الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
إِنَّ الَّذِينَ فَتَنُوا الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ ثُمَّ لَمْ يَتُوبُوا فَلَهُمْ عَذَابُ جَهَنَّمَ وَلَهُمْ عَذَابُ الْحَرِيقِ ﴿١٠﴾
بیشک جن لوگوں نے مسلمان مردوں اور عورتوں کو ستایا پھر توبہ (بھی) نہ کی تو ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے اور جلنے کا عذاب ہے۔
إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا...
الَّذِي لَهُ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ وَاللَّـهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ ﴿٩﴾
جس کے لیے آسمان و زمین کا ملک ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے سامنے ہے ہر چیز۔
وَهُمْ عَلَىٰ مَا يَفْعَلُونَ بِالْمُؤْمِنِينَ شُهُودٌ ﴿٧﴾
اور مسلمانوں کے ساتھ جو کر رہے تھے اس کو اپنے سامنے دیکھ رہے تھے۔
وَمَا نَقَمُوا مِنْهُمْ إِلَّا أَن يُؤْمِنُوا بِاللَّـهِ الْعَزِيزِ الْحَمِيدِ ﴿٨﴾
یہ لوگ ان مسلمانوں (کے کسی اور گناہ) کا بدلہ نہیں لے رہے تھے، سوائے اس کے کہ وہ اللہ...
إِذْ هُمْ عَلَيْهَا قُعُودٌ ﴿٦﴾
جبکہ وہ لوگ اس کے آس پاس بیٹھے تھے۔ (١)
٦۔١ کافر بادشاہ یا اسکے کارندے، آگ کے کنارے بیٹھے اہل ایمان کے جلنے کا تماشا دیکھ رہے تھے، جیسا کہ اگلی آیت میں ہے۔
النَّارِ ذَاتِ الْوَقُودِ ﴿٥﴾
وہ ایک آگ تھی ایندھن والی۔ (١)
٥۔١ النَّارِ، الأُخْدُودِ سے بدل اشتمال ہے ذَاتِ الْوَقُودِ، النَّارِ کی صفت ہے۔ یعنی یہ خندقیں کیا تھیں؟ ایندھن والی آگ تھیں، جو اہل ایمان کو اس میں جھونکنے کے لیے دہکائی گئی تھی۔
قُتِلَ أَصْحَابُ الْأُخْدُودِ ﴿٤﴾
(کہ) خندقوں والے ہلاک کے گئے۔ (١)
٤۔١ یعنی جن لوگوں نے خندقیں کھود کر اس میں رب کے ماننے والوں کو ہلاک کیا، ان کے لیے ہلاکت اور بربادی ہے، قُتِلَ بمعنی لُعِنَ۔
وَشَاهِدٍ وَمَشْهُودٍ ﴿٣﴾
حاضر ہونے والے اور حاضر کیے گئے کی قسم! (١)
٣۔١ شَاهِدٍ اور مَشْهُودٍ کی تفسیر میں بہت اختلاف ہے۔ امام شوکانی نے احادیث و آثار کی بنیاد پر کہا ہے کہ شاہد سے مراد جمعہ کا دن ہے، اس دن جس نے جو بھی عمل کیا ہو گا یہ قیامت کے دن اس کی گواہی دے گا۔ اور مشہود سے عرفے (۹...
سورة البروج
(سورہ بروج مکی ہے اور اس میں بائیس آیتیں ہیں۔)
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔
وَالسَّمَاءِ ذَاتِ الْبُرُوجِ ﴿١﴾
برجوں والے آسمان کی قسم! (١)
١۔١ بُرُوجٌ، بُرْجٌ محل کی جمع ہے۔ بُرْجٌ کے اصل معنی ہیں...
وَاللَّـهُ أَعْلَمُ بِمَا يُوعُونَ ﴿٢٣﴾
اور اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے جو کچھ یہ دلوں میں رکھتے ہیں۔ (١)
٢٣-۱ یعنی تکذیب، یا جو افعال وہ چھپ کر کرتے ہیں۔
فَبَشِّرْهُم بِعَذَابٍ أَلِيمٍ ﴿٢٤﴾
انہیں المناک عذابوں کی خوشخبری سنا دو۔
إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَهُمْ أَجْرٌ...
فَمَا لَهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ ﴿٢٠﴾
انہیں کیا ہو گیا ہے کہ ایمان نہیں لاتے۔
وَإِذَا قُرِئَ عَلَيْهِمُ الْقُرْآنُ لَا يَسْجُدُونَ ۩ ﴿٢١﴾
اور جب ان کے پاس قرآن پڑھا جاتا ہے تو سجدہ نہیں کرتے۔ (١)
٢١۔١ احادیث سے یہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کا سجدہ کرنا ثابت ہے۔
وَالْقَمَرِ إِذَا اتَّسَقَ ﴿١٨﴾
اور چاند کی جب کہ وہ کامل ہو جاتا ہے۔ (١)
١٨-۱ إِذَا اتَّسَقَ کے معنی ہیں، جب وہ مکمل ہو جائے جیسے وہ تیرھویں کی رات سے سولھویں تاریخ کی رات تک رہتا ہے۔
لَتَرْكَبُنَّ طَبَقًا عَن طَبَقٍ ﴿١٩﴾
یقیناً تم ایک حالت سے دوسری حالت میں پہنچو گے۔ (١)
١٩۔١ طَبَقٌ کے اصل...
وَاللَّيْلِ وَمَا وَسَقَ ﴿١٧﴾
اور اس کی جمع کردہ (١) چیزوں کی قسم۔
١٧۔١ اندھیرا ہوتے ہی ہر چیز اپنے ماویٰ اور مسکن کی طرف جمع اور سمٹ آتی ہے یعنی رات کا اندھیرا جن چیزوں کو اپنے دامن میں سمیٹ لیتا ہے۔
فَلَا أُقْسِمُ بِالشَّفَقِ ﴿١٦﴾
مجھے شفق کی قسم! (١) اور رات کی!
١٦۔١ شَفَقٌ، اس سرخی کو کہتے ہیں جو سورج غروب ہونے کے بعد آسمان پر ظاہر ہوتی ہے اور عشاء کا وقت شروع ہونے تک رہتی ہے۔
إِنَّهُ ظَنَّ أَن لَّن يَحُورَ ﴿١٤﴾
اس کا خیال تھا کہ اللہ کی طرف لوٹ کر ہی نہ جائے گا۔ (١)
١٤-۱ یہ اس کے خوش ہونے کی علت ہے۔ یعنی آخرت پر اس کا عقیدہ ہی نہیں تھا ۔ حور کے معنی ہیں، لوٹنا۔ جس طرح نبی ﷺ کی دعا ہے [اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْحَورِ بَعْدَ الْكَورِ] (صحيح مسلم، الحج،...
وَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ وَرَاءَ ظَهْرِهِ ﴿١٠﴾
ہاں جس شخص کا اعمال نامہ اس کی پیٹھ کے پیچھے سے دیا جائے گا۔
فَسَوْفَ يَدْعُو ثُبُورًا ﴿١١﴾
تو وہ موت کو بلانے لگے گا۔ (١)
١١-۱ ثُبُورًا ہلاکت، خسارہ۔ یعنی وہ چیخے گا، پکارے گا، واویلا کرے گا کہ میں تو مارا گیا، ہلاک ہو گیا۔
وَيَصْلَىٰ...
وَأَذِنَتْ لِرَبِّهَا وَحُقَّتْ ﴿٥﴾
اور اپنے رب پر کان لگائے گی (١) اور اسی لائق وہ ہے۔
٥-۱ یعنی القا اور تخلی کا جو حکم اسے دیا جائے گا، وہ اس کے مطابق عمل کرے گی ۔
يَا أَيُّهَا الْإِنسَانُ إِنَّكَ كَادِحٌ إِلَىٰ رَبِّكَ كَدْحًا فَمُلَاقِيهِ ﴿٦﴾
اے انسان! تو اپنے رب سے ملنے تک یہ کوشش اور...
وَأَلْقَتْ مَا فِيهَا وَتَخَلَّتْ ﴿٤﴾
اور اس میں جو ہے اسے وہ اگل دے گی اور خالی ہو جائے گی۔ (١)
٤۔١ یعنی اس میں جو مردے دفن ہیں، سب زندہ ہو کر باہر نکل آئیں گے جو خزانے اس کے بطن میں موجود ہیں وہ انہیں ظاہر کر دے گی، اور خود بالکل خالی ہو جائے گی۔
وَإِذَا الْأَرْضُ مُدَّتْ ﴿٣﴾
اور جب زمین (کھینچ) کر پھیلا دی جائے گی۔ (١)
٣۔١ یعنی اس کے طول و عرض میں مزید وسعت کر دی جائے گی۔ یا یہ مطلب ہے کہ اس پر جو پہاڑ وغیرہ ہیں، سب کو ریزہ ریزہ کر کے زمین کو ہموار کر کے بچھایا دیا جائے گا۔ اس میں میں کوئی اونچ نیچ نہیں رہے گی۔