الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
اگر تعصب کی بیماری نہ ہو تو ’’ تنقید ‘‘ و تردید ‘‘ سے خوف نہیں ہوتا ۔بلکہ کئی دفعہ اصلاح کا نسخہ مل جاتا ہے ،، بس فریق مقابل کی بات کو سننے سمجھنے کا حوصلہ چاہئے ۔
دیکھئے قرآن کریم نے کیا پتے کی بات بتائی ہے :
(( ۔۔۔فَبَشِّرْ عِبَادِ (17) الَّذِينَ يَسْتَمِعُونَ الْقَوْلَ فَيَتَّبِعُونَ...
جناب کی معلومات کی رسائی اسی قدر کہ :بس ’’ بجرگوں ۔۔سے سن رکھا ہے کہ امام ابن حزم ظاہری کا ’’ مذہب دنیا میں نہیں چل سکا ،اور اندھے مقلدین کی مارکیٹ میں بھر مار ہے ۔
بھائی ۔۔ابن حزم رحمہ اللہ نے کب کسی جدید مذہب کی بنیاد رکھی ۔۔اور اس کی دعوت دی ۔ ؟؟
معروف حقیقت ہے کہ وہ تقلید کے سخت خلاف تھے...
یہ سب خالص جہالت ، اور محدثین پر بہتان طرازی ہے جس پر سوائے افسوس کیا کیا جاسکتا ہے ۔
اگر ایک حدیث میں ایک جگہ کچھ کلمات ہوں اور دوسری جگہ نہ ہوں تو اسے محدثین کی ایجاد کہنا منکرین حدیث کا طریقہ ہے ۔
محدثین اکثر طویل احادیث کو مختلف مواقع پر حسب موقع مکمل یا اختصار سے نقل کرتے ہیں ،یا کسی...
قول صحابی کو حدیث رسول ﷺ کے خلاف باور کروانا رافضیوں کی نشانی ہے ۔۔۔۔
میں نے یہاں قول صحابی حدیث نبوی کے معنے کو متعین کرنے کیلئے پیش کیا ہے ۔۔۔حدیث کے رد میں نہیں ۔۔۔لیکن یہ بات مقلد کی سمجھ سے اوپر ہے ۔
قرآن مجید سمجھنے کیلئے ایمان کے بعد لغۃ القرآن جاننا بنیادی شرط ہے،
اس آیت شریفہ کا سیدھا اور واضح ترجمہ تو یہ ہے کہ :
( وَاِذَا قُرِئَ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ وَاَنْصِتُوْا،) یعنی جب بھی قرآن پڑھا جائے تو تم اسے سنو اور خاموش رہو ۔
(یہاں قابل توجہ بات یہ کہ ’’ اِذَا قُرِئَ ‘‘ کی...
رانا صاحب !
پہلی بات تو یہ علم میں رہے کہ پیارے انبیاء کے اسمائے گرامی کے ساتھ (صلی اللہ علیہ وسلم ) کہنا خود رسول کریم ﷺ سے ثابت ہے ، یہ بات شاید مبتدعین کے علم میں نہیں ،(علم میں ہو بھی کیسے ، کھانے ،پینے کے پروگراموں سے فرصت ملے تو ادھر توجہ دیں)
صحیح مسلم میں شفاعت کے تفصیلات پر مشتمل ایک...
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ ۔
دس دفعہ سورہ اخلاص پڑھنے کی فضیلت میں اس طرح کی ایک روایت مروی ہے
جو درج ذیل ہے ؛
مسند امام احمد میں ہے :
’’ حدثنا عبد الله حدثني أبي حدثنا حسن حدثنا ابن لهيعة قال ، وحدثنا يحيى بن غيلان ، حدثنا رشدين ، حدثنا زبان بن فائد الحبراني عن سهل بن معاذ بن أنس الجهني عن أبيه...