الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
وَأَكِيدُ كَيْدًا ﴿١٦﴾
اور میں بھی ایک چال چل رہا ہوں۔ (١)
١٦۔١ یعنی میں ان کی چالوں اور سازشوں سے غافل نہیں ہوں، میں بھی ان کے خلاف تدبیر کر رہا ہوں یا ان کی چالوں کا توڑ کر رہا ہوں۔ كَيْدٌ خفیہ تدبیر کو کہتے ہیں، جو برے مقصد کے لیے ہو تو بری ہے اور مقصد نیک ہو تو بری نہیں۔
إِنَّهُمْ يَكِيدُونَ كَيْدًا ﴿١٥﴾
البتہ کافر داؤ گھات میں ہیں۔ (١)
١٥۔١ یعنی نبی ﷺ جو دین حق لے کر آئے ہیں، اس کو ناکام کرنے کے لیے سازشیں کرتے ہیں، یا نبی ﷺ کو دھوکہ اور فریب دیتے ہیں اور منہ پر ایسی باتیں کرتے ہیں کہ دل میں اس کے برعکس ہوتا ہے۔
وَمَا هُوَ بِالْهَزْلِ ﴿١٤﴾
یہ ہنسی کی (اور بے فائدہ) بات نہیں۔ (١)
١٤۔١ یعنی کھیل کود اور مذاق والی چیز نہیں ہے هَزْلٌ، جِدٌّ (قصد وارادہ) کی ضد ہے ۔ یعنی ایک واضح مقصد کی حامل کتاب ہے، لہو و لعب کی طرح بے مقصد نہیں ہے۔
إِنَّهُ لَقَوْلٌ فَصْلٌ ﴿١٣﴾
بیشک یہ (قرآن) البتہ دو ٹوک فیصلہ کرنے والا کلام ہے۔ (۱)
۱۳۔۱ یہ جواب قسم ہے، یعنی کھول کر بیان کرنے والا ہے جس سے حق اور باطل دونوں واضح ہو جاتے ہیں۔
وَالْأَرْضِ ذَاتِ الصَّدْعِ ﴿١٢﴾
اور پھٹنے والی زمین کی قسم! (١)
١٢۔١ یعنی زمین پھٹتی ہے تو اس سے پودا باہر نکلتا ہے، زمین پھٹتی ہے تو چشمہ جاری ہو جاتا ہے اور اسی طرح ایک دن آئے گا کہ زمین پھٹے گی، سارے مردے زندہ ہو کر باہر نکل آئیں گے۔ اس لیے زمین کو پھٹنے والی اور شگاف والی کہا۔
وَالسَّمَاءِ ذَاتِ الرَّجْعِ ﴿١١﴾
بارش والے آسمان کی قسم! (١)
١١۔١ رَجْعٌ کے لغوی معنی ہیں، لوٹنا پلٹنا۔ بارش بھی بار بار اور پلٹ پلٹ کر ہوتی ہے، اس لیے بارش کو رَجْعٌ کے لفظ سے تعبیر کیا ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ بادل، سمندروں سے ہی پانی لیتا ہے اور پھر زمین پر لوٹا دیتا ہے، اس لیے بارش کو رَجْعٌ...
فَمَا لَهُ مِن قُوَّةٍ وَلَا نَاصِرٍ ﴿١٠﴾
تو نہ ہو گا اس کے پاس کچھ زور نہ مددگار۔ (۱)
۱۰۔۱ یعنی خود انسان کے پاس اتنی قوت ہو گی کہ وہ خدا کے عذاب سے بچ جائے، نہ کسی اور طرف سے اس کو کوئی ایسا مددگار مل سکے گا جو اسے اللہ کے عذاب سے بچا سکے۔
يَوْمَ تُبْلَى السَّرَائِرُ ﴿٩﴾
جس دن پوشیدہ بھیدوں کی جانچ پڑتال ہو گی۔ (۱)
۹۔۱ یعنی ظاہر ہو جائیں گے، کیونکہ ان پر جزا و سزا ہو گی۔ بلکہ حدیث میں آتا ہے کہ "ہر غدر (بد عہدی) کرنے والے کے سرین کے پاس جھنڈا گاڑ دیا جائے گا اور اعلان کر دیا جائے گا کہ یہ فلاں بن فلاں کی غداری ہے"۔ (صحیح بخاری)
إِنَّهُ عَلَىٰ رَجْعِهِ لَقَادِرٌ ﴿٨﴾
بیشک وہ اسے پھیر لانے پر یقیناً قدرت رکھنے والا ہے۔ (١)
٨۔١ یعنی انسان کے مرنے کے بعد، اسے دوبارہ زندہ کرنے پر وہ قادر ہے۔ بعض کے نزدیک اس کا مطلب ہے کہ وہ اس قطرہ آب کو دوبارہ شرمگاہ کے اندر لوٹانے کی قدرت رکھتا ہے جہاں سے وہ نکلا تھا۔ پہلے مفہوم کو امام...
خْرُجُ مِن بَيْنِ الصُّلْبِ وَالتَّرَائِبِ ﴿٧﴾
جو پیٹھ اور سینے کے درمیان سے نکلتا ہے۔ (۱)
۷۔۱ کہا جاتا ہے کہ پیٹھ، مرد کی اور سینہ عورت کا، ان دونوں کے پانی سے انسان کی تخلیق ہوتی ہے۔ لیکن اسے ایک ہی پانی اس لیے کہا کہ یہ دونوں مل کر ایک ہی بن جاتا ہے۔ تَرَائِبُ، تَرِيبَةٌ کی جمع ہے، سینے کا...
فَلْيَنظُرِ الْإِنسَانُ مِمَّ خُلِقَ ﴿٥﴾
انسان کو دیکھنا چاہیے کہ وہ کس چیز سے پیدا کیا گیا ہے۔
خُلِقَ مِن مَّاءٍ دَافِقٍ ﴿٦﴾
وہ ایک اچھلتے ہوئے پانی سے پیدا کیا گیا ہے۔
٦-۱ یعنی منی سے جو قضائے شہوت کے بعد زور سے نکلتی ہے۔ یہی قطرہ آب (منی) رحم عورت میں جا کر، اگر اللہ کا حکم ہوتا ہے تو، حمل...
إِن كُلُّ نَفْسٍ لَّمَّا عَلَيْهَا حَافِظٌ ﴿٤﴾
کوئی ایسا نہیں جس پر نگہبان فرشتہ نہ ہو۔ (١)
٤۔١ یعنی ہر نفس پر اللہ کی طرف سے فرشتے مقرر ہیں جو اس کے اچھے یا برے سارے عمل لکھتے ہیں۔ بعض کہتے ہیں، یہ انسانوں کی حفاظت کرنے والے فرشتے ہیں، جیسا کہ سورۂ رعد کی آیت نمبر ۱۱ سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان...
سورة الطارق
(سورہ طارق مکی ہے اور اس میں سترہ آیتیں ہیں۔ حضرت خالد عدوانی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بازار ثقیف میں کمان یا لاٹھی کے سہارے پر کھڑے دیکھا، آپ میرے پاس مدد حاصل کرنے آئے تھے، میں نے وہاں آپ سے سورۃ الطارق سنی، میں نے اسے یاد کر لیا دراں حالیکہ...
بَلْ هُوَ قُرْآنٌ مَّجِيدٌ ﴿٢١﴾
بلکہ یہ قرآن ہے بڑی شان والا۔
فِي لَوْحٍ مَّحْفُوظٍ ﴿٢٢﴾
لوح محفوظ میں (لکھا ہوا)۔ (١)
٢٢۔١ یعنی لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے، جہاں فرشتے اس کی حفاظت پر مامور ہیں، اللہ تعالیٰ حسب ضرورت و اقتضا اسے نازل فرماتا ہے۔
فِرْعَوْنَ وَثَمُودَ ﴿١٨﴾
(یعنی) فرعون اور ثمود کی۔
بَلِ الَّذِينَ كَفَرُوا فِي تَكْذِيبٍ ﴿١٩﴾
(کچھ نہیں) بلکہ کافر جھٹلانے میں پڑے ہوئے ہیں۔
وَاللَّـهُ مِن وَرَائِهِم مُّحِيطٌ ﴿٢٠﴾
اور اللہ تعالیٰ بھی انہیں ہر طرف سے گھیرے ہوئے ہے۔ (۱)
۲۰۔۱ یہ ﴿إِنَّ بَطْشَ رَبِّكَ لَشَدِيدٌ﴾ ہی کا اثبات...
هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْجُنُودِ ﴿١٧﴾
تجھے لشکروں کی خبر بھی ملی ہے؟ (١)
١٧۔١ یعنی ان پر میرا عذاب آیا اور میں نے انہیں اپنی گرفت میں لے لیا، جسے کوئی ٹال نہیں سکا۔
فَعَّالٌ لِّمَا يُرِيدُ ﴿١٦﴾
جو چاہے اسے کر گزرنے والا ہے۔ (١)
١٦۔١ یعنی وہ جو چاہے، کر گزرتا ہے، اس کے حکم اور مشیت کو ٹالنے والا کوئی نہیں ہے نہ اس سے کوئی پوچھنے والا ہی ہے۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی الله عنہ سے ان کے مرض الموت میں کسی نے پوچھا: کیا کسی طبیب نے آپ کو دیکھا؟ انہوں نے فرمایا، ہاں۔...
وَهُوَ الْغَفُورُ الْوَدُودُ ﴿١٤﴾
وہ بڑا بخشش کرنے والا اور بہت محبت کرنے والا ہے۔
ذُو الْعَرْشِ الْمَجِيدُ ﴿١٥﴾
عرش کا مالک عظمت والا ہے۔ (۱)
۱۵۔۱ یعنی تمام مخلوقات سے معظم اور بلند ہے اور عرش، جو سب سے اوپر ہے، وہ اس کا مستقر ہے جیسا کہ صحابہ و تابعین اور محدثین کا عقیدہ ہے۔ المجید صاحب فضل...
إِنَّهُ هُوَ يُبْدِئُ وَيُعِيدُ ﴿١٣﴾
وہی پہلی مرتبہ پیدا کرتا ہے اور وہی دوبارہ پیدا کرے گا۔ (۱)
۱۳۔۱ یعنی وہی اپنی قوت اور قدرت کاملہ سے پہلی مرتبہ پیدا کرتا ہے اور پھر قیامت والے دن دوبارہ انہیں اسی طرح پیدا فرمائے گا جس طرح اس نے پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا۔