• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

نتائجِ‌تلاش

  1. محمد نعیم یونس

    ہم اضافیت اور کائنات

    فہیم کہتا ہے: آپ جو عجیب وغریب باتیں ہمارے دماغ میں ٹھونسنا چاہتے ہیں وہ میں اس چھوٹی سی مثال سے رد کردوں گا.. فرض کریں کہ زید ایک ٹرین میں سوار ہے جو زمین یا زمین پر کھڑے کسی شخص کی نسبت اسی میل فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کر رہی ہے.. دوسری متضاد سمت سے عبید بھی ایک ٹرین میں آرہا ہے جو زمین کی...
  2. محمد نعیم یونس

    ہم اضافیت اور کائنات

    یہاں فہیم کو پھر تھوڑی سی تکلیف ہوتی ہے، وہ کہتا ہے: ٹھیک ہے.. اگر سائنسدان ایک ایسا خلائی جہاز بنانے میں کامیاب ہوجائیں جو کئی مرحلوں پر مشتمل ہو اور ہر مرحلے میں اپنی رفتار بڑھاتا چلا جائے.. مثلاً پہلے مرحلے میں خلائی جہاز اپنے آگے کے مرحلوں کو دس میل فی سیکنڈ سے دھکیلتا ہے، پھر دوسرا مرحلہ...
  3. محمد نعیم یونس

    ہم اضافیت اور کائنات

    روشنی کی رفتار کا مستقل یا مطلق ہونا ان دو بنیادی مفروضوں میں سے ایک ہے جس پر نظریہ اضافیت کھڑا ہے، اس کے آنے سے پہلے جو نتائج تھے وہ وہی ہیں جو نظریہ اضافیت کے بارے میں جاننے سے پہلے فہیم کے ہیں. دوسری عجیب بات جو نظریہ اضافیت ہمیں بتاتا ہے وہ یہ ہے کہ کائنات میں کوئی بھی شئے ایسی نہیں ہے جو...
  4. محمد نعیم یونس

    ہم اضافیت اور کائنات

    تو کیا ہم جس تضاد میں پڑ گئے ہیں اس کی کوئی تشریح ہے؟ در حقیقت کوئی تضاد ہے ہی نہیں.. حالانکہ تمام شواہد اس تضاد کی طرف ہی اشارہ کرتے ہیں.. دراصل ہم نے وقت (زمان) کے "سمٹاؤ" کو مدِ نظر نہیں رکھا.. اگر کائناتی مشاہدہ کار تیزی سے سفر کرتے ہوئے راکٹ کا وقت ریکارڈ کرتا تو اسے پتہ چلتا کہ راکٹ کا...
  5. محمد نعیم یونس

    ہم اضافیت اور کائنات

    یہاں فہیم جیت کی خوشی سے ہاتھ ملتے ہوئے کہتا ہے: آپ کی سمجھ نہیں آتی! .. آپ نے ٹرین اور گولی کی جو صورتحال بیان کی ہے وہ اس حالت سے مختلف نہیں ہے جو میں نے راکٹ اور اس سے نکلتی روشنی کے حوالے سے بیان کی تھی، اور اس مشاہدہ کار کی جو خلاء میں اس واقعے کو ریکارڈ کرتا ہے.. میں نے ایک ہی سمت میں راکٹ...
  6. محمد نعیم یونس

    ہم اضافیت اور کائنات

    اگرچہ فہیم نے جو کچھ پیش کیا ہے وہ کافی معقول اور منطقی ہے، تاہم فہیم کو ہمارا جواب یہ ہے کہ فضاء میں روشنی کی رفتار ہر مشاہدہ کار کے لیے ایک ہی رہے گی، یعنی یہ 186000 میل فی سیکنڈ سے نا تو بڑھی گی اور نا ہی کم ہوگی چاہے اس کے مصدر کی رفتار اور روشنی کی سمت کچھ بھی ہو. فہیم یقین دلاتا ہے کہ...
  7. محمد نعیم یونس

    ہم اضافیت اور کائنات

    لیکن فہیم کے پیٹ میں ابھی بھی کافی تکلیف ہے، وہ کہتا ہے: آپ اور آپ جیسے بے وقوف ہمیشہ یہ کہتے ہیں کہ روشنی کی رفتار مطلق ہے، مگر میں - اپنے تجربے اور معلومات کی بنیاد پر - کہتا ہوں کہ روشنی 186 ہزار میل فی سینکڈ کی رفتار سے زیادہ یا کم پر سفر کر سکتی ہے.. فہیم ایک مثال دیتے ہوئے کہتا ہے: فرض...
  8. محمد نعیم یونس

    ہم اضافیت اور کائنات

    آئن سٹائن کی شروعات دوسروں نے جہاں اپنا کام ختم کیا آئن سٹائن نے وہیں سے ابتدا کی، اس نے میکلسن اور مورلے کی دریافت کو بنیاد بناکر بتایا کہ کائنات میں صرف روشنی کی رفتار ہی مطلق ہے.. یعنی کائنات میں ہر مشاہدہ کرنے والے کے لیے یہ ہمیشہ 186 ہزار میل فی سینکڈ سے ہی چلتی ہے، اور نا ہی یہ اپنے مصدر...
  9. محمد نعیم یونس

    ہم اضافیت اور کائنات

    آئن سٹائن کی آمد سے پہلے مروجہ متضادات نظریات اور بحث پر ایک نظر ڈالنی ضروری تھی.. اضافیت کا تصور آئن سٹائن کی آمد سے پہلے ہی جانا پہچانا تھا.. جرمن طبیعات دان ہیرمن مینکوفسکی اس کی طرف اشارہ کر چکے تھے جو زیورخ یونیورسٹی میں آئن سٹائن کے استاد تھے اور شاگرد کو اس سے روشناس کرا چکے تھے، مگر...
  10. محمد نعیم یونس

    ہم اضافیت اور کائنات

    کس پر یقین کریں؟ .. کیا میکلسن اور مولے پر یقین کریں جن کا تجربہ قطعی طور پر یہ ثابت کرتا ہے کہ روشنی کی رفتار کسی بھی صورت میں تبدیل نہیں ہوتی؟ .. یا فیٹزجیرلڈ اور ہینڈرک لورینٹز پر یقین کریں جنہوں نے اپنی مساواتوں سے ثابت کیا کہ چیزیں زیادہ رفتار پر سکڑنا شروع ہوجاتی ہیں؟ در حقیقت دونوں باتیں...
  11. محمد نعیم یونس

    ہم اضافیت اور کائنات

    ایتھر کے نظریے کو بچانے کے لیے دو سائنسدان اپنے اپنے طور پر سامنے آئے، یہ تھے لیڈن یونیورسٹی سے ہینڈرک لورینٹز اور ڈبلن یونیورسٹی سے فیٹزجیرلڈ، کچھ ریاضیاتی مساواتوں سے وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ بہت زیادہ رفتار سے حرکت کرنے والی کوئی بھی شئے حرکت کی سمت میں سمٹنا شروع ہوجائے گی.. رفتار جتنی بڑھے...
  12. محمد نعیم یونس

    ہم اضافیت اور کائنات

    جب 1887ء میں میکلسن اور مورلے نے اس نتیجے کا اعلان کیا تو علمی حلقے نہ صرف حیران رہ گئے بلکہ سائنسدانوں کے عقیدے بھی متزلزل ہوگئے.. تجربہ کئی بار دہرایا گیا، حتی کہ یہ اتنا حساس کردیا گیا کہ اگر زمین کی حرکت ایک میل فی سیکنڈ بھی ہوتی تب بھی تبدیلی دریافت کر لی جاتی.. حالانکہ زمین کی رفتار 18.5...
  13. محمد نعیم یونس

    ہم اضافیت اور کائنات

    چلیے اسے ایک مثال سے واضح کرتے ہیں، روشنی کی رفتار 186 ہزار میل فی سیکنڈ ہے.. ہم فرض کرتے ہیں کہ زمین ایتھر میں ہزار میل فی سیکنڈ (در حقیقت اپنے مدار میں زمین کی رفتار 18.5 میل فی سیکنڈ ہے،ہم نے آسانی کے لیے فرض کیا ہے کہ زمین کی رفتار 1000 میل فی سیکنڈ ہے تاکہ عدد کا کوئی مطلب بن سکے) کی رفتار...
  14. محمد نعیم یونس

    ہم اضافیت اور کائنات

    ہم تصور کرتے ہیں کہ زمین ایتھر میں اس طرح تیر رہی ہے جیسے مچھلی پانی میں تیرتی ہے، کسی خاص معینہ وقت میں مچھلی جو مسافت موجوں کے خلاف (برعکس) چلتے ہوئے طے کرے گی وہ اس مسافت سے کم ہوگی جو اسی وقت میں وہ موجوں کے ساتھ تیرتے ہوئے طے کرے گی. ایسے ہی ایک تصور کو مدِ نظر رکھتے ہوئے امریکی سائنسدان...
  15. محمد نعیم یونس

    ہم اضافیت اور کائنات

    ایسی ہی باتوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے انیسویں صدی کے سائنسدانوں کا خیال تھا کہ اگر ایتھر موجود ہے اور زمین اس کے اندر 66 ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے سورج کے گرد گردش کر رہی ہے تو اس میں کوئی شک نہیں ہونا چاہیے کہ اس سے ایتھر میں لہریں پیدا ہوں گی بالکل جس طرح پانی کی سطح پر کشتی کے چلنے کی وجہ...
  16. محمد نعیم یونس

    ہم اضافیت اور کائنات

    مگر جب آپ پانی پر چلتی کسی کشتی میں بیٹھ کر کشتی کے اندر دیکھتے ہیں تو آپ یہ نہیں جان پاتے کہ کشتی حرکت (چل) کر رہی ہے یا نہیں، اس کے لیے آپ کو پانی کو دیکھنا ہوگا یا پانی میں کوئی ڈنڈا ڈبونا ہوگا اور جب آپ کو کشتی (یا ڈنڈے) کے راستے میں پانی ہٹتا ہوا نظر آئے گا تب آپ کو پتہ چلے گا کہ کشتی حرکت...
  17. محمد نعیم یونس

    ہم اضافیت اور کائنات

    چنانچہ سائنسدانوں نے فرض کیا کہ یہ ایتھر ہے جو کائنات میں ہر جگہ پھیلا ہوا ہے حتی کہ خلاء میں بھی، مگر ہم اس کے وجود کو دریافت نہیں کر سکتے کیونکہ اس کی کوئی ایسی خوبیاں نہیں ہیں جو اسے ممتاز کر سکیں اور ہم پر اس کی حقیقت آشکار کر سکیں، اس کے با وجود روشنی کی منتقلی کے لیے اسے ہر جگہ موجود ہونا...
  18. محمد نعیم یونس

    ہم اضافیت اور کائنات

    ایتھر کی موجوں پر ایتھر (ETHER) کا خیال کافی عرصہ تک سائنسدانوں کے دماغ پر چھایا رہا اور ان کے درمیان وجۂ بحث بنا رہا حتی کہ بیسویں صدی کے شروع میں اسے دفن کردیا گیا، ایک چھوٹے سے تجربہ سے ایتھر کے خیال کی وجہ سمجھتے ہیں. بیٹری سے چلنے والا کوئی لیمپ اور ایک گھنٹی شیشے کے ایک بند جار میں رکھ...
  19. محمد نعیم یونس

    ہم اضافیت اور کائنات

    یہ نظریہ کہتا ہے کہ زمان (وقت) ایک "بُعد" ہے جو سکڑ سکتا ہے اور کبھی کبھی کچھ خاص حالات میں رک بھی سکتا ہے! .. نظریہ کے مطابق ماضی حال اور مستقبل ایک نسبتی مسئلہ ہے.. کہ جو آپ کے لیے آنے والا کل ہوگا وہ کسی کے لیے گزشتہ کل ہوسکتا ہے.. نظریہ کہتا ہے کہ ابعاد محدود نہیں ہیں بلکہ یہ سکڑ بھی سکتے...
  20. محمد نعیم یونس

    ہم اضافیت اور کائنات

    دراصل جس زبان میں یہ دونوں نظریات منظرِ عام پر لائے گئے بہت ہی خاص زبان ہے، اگر آپ اس پر ایک نظر ڈالیں گے تو آپ کو یہ بے معنی اور بے لذت سے رموز ہی نظر آئیں گے، مگر اربابِ علم کے لیے یہ بہت معنی رکھتے ہیں، یہ زبان کلام وبیان کی ضرورت باقی نہیں چھوڑتی.. یہ ہے ریاضیاتی مساواتوں کی زبان جو کائنات...
Top