الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
اصل حقیقت
یہاں سے اب ہم اصل حقیقت کی طرف آتے ہیں اور آپ کے سامنے امام سفیان ابن عیینہ کی روایت کی حقیقت بیان کریں گے لیکن اس تفصیل میں جانے سے پہلے جناب عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنھما کی اس روایت کی وضاحت کرتے جائیں، جناب عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے رفع الیدین کی روایت ان کے دو شاگرد بیان...
چوتھی شہادت:
امام ابوعوانہ نے اگلی روایت امام الحمیدی کی پیش کی ہے:
حدثنا الصائغ بمکۃ قال ثنا الحمیدی قال: ثنا سفیان عن الزھری قال: أخبرنی سالم عن ابیہ قال: رأیت رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم مثلہ (حدیث نمبر۱۵۷۵)
امام الحمیدی کی روایت پر تفصیلی بحث پیچھے گزر چکی ہے اور یہ روایت بھی اثبات رفع الیدین...
3-تیسری شہادت:
امام علی بن المدینی کی روایت:
امام علی بن المدینی کی روایت کو امام ابوعوانہ نے ذکر کیا ہے:
حدثنی ابوداؤد قال ثنا علی قال: ثنا سفیان: ثنا الزھری أخبرنی سالم عن ابیہ قال رأیت رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم بمثلہ ۔۔۔ حدیث نمبر ۱۵۷۴)
امام علی بن المدینی کی روایت کو امام بخاری رحمہ اللہ...
2- دوسری شہادت۔
امام شافعی رحمہ اللہ کی روایت:
امام ابوعوانہ نے اس متنازع روایت (جو اگرچہ متنازع نہ تھی لیکن جسے یحرفون الکلم عن مواضعہ۔۔۔ کے ماہرین نے متنازع بنانے کی ناکام کوشش کی ہے اور جس میں انہیں بری طرح ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا ہے) کے ذکر کے بعد امام شافعی رحمہ اللہ کی روایت کو ذکر کیا...
امام سعدان بن نصر کی روایت
مسند ابی عوانہ، صحیح مسلم پر بطور تخریج لکھی گئی ہے یعنی یہ صحیح مسلم کی مستخرج ہے اور صحیح مسلم کی روایات کو مزید قوت دینے کے لئے اسے مرتب کیا ہے۔ امام مسلم نے امام سفیان کی روایت کو ان کے چھ شاگردوں کے واسطے سے بیان کیا ہے اور امام ابوعوانہ نے بھی امام سفیان کی اس...
3-مسند ابی عوانہ جو اب بیروت سے ایمن بن عارف الدمشقی کی تحقیق کے ساتھ چھپی ہے اور انہوں نے یہاں ''واؤ'' کا اضافہ تو نہیں کیا البتہ لا یرفعھما سے پہلے ایک کومہ (،) لگا کر دونوں عبارات کو ایک دوسرے سے جدا کر دیا ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ موصوف کے نزدیک بھی یہ عبارت پہلی عبارت سے الگ اور جدا ہے۔...
2-دوسری شہادت
کتب خانہ پیر جھنڈا کے مخطوطہ میں بھی ''واؤ'' کا لفظ موجود ہے:
(عکس مسند ابی عوانہ کتب خانہ پیر جھنڈا)۔
مولوی انوار خورشید کی کتاب ''حدیث اور اہلحدیث'' (ص۹۱۲) کے آخری صفحہ پر بھی یہ فوٹو کاپی دیا گیا ہے۔
لا یرفعھما سے پہلے ''واؤ'' کا ثبوت
مخطوطہ مسند ابی عوانہ مصورۃ الجامعۃ الاسلامیۃ فی المدینۃ المنورۃ میں ''واؤ'' کا لفظ موجود ہے ملاحظہ فرمائیں:
1- پہلی شہادت
حافظ زبیر علی زئی حفظہ اللہ کی تحقیق
چونکہ اس حدیث کو امام ابوعوانہ نے تین راویوں سے بیان کیا ہے لہٰذا یہ تین حدیثوں کے حکم میں ہے۔ اس لئے امام ابو عوانہ نے انتہائی دیانت داری کے ساتھ روایات کے اختلاف کا بھی ذکر فرما دیا ہے۔ کسی نے کہا: ''یحاذی بھما'' (منکبیہ) اور کسی نے کہا:
حذو منکبیۃ اسی طرح...
امام احمد بن حنبل نے بھی جب اس حدیث کا ذکر کیا تو کہا:
و قال سفیان مرۃ واذا رفع رأسہ و اکثر ما کان یقول و بعد ما یرفع رأسہ من الرکوع
اور امام سفیان نے ایک مرتبہ کہا:
و اذا رفع رأسہ (اور جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم رکوع سے) سر اُٹھاتے''۔
اور وہ اکثر کہا کرتے تھے:
و بعد ما یرفع رأسہ من الرکوع اور آپ...
اب ظاہر ہے کہ ان تین مقامات پر رفع الیدین کو ثابت کرنے کے لئے امام ابوعوانہ نے احادیث کو ذکر فرمایا ہے۔ اسی طرح سجدوں کے درمیان آپ رفع الیدین نہ فرماتے تھے۔ امام ابوعوانہ نے اس روایت میں جو اختلافات ہیں ان کو بھی بیان کر دیا ہے جیسے:
رأیت رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم اذا افتتح الصلاۃ رفع یدیہ حتی...
مسند ابی عوانہ میں تحریف
مسند ابی عوانہ میں ''واؤ'' اُڑا کر رفع الیدین کی روایات کو ترک رفع الیدین کی دلیل بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ چنانچہ اس سلسلہ میں پہلے مسند ابی عوانہ کا عکس ملاحظہ فرمائیں:
امام ابوعوانہ رحمہ اللہ نے باب قائم کیا ہے: ''افتتاح نماز میں رفع الیدین کا بیان اور رکوع کے وقت...
4-چوتھی شہادت: حافظ ابن حجر العسقلانی رحمہ اللہ نے امام شافعی کے مناقب پر ایک کتاب لکھی ہے جس میں انہوں نے امام شافعی کے کبار تلامذہ کی روایات کا ذکر کیا ہے جس میں سے ایک امام حمیدی بھی ہیں بلکہ امام حمیدی کو انہوں نے سب سے ذکر کیا ہے۔ امام حمیدی نے امام شافعی رحمہ اللہ کی سند سے اثبات رفع...
3-تیسری شہادت: اللہ تعالیٰ کی شان ملاحظہ فرمائیں کہ اسی دوران بیروت سے صحیح مسلم پر ''المسند المستخرج علی صحیح مسلم'' کے نام سے امام ابو نعیم اصبہانی کی کتاب چھپ گئی اور امام اصبہانی نے صحیح مسلم کی رفع الیدین والی اس روایت کی مزید تخریج فرما دی ہے۔ سفیان عن الزھری کی سند سے یہ روایت صحیح مسلم...
2-دوسری شہادت: مسند حمیدی بیروت سے جناب حسین سلیم اسد حفظہ اللہ تعالیٰ کی تحقیق کے ساتھ شائع ہوئی ہے اور اس میں بھی یہ روایت رفع الیدین کے اثبات کے ساتھ موجود ہے۔ عکس ملاحظہ فرمائیں:
تحقیق مزید
نسخہ ظاہریہ جو تمام نسخوں سے قدیم اور تمام نسخوں سے زیادہ صحیح ہے، اس کی شہادت ملاحظہ فرمائیں:
1-پہلی شہادت
بہتر ہے کہ ان مخطوطوں میں اثبات رفع الیدین کی روایت کے جو الفاظ لکھے ہوئے ہیں ان کو نقل کر کے انہیں پڑھنے کی کوشش کی جائے اور خودساختہ دیوبندی الفاظ کو ان میں تلاش کیا...
قابل غور باتیں
1-اس روایت میں تحریف کر کے اس کے معنی کو بالکل الٹ دیا گیا ہے اور یار لوگوں نے اسے ترک رفع الیدین کی دلیل بنا لیا ہے اور اس کے باقاعدہ حوالے دیئے جا رہے ہیں۔
2-اس روایت میں حدثنا الحمیدی قال کے بعد حدثنا الزھری ہے حالانکہ امام حمیدی کی امام زھری سے ملاقات ثابت نہیں ہے۔ یہاں درمیان...
اس تحقیق کے بعد المستخرج لابی نعیم الاصبہانی (ج۲ ص۱۲) دیکھنے کا موقع ملا، وہاں بھی یہ روایت مسند حمیدی کی سند کے ساتھ منقول ہے جس میں اثبات رفع الیدین ہے، نفی نہیں۔ والحمد ﷲ۔ فوٹو اسٹیٹ آخر میں ملاحظہ فرمائیں۔
(نور العینین فی مسئلۃ رفع الیدین ص ۶۷ تا ۷۱ طبع مکتبہ اسلامیہ فیصل آباد)۔