الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
وَمَا أَدْرَاكَ مَا هِيَهْ ﴿١٠﴾
تجھے کیا معلوم کہ وہ کیا ہے۔ (١)
١٠۔١ یہ استفہام اس کی ہولناکی اور شدت عذاب کو بیان کرنے کے لیے ہے کہ وہ انسان کے وہم و تصور سے بالا ہے، انسانی علوم اس کا احاطہ نہیں کر سکتے اور اس کی کنہ نہیں جان سکتے۔
فَأُمُّهُ هَاوِيَةٌ ﴿٩﴾
اس کا ٹھکانا ہاویہ ہے۔ (۱)
۹۔۱ هَاوِيَةٌ جہنم کا نام ہے، اس کو ہاویہ اس لیے کہتے ہیں کہ جہنمی اس کی گہرائی میں گرے گا۔ اور اس کو ام (ماں) سے اس لیے تعبیر کیا کہ جس طرح انسان کے لیے ماں، جائے پناہ ہوتی ہے اسی طرح جہنمیوں کا ٹھکانہ جہنم ہو گا۔ بعض کہتے ہیں کہ ام کے معنی...
وَأَمَّا مَنْ خَفَّتْ مَوَازِينُهُ ﴿٨﴾
اور جس کے پلڑے ہلکے ہوں گے۔ (۱)
۸۔۱ یعنی جس کی برائیاں نیکیوں پر غالب ہوں گی، اور برائیوں کا پلڑا بھاری اور نیکیوں کا ہلکا ہو گا۔
فَأَمَّا مَن ثَقُلَتْ مَوَازِينُهُ ﴿٦﴾
پھر جس کے پلڑے بھاری ہوں گے۔ (۱)
٦۔۱ مَوَازِينُ، مِيزَانٌ کی جمع ہے۔ ترازو، جس میں صحائف اعمال تولے جائیں گے۔ جیسا کہ اس کا ذکر سورۂ اعراف: ۸، سورۂ کہف: ۱۰۵ اور سورۂ انبیاء: ۴۷ میں بھی گزرا ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ یہاں یہ میزان نہیں، موزون کی جمع ہے یعنی...
وَتَكُونُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِ الْمَنفُوشِ ﴿٥﴾
اور پہاڑ دھنے ہوئے رنگین اون کی طرح ہو جائیں گے۔ (١)
٥-۱ عِهْنٌ اس اون کو کہتے ہیں جو مختلف رنگوں کے ساتھ رنگی ہوئی ہو، مَنْفُوشٌ، دھنی ہوئی۔ یہ پہاڑوں کی وہ کیفیت بیان کی گئی ہے جو قیامت والے دن ان کی ہو گی۔ قرآن کریم میں پہاڑوں کی یہ کیفیت مختلف...
وَمَا أَدْرَاكَ مَا الْقَارِعَةُ ﴿٣﴾
تجھے کیا معلوم کہ وہ کھڑ کھڑانے والی کیا ہے۔
يَوْمَ يَكُونُ النَّاسُ كَالْفَرَاشِ الْمَبْثُوثِ ﴿٤﴾
جس دن انسان بکھرے ہوئے پروانوں کی طرح ہو جائیں گے۔ (١)
٤۔١ فِرَاشٌ، مچھر اور شمع کے گرد منڈلانے والے پرندے وغیرہ۔ مَبْثُوثٌ، منتشر اور بکھرے ہوئے۔ یعنی...
سورة القارعة
(سورہ قارعہ مکی ہے اور اس میں گیارہ آیتیں ہیں۔)
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔
الْقَارِعَةُ ﴿١﴾
کھڑ کھڑا دینے والی۔
مَا الْقَارِعَةُ ﴿٢﴾
کیا ہے (١) وہ کھڑ کھڑا دینے والی۔
٢۔١ یہ بھی قیامت کے ناموں...
إِنَّ رَبَّهُم بِهِمْ يَوْمَئِذٍ لَّخَبِيرٌ ﴿١١﴾
بیشک ان کا رب اس دن ان کے حال سے پورا باخبر ہو گا۔ (۱)
۱۱۔۱ یعنی جو رب ان کو قبروں سے نکال لے گا، ان کے سینوں کے رازوں کو ظاہرکر دے گا، اس کے متعلق ہر شخص جان سکتا ہے کہ وہ کتنا باخبر ہے؟ اور اس سے کوئی چیز مخفی نہیں رہ سکتی۔ چنانچہ پھر وہ ہر...
وَحُصِّلَ مَا فِي الصُّدُورِ ﴿١٠﴾
اور سینوں کی پوشیدہ باتیں ظاہر کر دی جائیں گی۔ (١)
١٠-۱ حُصِّلَ، مُيِّزَ وَبُيِّنَ یعنی سینوں کی باتوں کو ظاہر اور کھول دیا جائے گا۔
أَفَلَا يَعْلَمُ إِذَا بُعْثِرَ مَا فِي الْقُبُورِ ﴿٩﴾
کیا اسے وہ وقت معلوم نہیں جب قبروں میں جو (کچھ) ہے نکال لیا جائے گا۔ (١)
٩۔١ بُعْثِرَ، نُثِرَ وَبُعِثَ یعنی قبروں کے مردوں کو زندہ کرکے اٹھا کھڑا کردیا جائے گا۔
وَإِنَّهُ لِحُبِّ الْخَيْرِ لَشَدِيدٌ ﴿٨﴾
یہ مال کی محبت میں بھی بڑا سخت ہے۔ (١)
٨۔١ خَيْرٌ سے مراد مال ہے، جیسے ﴿إِنْ تَرَكَ خَيْرًا الْوَصِيَّةُ﴾ (البقرة: ۱۸۰) میں ہے معنی واضح ہیں۔ ایک دوسرا مفہوم یہ ہے کہ نہایت حریص اور بخیل ہے جو مال کی شدید محبت کا لازمی نتیجہ ہے۔
وَإِنَّهُ عَلَىٰ ذَٰلِكَ لَشَهِيدٌ ﴿٧﴾
اور یقیناً وہ خود بھی اس پر گواہ ہے۔ (۱)
۷۔۱ یعنی انسان خود بھی اپنی ناشکری کی گواہی دیتا ہے۔ بعض لَشَهِيدٌ کا فاعل اللہ کو قرار دیتے ہیں۔ لیکن امام شوکانی نے پہلے مفہوم کو راجح قرار دیا ہے، کیوں کہ ما بعد کی آیات میں ضمیر کا مرجع انسان ہی ہے۔ اس لیے یہاں...
إِنَّ الْإِنسَانَ لِرَبِّهِ لَكَنُودٌ ﴿٦﴾
یقیناً انسان اپنے رب کا ناشکرا ہے۔ (۱)
۱۔٦ یہ جواب قسم ہے۔ انسان سے مراد کافر، یعنی بعض افراد ہیں۔ كَنُودٌ بمعنی كَفُور، ناشکرا۔
فَوَسَطْنَ بِهِ جَمْعًا ﴿٥﴾
پھر اسی کے ساتھ فوجوں کے درمیان گھس جاتے ہیں۔ (۱)
۵۔۱ فَوَسَطْنَ، درمیان میں گھس جاتے ہیں۔ اس وقت، یا حالت گرد و غبار میں۔ جَمْعًا دشمن کے لشکر۔ مطلب ہے کہ اس وقت، یا جب کہ فضا گرد و غبار سے اٹی ہوئی ہے، یہ گھوڑے دشمن کے لشکروں میں گھس جاتے ہیں اور گھمسان کی جنگ کرتے ہیں۔
فَأَثَرْنَ بِهِ نَقْعًا ﴿٤﴾
پس اس وقت گرد و غبار اڑاتے ہیں۔ (١)
٤-۱ أَثَارَ، اڑانا۔ نَقْعٌ، گرد وغبار۔ یعنی یہ گھوڑے جس وقت تیزی سے دوڑتے یا دھاوا بولتے ہیں تو اس جگہ پر گرد وغبار چھا جاتا ہے۔
فَالْمُغِيرَاتِ صُبْحًا ﴿٣﴾
پھر صبح کے وقت دھاوا بولنے والوں کی قسم! (١)
٣۔١ مُغِيرَاتٌ، أَغَارَ يُغِيرُ سے ہے، شب خون مارنے یا دھاوا بولنے والے۔ صُبْحًا صبح کے وقت، عرب میں عام طور پر حملہ اسی وقت کیا جاتا تھا، شب خون تو وہ مارتے ہیں جو فوجی گھوڑوں پر سوار ہوتے ہیں، لیکن اس کی نسبت گھوڑوں کی...
فَالْمُورِيَاتِ قَدْحًا ﴿٢﴾
پھر ٹاپ مار کر آگ جھاڑنے والوں کی قسم! (١)
٢۔١ مُورِيَاتٌ، إِيرَاءُ سے ہے۔ آگ نکالنے والے۔ قَدْحٌ کے معنی ہیں۔ صَكٌّ چلنے میں گھٹنوں یا ایڑیوں کا ٹکرانا، یا ٹاپ مارنا۔ اسی سے قَدْحٌ بِالزِّنَادِ ہے۔ چقماق سے آگ نکالنا۔ یعنی ان گھوڑوں کی قسم جن کی ٹاپوں کی رگڑ سے...