• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

نتائجِ‌تلاش

  1. محمد نعیم یونس

    مکڑی

    انسانی ارتقاء کا افسانہ وہ جسے نظریۂ ارتقاء کے حامی جس موضوع کو بالعموم زیرِ بحث لاتے ہیں وہ ’انسان کی ابتداء ‘(origin of man)ہے۔ڈارونی نظریے کا دعویٰ ہے کہ دورِ حاضر کے جدید انسان ماضی کے بوزنہ نما (ape-like)جانوروں سے بذریعہ ارتقاء وجود میں آئے۔یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ آج سے چار یا پانچ ملین...
  2. محمد نعیم یونس

    مکڑی

    ڈارون کی امیدوں پر پانی کا پھرنا گو انیسویں صدی کے وسط سے ارتقاء پرست دنیا بھر میں فوصل تلاش کرنے کی ان تھک کوشش کر رہے ہیں، تاہم ،آج تک کوئی عبوری شکلیں پردۂ اخفا سے نکل کر سامنے نہیں آئیں۔ کھدائی کے ذریعے بر آمد ہونے والے تمام فوصل سے پتا چلا کہ ارتقاء پرستوں کی توقعات کے بر عکس زندگی کرۂ ارض...
  3. محمد نعیم یونس

    مکڑی

    فوصل ریکارڈ : عبوری شکلوں کی عدم موجودگی فوصل ریکارڈ اس بات کا سب سے واضح ثبوت ہیں کہ نظریہ ارتقاء کا تجویز کردہ مناظرہ کبھی وقوع پذیر نہیں ہوا ۔ نظریۂ ا رتقاء کے مطابق ہر جاندار شے اپنے کسی پیش رو سے وجود میں آئی ہے۔ماضی میں پہلے سے موجود ایک نوع وقت کے ساتھ ساتھ کسی اور شے میں تبدیل ہو گئی اور...
  4. محمد نعیم یونس

    مکڑی

    نو ڈارونیت اور جینیاتی تبدیلیاں اس مسئلے کا حل تلاش کرنے کے لئے ڈارون پسندوں نے ۱۹۳۰ کی دہائی کے آخر میں ’جدید مصنوعی نظریہ‘ (Modern Synthetic Theory) پیش کیا جسے عر فِ عام میں ’نو ڈارونیت‘(Neo-Darwinism)کہتے ہیں۔ نو ڈارونیت نے فطری انتخاب کے ساتھ ساتھ جینیاتی تبدیلیوں کوبھی ’موافق و مفیدتغیرات...
  5. محمد نعیم یونس

    مکڑی

    لامارک کا گہرا اثر پس یہ ’ موافق تغیرات یا تبدیلیاں ‘ یا سازگار حالات کیسے وقوع پذیر ہو سکتے ہیں؟ ڈارون نے اپنے دور میں رائج قدیم اور ناپختہ سائنسی سوجھ بوجھ کے نقطۂ نظر سے اس سوال کا جواب دینے کی کوشش کی۔ڈارون سے قبل موجود ایک فرانسیسی حیاتیات دان لامارک Lamarckکے مطابق جانداروں نے اپنی زندگی...
  6. محمد نعیم یونس

    مکڑی

    عملِ ارتقاء کے تخیلاتی میکانیکی عمل دوسرا اہم نقطہ جس سے ڈارون کے نظریے کی تردید ہوتی ہے یہ ہے کہ اس نظریے نے جن دو تصورات کو (فطری انتخاب اور جینیاتی تبدیلیاں) ’ارتقائی میکانیکی عمل‘ کے طور پر پیش کیا تھا، وہ حقیقت میں کسی ’ارتقائی قوت‘ کے حامل نہیں ہیں۔ ڈارون نے اپنے ارتقائی دعوے کی بنیاد مکمل...
  7. محمد نعیم یونس

    مکڑی

    زندگی کی پیچیدہ ساخت وہ بنیادی وجہ جس کی وجہ سے نظریۂ ارتقاء زندگی کی ابتداء کے بارے میں اسقدر شدید تعطل کا شکار ہو گیایہ ہے کہ بظاہر سادہ ترین نظر آنے والے جاندار بھی ناقابلِ یقین حد تک پیچیدہ ساخت رکھتے ہیں۔ ایک جاندار کا خلیہ انسان کی ایجاد کردہ تمام تر تکنیکی مصنو عات سے بھی زیادہ پیچیدہ...
  8. محمد نعیم یونس

    مکڑی

    بیسویں صدی کی غیر فیصلہ کن کوششیں پہلا ارتقاء پرست جس نے بیسویں صدی میں زندگی کی ابتداء کے موضوع کو آگے بڑھایا ایک مشہور روسی ماہرِ حیاتیات الیگزینڈر اوپیرن Alexander Oparin تھا۔۱۹۳۰ کے عشرے میں بے شمار مقالے پیش کر کے اس نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ جاندارشے کا خلیہ اتفاق سے وجود میں آسکتا...
  9. محمد نعیم یونس

    مکڑی

    زندگی زندگی سے وجود پاتی ہے۔ ڈارون نے اپنی کتاب میں کہیں پر بھی زندگی کے آغاز کا ذکر نہیں کیا۔اس کے دور میں سائنس کی قدیم سوجھ بوجھ اِس مفروضے پر مبنی تھی کہ جانداروں کی ساخت نہایت سادہ ہوتی ہے۔قرونِ وسطیٰ کے عہد سے ’خود نو زائدگی ‘ کا نظریہ مقبول عام تھا جس کا دعویٰ ہے کہ بے جان اشیاء یکجا ہو...
  10. محمد نعیم یونس

    مکڑی

    پہلا ناقابلِ عبور قدم: ابتدائے حیات نظریۂ ارتقاء یہ فرض کرتا ہے کہ تمام ذی روح انواع ایک ہی جاندار خلیے سے ،جو ۸.۳ بلین برس قبل قدیم کرۂ ارض پر نمودار ہوا، بذریعہ ارتقاء وجود میں آئیں۔صرف ایک واحد خلیہ لاکھوں پیچیدہ جاندار انواع کو کیسے عالم وجود میں لایا؟ اور اگر واقعی ایسا کوئی ارتقاء وقوع...
  11. محمد نعیم یونس

    مکڑی

    ڈارونیت کا سائنسی انہدام اگرچہ نظریۂ ارتقاء ایک ایسا عقیدہ ہے جس کی جڑیں قدیم یونان تک جا پہنچتی ہیں مگر اسے وسیع پیمانے پر انیسویں صدی میں پیش کیا گیا۔سب سے اہم پیشِ رفت جس نے اس موضوع کو سائنسی دنیا کا مقبول ترین موضوع بنا دیا چارلس ڈارون کی’ انوع کی ابتداء‘ (The Origin of Species) نامی کتاب...
  12. محمد نعیم یونس

    مکڑی

    ارتقاء کا فریب کبھی کھبار ننھے جانداروں کے بے مثال نظام ایک عظیم حقیقت کی جانب ہماری آ نکھیں کھول دیتے ہیں: تخلیق کی حقیقت ۔۔۔اللہ تعالیٰ نے تمام ذی حیات اشیاء کو انکے خدوخال سمیت بے عیب پیدا کیا۔ نظریۂ ارتقاء ،جس کا دعویٰ ہے کہ ہر چیز اتفاق کے نتیجے میں نمودار ہوئی ، جانداروں میں پائی جانے والی...
  13. محمد نعیم یونس

    مکڑی

    تو یہ ’جبلت ‘کیا ہے؟کیا یہ ایک ایساالہام ہے جس کا منبع غیر واضح ہے اور جو مکڑی کو طبیعیات اور علمِ کیمیا کا پروفیسر، تعمیراتی انجینئر اورماہرِ تعمیرات بنا دیتا ہے؟اس الہام کا ، جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ مکڑی میں موجود ہے اور ازخود نمودار ہوا ہے، مخرج کیا ہے ؟آئیے ہم مکڑی کی ساخت کا جائزہ...
  14. محمد نعیم یونس

    مکڑی

    مکڑی تنفس،ہضم اور دورانِ خون کے نظاموں کی مالک ہے۔دیگر نظاموں کی طرح یہ نظام بھی بیک وقت نمودار ہوئے ہوں گے۔ہم کسی ایسی مکڑی کا تصور بھی نہیں کر سکتے جس کا پیٹ یا دل نہ ہو۔اس سے نتیجہ یہ نکلتاہے کہ باقی تمام اعضاء جیسے کہ جالے بنانے والے اعضاء کو موجود ہونے کے لئے یہ ضروری ہے کہ اِن اعضاء کے...
  15. محمد نعیم یونس

    مکڑی

    اس منظرنامے کا بغور مشاہدہ کرنے سے یہ امر واضح ہو گیا ہے کہ نظریۂ ارتقاء فراست سے محروم تخمینہ ہے۔یہاں ایک اہم نکتہ بیان کرنے کی ضرورت ہے۔اولاً یہ کہ مکڑی جن خصوصیات کی مالک ہے وہ کسی بھی طرح وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ رونما نہیں ہو سکتی تھیں۔زیرِ بحث صلاحیتیں مکڑی کے اندر لازماً بیک وقت موجود رہی...
  16. محمد نعیم یونس

    مکڑی

    تاہم اگر ہم یہ قبول کر بھی لیں کہ کیڑا جالے کی تعمیر کے لئے منصوبہ بندی کرنے کی ذہانت رکھتا ہے تو ایسی صورت میں بھی اس کے لئے موت سے بچنا ممکن نہیں کیونکہ اس کے پاس جالے بنانے کے آلات نہیں۔ایسے آلات جن میں جالے بنانے کے لئے ضروری خصوصیات موجود ہوں فطرت میں پائے نہیں جاتے۔ایسی صورتحال میں اس نے...
  17. محمد نعیم یونس

    مکڑی

    نظریۂ ارتقاء قیاس پر مبنی دعویٰ ہے جسے کسی بھی سائنسی اصول کی حمایت حاصل نہیں اور نہ ہی یہ کسی معقول دلیل اور ثبوت پر مبنی ہے۔دوسری طرف اس کا یہ دعویٰ کہ ہر جاندار ان گنت اور قطعاً بعید ازامکان اتفاقات کے نتیجے میں نمودار ہوا ہو گا ،ذہانت اور سائنس سے یکسر خالی بنیاد پر مبنی ہے۔ اس کے باوجود...
  18. محمد نعیم یونس

    مکڑی

    اختتام وَيَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّـهِ مَا لَا يَمْلِكُ لَهُمْ رِ‌زْقًا مِّنَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْ‌ضِ شَيْئًا وَلَا يَسْتَطِيعُونَ ﴿٧٣﴾ فَلَا تَضْرِ‌بُوا لِلَّـهِ الْأَمْثَالَ ۚ إِنَّ اللَّـهَ يَعْلَمُ وَأَنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ ﴿٧٤﴾ ’اور وہ اللہ تعالیٰ کے سوا ان کی عبادت کرتے ہیں جو...
  19. محمد نعیم یونس

    مکڑی

    پانی پر چلنے والی مکڑی پانی پر چلنے والی مکڑیاں ایک خاص ساخت کی مالک ہوتی ہیں جس کی مدد سے وہ پانی پر چل سکتی ہیں۔ ان مکڑیوں کے پیروں کے سروں پر آب روک موم یا لاکھ سے ڈھکے بالوں کی موٹی مخملی چوٹی پائی جاتی ہے۔ان کی مدد سے مکڑی بغیر ڈوبے پانی پر چل سکتی ہے۔مکڑی کی پانی کی سطح پر کھڑے رہنے کی...
  20. محمد نعیم یونس

    مکڑی

    شکار کو مفلوج کر نا اور ہضم کا عمل جالے میں پھنس جانے والے جانوروں کو مکڑی دوسرے دھاگے میں پور ی طرح لپیٹ دیتی ہے۔ یہ دھاگا وہ اس وقت تیار کرتی ہے جب شکار جالے پر اچھی طرح پھنس جاتا ہے۔اس کے بعد وہ شکا ر کو اپنے دانتوں سے پکڑ کر اسے مکمل طور پر زہر سے بھر دیتی ہے جس سے شکار ہلاک ہوجاتا ہے۔ مکڑی...
Top