الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
اسد الطحاوی کی تحریر:
کیا امام ابن مبارک نے امام ابو حنیفہ کو ترک کر دیا تھا ؟
غیر مقلدین کی طرف سے پیش کی جانے والی تمام مروایات کا تحقیقی جائزہ
ازقلم: اسد الطحاوی الحنفی
ہم سب سے پہلے امام ابن مبارک کی طرف منسوب ان تمام مروایات کا تحقیقی جائزہ لینگے جو پیش کرکے دعویٰ کیا جاتا ہے غیر...
اور ابن معین سے اس روایت پر جرح نقل کرنے والے ابو منصور یحیی بن احمد الشیباني (المتوفیٰ298ھ) آپ کے اخیر تلامذہ میں سے ہیں:
أخبرنا البرقاني قال: قرئ على محمد بن عبد الله بن خميرويه، وأنا أسمع: أخبركم يحيى بن أحمد بن زياد، قال: وسألته، يعني يحيى بن معين، عن حديث أبي معاوية الذي رواه عبد السلام...
یہ کوئی اصول نہیں کہ جو معاصر ہو یا لقاع ثابت ھو یا مجلس میں آتاجاتا ہو۔ صرف اُسی کی گواہی (جرح وتعدیل) قبول کی جائے گی۔
ایسے کئی ائمه ہیں جنہوں نے اپنے شیوخ کو ثقة سمجھ کر روایت کیا لیکن باقی ائمه نقاد نے متروك منکر وغیرہ کہا:
مثال:
امام شافعی رحمه الله نے ابراھیم بن محمد سمعان، إبراهيم بن أبي...
امام الذھبي خود ناقد مجتھد ہیں علل الحدیث کے ماہر ہیں۔ تو الذھبی نے استقراء کرکے ہی اس روایت کو من گھڑت قرار دیا۔
کون سی دلیل سے باقی ائمه جرح کرتے ہیں؟ کیا ھر ھر راوی کی تعدیل اور جرح کے لئے پڑوسی ہونا یا ملاقات کا ہونا لازم ہے؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ اک کام کرتے ہیں علم اسماء الرجال کو کچرے میں ہی پھینک...
ا
بن معین نے اس حدیث کو کہیں بھی صحیح نہیں کہا۔ بلکه منکر اور من گھڑت ضرور کہا ہے۔
ملاحظه ھو:
أخبرنا البرقاني قال: قرئ على محمد بن عبد الله بن خميرويه، وأنا أسمع: أخبركم يحيى بن أحمد بن زياد، قال: وسألته، يعني يحيى بن معين، عن حديث أبي معاوية الذي رواه عبد السلام الهروي عنه عن الأعمش، حديث ابن...
حاکم والی جو محمد بن جعفر الفیدی کی روایت ہے۔ اسکو ابن المغازلی نے انہی الفاظ سے نقل کیا
ملاحظه ھو:
١٢٨ - أخبرنا أبو طالب محمد بن أحمد بن عثمان البغدادي -قدم علينا واسطا- أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد بن لؤلؤ إذنا، حدثني عبد الرحمن بن محمد بن المغيرة، حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا محمد بن جعفر الكوفي...
بخاری ومسلم میں الاعمش عن مجاھد سے سند موجود ھے، اسی لئے مذکورہ روایت بھی صحیح ھے؟ پھر بطور مثال احادیث کے نمبر دیئے آپ نے۔ آئیں دیکھتے ہیں اِن احادیث کی حقیقت۔
صحیح مسلم 992 ملاحظه کریں:
- (٤٤٢) حدثنا أبو كريب. حدثنا أبو معاوية عن الأعمش، عن مجاهد، عن ابن عمر؛ قال:قال رسول الله صلى الله عليه...
جس اصول کو تم کمزور بات کہہ رہے ہو۔ کس دلیل سے؟؟؟ صرف اس وجه سے بخاری و مالم میں الاعمش عن مجاھد ھے؟
میں کہتا ہوں بخاری و مسلم سے کوئی ایک سند پیش کرو جس میں الاعمش عن مجاھد ھو۔ اور سماع کی صراحت کہیں موجود نہ ہو؟ یا کوئی قوی شاھد نہ ہو؟
۔
ابن معین سے اس روایت کی تصحیح والا قول نقل کرنا علمی خیانت کم جہالت زیادہ ہے۔
باقی رہا ابو معاویة سے کئی لوگوں نے بیان کیا؟
تو جس جس نے بیان کیا وہ تمام ضعیف مجروح ہیں۔ کوئی ایک سند پیش کرو جو ابو معاویه تک صحیح یا حسن ہو۔
امام ابن معین نے کہیں بھی اس روایت کی تصحیح نہیں کی۔
سأله القاسم بن عبد الرحمن الأنباري عن حديث أبي الصلت هذا قال: هو صحيح. رواه الخطيب (11/ 49) ومن طريقه ابن عساكر (42/ 380) والمزي (18/ 77).
قاسم بن عبد الرحمن الانباری ابو اصلت کے تلامذہ میں سے ہے۔ اور مجھول ھے۔ تو یہ قول اور اس روایت کی تصحیح...
یہ کہانی بیان کرنے والا قاسم مجھول ھے۔ لہذا رجوع والی کہانی بھی مردود ھے۔ جبکه صحیح سند سے ابن معین سے اتنا ثابت ھے کہ اس روایت کو ابو الصلت کے ساتھ محمد بن جعفر الفیدی نے بھی روایت کیا ھے".
یہاں اب معین نے ابو الصلت کا متابع الفیدی کو بتلایا۔ باقی اس روایت پر ابن معین نے منگھڑت ہونے کی ہی جرح...
خطیب نے جو توجیہ بیان کی وہ قاسم والی روایت ہی پر ھے جو ثابت نہیں۔ اور اس روایت کے من گھڑت منکر ضعیف ہونے پر متقدمین ائمه کا اتفاق ہے۔ خود ابن معین نے اس روایت کے متن پر جرح کی۔ اور لااصل له کہا۔
یا تو آپ بچے ہیں۔ یا بچه بننا اچھا لگتا ھے آپ کو۔
محدثین جب کسی روایت کی تضعیف کرتے ہیں۔ تو اُن کے پیش نظر ھر علت ہوتی ہے۔
اور ابن معین نے تو الاعمش عن مجاھد پر کلی طور تدلیس کا حکم لگا رکھا ھے۔
ابن طمھان نے کہا:
وقال ابن طهمان: سمعت يحيى، يعني ابن معين، يقول: الأعمش سمع من مجاهد، وكل شيء يروى...
جب ابن محرز ہی مجھول ھے۔ تو ابن محرز کی بیان کردہ کہانی سے کون سا تاج محل بنانا چاہ رہے ہو؟
امام خطیب نے جو توجیہہ پیش کی وہ بھی بیکار ھے۔ کیونکه اصل قول ہی ثابت نہیں
امام حاکم کی سند میں القنطری ضعیف (فیه لین) ھے ممکن ھے القنطری نے اس واسطے کو حذف کیا ہو۔ اور الذھبي نے کئی جگه اس روایت کو من گھڑت قرار قرار دیا ہوا ہے
معذرت
محمد بن یحیی الضریس براہ راست محمد بن الطفیل سے روایت کرتے ہیں۔ جبکه ابن المغازلی اور حاکم کی سند میں ان دونوں کے درمیان کوئی واسطه موجود نہیں۔ محمد بن یحیی الضریس، محمد بن جعفر الفیدی سے روایت نہیں کرتے۔ ایک بھی ایسی سند موجود نہیں جس سے معلوم ہو کہ دونوں استاد شاگرد ہیں۔
اور محمد بن...