• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

نتائجِ‌تلاش

  1. محمد نعیم یونس

    علم حدیث-مصطلحات اور اصول

    ۶۔ اعلام الشیخ: (Announcement) جس سے مراد یہ ہے کہ شیخ اپنے شاگردوں یا طلبہ کو یہ بتائے کہ میں نے فلاں سے یہ حدیث سنی تھی۔یا یہ کتاب ہے اور اس کی روایت کی اجازت میرے پاس اس کے مصنف کی طرف سے ہے۔ لہٰذا تم : اِرْوِہِ عَنِّیْ: تم اسے مجھ سے روایت کرو۔ اس صورت میں اس کتاب یا حدیث کی روایت بلاخلاف...
  2. محمد نعیم یونس

    علم حدیث-مصطلحات اور اصول

    ۵۔کتابہ:(Correspondence) شیخ اپنے خط سے یا کسی کو کہہ کر اپنی احادیث یا اپنی مسموعات لکھ کر اپنے ثقہ طالب علم کو بھیجے اور اسے روایت کرنے کی اجازت دے ۔ اور یہ لکھے کہ کَتَبَہُ إلَیَّ فُلانٌ إجَازةً۔ فلان نے یہ اجازت لکھی ہے۔ یا فلان نے شیخ کی اجازت سے یہ لکھا ہے۔ ایسی صورت میں اس لکھے کی روایت...
  3. محمد نعیم یونس

    علم حدیث-مصطلحات اور اصول

    ۴۔مناولہ: (Granting books) یہ دو قسم کی ہے۔ مناولہ اجازہ کے ساتھ: یعنی شیخ طالب علم کو کتاب دے اور اسے کہے : ھَذَا رِوَایَتِیْ عَنْ فُلَانٍ فَارْوِہِ عَنِّی۔ یہ میری فلاں سے روایات ہیں تم انہیں مجھ سے روایت کرو۔اس طرح کی اجازت محدثین کرام نے جائز قرار دی ہے۔جیسے امام زہریؒ (م:۱۲۴ھ) اپنی کتب...
  4. محمد نعیم یونس

    علم حدیث-مصطلحات اور اصول

    ایک رائے یہ بھی ہے: کہ معدوم اور غیر معین کو اجازت مرویات دینا درست ہے۔ مُجازلہ کی شرط یہ ہے کہ وہ واقعی اس کا اہل ہو۔ اور طالب علم کا نسخہ کتاب اپنے شیخ کی اصل کتاب سے مقابلہ شدہ بھی ہو۔ اس کتاب کی ادائیگی پھر ان الفاظ میں کرے: أَخْبَرَنِی فُلَا نٌ إِجَازَةً یا فِیْمَا أَجَازَنِی وغیرہ۔
  5. محمد نعیم یونس

    علم حدیث-مصطلحات اور اصول

    ۳ ۔ اجازہ: (Permission to transmit)یہ روایت حدیث کا ایک سرٹیفیکیٹ ہے جو شیخ اپنے اہل شاگرد کو یا شاگردوں کو اپنی کتب کی یااپنی بعض مرویات کی روایت کی اجازت کے طور پر دیتا ۔یہ سرٹیفیکیٹ کبھی شیخ خود لکھتا یا کبھی صرف منہ سے کہہ دیتا کہ أَجَزْتُ لَكَ أَنْ تَرْوِیَ عَنِّیْ مَرْوِیَّاتِیْ أَوْ...
  6. محمد نعیم یونس

    علم حدیث-مصطلحات اور اصول

    لفظ اداء: شیخ سے جب طالب علم اس طریقہ سے روایت کرے تو پھر وہ یوں کہے: أَخْبَرَنِی أَوْقَرَأْتُ عَلَی فُلَانٍ، مجھے فلاں نے خبر دی یامیں نے فلاں شیخ پر یہ احادیث یا کتاب پڑھی۔اور اگر کسی اور نے کتاب یا حدیث پڑھی ہوتی اور یہ طالب علم خود سنتا تو پھر یوں کہتا: قُرِئَ عَلَی فُلَانٍ وَأَنَا...
  7. محمد نعیم یونس

    علم حدیث-مصطلحات اور اصول

    ۲۔ قِرَاءَةً عَلَی الشَّیْخِ: (Reading by the students) استاذ سے علم حدیث حاصل کرنے کا یہ دوسرا طریقہ ہے جسے عرض بھی کہتے ہیں۔طالب علم یا کوئی اور شیخ کی مرویات پڑھے اور شیخ سنیں۔خواہ یہ پڑھنا حفظ سے ہو یا کتاب سے۔ یا خواہ شیخ پڑھنے والے کی متابعت اپنے حفظ سے کرے یا اپنی کتاب کو خود تھام لے ۔جب...
  8. محمد نعیم یونس

    علم حدیث-مصطلحات اور اصول

    لفظ اداء: جب طالب علم سماع کے بعد اپنے شیخ کی ان احادیث کو روایت کرتا تو اس کے الفاظ کی ادائیگی یہ ہوتی: سَمِعْتُ، حَدَّثَنَا، أَخْبَرَنَا، أَنْبَأَنَا یا حَدَّثَنِی، أَخْبَرَنِی، أَنْبَأَنِی وغیرہ۔ جمع کے صیغے کا مطلب ہے: طالب علم نے اپنے شیخ سے حدیث دیگر طلبہ وحاضرین کی موجودگی میں سنی تو...
  9. محمد نعیم یونس

    علم حدیث-مصطلحات اور اصول

    اس تحمل حدیث کی آٹھ اقسام ہیں ۔جن میں پہلے دوزیادہ مقبول ہیں۔: ۱۔ سماع: (Reading by the teacher) یہ پہلا طریقہ ہے کہ شیخ حدیث پڑھے اور طالب علم سنے۔اس طریقہ میں : …شیخ ، اپنی مرویات کو اپنے حفظ ویادداشت سے پڑھتے جس کی دوسری صدی ہجری میں عام ریت تھی مگر طالب علم کو اپنے شیخ کے ساتھ بہت عرصہ رہنا...
  10. محمد نعیم یونس

    علم حدیث-مصطلحات اور اصول

    تحمل حدیث: عربی میں کسی معاملہ کا بوجھ اٹھانا اور ذمہ لینا اسے تحمل کہتے ہیں۔ اصطلاح میں: شیخ واستاذسے حدیث ، اخذ کرنے اور لینے کو تحمل حدیث کہتے ہیں۔اور اداء: عربی میں کسی شے کو پہنچانا اور اسے مکمل کرنا۔ اصطلاح میں: تحمل حدیث کے بعد اسے روایت کرنا اداء کہلاتا ہے۔ شرائط: محدثین نے حدیث...
  11. محمد نعیم یونس

    علم حدیث-مصطلحات اور اصول

    کیا صغر سنی میں سماع ہو سکتا ہے؟ کچھ علماء نے سماع کی حد پانچ سال عمر مقرر کی ہے جس پر عمل بھی رہا ہے جب کہ بعض نے عمرمیں تمیز کو مشروط کرتے ہیں کیونکہ شیخ کی بات یا خطاب کوسمجھنا اور پھراس کا جواب دینا ہی صحیح سماع ہے جواس کی حدامتیازہے۔ورنہ نہیں۔نیز وہ دو اشخاص کے مابین تمیز بھی کرسکے کہ...
  12. محمد نعیم یونس

    علم حدیث-مصطلحات اور اصول

    باب ۷ تحمل حدیث اور اداء حدیث سماع حدیث: شیوخ سے سماع حدیث کے خواہشمندطالب علم کے لئے کیا اور کون سی شرائط وآداب ہیں اور اس کے لئے کیا مناسب ہے کہ وہ روایت کا سماع کرے اور کس طرح اسے شیخ سے حاصل کرے تاکہ بعد میں دوسروں کو وہ حدیث روایت کرسکے۔ یہ سب سماع حدیث کا لازمہ ہیں۔ اس میں یہ بتایا گیا...
  13. محمد نعیم یونس

    علم حدیث-مصطلحات اور اصول

    ۱۱۔ المفردات: اس سے مراد کسی راوی کا ایسا نام، کنیت یا لقب جو کسی اور کا نہیں۔اس کا فائدہ یہ ہے کہ ان اسماء ،کنی اور القاب میں انسان سے تصحیف وتحریف واقع نہیں ہوتی کیونکہ ایسے نام وکنی اور القاب بہت کم رکھے یا بولے جاتے ہیں۔ جیسے: ناموں میں صُدَیّ بن عَجْلان، سَنْدَر الخَصِیّ، شَکْل بن حُمَید...
  14. محمد نعیم یونس

    علم حدیث-مصطلحات اور اصول

    ۱۰۔ وہ راوی جو بظاہر کسی شے کی طرف منسوب ہوئے مگر درحقیقت وہ نہیں تھے: جیسے: خالد الحذاء۔ بظاہر یہ لگتا ہے کہ وہ جوتیاں بناتے یا بیچتے تھے مگر ایسا نہیں تھا بلکہ وہ ان موچیوں کے ساتھ بیٹھا کرتے تو یہ صحبت انہیں حذاء متعارف کراگئی۔یا عقبۃ بن عمرو البدری یہ غزوہ بدر میں شریک نہیں ہوئے تھے بلکہ...
  15. محمد نعیم یونس

    علم حدیث-مصطلحات اور اصول

    ۹۔ وہ راوی جو اپنے آباء کی بجائے کسی اور کی طرف منسوب ہوگئے: کچھ راوی ایسے بھی ہیں جو اپنے آباء کی بجائے دوسروں کی طرف منسوب ہوگئے۔ان کی معرفت بھی علم حدیث میں بہت اہم ہے۔ تاکہ ان کی نسبت میں کوئی اشتباہ نہ رہے۔ جیسے: مقداد بن اسود۔ اسود ان کے والد نہیں بلکہ اسود نے انہیں متبنی بنایا تھا ورنہ...
  16. محمد نعیم یونس

    علم حدیث-مصطلحات اور اصول

    ۸۔ القاب: لقب کی جمع ہے۔ہر وہ صفت جو بندے کو بلند کردے یا گرا دے یا اس میں تعریف و مذمت کا پہلو ہو لقب کہلاتا ہے۔محدثین لقب میں مذمت اور غیبت کے پہلو کو ذکر کرنا ناجائز سمجھتے ہیں اور ایسے لقب کو جسے وہ شخص خود پسند کرتا ہو اور اس کا تعارف مقصود ہو اس کے استعمال میں کوئی مضائقہ نہیں سمجھتے۔ نیز...
  17. محمد نعیم یونس

    علم حدیث-مصطلحات اور اصول

    ۷۔ متشابہ: راویوں کے نام خط یعنی تحریر میں متشابہ ہوں مگر تلفظ میں مختلف ہوں۔جیسے: محمد بن عَقیل اور محمد بن عُقَیل۔ پہلے نیسابوری ہیں اور دوسرے فِریابی۔ اسی طرح راوی کا اور اس کے والد کا نام لفظ و خط میں متفقہ ہوتا ہے مگر نسبت میں مختلف۔ جیسے: محمد بن عبد اللہ المخرمی اور محمد بن عبد اللہ...
  18. محمد نعیم یونس

    علم حدیث-مصطلحات اور اصول

    ۶۔مؤتلف ومختلف: أل ف اس کا مادہ ہے مانوس ہونا یا جمع ہونا اس کا مطلب ہے۔ اور مختلف متفق کی ضد ہے۔محدثین کی اصطلاح میں اس سے مراد: رواۃ کے نام، القاب، کنی یا انساب خط(لکھنے) میں ایک جیسے ہوں مگرتلفظ ( پڑھنے) میں مختلف ہوں۔چونکہ ابتداء میں تحریر بغیر نقطے کے ہوا کرتی تھی تو اس لئے اس میں اندازہ...
  19. محمد نعیم یونس

    علم حدیث-مصطلحات اور اصول

    ۵۔متفق ومفترق: راویوں کے اپنے اور والد کے نام، کنیت اور نسبت یا اوپر تک سبھی خط اور لفظ یعنی لکھنے اور بولنے میں متفقہ ہوں ۔ مگر لوگ مختلف ہوں۔ مثلاً: خلیل بن احمد چھ راویوں کے نام ہیں۔ خلیل بن احمد بصری نحوی، خلیل بن احمدمزنی ، خلیل بن احمد اصفہانی، خلیل بن احمد سجزی، خلیل بن احمد بَستی...
  20. محمد نعیم یونس

    علم حدیث-مصطلحات اور اصول

    ۴۔مسلسل: ایک شے کا دوسری شے سے ملاتے چلے جانا۔ مسلسل کہلاتا ہے۔اصطلاح میں اسناد کے راویوں کی ایک ہی صفت یا ایک ہی حالت کا تسلسل سے بیان ہونا۔ مسلسل کہلاتا ہے ۔ اور ایسی حدیث مسلسل ہوتی ہے۔اس سے تدلیس وانقطاع ختم اور حفظ وضبط حدیث کا زیادہ اہتمام ہوجاتا ہے۔ اقسام: أ۔راویوں کے قول یا فعل میں...
Top