الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
چودھواں فائدہ:
مفتی کو اللہ تعالی سے بکثرت دعا کرتے رہنا چاہیے، اللہ کی طرف نہایت عجزوانکسار اور احتیاج صادق کا اظہار کرتے رہنا چاہیے تاکہ باب فتویٰ اس کے لیے آسان ہو۔ جو تضرع والحاح کے ساتھ اللہ سے دعا کرتا ہے۔ اللہ اس کے لیے رحمت و ہدایت اور توفیق کے دروازے کھول دیتا ہے۔ اے اللہ! میں تجھ سے...
تیرھواں فائدہ:
مفتی کے پاس سنت کی کتابوں کا ذخیرہ ہونا چاہیے اور صحیح و ضعیف کی معرفت کے لیے احادیث کی اسانید کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ اور اس طرح مذاہب اربعہ کی کتب فقہ بھی موجود ہونی چاہیے۔ اس طرح اہل علم کے اقوال میں اس کیلئے حق کا تبین اور واضح ہونا ممکن ہوگا، واللہ المستعان۔
بارھواں فائدہ:
مفتی کے لیے فتویٰ دینے میں جلد بازی مناسب نہیں جب اس سے مسئلہ پوچھا جائے اور اسے اسکے جواب کا یقین ہوتو مدلل جواب دے دے اگر اسے شک یا توقف ہو تو سائل سے مہلت مانگ لے اور کتب سنت اور اقوال علماء کا مطالعہ کرکے بادلیل سمجھ کر یقین کے ساتھ سائل کو جواب دے، اسی لیے مفتی کے لیے ایک...
گیارھواں فائدہ:
جس کے پاس حدیث کی کتب موجود ہوں اور وہ اسکا معنی مفہوم سمجھتا ہو تو اس کے لیے اس پر فتویٰ دینا اور عمل کرنا جائز ہےاور کسی امام وفقیہ کی کوئی ضرورت نہیں، صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کی یہی عادت تھی کہ جب انہیں حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم پہنچی تو وہ نسخ و تعارض کا اندیشہ...
دسواں فائدہ:
مفتی کے لیے مناسب ہے کہ وہ حتی الامکان اپنے فتویٰ میں نص کے الفاظ ذکر کرے کیونکہ اس میں حکم اور دلیل کا بیان ہوتا ہے اور اس میں صحت، دلیل اور حسن بیان کی ضمانت ہوتی ہے جب کہ فقہ معین رب کا قول نہیں ہوتا، صحابہ اور تابعین اور ائمہ میں سے جو ان کے منہج پر تھے اسی طریق کے پابند تھے۔...
نواں فائدہ:
کبھی کبھی کسی مفتی سے کوئی کسی چیز کے بارے پوچھتا ہےتو یہ اس سے منع کردیتا ہے لیکن پوچھنے والے کو اس کے بدلے میں کسی اور مباح چیز تجویز کرنے کی ضرورت ہوتی ہے تو گویا کہ اس نے باب محظور بند کر دیا اور باب مباح کھول دیا اور یہ کسی ناصح اور مشفق عالم کا کام ہے جو اللہ تعالی کی رضا کی...
آٹھواں فائدہ:
بعض لوگ فتویٰ میں دلیل کے ذکر کو عیب سمجھتے ہیں حالانکہ یہ عیب سمجھنا اولیٰ بالعیب ہے فتوے کی روح اور اس کا جمال تو دلیل ہے تو فتویٰ میں اللہ ورسول کا کلام مسلمانوں کا اجماع صحابہ کے اقوال اور قیاس صحیح کا ذکر کرنا کیسے عیب ہوسکتا ہے فتویٰ کی زینت تو اللہ و رسول کا قول ہے، مفتی کا...
ساتواں فائدہ:
اکثر اہل افتاء حق کو جانتے ہوئے جب دیکھتے ہیں کہ مسائل کی غرض کے موافق نہیں بلکہ مخالف ہے فتویٰ دینے سے گریز کرتے ہیں اکثر مفتی مستفتی سے اسکی غرض پوچھتے ہیں اگر جواب انکی غرض کے موافق ہو جواب لکھ کر دیدیتے ہیں اور بصورت عدم موافقت کسی دوسرے مفتی کے پاس بھیج دیتے ہیں اور یہ مطلقا...
چھٹا فائدہ:
مفتی کے لیے درج ذیل مسنون دعا بکثرت پڑھتے رہنا چاہیے:
ترجمہ: اے اللہ جبرائیل، میکائیل اور اسرافیل جیسے عظیم الشان فرشتوں کے رب، آسمان وزمین کے پیدا کرنےوالے غائب وحاضر کے جاننے والے، بندوں کے درمیان اختلافی امور میں تو ہی فیصلہ کرے گا، ان اختلافی امور میں اپنے اذن سے تو میری حق کی...
پانچواں فائدہ:
مفتی پر لازم ہے کہ وہ ایسے اہل علم سےجن کے علم پر اسے بھروسہ ہو مشورہ کرتا رہے اور ازخود جواب دیکر اپنے آپ کو اونچا نہ کرے اور فتووں میں اپنے علاوہ دیگر اہل علم کی مدد حاصل کرے۔
اللہ تعالی نے بھی شاورھم فی الامر کہہ کر مشورے کا حکم دیا ہے اور مومنوں کی تو صفت بیان فرمائی ہے کہ...
چوتھا فائدہ:
مفتی پر لازم ہے کہ وہ نصوص میں فاسد تاویلوں سے گریز کرے۔ اگر اس سے کتاب اللہ یا سنت رسول اللہ کی تفسیرو تشریح پوچھی جائے تو وہ اپنے مذہب و خواہش کی موافقت کے لیے باطل تاویلوں کے ذریعے اپنے ظاہر سے نہ ہٹائے اور جو اس کا مرتکب ہو تو وہ فتویٰ سے روکے جانے کا مستحق ہے امام شافعی رحمہ...
تیسرا فائدہ:
مفتی پر نص کے خلاف فتویٰ دینا حرام ہے اگرچہ وہ اسکے مذھب کے موافق ہو اسکی مثال یہ ہے کہ اگر کسی شخص کے بارے میں پوچھا جائے جس نے صبح کی ایک رکعت ادا کی تھی کہ سورج طلوع ہوگیا تو اب وہ اپنی نماز پوری کرے یا نہیں تو کہے کہ نماز پوری نہ کرے، حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے...
دوسر افائدہ:
اہلیت کے بغیر فتویٰ دینے والا نا فرمان ہے اور اس قسم کے مفتی مقرر کرنے والے حکمران بھی گنا ہ و نافرمانی میں برابر کے شریک ہیں۔ امام احمد و امام ابن ماجہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ترجمہ: جو علم کے بغیر لوگوں کو فتوے دیتا ہے تو اس کا...
پہلا فائدہ:
مفتی کو درج ذیل حالتوں میں فتوی سے گریز کرنا چاہیے:
1---سخت غصے کی حالت۔
2---سخت بھوک کی حالت۔
3--- پریشان کن غم۔
4---سخت خوف۔
5---اُونگھ کا غلبہ۔
6---قلبی شغل کا غلبہ۔
7---ضرورت قضائے حاجت۔
تو جب اپنے نفس میں ایسی کوئی چیز محسوس کرے جس سے وہ حال اعتدال میں نہ رہے اور تثبت و تبین...
فتوی سے متعلق فوائد
شیخ امین اللہ پشاوری حفظہ اللہ
دین میں فتویٰ نویسی کے لیے ان فوائد کی معرفت ضروری ہے تاکہ فتویٰ میں بصیرت پیدا ہو اور تقول علی اللہ کا مرتکب نہ ہو۔ یہ فوائد بکثرت ہیں، بعض اہم درج ذیل ہیں:
فور جی سے فائیو جی 65 ہزار گنا تیز
سائنس دانوں نے فائیو جی ٹیکنالوجی کی مدد سے کم سے کم وقت میں ڈیٹا کو ایک موبائل سے دوسرے موبائل میں منتقل کرنے کا ریکارڈ قائم کیا ہے۔
برطانیہ کی سرے یونیورسٹی کے فائٹو جی انوویشن سینٹر میں ایک ٹیرابٹ یعنی ایک کھرب ہندسوں کو ایک سیکنڈ میں منتقل کیا گیا جو کہ...
سندھ میں ڈاکو پکڑنے کے لیے ڈرون کا استعمال
پاکستان میں ڈرونز کا استعمال پہلے امریکہ اور پھر میڈیا ہاؤسز نے کیا لیکن اب صوبہ سندھ کے ضلع سکھر کی پولیس ڈاکوؤں کو پکڑنے کے لیے اس ٹیکنالوجی کا استعمال کرے گی۔
ایس ایس پی سکھر تنویر حسین تنیو نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے علاقے میں زیادہ تر چھاپے کچے...
ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ اپنی شرح بخاری میں لکھتے ہیں: اس حدیث سے استدلال کیا گیا ہے کہ بچوں کو مسجد میں لایا جا سکتا ہے، گو یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کسی قریب کے گھر سے بچے کی آواز آتی ہو (جس کی ماں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز میں شامل ہو)۔ عورتیں، مردوں کے ساتھ جماعت میں شامل ہو کر نماز...