الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
بعض علماء کا خیال یہ ہے کہ ابو الاسود نے خلیفہ عبد الملک کے حکم سے قرآن پر حرکات لگائیں۔ ابتداء میں وہ حرکات جو ابولاسود الدؤلی نے وضع کیں وہ اس طرح کی نہ تھیں جیسی آج کل معروف ہیں ۔ بلکہ زبر کے لئے حرف کے اوپر، زیر کے لئے نیچے اورپیش کے لئے حرف کے سامنے ایک نقطہ مقرر کیا گیا۔ جبکہ سکون کی...
قرآن مجید کے جمع ہونے کے بعد بتدریج اس کے رسم الخط میں حسن و نظافت بھی آتی گئی۔ اسی طرح قرآن مجید کے الفاظ کی تشکیل(Vocalization) یعنی نقطے و اعراب غیر عربوں کے لئے بہت ہی مفید ثابت ہوئے۔چنانچہ ان کوششوں میں یقیناً فضیلت ان حضرات کو حاصل ہے جو اس کام میں شامل ہوئے مگر پہل کس نے کی؟ یہ طے کرنا...
قرآنی رسم کی تحسین کے مراحل :
اس جدید رسم خط کو رسم عثمانی اوررسم مصحف بھی نام دیا گیا۔جس میں دو خاص باتیں تھیں:
۱۔ اس کی املائی تحریر ایسی تھی کہ جس میں کچھ حروف اور کلمات کی کیفیت کا پتہ چلتا ہے جیسے: مائۃ میں ہمزہ کا استعمال۔ اور الزکوۃ، الصلوۃ، الحیوۃ میں واؤ اور یاء کا استعمال۔ اسی...
الحمد للہ آج بھی حفظ قرآن اور اس کی قراء ات کی مختلف وجوہ سیکھنے کا سلسلہ دنیا بھر میں بڑے پیمانے پر جاری ہے۔ مدارس خواہ عمارات میں ہوں یا گھروں ودکانوں میں مسلمانوں کے شوق کو کم نہیں کیا جاسکا۔باوجود مسلمانوں کی ناگفتہ بہ حالت کے اور معیشت ومعاش کی تنگی کے ، نیز تہذیبی ، تمدنی، حکومتی، نشریاتی...
بالمشافہہ استاذ سے قرآن کا سننا کوئی بدعت نہیں بلکہ یہ سنت رسول ہے آپ ﷺ نے براہ راست جبریل امین سے سنابلکہ ہر سال ان سے سنا بھی اور سنایا بھی۔ آخری سال دو مرتبہ سناسنایا۔روزانہ کی تین جہری نمازوں میں بھی آپ اسے اونچی آواز سے پڑھتے،اسی طرح نماز جمعہ، نماز استسقاء، نماز خسوف وکسوف، نماز تراویح،...
چوتھا دور:
صوتی وطباعتی جمع :
تلاوت کے بعض احکام جن میں قلقلہ، رَوم، إشمام، إخفاء، إدغام، إقلاب اور إظہار وغیرہ کی پابندی تلاوت کرنے والے کی لئے ضروری ہے۔ اس لئے قرآن پاک کی تحریر میں ان احکام کا لکھنا تو ممکن تھا مگر اس کی صحیح ادائیگی کیا ممکن تھی؟ علماء نے اسے ناممکن قرار دیتے ہوئے اسے...
تابعین کرام اور ان کے بعد لوگوں نے قرآن کریم کو حفظ کیا۔صحابہ رسول نے دنیا بھر میں پھیل کر جہاں لوگوں کو امور دین سے آگاہ کیا وہاں قرآنی تعلیم کے حلقے بھی قائم کئے ان علاقوں کی مساجد میں باقاعدہ تدریس شروع کردی۔بہت سے لوگ ان کے پاس محض اسے سیکھنے آئے۔بعض مدارس کو بہت شہرت بھی ملی۔جن میں بہت سے...
سیدنا علی ؓ اس مشورہ کے بارے میں فرمایا کرتے:
لوگو! عثمان کے بارے میں غلوسے کام نہ لو۔ بلکہ ان کے حق میں خیر کہو۔ بخدا انہوں نے مصاحف کے بارے میں جو کچھ کیا ہم صحابہ سے مشورے سے ہی کیا۔انہوں نے ہمیں کہا: تم اس قراء ت کے بارے میں کیا کہتے ہو۔ کیوں کہ کچھ مسلمان ایک دوسرے سے یوں کہنے لگے ہیں: میری...
اسی طرح اگر کوئی لفظ مختلف قراء ت میں نہ پڑھا جاسکے تو اسے بعض مصاحف میں ایسے رسم الخط سے لکھ دیا جائے جس سے صرف ایک ہی قراءت ہوسکے اور کچھ مصاحف میں ایسے رسم سے کہ اس سے ایک اور قراء ت بھی معلوم ہوتی ہو۔ جیسے:
{ وَوَصَّی بِہَا إِبْرَاہِیْمُ۔۔۔} (البقرۃ:۱۳۲) کو بعض مصاحف میں {أوصی} لکھا گیا۔...
چار رکنی کمیٹی کا قیام :
خلیفہ ثالث سیدنا عثمان ذو النورینؓ نے ام المؤمنین سیدہ حفصہؓ سے مصحف ام منگوایا اورصحابہ رسول سے ہی پوچھا:
مَنْ أَکْتَبُ النَّاسِ؟
کون سب سے بہتر کاتب ہے۔
انہوں نے کہا: کاتب رسول اللہ ﷺ زیدؓ بن ثابت۔انہوں نے فرمایا:
فَأَیُّ النَّاسِ أَعْرَبُ؟ وَفِی رِوَایَۃٍ ...
اس صورتحال میں سیدنا عثمان ؓ نے سن پچیس ہجری میں وہ عظیم کارنامہ سرانجام دیا جس کی تفصیل سیدنا انس ؓکی روایت سے صحیح بخاری میں یوں بیان ہوئی ہے :
سیدنا حذیفہؓسیدنا عثمان ؓکے پاس تشریف لائے۔ وہ اہل شام وعراق کے ساتھ آرمینیہ اور آذربیجان کو فتح کرنے کے لئے جہاد کر رہے تھے۔یہاں عراقیوں کے قراءت...
تیسرا دور:
خلافت عثمانی میں جمع قرآن : سیدنا عثمان ؓ کے دور خلافت میں اسلام عرب سے نکل کر روم اور ایران کے دور دراز علاقوں تک پہنچ چکا تھا۔ نئے مسلمان جو عجمی تھے مجاہدین اسلام یا مسلمان تاجروں سے قرآن سیکھتے جن کی بدولت انہیں اسلام کی نعمت حاصل ہوتی۔ قرآن سبعہ حروف میں نازل ہوا تھا۔ صحابہ...
٭… سیدنا عمرؓ کے دور میں تدوین قرآن کی بجائے اشاعت قرآن پرزیادہ کام ہوا۔ آپؓ نے ہر جگہ تعلیم قرآن کو لازمی قراردے دیا یہاں تک کہ فوجیوں او ردیہاتیوں کو بھی نہ چھوڑا ۔ قرآن کی ترویج کے لئے آپؓ نے باجماعت تراویح کا اہتمام کیا اور ابی بن کعب وتمیم الداری ؓ کو حکم دیا کہ لوگوں کو باجماعت گیارہ...
جمع کردہ نسخہ کا نام اور خصوصیات:
اس کمیٹی نے انتہائی احتیاط اورسخت محنت کے بعد قرآن کو ایک سال کی مدت میں جمع کردیا،جسے تمام صحابہ کرام نے اتفاقاً قبول کیا اور یوں امت بھی اس پرجمع ہوگئی ۔ اس نسخہ کی خصوصیات حسب ذیل تھیں:
۱۔ نسخہ میں قرآنی آیات کی ترتیب آپ ﷺکی بتائی ہوئی ترتیب کے مطابق...
اس کے برعکس بعض روایات میں ہے کہ سیدنا ابن عباس ؓ آیت
{۔۔۔فَمَا اسْتَمْتَعْتُم بِہِ مِنْہُنَّ۔۔۔} (النساء:۲۴)
کے آگے
{۔۔۔إِلَی أَجَلٍ مُّسَمًّی۔۔۔} (البقرۃ:۲۸۲)
کے الفاظ ہونے کے قسمیہ قائل تھے اور جمع وتدوین قرآن کے وقت شدت سے یہ کہتے رہے کہ آیت اسی طرح نازل ہوئی ہے۔ ممکن ہے جن ایام میں...
جمع قرآن کا طریقہ:
قرآن کو جمع کرنے کے لئے سیدنا زید ؓبن ثابت کی سربراہی میں ایک کمیٹی قائم کی گئی جس میں جلیل القدر صحابہؓ شامل تھے۔ ابتداءََ سیدنا ابوبکر ؓنے جمع قرآن کے سلسلے میں ایک اہم ہدایت دی جس پر عمل کے لئے سیدنا عمر فاروق کو سیدناز ید ؓ کے ساتھ بھی لگادیا۔ خلیفہ رسول ابوبکر ؓ نے...
سیدنا زید کا انتخاب کیوں؟سیدنازید ؓ کو دو خلفاء نے کتابت قرآن او راس کے جمع کرنے کی زحمت کیوں دی؟اس پر ان کی نظر کیوں پڑی؟ اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ بعض مخصوص خوبیوں اور خداداد صلاحیتوں کے مالک تھے۔ غالباً ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ آپ ﷺ سیدنازید ؓ کو ہمسایہ ہونے کی وجہ سے دوسروں پر ترجیح...
دوسرا دور:
خلافت صدیقی میں :
سیدنا ابوبکر صدیق ؓ کے دور میں جمع قرآن کی تفصیلات سیدنا زیدؓ بن ثابت نے دی ہیں۔ وہ فرماتے ہیں:’’جنگ یمامہ کے فوراً بعد ۱۲ھ کو سیدنا ابوبکر صدیق ؓ نے ایک روز پیغام بھیج کر مجھے بلوا بھیجا۔ میں ان کے پاس پہنچا تو وہاںسیدنا عمر ؓ بھی موجود تھے۔ ابو بکر صدیق ؓ نے...
زمانہ نبوی میں قرآن کریم ایک ہی مصحف میں جمع کیوں نہ ہوسکا؟ اس کے کئی جواب علماء نے دئیے ہیں۔
۱۔ قرآن کریم یکبارگی نہیں بلکہ تیئیس سال کے عرصہ میں تھوڑا تھوڑا کرکے نازل ہوا۔ اس لئے بھی ایک مصحف میں جمع کرنا ممکن نہ تھا۔
۲۔آپ ﷺ نے اسے اس لئے بھی ایک ہی مصحف میں جمع نہیں فرمایا کیونکہ قرآن میں...
تین بار جمع کرنے سے مراد یہ ہے کہ :
٭…پہلی بار عہد نبوی میں اس کی کتابت اور تدوین ہوئی۔یہ جمع صرف کتابت آیات اور ان کی ترتیب تک رہی جو سورتوں میں مخصوص مقام پر آگئیں، یہ توقیفی ترتیب تھی۔
٭…دوسری مرتبہ عہد صدیقی میں اسے ایک ہی مصحف میں لکھا گیا۔یہ جمع صرف کتابت تک ہی محصور رہی۔وہ اس طرح کہ ہر...