الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ؛؛
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اتنے کفار اور مجوس کو قتل کیا کہ ان کا شمار نہیں ؛
یعنی ان کے سنہری دور میں جو فتوحات ہوئیں ،ان میں جتنے کفار مارے گئے دراصل وہ عمر ؓ کے ہاتھوں ہی تو مقتول ہوئے ۔
کسریٰ اور قیصر کی سلطنت کو مٹاکر وہاں اسلام کی روشنی کس نے...
دوسری روایت جو سنن الترمذی میں ہے :
وہ درج ذیل سند و متن سے ہے :
حدثنا سفيان بن وكيع حدثنا احمد بن بشير ، وابو اسامة ، عن مسعر عن زياد بن علاقة عن عمه قال: كان النبي صلى الله عليه وسلم يقول: " اللهم إني اعوذ بك من منكرات الاخلاق ، والاعمال ، والاهواء ".
(سنن الترمذی :حدیث نمبر: 3591
قال...
پیارے بھائی !
ان میں پہلی حدیث مسند احمد والی اس متن سے صحیح نہیں ۔
اور اس میں لفظ ’’ سیدنا ‘‘ بھی نہیں ہے :
اصل روایت مسند میں درج ذیل الفاظ سے موجود ہے :
اوپر والی پوسٹ میں شاید درج ذیل حدیث کا ترجمہ پیش کیا گیا ہے ؛
عن أنس بن مالك رضي الله عنهـ قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم صوتان ملعونان في الدنيا والآخرة مزمار عند نعمة ورنة عند مصيبة ‘‘
رواه البزار ورواته ثقات(صحيح الترغيب والترهيب )
جس شخص کو ۔۔ترجيع ۔۔ لکھنا، پڑھنا بھی نہیں آتی وہ ۔۔۔علم جرح تعدیل ۔۔اور ۔۔تاریخ ۔۔پر محقق کا کردار ’’ پلے ‘‘ کر رہا ہے ؛
اس امت نے یہ دن بھی دیکھنے تھے ۔
موسوعہ اقوال امام احمد میں یہ قول ’’ بحر الدم ‘‘ کے حوالے سے منقول ہے ،اور ’’ بحر الدم ‘‘ 840 صدی ھجری کے بعد )یعنی نو ویں صدی کو لکھی گئی ۔تو امام احمد ؒ سے لیکر مصنف بحر الدم تک
پہلے سات صدیوں کی سند بتائی جائے ۔پھر اس قول کے غلط یا صحیح ہونے کی بات کی جائے ۔
امام اہل سنت جناب احمد بن حنبل ؒ پر امیر المومنین سیدنا معاویہ ؓ کی مخالفت کا الزام خالص جھوٹ ہے ،
امام احمد کو گزرے بارہ صدیاں ہو چکیں ۔بتایا جائے کہ آج سے پہلے کس مستند عالم نے یہ الزام لگایا ؟
شوق ہے محدثین کے گریبان چاک کرنے کا۔۔
اور جہالت کی یہ حد کہ ایک محدث کی دو لائنوں کا ترجمہ کرتے ہوئے منہ کے بل گر پڑے !
امام ذہبی نے لکھاکہ ’’ وأما حديث الطير فله طرق كثيرة جدًّا قد أفردتها بمصنف ومجموعها هو يوجب أن يكون الحديث له أصل ‘‘
کہ حدیث طیر کے بہت سارے طرق ہیں ،جنہیں میں نے جمع کیا ہے...
امام حاکم نے اس کی سند ساتھ ہی لکھ دی تھی کہ دیکھ لو یہ روایت کس ذریعے اور واسطے سے بیان کی گئی ہے ۔یہ روایت ایسے ذریعے سے منقول نہیں جس پر
اعتماد کیا جائے ۔۔۔روایات کی حقیقی اسناد بیان کرنا محدثین کی امانت و دیانت کا کھلا ثبوت ہیں ۔
محدث کا ذمہ اپنی روایت کا سلسلہ سند بتانا ہوتا ہے ۔سننے والا...