الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
5۔ ایک روایت میں آیا ہے کہ:
(موضح أوھام الجمع والتفریق للخطیب:۱؍ ۴۲۹،دوسرا نسخہ ۱؍ ۴۴۶ ذکر أحمد بن حفص الجزري )
یہ روایت نقل کر کے طاہر القادری صاحب نے لکھا ہے کہ
عرض ہے کہ نہ تو حلبی نے انسان العیون ( ۱؍ ۱۳۵، دوسرا نسخہ ۱؍ ۸۳) میں یہ بات کہی ہے اور نہ حفاظِ حدیث نے اس کی صحت کا...
4۔ ایک روایت میں آیا ہے کہ آدمؑ نے (سیدنا) محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وسیلے سے دعا کی تھی۔ طاہر القادری صاحب نے اس روایت کو بحوالہ المستدرک للحاکم ( ۲؍ ۶۱۵) نقل کر کے لکھا ہے:
( عقیدہ توحید اور حقیقت ِشرک، ص ۲۶۶، اشاعت ہفتم ،جون ۲۰۰۵ئ)
اس عبارت میں طاہر القادری صاحب نے...
3۔
(إنسان العیون یعنی السیرۃ الحلبیۃ:۱؍ ۸۳، دوسرا نسخہ :۱؍ ۱۳۵)
اس روایت کو طاہر القادری صاحب نے روایت نمبر ۱ قرار دے کر بحوالہ انسان العیون بطورِ حجت پیش کیا ہے، حالانکہ انسان العیون (السیرۃ الحلبیۃ) نامی کتاب میں اس کی کوئی سند یا حوالہ موجود نہیں ہے۔
علامہ عجلونی حنفی اور ملا علی قاری...
2۔ کئی مجہول راویوں کی ایک روایت میں آیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
یہ روایت بیان کر کے جلال الدین سیوطی نے فرمایا:
’’ ھذا معضل،سقط منہ عدۃ رجال، واﷲ أعلم ‘‘ ( ایضاً: ص ۱۰۵، ۱۰۶)
’’یہ معضل ( یعنی شدید منقطع) ہے، اس سے کئی راوی گر گئے ہیں۔ واللہ اعلم ‘‘
محدثین کی اصطلاح...
1۔ سیدہ عائشہ صدیقہؓ کی طرف منسوب ایک روایت میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سفید ٹوپی تھی جسے آپ پہنا کرتے تھے ، وہ آپ کے سر اَقدس پر جمی رہتی تھی۔
( المنہاج السوي ص ۷۷۰ ح ۹۸۵ بحوالہ ابن عساکر فی تاریخ دمشق ۴؍ ۱۹۳ [ دوسرا نسخہ ۴؍ ۳۳۳] کنز العمّال ۷؍۱۲۱ ح ۱۸۲۸۵)
اس روایت...
مضمون نگار: حافظ زبیر علی زئی حفظہ اللہ
ڈاکٹرطاہر القادری اور موضوع روایات کی ترویج
یہ بات بالکل سچ اور حق ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
( صحیح بخاری ، کتاب العلم، باب إثم من کذب علی النبي ﷺ ح ۱۰۶، صحیح مسلم : ۱)
ایک حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم...
فرق کی حکمت
سوال یہ ہے کہ بچے اور بچی کے پیشاب کی خباثت ونجاست میں یہ فرق کن وجوہ و اسباب کی بنا پر کیا گیا ہے ؟ علامہ ابن قیم ؒ اس کے تین اسباب بتاتے ہیں :
1۔ چو نکہ بچے کو زیادہ کھلایا جاتا ہے اور مرد گھر سے باہر بھی اُٹھا کر لے جاتے ہیں ،اس کے پیشاب کو اس قدر نجس قرار دینا باعث ِ تکلیف...
مضمون نگار: پروفیسر زاہدہ شبنم
شیر خوار بچے کے پیشاب کی طہارت اور طبی حکمت
عورت کو بحیثیت ِماں جن فرائض کی بجاآوری میں نہایت مشقت اور تندہی کا مظاہرہ کرنا پڑتا ہے، ان میں سے ولادت کے بعد سب سے اہم ’عرصۂ رضاعت‘ ہے۔جب بچہ صرف دودھ پر گزارا کر رہا ہوتا ہے ، نہ تو وہ کھانا جانتا ہے اور نہ ہی اس...
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ،
میں نے اس کتاب کو ڈاؤن لوڈ کر کے پڑھا ہے۔ ماشاءاللہ بہت عمدہ ہے اور نہایت آسان طریقہ سے سمجھایا گیا ہے۔ جزاکم اللہ خیرا۔
احمد ہارون بھائی،
ازراہ کرم اس کتاب کو اپنی لائبریری پر بھی اپ لوڈ کر دیجئے گا۔ جزاک اللہ۔
لیں جی، ایک بات اور بھی معلوم ہوئی۔ کہ اگر آپ جزاک اللہ خیرا پوسٹ کی صورت میں لکھتے ہیں تو دیگر لوگ بٹن دبا کر آپ کی دعا کے بدلے آپ کو دعا دے سکتے ہیں۔ لہٰذا یہ کل تین فائدے ہوئے۔ (ابتسامہ)
جزاک اللہ خیرا اعجاز بھائی جان۔
دراصل محدث فورم پر تصویری سگنیچرز کی اجازت نہیں۔ لیکن آپ کا درج بالا سگنیچر دیکھ کر لگتا ہے کہ یہ اجازت بھی دینی پڑے گی۔ بہت زبردست طریقہ ہے پورا شوال کا مہینہ ہر پوسٹ کے ساتھ لوگوں کو یاد دہانی ہوتی رہے گی۔ میں انتظامیہ کے دیگر افراد سے اس سلسلے میں بات کرتا ہوں...
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ،
بھائی جان تفصیلات کے لئے یہ موضوعات ملاحظہ کیجئے۔
شش عیدی (شوال کے چھ)روزے
شوال کے 6 روزوں کی فضیلت
مختصراً عرض ہے کہ دیگر احادیث کی بنیاد پر رمضان کے بعد شوال کے چھ روزے رکھنے کا ثواب ایک سال کے روزوں کے برابر ہی ہے۔ درج بالا حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ اگر کوئی شخص ان...
4-كيا مرتد كے لئے قتل اسلامى سزا نہيں؟
غامدى صاحب كے موقف كا آخرى نكتہ يہ ہے كہ اسلام كے حدود و تعزيرات ميں مرتد كے لئے سزا كا كوئى وجود نہيں ہے- يہ تمام فقہائے اسلام كى مشتركہ اور متفقہ غلطى ہے كہ اُنہوں نے اسے اسلامى حدود و تعزيرات ميں شامل كرركھا ہے-
اس سلسلے ميں پہلى بات تو يہ ہے كہ...
3- مذكورہ حديث كا قرآن سے ربط كا معاملہ
غامدى صاحب كہتے ہيں كہ فقہائے اسلام نے حديث «من بدل دينه فاقتلوه» (جو مسلمان اپنا دين بدل لے، تو اُسے قتل كردو)كو قرآن كى اصل سے متعلق نہيں كيا اور قرآن وسنت كے باہمى ربط سے اس حديث كا مدعا اور مطلب سمجهنے كى كوشش نہيں كى جس كے نتيجے ميں اُنہوں نے مرتد...
2 -كيا مرتد كى سزا كا مبنىٰ اور بنياد صرف ايك ہى حديث ہے؟
غامدى صاحب كا كہنا ہے كہ فقہائے اسلام نے صرف صحيح بخارى كى ايك حديث «من بدل دينه فاقتلوه»كى بنياد پر مرتد كے لئے قتل كى سزا بيان كردى ہے- حقيقت يہ ہے كہ غامدى صاحب كا يہ دعوىٰ علمى خيانت پر مبنى ہے اور وہ يہ بات عام لوگوں كو دھوكہ دينے...
اب غامدى صاحب كے اس موقف كا ہم تجزيہ كرتے ہيں:
1 -كيا حديث ِمذكورہ كا حكم عام نہيں؟
غامدى صاحب مذكورہ حديث كے حكم كو عام نہيں مانتے جب كہ عربيت كا تقاضا يہ ہے كہ اسے عام مانا جائے- اس حديث «من بدل دينه فاقتلوه» (جو مسلمان اپنا دين بدل لے تو اُسے قتل كردو) ميں مَنْ موصولہ كا اُسلوب وہى ہے جو...
مرتد كى سزا كے بارے ميں غامدى صاحب كے موقف كا جائزہ
جناب غامدى صاحب مرتد كے لئے قتل كى شرعى سزا كو نہيں مانتے- اس بارے ميں اُن كا موقف يہ ہے كہ مرتد كے لئے قتل كى سزا كا حكم تو ثابت ہے مگر يہ صرف رسول اللہﷺكے زمانے كے اُن مشركينِ عرب كے ساتھ خاص ہے جو اسلام قبول كرلينے كے بعد ارتداد اختيار...
مرتد كى سزا كے عقلى دلائل
اب تك ہم نے ايسے شرعى دلائل پيش كرديئے ہيں جن سے يہ ثابت ہوجاتا ہے كہ اسلامى شريعت ميں مرتد كى سزا قتل ہے اور اس كى بنياد احاديث ِصحيحہ، تعامل صحابہ اور اجماعِ اُمت پر ہے- ان شرعى دلائل كو جان لينے كے بعد ايك صاحب ِ ايمان كا دل تو مطمئن ہوجاتا ہے كہ اسلام ميں ارتداد...
ائمہ مجتہدين كا بهى اس پر اتفاق ہے كہ مرتد كى سزا قتل ہے اور اس پراجماعِ اُمت ہے كہ اسلام ميں مرتد كى سزا قتل ہى ہے- اس سلسلے ميں درج ذيل حوالے ملاحظہ ہوں :
1۔ ائمہ اربعہ كے فقہى مسائل پر مبنى كتاب الفقہ على مذاہب الأربعة (از عبدالرحمن جزيرى) ميں ہے كہ
واتفق الأئمة الأربعة عليهم رحمة الله...