقدم 589 ) وللحديث شاهد ضعيف عند الطبراني في الكبير ( 12/408)
شیخ الالبانیؒ نے اس حدیث کو ( سلسلة الأحاديث الصحيحة جلد ۲ صفحہ ۱۷۱ ) میں درج الفاظ سے بیان فرمایا ہے :
" لا ينبغي لمؤمن أن يذل نفسه، قالوا: وكيف يذل نفسه؟ قال: يتعرض من
البلاء ما لا يطيق ".
رواه الترمذي (2 / 41 - بولاق) وابن ماجه (4016) وأحمد (5 / 405) عن علي بن زيد عن الحسن عن جندب عن حذيفة...