الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
۷۔ الکسائی(۱۱۹۔۱۸۹ھ): ان کا نام ابو الحسن علی بن حمزہ الاسدی تھا۔ حمزہ الزیات کے بعد کوفہ میں قراء ۃ کا ڈنکا انہی کا بجتا تھا انہوں نے حمزہ، ابن ابی لیلی ، عیسیٰ بن عمر الہمدانی اور دیگر علماء وقراء سے قراء ۃ لی۔اور ان سے عرضاً وسماعاً الدوری، ابوحمدون الطیب بن اسماعیل، ابو عبید القاسم بن سلام...
۶۔ نافع(۷۰۔۱۶۹ھ): ان کا نام ابورویم نافع بن عبد الرحمن بن ابی نعیم تھا۔اصفہان سے ان کا تعلق تھا مگر مدینہ میں پرورش پائی اور اسی کی طرف منسوب ہوئے۔قراء ۃ کو ابن ہرمز، ابو جعفر بن قعقاع، شیبۃ بن نصاح اور امام زہری وغیرہ سے عرضاً سیکھا۔کہا کرتے کہ میں نے ستر تابعین سے پڑھا ۔ان کے شاگردوں میں ابن...
۵۔ حمزہ(۸۰۔۱۵۶ھ) : ان کا نام ابو عمارہ حمزہ بن حبیب الزیات ہے۔سلیمان اعمش، یحی بن وثاب، زر بن حبیش اور حمرانؒ بن اعین، سیدنا عثمان، وعلی، وعبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہم کے شاگرد ہیں۔ان سے ابراہیم بن ادہم، سفیان ثوری اور کسائی وغیرہ نے روایت کی ہے۔عاصمؒ اور اعمشؒ کے بعد قراء ۃ کی امامت کا...
۴۔ ابو عمر و زُباَّن بن العلاء تمیمی، المازنی(۶۸۔۱۵۴ھ) بصرہ کے مشہور قارئ تھے۔قراء سبعہ میں ان کا شمار ہوتا ہے۔حجاج کے خوف سے جب ان کے والد بھاگے تو یہ بھی ان کے ہمراہ حجاز آگئے۔ مکہ ومدینہ میں انہوں نے علم حاصل کیا۔ حسن بصری ، عاصم، ابن کثیر، حمید بن قیس الاعرج اور ابو العالیہ الریاحی وغیرہ سے...
۳۔ عاصم(۔۔۱۲۷ھ) : ان کا نام ابوبکر عاصم بن بہدلہ بن ابی النجود تھا، کہا جاتا ہے کہ بہدلہ ان کی والدہ اور ابوالنجود ان کے والد تھے۔تابعی اور اسدی تھے۔ فصاحت، اتقان، تحریر اور تجوید کے ماہر تھے۔ان کی قراء ۃ بہت ہی خوبصورت تھی۔ کوفہ میں ابو عبد الرحمن السلمی کے بعد مسند تدریس انہی کی تھی۔عاصم نے...
۲۔ عبد اللہ بن کثیر الداری (۴۵۔۱۲۰ھ) مکی۔قارئ مکہ تھے۔عرضاً عبد اللہ بن السائب سے قراء ۃ لی۔اور ابی بن کعب وسیدنا عمر بن خطاب کو بھی اپنی قراء ۃسنائی۔ عبد اللہ بن السائب، مجاہد اور درباس سے علم قراء ۃ سیکھا۔ان سے متعدد تلامذہ نے قراء ۃ سیکھی اور روایت کی جن میں ان کے اپنے صاحب زادے صدقہ اور...
۱۔ عبد اللہ بن عامریحصبی دمشقی (۲۱۔۱۱۸ھ) ، جلیل القدر تابعی جو ابن عامر کے نام سے شام کے مشہور قاری تھے۔ولید بن عبد الملک کے عہد میں دمشق کے قاضی رہے۔ان کی کنیت ابونعیم تھی۔تابعی تھے نعمان بن بشیر اور واثلہ بن اسقع ؓ سے ان کی ملاقات ہوئی۔ امیر المؤمنین سیدنا عثمان بن عفانؓ کی خدمت میں بھی انہوں...
قراء کرام:
صحابہ کرام میں سات صحابہ قرآن پڑھانے میں مشہور ہوئے۔ امام ذہبی فرماتے ہیں وہ یہ ہیں:
سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ۔ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ۔ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ۔ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ۔ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ۔ ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ۔ ابو الدرداء...
٭… قراء: کے تین مراتب ہیں:
مبتدی:
جس نے ابتداء کی اور تین قراء ات کو وہ سمجھ سکا۔
متوسط:
جو چار یا پانچ قراء ات کو جان سکا۔
منتہی:
جو قراء ات کی اکثر اور مشہور انواع کو جان سکا۔
مقرئ:
جو عالم قراء ات ہو اور جنہیں وہ بالمشافہہ روایت کرے خواہ اس نے شاطبیہ ہی کیوں نہ حفظ کررکھی ہو۔ مثلاً وہ...
قراء ات کی انواع:
علماء نے متعدد گنوائی ہیں۔ جن میں متداول یہ ہیں:
متواتر:
جیسے {ملک یوم الدین} الف کی ساتھ ۔ مگر {ملک یوم الدین} بغیر الف کے متواتر نہیں۔
مشہور:
جو درجہ تواتر تک نہ پہنچی ہو۔ جیسے: {ما أشہدنہم خلق السموت ولا خلق أنفسہم وما کنتً متخذ المضلین عضدا}۔ یہ مشہور ہے ورنہ متواتر تو...
قراء سبعہ:
امام ذہبی ؒ فرماتے ہیں: صحابہ میں قرآن پڑھانے والے مشہور لوگ سات تھے۔ سیدنا عثمان بن عفان، علی بن ابی طالب،ابی بن کعب، عبد اللہ بن مسعود، زید بن ثابت، ابوموسیٰ اشعری، اور ابو الدرداء عویمر بن زید رضی اللہ عنہم۔یہ وہ محترم صحابہ ہیں جنہوں نے حیات نبوی میں ہی قرآن حفظ بھی کر لیا تھا...
عربی زبان کے موافق:
صحیح قراء ۃ کے سلسلے میں لگائی جانے والی تیسری شرط یہ تھی کہ کی جانے والی قراء ۃ عربی زبان کے قواعد او رصرف ونحو کے مطابق ہو اور اس میں غلطی نہ ہو۔امام مکی بن أبی طالب القیسیؒ (م۴۳۷ھ) اپنی کتاب "الإبانۃ:۱۸"میں صحیح قراء ۃ کے ارکان اور شرائط کے بارے میں لکھتے ہیں:
أَنْ...
مصحف عثمانی کے مطابق:
قرآن مجید کی جمع و تدوین کے سلسلے میں مصحف عثمانی پر اعتماد کیا گیا۔اسی لئے جب صحیح قراء ۃ کی شرائط مرتب کی گئیں تو یہ بات بھی مدنظر رکھی گئی کہ کی جانے والی قراء ۃ مصحف عثمانی سے مطابقت رکھتی ہو۔ مثلاً:{ملک یوم الدین} مصحف میں اسے بغیر الف کے لکھا گیا ہے۔لہذا جو محذوف...
صحیح قراء ۃ کی شرائط:
علماء نے صحیح قراء ۃ کے لئے تین شرائط لگائی ہیں۔
سند کی صحت:
اس سے مراد یہ ہے کہ جس صحابی سے قراء ۃ لی جارہی ہے انہوں نے وہ خود نبی اکرم ﷺ سے سنی ہو اور آپ کے سامنے اسے پڑھا بھی ہو۔پھر اس صحابی سے تابعی نے اور اس سے تبع تابعی نے سنا ہو۔ اس طرح یہ سند اتصال کے ساتھ آگے...
آپ ﷺکی قراء ۃ کیسی تھی؟ آپ ﷺ کی قراء ۃ ترتیل سے ہوا کرتی جس میں ہر حرف نمایا ں اور دوسرے سے جدا ہوتا اور کلمہ بالکل واضح ہوتا۔ ورتل القرآن ترتیلاً۔ اور قرآن کو ترتیل کے ساتھ پڑھئے۔ تاکہ ذہن کلام الٰہی کے مفہوم کو اچھی طرح سمجھ لے اور دوسرے کو متاثر کرکے سمجھا بھی دے۔قراء ۃ کے دوران آواز میں...
علماء نے مصحف عثمانی کو متفقہ مصدر ومرجع قرار دے کر ہراختلاف کو اس کے ذریعے ختم کرنے پر اتفاق کرلیا۔ ہر علاقے میں مسلم قراء بالخصوص تابعین کرام نے قرآن پڑھنے اور پڑھانے کی ذمہ داری سنبھال لی۔چنانچہ مکہ مکرمہ میں مجاہد بن جبر، طاووس بن کیسان، عطاء بن ابی رباح، ابن ابی ملیکہ اور عکرمہ مولی ابن...
مصحف عثمانی، قریش کی زبان و حرف میں لکھا گیاتھا اس طرح عام و خاص کی قراء ت اس کے موافق ہو گئی۔ مگر بعض قراء ۃ کچھ صحابہ کرام ؓ کی طرف بعد تک منسوب رہیں اس کی وجہ یہ تھی کہ جس شہر میں بھی کوئی صحابی گئے تو وہاں ان کی قراء ۃ عام ہو گئی۔ جن میں سیدنا ابن مسعود ؓ کی قراء ت کو کافی شہرت حاصل ہو گئی۔...
یہی صحابہ ہر مفتوحہ علاقے میں جاکر آباد ہوگئے اوراسی تعلیم وتعلم کا سلسلہ شروع کردیا جو انہوں نے آپ ﷺ سے سیکھا تھا۔ قراء ۃ کے یہ مختلف انداز جب تابعین میں پھیلے تو قراءتیں بھی بکثرت منتشرہو گئیں۔اس طرح ایک نزاعی صورت یہ پیدا ہوگئی کہ ہر شیخ کے شاگرد اپنی قراء ت کو ترجیح دینے لگے۔ اس کی بڑی وجہ...
آغاز واسباب:
قراء ۃ کا آغاز نزول قرآن کے ساتھ ہی ہو گیا تھا۔رسول اکرم ﷺ کو تعلیم قرآن کی تلقین کی گئی تھی۔ آپ ﷺ نے مکہ میں ہی اس تعلیم کا آغاز دار ارقم سے کردیا تھا۔ کیونکہ آپ ﷺ کو حکم تھا کہ جو کچھ آپ ﷺ پر اترا ہے اسے آگے پہنچائیے۔اور ٹھہر ٹھہر کر لوگوں پر پڑھئے۔جبریل امین آپ ﷺ کو لغت قریش...
موضوع:
علم القراء ت کا موضوع کلمات قرآنیہ ہیں۔ اس علم میں دو باتیں زیر بحث آتی ہے۔ ایک یہ کہ کن کلمات قرآنی کوکس طرح پڑھا گیا اور دوسرا یہ کہ آپ ﷺ نے ازروئے وحی کس فرق کی ا جازت دی۔
اس کا سیکھنا سکھانا فرض کفایہ ہے۔تاکہ قراء ۃقرآن میں نطق کی غلطیوں سے بچاجاسکے اور تحریف وتبدیلی سے بھی قرآن...