الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
دو زندگیاں اور دو موتیں
اللہ تعالیٰ کا اِرشاد ہے:
کَیْفَ تَکْفُرُوْنَ بِاللّٰہِ وَ کُنْتُمْ اَمْوَاتًا فَاَحْیَاکُمْ ثُمَّ یُمِیْتُکُمْ ثُمَّ یُحْـِــیــــیْکُمْ ثُمَّ اِلَیْہِ تُرْجَعُوْنَ (البقرۃ:۲۸)
’’تم اللہ (کے ایک معبود ہونے) کا کیسے انکار کرتے ہو کہ تم مردہ تھے پھر اللہ تعالیٰ نے تمہیں...
موت کا مطلب
قرآن و حدیث کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ جس وقت انسان پر موت آتی ہے تو اس کی روح کو فرشتے قبض کر لیتے ہیں یعنی روح کو بدن سے نکال لیتے ہیں۔ گویا روح اور بدن میں جدائی کا نام موت ہے۔ مولانا عبدالرحمن کیلانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’مَاتَ: موت (ضد حیات) بمعنی کسی جاندار سے روح یا قوت...
موت سے روح اور جسم کے درمیان جدائی واقع ہو جاتی ہے
موت کے وقت ملک الموت روح کو بدن سے قبض کر لیتے ہیں یعنی نکال لیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا اِرشاد ہے:
قُلْ یَتَوَفّٰکُمْ مَّلَکُ الْمَوْتِ الَّذِیْ وُکِّلَ بِکُمْ ثُمَّ اِلٰی رَبِّکُمْ تُرْجَعُوْنَ
آپ کہیئے کہ موت کا وہ فرشتہ (ملک الموت) جو تم پر...
حافظ ابن حزم ظاہری اندلسی رحمہ اللہ کا فتویٰ عقیدہ تناسخ کے حاملین پر
حافظ ابن حزم رحمہ اللہ نے اصحاب التناسخ پر کفر کا فتوی لگایا ہے اور انہوں نے واضح کیا ہے کہ ایسا عقیدہ رکھنا تمام اہل اسلام کے نزدیک کفر ہے اور انہوں نے اس مسئلہ کو عقیدہ توحید کے عنوان کے تحت ذکر کیا ہے چنانچہ موصوف فرماتے...
تناسخ کیا ہے؟
وارث سرہندی صاحب لکھتے ہیں: تناسخ: روح کا ایک جسم سے دوسرے جسم میں آنا۔ (ہندوؤں کے عقیدہ کے مطابق) بار بار جنم لینا، جون بدلنا، چولا بدلنا، آواگون۔ (جامع علمی اردو لغت ص۴۶۹) نیز ملاحظہ فرمائیں: رابعہ اردو لغت جدید ص:۲۶۰۔
سید قاسم محمود صاحب تناسخ کا معنی بیان کرتے ہوئے لکھتے...
ڈاکٹر موصوف کا سفید جھوٹ
ڈاکٹر موصوف لکھتے ہیں: ’’دوسرے حضرات اس بات پر مصر ہیں کہ ہر مرنے والے کی رُوح اسی دنیاوی جسم میں لوٹا دی جاتی ہے اور یہی جسم قبر میں پھر زندہ ہو جاتا ہے اور برابر زندہ رہتا ہے۔ اگر کہا جائے کہ مردہ کا جسم ریزہ ریزہ ہو جائے یا آگ اسے جلا کر خاکستر کر دے تو جلا دیا جانے...
عذاب قبر کی کیفیت
موت کے وقت ملک الموت روح کو قبض کر لیتے ہیں (السجدہ:۱۸) اور جسم اور روح میں جدائی واقع ہو جاتی ہے اور یہ جدائی قیامت تک رہتی ہے۔ قبرکے سوال و جواب کے بعد روح جنت یا جہنم میں داخل کر دی جاتی ہے اور میت قبر میں ہوتی ہے روح کو جو عذاب ہوتا ہے اسے عذاب جہنم کہتے ہیں اور میت (جسم)...
(۵) موصوف نے پانچویں دلیل رسول اللہ ﷺ کے صاحبزادے سیدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ کی پیش کی ہے کہ ان کے لئے جنت میں ایک دودھ پلانے والی ہے لیکن جیسا کہ واضح کیا گیا ہے کہ قیاس سے کوئی چیز ثابت نہیں کی جا سکتی بلکہ ایسا قیاس، قیاس مع الفارق ہے جس کی کوئی حیثیت نہیں۔ اور دین میں ایسا اضافہ ناقابل قبول...
(۴) چوتھی دلیل موصوف نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت سے پیش کی ہے جس میں یہ الفاظ ہیں: ارواحھم فی اجواف طیر حضر۔ ’’ان (شہدائ) کی روحیں اُڑنے والے سبز (اجسام) کے پیٹوں میں ہوتی ہیں۔ اس حدیث کا یہ مطلب نہیں ہے کہ شہدا کو پرندوں کے اجسام دے دیئے جاتے ہیں یا وہ پرندے بن جاتے ہیں...
(۳) تیسری دلیل موصوف نے سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کی روایت کی پیش کی ہے جس میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو خواب میں ارض مقدس کی طرف لے جایا گیا۔ موصوف نے لکھا ہے: ’’اور مجھے باہر نکال کر ایک ارض مقدس کی طرف لے گئے‘‘۔ ارض مقدس سے مراد بیت المقدس ہے۔ قرآن کریم میں ایک مقام پر اللہ تعالیٰ نے موسیٰ...
2 دوسری دلیل موصوف نے عمرو بن لحی الخزاعی کی بیان کی ہے جسے نبی ﷺ نے جہنم میں اپنی آنتیں کھینچتے ہوئے دیکھا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے جہنم میں عمرو کی روح کو عذاب میں مبتلا کر رکھا ہے جس کا نظارہ نبی اکرم ﷺ کو کرایا گیا جس سے ثابت ہوتا ہے کہ روح کا اپنا بھی ایک جسم ہوتا ہے اور روح احساس رکھتی ہے اور...
مرنے کے بعد قبر کے سوال و جواب کے بعد ارواح جنت یا جہنم میں داخل کر دی جاتی ہیں جبکہ اجسام قبروں میں راحت یا عذاب میں مبتلا ہوتے رہتے ہیں۔ موصوف اگر احادیث کا بغور مطالعہ کرتے تو فرعونیوں کے عذاب کا مسئلہ انہیں سمجھ میں آجاتا۔ کافروں کی ارواح جہنم میں عذاب پاتی ہیں جبکہ ان کے اجسام قبروں میں...
الجواب بعون الوھاب
موصوف نے فرعونیوں کے اجسام کے محفوظ رہنے والی آیت (سورۃ یونس:۹۲) اور صبح و شام آگ پر پیش کئے جانے والی آیت (المؤمن:۴۵، ۴۶) پیش کر کے ان آیات سے برزخی اجسام ثابت کرنے کی ناکام کوشش کی ہے۔ فرعونیوں کے جو اجسام دنیا میں محفوظ ہیں اور ان پر عذاب کے کوئی آثار دکھائی نہیں دیتے بلکہ...
آگے موصوف نے سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کی تفصیلی روایت ذکر کی ہے جس میں بعض عذابوں کا ذکر کیا گیا ہے اور آپ کو جنت کا بھی مشاہدہ کرایا گیا۔ موصوف آگے لکھتے ہیں:
اس طرح امام بخاری نے ثابت کر دکھایا کہ وفات کے بعد نبی ﷺ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ والی قبر میں نہیں بلکہ جنت کے سب سے اچھے گھر میں...
برزخی جسم کی حقیقت
ڈاکٹر عثمانی چونکہ تیسری زندگی کا قائل تھا اور اس کا عقیدہ تھا کہ مرنے کے بعد روح کو ایک نئے برزخی جسم میں داخل کر دیا جاتا ہے اور اسی جسم کو قیامت تک راحت یا عذاب ہوتا رہتا ہے۔ اب جسم چاہے نیا ہو یا پرانا جب روح کو اس میں داخل کر دیا گیا تو یہ ایک کامل و مکمل زندگی بن جاتی...
مرزا غلام احمد قادیانی اور ڈاکٹر عثمانی کے عقیدہ میں مماثلت
سوال یہ ہے کہ موصوف نے نئے جسم میں روح کے داخل ہونے کا عقیدہ آخر کہاں سے اخذ کیا؟ دراصل ڈاکٹر موصوف نے نئے جسم میں روح کے داخل ہونے کا عقیدہ مرزا غلام احمد قادیانی سے لیا ہے۔ چنانچہ پہلے مرزا قادیانی کی عبارت ملاحظہ فرمائیں:
’’سو ان...
تین زندگیاں یا بے شمار زندگیاں؟؟؟
موصوف کے بار بار اعادہ روح کے عقیدہ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ موصوف تین زندگیوں ہی کے نہیں بلکہ بے شمار زندگیوں کے قائل تھے کیونکہ برزخی جسم کا ریزہ ریزہ ہو جانا پھر اس جسم کا دوبارہ بننا اور پھر اس میں روح کا اعادہ! اس طرح تو ایک ہی دن میں بے شمار زندگیاں بن...
یہی وجہ ہے کہ موصوف تیسری زندگی، اعادئہ روح اور ہندوؤں کے عقیدئہ تناسخ کے قائل ہو کر اس دنیا سے برزخ کی طرف رواں دواں ہوئے ہیں۔ ثابت ہوا کہ موصوف:
(۱) تیسری زندگی کے قائل تھے۔
(۲) باربار اعادہ روح کے قائل تھے۔
(۳) ہندوؤں کے عقیدئہ تناسخ کے بھی قائل تھے۔
(۴) میت کے عذاب کے برخلاف وہ زندہ کے...
اللہ کے قانون میں تبدیلی
اس طرح موصوف اللہ کے قانون کو بدلنا چاہتے ہیں اللہ تعالیٰ کا فیصلہ یہ ہے کہ قبر کا عذاب میت کو دیا جائے گا اور موصوف کا فیصلہ یہ ہے کہ میت کو روح کے بغیر عذاب نہیں ہو سکتا۔ اسی لئے موصوف نے مرنے کے بعد روح کے لئے ایک نیا برزخی جسم بھی بنا ڈالا اور اس طرح اس نے اللہ کے...
ڈاکٹر عثمانی تیسری زندگی کے قائل تھے؟
موصوف نے عذاب قبر کے ماننے والوں کو دو زندگیوں اور دو موتوں کا انکاری قرار دیا ہے لیکن آپ کو حیرت ہو گی کہ خود موصوف حقیقتاً دو زندگیوں اور دو موتوں کے انکاری اور تین زندگیوں اور تین موتوں کے قائل تھے۔ چنانچہ موصوف لکھتے ہیں:
’’اللہ کے فرمان سے معلوم ہوا کہ...