الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
بَابُ مَا أُدِّيَ زَكَاتُهُ فَلَيْسَ بِكَنْزٍ
جس مال کی زکوٰۃ ادا کر دی جائے وہ کنز(وہ خزانہ جس کی مذمت کی گئی ہے )نہیں ہے
(708) عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ ﷺ لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ صَدَقَةٌ وَ لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ ذَوْدٍ صَدَقَةٌ وَ...
امام ابو حنیفہ سے باسند ِ صحیح عورت کے لیے گھر میں اعتکاف کرنے کا جواز ثابت نہیں۔ حسن بن زیاد(متّهم بالکذب)نے امام صاحب سے عورت کے لیے محلہ کی مسجد میں اعتکاف کا جواز نقل کیا ہے ۔
(بدائع الصنائع از کاسانی حنفی : ٢/١١١)
الحاصل : اگر عورت سمجھتی ہے کہ وہ مسجد میں محفوظ و مأمون ہے تو خاوند کی...
اگر گھر کی مسجد میں عورت کے لیے اعتکاف کرنا جائز ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواجِ مطہرات ضرور بالضرور گھر میں اعتکاف کرتیں ، پھر اعتکاف کا قیاس نماز کے ساتھ صحیح نہیں ہے ،کیونکہ مرد کی سنتیں اور دوسری نفلی نماز گھر میں افضل ہے ، اعتکاف جو کہ سنت ہے ، وہ اس کے لیے گھر میں جائز نہیں ہے تو...
صحیح بخاری سے ثابت ہوتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کو مسجد میں اعتکاف کی اجازت دی ، ایک دوسری روایت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے انکار بھی ثابت ہے ، وہ کسی عارضہ کے پیشِ نظر تھا ، ہو سکتاہے کہ ازواجِ مطہرات کے کثرت سے مسجد میں خیمے لگانے سے مسجد تنگ ہو جانے کا خدشہ ہو ۔جب...
گھر کی مسجد نہ حقیقی مسجد ہوتی ہے ، نہ ہی حکمی ، کیونکہ مسجد میں خرید وفروخت حرام ہوتی ہے ، گھر کی مسجد میں خرید وفروخت ہو سکتی ہے ، گھر کی مسجد کو تبدیل کیا جاسکتاہے ، جب کہ حقیقی مسجد کو بلا ضرورت تبدیل نہیں کیا جا سکتا ، مسجد میں جنبی انسان یا حائضہ عورت کا سونا منع ہے ، جبکہ گھر کی مسجد میں...
علامہ ابنِ قدامہ المقدسی رحمہ اللہ (م٦٢٠ھ)لکھتے ہیں :
''ہماری دلیل اللہ تعالیٰ کا فرمان (وَاَنْتُمْ عَاکِفُونَ فِیْ الْمَسَاجِد)ہے،اس سے مراد وہ جگہیں ہیں جو نماز کے لیے بنائی گئی ہیں ، عورت کی گھر میں نماز کی جگہ وہ مسجد نہیں ہے ، اس لیے کہ وہ نماز کے لیے نہیں بنائی گئی ، اگرچہ مجازی طور پر اس...
برصغیر کے حنفی عالم علامہ عبدالحئی لکھنوی حنفی (١٢٦٤۔١٣٠٤ھ)لکهتے ہیں :
لو اعتکفت فی مسجد جماعة فی خباء ضرب لها فيه ، لا بأس به ، لثبوت ذالک عن أزواج النّبیّ صلی الله علیه وسلم فی عهدہ کما ثبت فی صحيح البخارى ۔
''اگر عورت ایسی مسجد میں جس میں نماز باجماعت ہوتی ہو اور اس کے لیے خیمہ لگایا گیا ہو ،...
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ ء اقدس میں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ کی ازواجِ مطہرات مسجد میں ہی اعتکاف کیا کرتی تھیں ، اگر عورت کے لیے گھر میں اعتکاف کرنا صحیح ہوتا تو وہ اپنے گھروں میں اعتکاف کرتیں ، علاوہ ازیں عورت کو گھر میں رہنے کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے ، مگر اس کے باوجود مسجد...
ہر وہ حکم جو مردوں کے لیے ثابت ہو ، وہ عورتوں کے لیے بھی ثابت ہوتا ہے الایہ کہ عورتوں کے لیے اس بارے میں استثنیٰ ثابت ہو جائے۔ جب مرد کا اعتکاف مسجد کے علاوہ کہیں جائز نہیں تو عورت کے لیے بغیر دلیل کے جائز کیوں ؟ پھر سب کے نزدیک مسجد میں ٹھہرنا اعتکاف کا رکن بھی ہے ۔
(الھدایۃ مع البنایۃ : ٣/٤٠٧،...
حافظ ابنِ حجر رحمہ اللہ (٧٧٣۔٨٥٢ھ)آیت ِ مبارکہ
(وَاَنْتُمْ عَاکِفُونَ فِیْ الْمَسَاجِدِ)
کے تحت لکھتے ہیں :
فعلم من ذکر المساجد أنّ المراد أنّ الاعتکاف لايکون الّا فيها ۔
''اس آیت میں مسجدوں کے ذکر سے معلوم ہوا کہ مسجد کے علاوہ اعتکاف ہوتا ہی نہیں ۔''
(فتح الباری : ٤/٢٧٢)
حافظ نووی رحمہ للہ (٦٣١۔٦٧٦ھ)لکھتے ہیں :
وفی هذہ الأحاديث أن الاعتکاف لا يصحّ الّا فی المسجد ، لأنّ النّبى صلی الله عليه وسلم وأزواجه وأصحابه انّما اعتکفوا فی المسجد مع المشقّة فی ملازمة ، فلو جاز فی البيوت لفعلوه ولو مرّة ، لا سيما النّساء ، لأنّ حاجتهنّ اليه فی البيوت أکثر ، وهذا الّذی ذکرناه...
عورت گھر میں اعتکاف نہیں کر سکتی ، کیونکہ اعتکاف کی شرعی تعریف یہ ہے :
المکث فى المسجد من شخص مخصوص بصفة مخصوصة ۔
''کسی مخصوص شخص کا خاص صفت کے ساتھ مسجد میں ٹھہرنے کا نام اعتکاف ہے ۔''
(شرح مسلم للنووی : ١/٣٧١، فتح الباری لابن حجر : ٤/٢٧١، فتاوٰی عالمگیری : ١/٢٢١)
٢٤٨۔١ صندوق یعنی تابوت جو توب سے ہے جس کے معنی رجوع کرنے کے ہیں کیونکہ بنی اسرائیل تبرک کے لئے اس کی طرف رجوع کرتے تھے (فتح القدیر) اس تابوت میں حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون علیہ السلام کے تبرکات تھے یہ تابوت بھی ان کے دشمن چھین کر لے گئے تھے اللہ تعالٰی نے نشانی کے طور پر فرشتوں کے ذریعے سے حضرت...
تقوٰی کے بعد سب ملکر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لینے کا درس دے کر واضح کر دیا کہ نجات بھی انہی دو اصولوں میں ہے اور اتحاد بھی انہیں پر قائم ہو سکتا اور رہ سکتا ہے۔
'ولا تفرقوا اور پھوٹ نہ ڈالو ' کے ذریعے فرقہ بندی سے روک دیا گیا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر مزکورہ دو اصولوں سے انحراف کرو گے تو...