• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

نتائجِ‌تلاش

  1. ن

    میں علم کا شہر ہوں علی اُس کا دروازہ ہیں". کی تحقیق

    نہ تو یہ ہماری دو نمبر ہے۔ نہ ہی ہم بغض کا شکار ہیں۔ بلکه ھم ھر صحابی کی ثابت شدہ فضیلت کو سینے سے لگاتے ہیں۔ آپ کو یاد دلاتا چلوں۔ ابن محرز والی روایت کو آپ ہی سب سے پہلے پیش کرکے اپنا مدعیٰ ثابت کرنا چاہا تھا۔ لیکن جب میں نے آپ کی دم پر پاؤں رکھا تو آپ نے خود ہی ابن محرز کے مجھول ہونے کا...
  2. ن

    میں علم کا شہر ہوں علی اُس کا دروازہ ہیں". کی تحقیق

    ابو الحسین کا جواب : #حدیث_انا_مدینة_العلم_اور_ہماری_تحقیق_قسط_دوم ⭕ پچھلی تحریر میں، میں نے اس حدیث کے چار صحیح السناد طرق پیش کیے تھے اور ساتھ ہی یحیی بن معین کا قول پیش کیا تھا جس میں انہوں نے اس روایت کی تصحیح فرمائ تھی۔ جس پر کچھ ناسبی فکر رکھنے والے حضرات نے بے بانگ دہل ادھے ادھورے...
  3. ن

    میں علم کا شہر ہوں علی اُس کا دروازہ ہیں". کی تحقیق

    میری نے یہ تحریر بطور رد لکھی تھی۔ فیس بُک پر ایک شخص ابو الحسین نام سے ہے اُس نے اِس روایت کو ثابت کرنے کی کوشش کی تھی۔ لنک یہ رہا: https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid0375zjjnnvSuNmdwHEUCJLkNcWb5NRaYYsTWgGG5fH9HVtNe2AHAxXmK9c6BnCwPMYl&id=100086766110837&mibextid=Nif5oz اس کے جواب...
  4. ن

    مستدرک حاکم؟

    یوسف بن مازن مجھول ہے۔ سوائے ابن حبان کے کسی نے توثیق نہیں کی۔ اور جب ابن حبان کسی کی اکیلے توثیق کرتے ہیں تو وہ قابلِ قبول نہیں ہوتا۔ کیونکه ابن حبان متساہل مشہور ہیں
  5. ن

    میں علم کا شہر ہوں علی اُس کا دروازہ ہیں". کی تحقیق

    حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبِي وَعَمِّي، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ أَبِيهِ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جُبَيْرٍ، أَنَّ أَبَاهُ، جُبَيْرَ بْنَ مُطْعِمٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ امْرَأَةً أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَكَلَّمَتْهُ فِي شَىْءٍ،...
  6. ن

    میں علم کا شہر ہوں علی اُس کا دروازہ ہیں". کی تحقیق

    حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي الْعَلَاءِ الْمُرَادِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ هَرِمٍ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ...
  7. ن

    میں علم کا شہر ہوں علی اُس کا دروازہ ہیں". کی تحقیق

    بے شک علی رضی الله عنه کے بیشمار فضائل ھیں۔ بلکه صحابه میں سب سے زیادہ فضائل کے باب میں آپ ہی کے لئے سب سے زیادہ مدح و منقبت منقول ھے۔ لیکن اس کا یہ معنی نہیں کہ آپ (یعنی علی رضی الله عنه) بعد از نبی سب سے افضل ہیں۔ ایسا ھرگز نہیں۔ ایک تو اس پر امت کا اجماع ہے کہ نبی اکرم صلی الله عليه وإله وسلم...
  8. ن

    میں علم کا شہر ہوں علی اُس کا دروازہ ہیں". کی تحقیق

    اس ساری جھوٹی کہانی کے برخلاف صحیح حدیث سے ثابت ھے کہ حدثنا سعيد بن عفير، قال: حدثني الليث، قال: حدثني عقيل، عن ابن شهاب، عن حمزة بن عبد الله بن عمر، ان ابن عمر، قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال:" بينا انا نائم، اتيت بقدح لبن فشربت حتى إني لارى الري يخرج في اظفاري، ثم اعطيت فضلي عمر...
  9. ن

    میں علم کا شہر ہوں علی اُس کا دروازہ ہیں". کی تحقیق

    امام الحاکم نے اسی روایت کو ایک اور سند سے بھی بیان کر رکھا ھے۔ امام الحاکم رحمه الله نے کہا: ٤٦٣٩ - حدثني أبو بكر محمد بن علي الفقيه الإمام الشاشي القفال، ببخارى وأنا سألته حدثني النعمان بن الهارون البلدي، ببلد من أصل كتابه، ثنا أحمد بن عبد الله بن يزيد الحراني، ثنا عبد الرزاق، ثنا سفيان...
  10. ن

    میں علم کا شہر ہوں علی اُس کا دروازہ ہیں". کی تحقیق

    اس روایت کا بنیادی راوی عبد السلام بن صالح ابو الصلت الھروی کے حالات: ✺ امام ابن الجوزي نے کہا ١٩٢٦ - عبد السلام بن صالح بن سليمان بن ميسرة أبو الصلت الهروي يروي عن علي بن موسى الرضا وحماد بن زيد قال أبو حاتم الرازي لم يكن عندي بصدوق وضرب أبو زرعة على حديثه وقال ابن عدي متهم وقال العقيلي رافضي...
  11. ن

    میں علم کا شہر ہوں علی اُس کا دروازہ ہیں". کی تحقیق

    ایک زبردست قرینه: امام ابو زرعة الرازي اور یحیی بن معین نے کہا: وحديث أبي معاوية، عن الأعمش، عن مجاهد، عن ابن عباس: " أنا مدينة الحكمة، وعلي بابها ". كم من خلق قد افتضحوا فيه. ثم قال لي أبو زرعة: أتينا شيخا ببغداد يقال له: عمر بن إسماعيل بن مجالد، فأخرج إلينا كراسة لأبيه فيها أحاديث جياد، عن...
  12. ن

    میں علم کا شہر ہوں علی اُس کا دروازہ ہیں". کی تحقیق

    ابن محرز (مجھول) نے امام یحیی ابن معین سے نقل کیا کہ یہ حدیث ابو معاویه سے ثابت ہے۔ تو عرض ھے کہ بلفرض ابن محزر کی نقل کو تسلیم بھی کرلیا جائے تب بھی یہ حدیث ابو معاویه کی حدیث ثابت نہیں ھوتی۔ ملاحظه ھو: © ابن محرز نے اس کی یہ سند نقل کی: حدثنا محمد بن جعفر العلاف الذى كان ينزل نفيد كوفى قال...
  13. ن

    میں علم کا شہر ہوں علی اُس کا دروازہ ہیں". کی تحقیق

    یہ روایت ایک دوسرے طرق سے بھی آئی ھے ملاحظه ھو: ١١٠٦١ - حدثنا المعمري، ومحمد بن علي الصائغ المكي، قالا: ثنا عبد السلام بن صالح الهروي، ثنا أبو معاوية، عن الأعمش، عن مجاهد، عن ابن عباس، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «أنا مدينة العلم وعلي بابها فمن أراد العلم فليأته من بابه» [المعجم...
  14. ن

    میں علم کا شہر ہوں علی اُس کا دروازہ ہیں". کی تحقیق

    اس روایت کے بارے میں ائمه نقاد کیا کہتے ہیں؟ © امام الدارقطني نے کہا: وقال الدارقطني: هو حديث يرويه سلمة بن كهيل، واختلف عنه؛ فرواه شريك، عن سلمة، عن الصنابحي، عن علي. واختلف عن شريك، فقيل: عنه، عن سلمة، عن رجل، عن الصنابحي. ورواه يحيى بن سلمة بن كهيل، عن أبيه، عن سويد بن غفلة، عن الصنابحي، ولم...
  15. ن

    میں علم کا شہر ہوں علی اُس کا دروازہ ہیں". کی تحقیق

    اب آتے ہیں اس سند میں موجود رجال کی طرف "محمد بن عمر بن عبد الله الرومي الباهلي البصري الدوسي". . امام ابن أبي حاتم محمد بن عمر بن عبد الله الرومي کے بارے میں کہا: عبد الرحمن قال وسألت ابى عنه فقال: هو قديم روى عن شريك حديثا منكرا قلت ما حاله؟ فقال: فيه ضعف". ترجمه: عبد الرحمن بن ابی حاتم نے کہا...
  16. ن

    میں علم کا شہر ہوں علی اُس کا دروازہ ہیں". کی تحقیق

    روافض کی پیش کردہ پہلی دلیل : ملاحظه ھو: © امام احمد ابن حنبل نے کہا: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ ، قَالَ : نا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرُّومِيُّ ، قَالَ : نا شَرِيكٌ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنِ الصُّنَابِحِيِّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى...
  17. ن

    کیا حضرت طلحہ بن عبید اللہ نے جنگ جمل سے رجوع کر لیا تھا اور کیا طلحہ بن عبید اللہ کو مروان نے قتل کیا تھا؟

    حضرت طلحه بن عبید الله کو حضرت علی کے لشکر والوں نے قتل کیا۔ امام حاکم اور امام الذھبي نے اس روایت کو صحیح کہا_____ ملاحظه ھو: ٣٣٤٨ - حدثنا أبو العباس أحمد بن هارون الفقيه إملاء، ثنا أحمد بن محمد بن نصر، ثنا أبو نعيم، ثنا أبان بن عبد الله البجلي، حدثني نعيم بن أبي هند، حدثني ربعي بن حراش، قال...
  18. ن

    کیا حضرت طلحہ بن عبید اللہ نے جنگ جمل سے رجوع کر لیا تھا اور کیا طلحہ بن عبید اللہ کو مروان نے قتل کیا تھا؟

    حضرت طلحه بن عبید الله کو حضرت علی کے لشکر والوں نے قتل کیا۔ امام حاکم اور امام الذھبي نے اس روایت کو صحیح کہا_____ ملاحظه ھو: ٣٣٤٨ - حدثنا أبو العباس أحمد بن هارون الفقيه إملاء، ثنا أحمد بن محمد بن نصر، ثنا أبو نعيم، ثنا أبان بن عبد الله البجلي، حدثني نعيم بن أبي هند، حدثني ربعي بن حراش، قال...
  19. ن

    کیا حضرت طلحہ بن عبید اللہ نے جنگ جمل سے رجوع کر لیا تھا اور کیا طلحہ بن عبید اللہ کو مروان نے قتل کیا تھا؟

    مروان بن حکم نے جنگ جمل میں اپنے ہی ساتھی طلحہ بن عبیداللہ کو اسلئے تیر مار کر قتل کردیا کہ وہ خلیفہ راشد اور مروان کے سسر عثمان بن عفان کا قاتل تھا۔ اور جنگ جمل میں مروان کے ساتھ شامل ہوکر قصاص عثمان کا مطالبہ بھی کررہا تھا۔ یہ خبر سخت منکر اور عقل سے بعید ہے۔ ⬅⬅1 اگر طلحہ بن عبیداللہ نامی...
  20. ن

    کیا حضرت طلحہ بن عبید اللہ نے جنگ جمل سے رجوع کر لیا تھا اور کیا طلحہ بن عبید اللہ کو مروان نے قتل کیا تھا؟

    کیا حضرت طلحة بن عبید الله, علی رضی الله عنه کے خلاف جنگ جمل سے پیچھے ھٹ گئے تھے؟؟ مرزا جہلمی اور نیم رافضیوں کی پیش کردہ دلیل کی حالت ملاحظه فرمائیں !! اس سلسلے میں مرزا جہلمی اور طاہر القادری کینیڈا والے نے المستدرك کا حواله دیا ہے۔ امام الحاکم نے کہا: ٥٥٩٤ - أخبرني الوليد، وأبو بكر بن قريش،...
Top