الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
صحیح بخاری -> کتاب الوکالۃ
باب : اگر کوئی چیز کسی قوم کے وکیل یا سفارشی کو ہبہ کی جائے تو درست ہے
لقول النبي صلى الله عليه وسلم لوفد هوازن حين سألوه المغانم فقال النبي صلى الله عليه وسلم "نصيبي لكم". ...
صحیح بخاری -> کتاب الوکالۃ
باب : قرض ادا کرنے کے لیے کسی کو وکیل کرنا
حدیث نمبر : 2306
حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا شعبة، عن سلمة بن كهيل، سمعت أبا سلمة بن عبد الرحمن، عن أبي هريرة ـ رضى الله عنه ـ أن رجلا، أتى النبي صلى الله عليه وسلم يتقاضاه، فأغلظ، فهم به أصحابه فقال رسول...
صحیح بخاری -> کتاب الوکالۃ
باب : حاضر اور غائب دونوں کو وکیل بنانا جائز ہے
وكتب عبد الله بن عمرو إلى قهرمانه وهو غائب عنه أن يزكي عن أهله الصغير والكبير.
اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ...
صحیح بخاری -> کتاب الوکالۃ
باب : چرانے والے نے یا کسی وکیل نے کسی بکری کو مرتے ہوئے یا کسی چیز کو خراب ہوتے دیکھ کر ( بکری کو ) ذبح کردیا یا جس چیز کے خراب ہوجانے کے ڈر تھا اسے ٹھیک کر دیا، اس بارے میں کیا حکم ہے؟
تشریح : ابن منیر نے کہا امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کی غرض اس باب سے یہ...
صحیح بخاری -> کتاب الوکالۃ
باب : صرافی اور ماپ تول میں وکیل کرنا
اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے صرافی میں وکیل کیا تھا۔
صرافی بیع صرف کو کہتے ہیں۔...
صحیح بخاری -> کتاب الوکالۃ
باب : اگر کوئی مسلمان دار الحرب یا دار الاسلام میں کسی حربی کافر کو اپنا وکیل بنائے تو جائز ہے
حدیث نمبر : 2301
حدثنا عبد العزيز بن عبد الله، قال حدثني يوسف بن الماجشون، عن صالح بن إبراهيم بن عبد الرحمن بن عوف، عن أبيه، عن جده عبد الرحمن بن عوف ـ...
کتاب الوکالۃ
صحیح بخاری -> کتاب الوکالۃ
(کتاب وکالت کے مسائل کے بیان میں)
بسم اللہ الرحمن الرحیم
لغت میں وکالت کے معنی سپرد کرنا اور شریعت میں وکالت اس کو کہتے ہیں کہ آدمی اپنا کوئی کام کسی کے سپرد کرے بشرطیکہ اس کام میں نیابت اور...
صحیح بخاری -> کتاب الکفالۃ
باب : قرض کا بیان
حدیث نمبر : 2298
حدثنا يحيى بن بكير، حدثنا الليث، عن عقيل، عن ابن شهاب، عن أبي سلمة، عن أبي هريرة ـ رضى الله عنه ـ أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يؤتى بالرجل المتوفى عليه الدين فيسأل "هل ترك لدينه فضلا". فإن حدث أنه...
صحیح بخاری -> کتاب الکفالۃ
باب : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو ( ایک مشرک کا ) امان دینا اور اس کے ساتھ آپ کا عہد کرنا
جو حدیث اس باب میں لائے اس کی مطابقت اس طرح ہے کہ پناہ دینے والے نے جس کو پناہ دی، گویا اس کی عدم ایذا کا متکفل ہوا۔ اور اس پر اس...
صحیح بخاری -> کتاب الکفالۃ
باب : جو شخص کسی میت کے قرض کا ضامن بن جائے تو اس کے بعد اس سے رجوع نہیں کرسکتا، حضرت حسن بصری رحمہ اللہ علیہ نے بھی یہی فرمایا
حدیث نمبر : 2295
حدثنا أبو عاصم، عن يزيد بن أبي عبيد، عن سلمة بن الأكوع ـ رضى الله عنه ـ أن النبي صلى الله عليه وسلم أتي...
صحیح بخاری -> کتاب الکفالۃ
باب : اللہ تعالیٰ کا ( سورہ نساء میں ) یہ ارشاد کہ ” جن لوگوں سے تم نے قسم کھا کر عہد کیا ہے، ان کا حصہ ان کو ادا کرو “
حدیث نمبر : 2292
حدثنا الصلت بن محمد، حدثنا أبو أسامة، عن إدريس، عن طلحة بن مصرف، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس ـ رضى الله عنهما...
کتاب الکفالۃ
صحیح بخاری -> کتاب الکفالۃ
باب : قرضوں وغیرہ کی حاضر ضمانت اور مالی ضمانت کے بیان میں
شریعت میں یہ دونوں درست ہیں۔ ضامن کو مدینہ والے زعیم اور مصر والے حمیل اور عراق والے کفیل کہتے ہیں۔
حدیث نمبر : 2290
وقال أبو الزناد عن محمد بن حمزة بن عمرو الأسلمي، عن...
صحیح بخاری -> کتاب الحوالات
باب : اگر کسی میت کا قرض کسی ( زندہ ) شخص کے حوالہ کیا جائے تو جائز ہے
حدیث نمبر : 2289
حدثنا المكي بن إبراهيم، حدثنا يزيد بن أبي عبيد، عن سلمة بن الأكوع ـ رضى الله عنه ـ قال كنا جلوسا عند النبي صلى الله عليه وسلم إذ أتي بجنازة، فقالوا صل...
صحیح بخاری -> کتاب الحوالات
باب : قرض کسی مالدار کے حوالہ کر دیا جائے تو اس کا رد کرنا جائز نہیں
حدیث نمبر : 2288
حدثنا محمد بن يوسف، حدثنا سفيان، عن ابن ذكوان، عن الأعرج، عن أبي هريرة ـ رضى الله عنه ـ عن النبي صلى الله عليه وسلم قال "مطل الغني ظلم، ومن أتبع على ملي...
کتاب الحوالات
صحیح بخاری -> کتاب الحوالات
باب : حوالہ یعنی قرض کو کسی دوسرے پر اتارنے کا بیان اور اس کا بیان کہ حوالہ میں رجوع کرنا درست ہے یا نہیں
وهل يرجع في الحوالة وقال الحسن وقتادة إذا كان يوم أحال عليه مليا جاز. وقال ابن عباس يتخارج الشريكان وأهل الميراث، فيأخذ...
صحیح بخاری -> کتاب الاجارۃ
باب : اگر کوئی زمین کو ٹھیکہ پر لے پھر ٹھیکہ دینے والا یا لینے والا مرجائے
وقال ابن سيرين ليس لأهله أن يخرجوه إلى تمام الأجل. وقال الحكم والحسن وإياس بن معاوية تمضى الإجارة إلى أجلها. وقال ابن عمر أعطى النبي صلى الله عليه وسلم خيبر بالشطر،...
صحیح بخاری -> کتاب الاجارۃ
باب : نر کی جفتی ( پر اجرت ) لینا
حدیث نمبر : 2284
حدثنا مسدد، حدثنا عبد الوارث، وإسماعيل بن إبراهيم، عن علي بن الحكم، عن نافع، عن ابن عمر ـ رضى الله عنهما ـ قال نهى النبي صلى الله عليه وسلم عن عسب الفحل.
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا،...
صحیح بخاری -> کتاب الاجارۃ
باب : رنڈی اور فاحشہ لونڈی کی خرچی کا بیان
وكره إبراهيم أجر النائحة والمغنية. وقول الله تعالى {ولا تكرهوا فتياتكم على البغاء إن أردن تحصنا لتبتغوا عرض الحياة الدنيا ومن يكرههن فإن الله من بعد إكراههن غفور رحيم}. {وقال مجاهد}...
صحیح بخاری -> کتاب الاجارۃ
باب : اس کے متعلق جس نے کسی غلام کے مالکوں سے غلام کے اوپر مقررہ ٹیکس میں کمی کے لیے سفارش کی
یعنی برسبیل تفضل اور احسان، نہ یہ کہ بطور وجوب کے حکم دینا۔ بعض نے کہا کہ اگر غلام کو اس کی ادائیگی کی طاقت نہ ہو تو حاکم تخفیف کا حکم بھی دے سکتا ہے۔...
صحیح بخاری -> کتاب الاجارۃ
باب : پچھنا لگانے والے کی اجرت کا بیان
حدیث نمبر : 2278
حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا وهيب، حدثنا ابن طاوس، عن أبيه، عن ابن عباس ـ رضى الله عنهما ـ قال احتجم النبي صلى الله عليه وسلم، وأعطى الحجام أجره.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا،...