الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
نہ تو یہ ہماری دو نمبر ہے۔ نہ ہی ہم بغض کا شکار ہیں۔ بلکه ھم ھر صحابی کی ثابت شدہ فضیلت کو سینے سے لگاتے ہیں۔
آپ کو یاد دلاتا چلوں۔ ابن محرز والی روایت کو آپ ہی سب سے پہلے پیش کرکے اپنا مدعیٰ ثابت کرنا چاہا تھا۔ لیکن جب میں نے آپ کی دم پر پاؤں رکھا تو آپ نے خود ہی ابن محرز کے مجھول ہونے کا...
ابو الحسین کا جواب :
#حدیث_انا_مدینة_العلم_اور_ہماری_تحقیق_قسط_دوم
⭕ پچھلی تحریر میں، میں نے اس حدیث کے چار صحیح السناد طرق پیش کیے تھے اور ساتھ ہی یحیی بن معین کا قول پیش کیا تھا جس میں انہوں نے اس روایت کی تصحیح فرمائ تھی۔ جس پر کچھ ناسبی فکر رکھنے والے حضرات نے بے بانگ دہل ادھے ادھورے...
میری نے یہ تحریر بطور رد لکھی تھی۔ فیس بُک پر ایک شخص ابو الحسین نام سے ہے اُس نے اِس روایت کو ثابت کرنے کی کوشش کی تھی۔
لنک یہ رہا:
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid0375zjjnnvSuNmdwHEUCJLkNcWb5NRaYYsTWgGG5fH9HVtNe2AHAxXmK9c6BnCwPMYl&id=100086766110837&mibextid=Nif5oz
اس کے جواب...
یوسف بن مازن مجھول ہے۔ سوائے ابن حبان کے کسی نے توثیق نہیں کی۔ اور جب ابن حبان کسی کی اکیلے توثیق کرتے ہیں تو وہ قابلِ قبول نہیں ہوتا۔ کیونکه ابن حبان متساہل مشہور ہیں
بے شک علی رضی الله عنه کے بیشمار فضائل ھیں۔ بلکه صحابه میں سب سے زیادہ فضائل کے باب میں آپ ہی کے لئے سب سے زیادہ مدح و منقبت منقول ھے۔ لیکن اس کا یہ معنی نہیں کہ آپ (یعنی علی رضی الله عنه) بعد از نبی سب سے افضل ہیں۔ ایسا ھرگز نہیں۔
ایک تو اس پر امت کا اجماع ہے کہ نبی اکرم صلی الله عليه وإله وسلم...
اس ساری جھوٹی کہانی کے برخلاف صحیح حدیث سے ثابت ھے کہ
حدثنا سعيد بن عفير، قال: حدثني الليث، قال: حدثني عقيل، عن ابن شهاب، عن حمزة بن عبد الله بن عمر، ان ابن عمر، قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال:" بينا انا نائم، اتيت بقدح لبن فشربت حتى إني لارى الري يخرج في اظفاري، ثم اعطيت فضلي عمر...
امام الحاکم نے اسی روایت کو ایک اور سند سے بھی بیان کر رکھا ھے۔
امام الحاکم رحمه الله نے کہا:
٤٦٣٩ - حدثني أبو بكر محمد بن علي الفقيه الإمام الشاشي القفال، ببخارى وأنا سألته حدثني النعمان بن الهارون البلدي، ببلد من أصل كتابه، ثنا أحمد بن عبد الله بن يزيد الحراني، ثنا عبد الرزاق، ثنا سفيان...
اس روایت کا بنیادی راوی عبد السلام بن صالح ابو الصلت الھروی کے حالات:
✺ امام ابن الجوزي نے کہا
١٩٢٦ - عبد السلام بن صالح بن سليمان بن ميسرة أبو الصلت الهروي يروي عن علي بن موسى الرضا وحماد بن زيد قال أبو حاتم الرازي لم يكن عندي بصدوق وضرب أبو زرعة على حديثه وقال ابن عدي متهم وقال العقيلي رافضي...
ایک زبردست قرینه:
امام ابو زرعة الرازي اور یحیی بن معین نے کہا:
وحديث أبي معاوية، عن الأعمش، عن مجاهد، عن ابن عباس: " أنا مدينة الحكمة، وعلي بابها ".
كم من خلق قد افتضحوا فيه.
ثم قال لي أبو زرعة: أتينا شيخا ببغداد يقال له: عمر بن إسماعيل بن مجالد، فأخرج إلينا كراسة لأبيه فيها أحاديث جياد، عن...
یہ روایت ایک دوسرے طرق سے بھی آئی ھے
ملاحظه ھو:
١١٠٦١ - حدثنا المعمري، ومحمد بن علي الصائغ المكي، قالا: ثنا عبد السلام بن صالح الهروي، ثنا أبو معاوية، عن الأعمش، عن مجاهد، عن ابن عباس، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «أنا مدينة العلم وعلي بابها فمن أراد العلم فليأته من بابه»
[المعجم...
اب آتے ہیں اس سند میں موجود رجال کی طرف
"محمد بن عمر بن عبد الله الرومي الباهلي البصري الدوسي".
.
امام ابن أبي حاتم محمد بن عمر بن عبد الله الرومي کے بارے میں کہا:
عبد الرحمن قال وسألت ابى عنه فقال: هو قديم روى عن شريك حديثا منكرا قلت ما حاله؟ فقال: فيه ضعف".
ترجمه:
عبد الرحمن بن ابی حاتم نے کہا...
حضرت طلحه بن عبید الله کو حضرت علی کے لشکر والوں نے قتل کیا۔ امام حاکم اور امام الذھبي نے اس روایت کو صحیح کہا_____
ملاحظه ھو:
٣٣٤٨ - حدثنا أبو العباس أحمد بن هارون الفقيه إملاء، ثنا أحمد بن محمد بن نصر، ثنا أبو نعيم، ثنا أبان بن عبد الله البجلي، حدثني نعيم بن أبي هند، حدثني ربعي بن حراش، قال...
حضرت طلحه بن عبید الله کو حضرت علی کے لشکر والوں نے قتل کیا۔ امام حاکم اور امام الذھبي نے اس روایت کو صحیح کہا_____
ملاحظه ھو:
٣٣٤٨ - حدثنا أبو العباس أحمد بن هارون الفقيه إملاء، ثنا أحمد بن محمد بن نصر، ثنا أبو نعيم، ثنا أبان بن عبد الله البجلي، حدثني نعيم بن أبي هند، حدثني ربعي بن حراش، قال...
مروان بن حکم نے جنگ جمل میں اپنے ہی ساتھی طلحہ بن عبیداللہ کو اسلئے تیر مار کر قتل کردیا کہ وہ خلیفہ راشد اور مروان کے سسر عثمان بن عفان کا قاتل تھا۔ اور جنگ جمل میں مروان کے ساتھ شامل ہوکر قصاص عثمان کا مطالبہ بھی کررہا تھا۔
یہ خبر سخت منکر اور عقل سے بعید ہے۔
⬅⬅1 اگر طلحہ بن عبیداللہ نامی...
کیا حضرت طلحة بن عبید الله, علی رضی الله عنه کے خلاف جنگ جمل سے پیچھے ھٹ گئے تھے؟؟
مرزا جہلمی اور نیم رافضیوں کی پیش کردہ دلیل کی حالت ملاحظه فرمائیں !!
اس سلسلے میں مرزا جہلمی اور طاہر القادری کینیڈا والے نے المستدرك کا حواله دیا ہے۔
امام الحاکم نے کہا:
٥٥٩٤ - أخبرني الوليد، وأبو بكر بن قريش،...