الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
نیز قرآن کریم میں نبی کریمﷺ کو یہ کہنے کا حکم دیا گیا ہے: ﴿ إِنَّ وَلِيِّيَ اللهُ الَّذِي نَزَّلَ الْكِتَابَ وَهُوَ يَتَوَلَّى الصَّالِحِينَ ﴾
کہ ’’یقیناً میرا ’ولی‘ اللہ تعالیٰ ہے جس نے یہ کتاب نازل فرمائی اور وه نیک بندوں کی مدد کرتا ہے۔‘‘
نیز فرمانِ باری ہے: ﴿ إِنَّمَا وَلِيُّكُمُ اللهُ...
اس سلسلے میں مولانا اِرشاد الحق اَثری﷾ کی یہ کتاب ملاحظہ کی جائے، خاص طور پر صفحہ نمبر 35 سے 59 تک!
ان صفحات میں الهداية كالقرآن میں موجود موضوع احادیث میں سے محض ’مشتے نمونہ از خروارے‘ دس مثالیں بیان کی گئی ہیں۔
بہت خوب کفایت اللہ بھائی! بہت عمدہ!
ایک دقیق بات کو سمجھانا کافی مشکل ہوتا ہے، لیکن بسا اوقات کسی آسان بات اور واضح بات کو سمجھانا اس سے بھی زیادہ مشکل ہوتا ہے۔ یہ فن کوئی آپ سے سیکھے!مدرس مصنف اور عام مصنف میں عموما یہی فرق ہوتا ہے۔
ما شاء اللہ!
اللہ تعالیٰ آپ کے علم وعمل میں اضافہ فرمائیں...
بھائی یہ حدیث مبارکہ پہلے پیش کر دی گئی ہے، نبی کریمﷺ نے فرمایا: « إذا سجد أحدكم فلا يبرك كما يبرك البعير وليضع يديه قبل ركبتيه » کہ اونٹ کی طرح بیٹھنے کی بجائے گھٹنوں سے پہلے ہاتھ زمین پر رکھنے چاہئیں۔
نہ بھائی! آپ کے علمی ذوق کے تو ہم سب معترف ہیں، اور آپ کی پوسٹس سے استفادہ کرتے رہتے ہیں، باقی اگر آپ کو میرے الفاظ
سے تکلیف پہنچی ہو تو معذرت قبول کیجئے!
والعذر عند كرام الناس مقبول!
جزاکم اللہ خیرا بھائی!
الحمد للہ! حافظ زبیر علی زئی﷾ کی رائے بھی یہی ہے کہ
’’دلائل کی رو سے ’راجح‘ اور ’بہتر‘ یہی ہے کہ پہلے ہاتھ اور پھر گھٹنے لگائے جائیں!‘‘
گویا حافظ صاحب کے نزدیک بھی یہ مسئلہ جواز وعدمِ جواز کا نہیں بلکہ افضیلت اور بہتری کا ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم
ویسے میرا عمل بھی گھنٹوں سے...
بھائی! ہر لفظ کی ضد بنانے کیلئے اس کے ساتھ ’غیر‘ لگا دینا مناسب نہیں۔ مقلد کی ضد ’غیر مقلد‘ ہی کیوں؟ ’متبع سنت‘ کیوں نہیں؟ کیا ’جاہل‘ کی ضد ’غیر جاہل‘ ہوتی ہے؟
علاوہ ازیں! کسی حدیث مبارکہ میں کسی ایک شے کا عدم ذکر اس کے عدمِ وجود کی دلیل نہیں ہوتا۔ ضروری نہیں کہ وضوء یا نماز سے متعلق ہر ہر حدیث...
﴿ وَللهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ۚ وَإِلَى اللهِ تُرْجَعُ الْأُمُورُ ﴾
اللہ تعالیٰ ہی کے لئے ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اور اللہ تعالیٰ ہی کی طرف تمام کام لوٹائے جاتے ہیں (١٠٩)
بعض حضرات سلام کرتے ہوئے اسلام علیکم یا السلام وعلیکم وغیرہ وغیرہ لکھ دیتے ہیں جو صحیح نہیں، ان کا معنیٰ بھی صحیح نہیں۔
صحیح یہ ہے کہ اگر مختصر سلام کرنا ہو تو السلام علیکم لکھا جائے، اس پر 10 نیکیاں ہیں۔
یا السلام علیکم ورحمۃ اللہ کہا جائے، اس پر 20 نیکیاں ہیں۔
یا السلام علیکم ورحمۃ اللہ...
ان صریح الفاظ کی صحت میں بھی بعض علماء نے اختلاف ہے، اگرچہ امام البانی نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ تفصیل کیلئے یہ دیکھئے!
میں نے یہ عرض کیا تھا کہ اس حدیث کی صحت میں اختلاف ہے، علامہ البانی نے اسے ضعیف قرار دیا ہے، لیکن امام ابو داؤد، ابن حجر، ابن الملقن وغیرہ نے اس کی صحت کی طرف اشارہ کیا ہے،...