الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
3: جہاں صحیح او رحسن روایات آپس میں ٹکراتی ہوں۔ تو پھر حقیقت حال معلوم کی جائے۔اس ٹکراؤ (تعارض) کی بے شمار صورتیں ہیں۔ چند ایک یہ ہیں۔
ا) دو روایتوں میں ایک روایت کے الفاظ یوں ہوں۔سَبَبُ نُزُوْلِ ھَذِہِ الآیَۃِ کَذَا۔ اس آیت کے نزول کا سبب اس طرح ہے یا کسی واقعہ کو سناکرآیت ذکر کر دی...
اسباب نزول کی روایات:
اسباب نزول کا علم صحا بہ کرام کی روایات سے حا صل ہوتا ہے۔بعض اوقات ان میں مندرجہ ذیل مسا ئل پیدا ہو جا تے ہیں مثلاً:
1: جب روا یات ایک دو سرے سے ٹکراتی ہوں
2:کبھی ایک ہی آیت کے سبب نزول میں متعدد روایات ہوتی ہیں اور وہ باہم ٹکراتی ہیں۔ اس موقع پر کیا کیا جائے؟
یہ...
ان اقوال سے واضح ہوتا ہے کہ اگر آیات کا سبب نزول معلوم نہ ہو تو اس کا مطلب پوری طرح سمجھ میں نہیں آسکتا۔ اورمفسر آیت کے معنی بیان کرنے میں سنگین غلطی کر سکتا ہے۔ مثلاًیہ کہ:
اللہ تعالی کا یہ ارشاد کیسے نازل ہوا؟ { یَقُوْلُوْنَ لَئِنْ رَّجَعْنَآ اِلَی الْمَدِیْنَۃِ لَیُخْرِجَنَّ الْاَعَزُّ...
اہمیت اور فوائد
علم اسباب نزول، قرآن فہمی کے حوالے سے خاصی اہمیت کا حامل ہے۔ اس کے فوائد علما ء کے مندرجہ ذیل اقوال سے ظاہر ہیں۔
-- امام ابن تیمیہ ؒ فرماتے ہیں:"سبب نزول کے جان لینے سے آیت کا مطلب سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ فَإِنَّ الْعِلْمَ بِالسَّبَبِ، یُوْرِثُ اْلِعْلمَ بِالْمُسَبَّبِ"۔...
سبب نزول کی بنیاد پر آیات کی تقسیم:
سبب نزول کی بنا پر قرآنی آیات کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔
وہ آیات جو بغیر کسی سبب کے نازل ہوئیں۔ مثلاً: انبیاء کے قصے، مستقبل کے واقعات، قیامت کی منظر کشی اور عذاب وثواب کے ذکر پر مشتمل آیات۔ قرآن مجید کا غالب حصہ انہی آیات کا ہے۔ مثلاًًاللہ...
باب: 15
علم اسباب نزول
تعریف:
اسباب نزول سے مراد وہ واقعات، حوادث اور سوالات ہیں جو کسی آیت یا چند آیات کے نزول کا باعث بنے۔ مثلاً قریش نے آنحضرتﷺسے روح، اصحاب کہف اور ذوالقرنین کے بارے میں پوچھا تو ان کے جواب میں سورۃ کہف نازل ہوئی۔ ایسا بھی ہوا کہ آنحضرت ﷺ یا صحابہ ؓ کے دل میں کوئی خیال...
متشابہات کی حکمتیں اور فوائد
ماہرین علوم القرآن نے متشابہات کی بہت سی حکمتیں اور فوائد بیان کیے ہیں:
-- امام زرکشیؒ کہتے ہیں کہ متشابہات کا ایک فائدہ تو یہ ہے کہ علماء کو قرآن پر زیادہ غور و خوض کا موقع میسر آ جاتا ہے جو قرب الٰہی کا ذریعہ ہے۔
-- مؤمن کی آزمائش ہوتی ہے کہ وہ ان کی تصدیق...
اہل زیغ کا رجحان
خیر جن سے معدوم ہو ان سے خیر کی توقع کیونکر کی جاسکتی ہے۔وہ ٹیڑھ پن کی وجہ سے اللہ، اس کے رسول اور دین کی ہر بات کو ٹیڑھا ہی دیکھتے ہیں۔مثلاً:
۱۔ اللہ تعالی کی ہستی کے بارے میں ان کا وہم یہ ہے:{ بَلْ یَدٰہُ مَبْسُوْطَتٰن }(المائدۃ:۶۴)
کہ اللہ تعالی کے دو ہاتھ ہیں اور مخلوق سے...
مسئلہ اسماء وصفات:
بہر حال ان صفات کے بارے میں علماء سلف کا نکتہ نظر یہ ہے کہ صفات کی کنایۃً یا اشارۃً گفتگو یا تاویل کرنا، بنیادی عقائد میں ان مباحث کو چھیڑ کرمزیداختلافات کو ہوا دینا ہو گاجو بالآخر گمراہی کا سبب بھی بن سکتا ہے جیسا کہ ماضی میں ہوا۔ ان متشابہات کا معنی و مفہوم کیا ہے؟ اللہ...
تیسری رائے یہ ہے جو ان دونوں گروہوں کی نسبت زیادہ معتدل اور بہترہے۔ جس کے مطابق آیات متشابہات کو تین حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔
۱۔وہ آیات جن کی تاویل، اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ مثلاً:
صفات الٰہی ،حروف مقطعات، قیامت کے آنے کا وقت وغیرہ۔
۲۔وہ آیات جن کے جاننے کے لئے انسان کے پاس ذرائع...
متشابہ
لغوی معنی:
متشابہ، شبہ سے نکلا ہے جس کے معنی ہیں مانند ہونا، ہم شکل ہونا، ملتا جلتا ہونا۔عربی میں کہتے ہیں: شَابَہَہُ، أَشْبَہَہُ۔ وہ اس سے ملتا جلتا ہے یا اس کی مانند ہے۔{وأتوا بہ متشابہا} اہل جنت کی خوراک کی صفت بیان کی ہے۔اسی طرح {إن البقر تشابہ علینا} یقیناً گائیں ہم پر متشابہ...
باب: 14
علم محکم و متشابہ
اللہ تعالی نے قرآنی آیات کو عقیدہ وایمان کے اعتبار سے دو حصوں میں منقسم کیا ہے جنہیں محکم اور متشابہ کہتے ہیں۔ ان کا علم، علم محکم و متشابہ کہلاتا ہے۔
محکم
لغوی معنی:
یہ لفظ، حکم سے نکلا ہے جو مضبوط ، مستحکم، واضح اور قابل عمل ہونے کو کہتے ہیں۔عرب کہتے ہیں...
اس علم کا فائدہ:
چونکہ یہ علم بھی علوم القرآن کی ایک اہم شاخ ہے اس لئے:
-- اس علم کی بدولت ناسخ و منسوخ کی معرفت حاصل ہو جاتی ہے۔ اس طرح ایک ہی موضوع سے متعلق منسوخ آیت کو ترک کردیا جاتا ہے۔
-- ان مراحل کی معرفت ہو جاتی ہے جن سے شریعت اسلامی گزری کہ کس طرح مخاطب کے گوناگوں حالات میں اس کی...
مکی ومدنی سورتوں کی خصوصیات:
مکی سورتیں
-- ان میں آیات اور سورتیں مختصر ومدلل ہیں۔
-- ان کے اسلوب میں ایک قوت ہے اور خطابت میں شدت ِبیان زیادہ خوبصورت ہے۔
--ان میں مقابلہ بت پرستوں اور متکبر ومغرور عناصر سے ہے۔
--ان میں عقائدوایمانیات کی دعوت ہے اورانہی پر ہی زیادہ توجہ دی گئی ہے۔
--مسلمانوں...
مکی سورتوں کی علامات:
وہ سورت جس میں:
۱۔ لفظ "کلا"ہو۔ آدم وابلیس کا قصہ ہو سوائے سورہ بقرہ کے۔
۲۔ سجدہ تلاوت ہو۔اللہ تعالی کی وحدانیت، اور انسانوں کا موت کے بعد روز قیامت دوبارہ اٹھنا ہو۔
۳۔ شروع میں حروف مقطعات ہوں۔ سوائے سورۃ بقرہ اور آل عمران کے۔
۴۔ انبیاء یا سابقہ امتوں کے حالات و...
حکمت
مکی ومدنی تقسیم شریعت کے عین مطابق ہے۔ یہ اس تاریخی فرق کو نمایاں کرتی ہے کہ مکہ میں مسلمانوں کی سماجی اور عقائدکی کمزوریاں دور کرنے کے لئے کیا نازل کرنا زیادہ مناسب تھاا اور مدینہ منورہ میں طاقت اور قیادت کے ہوتے ہوئے کیا احکام نازل ہوئے۔
پہچان کا طریقہ
علماء نے کسی آیت یا سورت کے مکی...
باب : 13
علم مکی ومدنی
اس علم سے مراد قرآن کریم کی آیات وسورتوں کے نزول کے مقام کا علم ہے۔ مکی ومدنی آیات کا علم بظاہر مقامات نزول سے ہوتا ہے مگر درحقیقت زمانہ نزول ہی اس کا صحیح مصدر ہے نہ کہ مقام۔واضح رہے کہ قرآن کریم تقریباً تیئس سال تک نازل ہوتا رہا۔یہ زمانہ تنزیل دو حصوں میں منقسم ہے۔
۱۔...
عبد اللہ بن مقفع
یہ عربی ادب کا ایک بڑا فصیح و بلیغ ادیب تھا۔ اس نے جب قرآن کا چیلنج سنا تو سوچا کہ کیوں نہ طبع آزمائی کی جائے اور اپنی منفرد تحریر اس کے مقابلے میں پیش کی جائے۔ اس نے اپنی عمر کا ایک حصہ قرآن کے مقابلہ میں کتاب لکھنے پر وقف کیا۔ لیکن ایک دفعہ راستے سے گذرتے ہوئے کسی بچے کے...